مودی کا دورۂ یورپ سخت سوالات ، پریس فریڈم کا بھانڈا پھوٹ گیا
آزادیٔ صحافت پر پابند یاں، نفرت انگیز بیا نیہ سے متعلق عالمی سطح پر نئی بحث تندوتیز سوالات پر بوکھلا ہٹ ، میٹا اکاؤنٹس معطل کروانے کی مہم بھی چلائی
اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر)بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو دورئہ یورپ کے دوران سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے بھارت میں آزادیٔ صحافت پر عائد پابندیوں اور نفرت انگیز بیانیے سے متعلق عالمی سطح پر نئی بحث چھڑ گئی ، ناروے کے دورے کے دوران میڈیا سخت سوالات نے بھارت میں پریس فریڈم کی صورتحال کو ایک بار پھر تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا۔ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2026(باقی صفحہ3نمبر1)
کے مطابق بھارت 180 ممالک میں 157ویں نمبر پر ہے ، مبصرین کے مطابق مودی نے اپنے 12 سالہ اقتدار کے دوران ایک بھی باقاعدہ پریس کانفرنس نہیں کی ۔ناروے کی صحافی ہیلی لنگ سوینسن نے مودی سے سوال کیا کہ وہ دنیا کے آزاد ترین میڈیا کا سامنا کرنے سے کیوں گریز کرتے ہیں ،رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد را سے منسلک مبینہ بوٹ اکاؤنٹس نے ہیلی لنگ کے میٹا اکاؤنٹس معطل کروانے کی مہم چلائی، دوسری جانب نیدرلینڈز کے وزیراعظم بھی بھارت میں آزادیٔ صحافت اور اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، پر بڑھتے دباؤ پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے زیرِ اثر جانبدار بھارتی میڈیا اور اقلیتوں سے متعلق متنازعہ قوانین نے دنیا بھر کو آواز اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے ۔