ٹرمپ اور نیتن یا ہو میں ٹیلی فون پر جھڑپ،اسرائیلی وزیراعظم پریشان

ٹرمپ  اور  نیتن  یا ہو  میں  ٹیلی  فون  پر  جھڑپ،اسرائیلی  وزیراعظم  پریشان

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو مذاکرات پر شکوک و شبہات ، چاہتے ہیں جنگ دوبارہ شروع کی جائے :ذرائع ثالث ممالک جنگ کے باضابطہ خاتمے کیلئے لیٹر آف انٹینٹ پر کام کر رہے ، امریکا اور ایران دستخط کرینگے

واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں )صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کے روز ایک تلخ ٹیلیفونک گفتگو میں ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی نئی کوشش پر تبادلہ خیال کیا، یہ بات تین ذرائع نے امریکی خبر رساں ادارے ایکسِیوس کو بتائی ۔ ایک ذریعے کے مطابق گفتگو کے بعد نیتن یاہو انتہائی پریشان اور بے چین دکھائی دے رہے تھے ۔ یہ کیوں اہم ہے ۔ذرائع کے مطابق قطر اور پاکستان نے دیگر علاقائی ثالثوں کی مشاورت سے ایک نظرِثانی شدہ  امن یادداشت تیار کی ہے تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کیے جا سکیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ ایران پر بڑے حملے کا حکم دینے یا معاہدے کی کوشش جاری رکھنے کے درمیان تذبذب کا شکار ہیں۔نیتن یاہو مذاکرات کے حوالے سے شدید شکوک و شبہات رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جنگ دوبارہ شروع کی جائے تاکہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید نقصان پہنچایا جا سکے اور اس کے اہم بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر کے حکومت کو کمزور کیا جا سکے ۔ ٹرمپ مسلسل یہ کہتے آ رہے ہیں کہ ان کے خیال میں معاہدہ ہو سکتا ہے ، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو وہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ایران نے تصدیق کی ہے کہ وہ تازہ ترین تجویز کا جائزہ لے رہا ہے ، تاہم اس نے اب تک کسی لچک کا اشارہ نہیں دیا۔دو عرب عہدیداروں اور ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق، قطر نے حال ہی میں امریکا اور ایران کو ایک نیا مسودہ پیش کیا ہے ۔

تاہم ایک چوتھے ذریعے کا کہنا ہے کہ کوئی علیحدہ قطری مسودہ موجود نہیں، بلکہ قطر صرف پاکستان کی سابقہ تجویز میں موجود خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ایک عرب عہدیدار نے بتایا کہ قطری حکام نے رواں ہفتے تہران میں ایرانی حکام سے تازہ مسودے پر بات چیت کے لیے ایک وفد بھیجا تھا۔ایران کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز کہا کہ مذاکرات ایران کے 14 نکاتی منصوبے  کی بنیاد پر جاری ہیں، جبکہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی ثالثی کے عمل میں مدد کے لیے تہران میں موجود ہیں۔ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں وزیرِ داخلہ کا یہ دوسرا دورہ ہے ۔ ایک قطری سفارتکار نے کہا، جیسا کہ پہلے بھی واضح کیا جا چکا ہے ، قطر پاکستان کی قیادت میں جاری ثالثی کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے اور اب بھی کر رہا ہے ۔ ہم مسلسل خطے اور اس کے عوام کے مفاد میں کشیدگی کم کرنے کی وکالت کر رہے ہیں۔دوسری جانب منگل کی شام ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایک طویل اور تناؤ سے بھرپور ٹیلیفونک گفتگو ہوئی۔امریکی ذریعے کے مطابق، ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ ثالث ممالک ایک لیٹر آف انٹینٹ پر کام کر رہے ہیں، جس پر امریکا اور ایران دستخط کریں گے تاکہ جنگ کے باضابطہ خاتمے اور 30 روزہ مذاکراتی عمل کا آغاز کیا جا سکے ۔

ان مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کھولنے جیسے معاملات شامل ہوں گے ۔دو اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان آئندہ لائحہ عمل پر اختلافات پائے گئے ، جبکہ امریکی ذریعے نے کہا کہ کال کے بعد بی بی (نیتن یاہو) انتہائی پریشان تھے ۔دو ذرائع نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کے ابتدائی مراحل میں بھی نیتن یاہو شدید فکرمند رہے تھے ، حالانکہ اس وقت کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا۔ ایک ذریعے نے کہا، بی بی ہمیشہ تشویش میں رہتے ہیں۔دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے امریکا کو ایرانی جہازوں کے خلاف اپنی قزاقی ختم کرنا ہوگی اور منجمد فنڈز جاری کرنے پر آمادہ ہونا ہوگا، جبکہ اسرائیل کو لبنان میں اپنی جنگ ختم کرنا ہوگی۔ ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق نیتن یاہو آئندہ چند ہفتوں میں ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن آنا چاہتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں