لاہور قلعے کی تصویری دیوار کاتحفظ ،یونیسکو نے تاریخی کامیابی قرار دیدیا

لاہور قلعے کی تصویری دیوار کاتحفظ ،یونیسکو نے تاریخی کامیابی قرار دیدیا

سترھویں صدی میں تعمیر آدھا کلومیٹر طویل دیوار میں2ہزار آرائشی پینل ترتیب د ئیے گئے ہندی،فارسی داستانوں کی جھلک ،شکار ، دیومالائی کردار، جیومیٹریائی ڈیزائن کے نقش شامل کاشی کاری، فریسکو پینٹنگ، سنگِ مرمر ، جالی سازی ،ٹیرراکوٹا ریلیف جیسی تکنیکوں کااستعمال

اسلام آباد(دنیا رپورٹ) یونیسکو نے پاکستان میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے لاہور قلعے کی تصویری دیوار کے شمالی حصے کی بحالی اور تحفظ کے منصوبے کی تکمیل کو سراہا ہے ، جسے پاکستان کی تاریخ میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کی اہم ترین اور بڑے منصوبوں میں سے ایک قرار دیا گیا ،لاہور قلعے کی تصویری دیوار تقریباً چار سو سالہ تاریخ کی عکاس ہے اور دنیا کی سب سے بڑی اور پیچیدہ دیواری آرائشوں میں شمار ہوتی ہے ۔ یہ دیوار مغل بادشاہ جہانگیر اور شاہ جہاں کے ادوار میں سترھویں صدی کے دوران تعمیر کی گئی ، تقریباً آدھا کلومیٹر طویل اس دیوار میں دو ہزار خوبصورت اور نفیس آرائشی پینل تین مختلف سطح پر ترتیب د ئیے گئے ۔دیوار پر نباتات، حیوانات اور جیومیٹریائی نقش و نگار کی دلکش تصویریں مغلیہ دور کی بے مثال فنکارانہ مہارت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان پینلز میں ہند،فارسی داستانوں اور لوک کہانیوں کی جھلک بھی نمایاں ہے۔

ان میں شکار کے مناظر، شاہی جلوس، فرشتے اور دیومالائی کردار، جانور، پرندے ، جیومیٹریائی ڈیزائن اور پھولوں کے نقش شامل ہیں۔ یہ تمام کام کاشی کاری، فریسکو پینٹنگ، سنگِ مرمر اور سرخ پتھر کی جالی سازی اور ٹیرراکوٹا ریلیف جیسی تکنیکوں کے ذریعے تیار کی گئی ، یہ دیوار معماروں، انجینئروں، سائنس دانوں، فنکاروں اور ماہرینِ تحفظ کی مہار ت کے تنوع کی نمائندگی کرتی ہے ۔ اسی طرح مختلف اداروں اور شراکت داروں جن میں آغا خان کلچرل سروس پاکستان، والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی ،امریکی سفارت خانہ، فرانسیسی سفارت خانہ اور ناروے کا شاہی سفارت خانہ شامل ہیں کی مشترکہ کوششوں نے اس تاریخی مقام کے کامیاب تحفظ کو ممکن بنایا۔ حکومتِ پنجاب نے والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے ذریعے ادارہ جاتی معاونت فراہم کی، جبکہ ناروے کے شاہی سفارت خانے ، جرمن سفارت خانے کے ذریعے جرمن وفاقی دفتر خارجہ اور امریکی سفیروں کے فنڈ برائے ثقافتی تحفظ نے مالی معاونت فراہم کی۔

پاکستان میں یونیسکو کے نمائندے فواد پاشایف نے اس منصوبے کی تکمیل کو سائنسی مہارت، بین الاقوامی تعاون اور مقامی تجربے کے امتزاج کی بہترین مثال قرار دیا۔ یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا گیا جبکہ باقاعدہ تحفظاتی کام 2018 میں آغاز پذیر ہوا ۔ اس میں دیوار کے ٹوٹے ہوئے حصے ، نمی سے ہونے وا لے نقصان، ناقص نکاسی آب، دراڑیں، فنگس کی افزائش اور سطح پر میل کچیل جیسے مسائل شامل تھے ۔ منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں پوری تصویری دیوار کی جامع دستاویز بندی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کی گئی، منصوبے کے تحت پاکستانی ورثہ تحفظ کے شعبے سے وابستہ نئی نسل جن میں ماہرینِ تحفظ، معمار، انجینئر، فنکار اور ہنرمند شامل ہیں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کی گئی ،منصوبے نے کاشی کاری اور نقاشی جیسے روایتی فنون کے احیا میں بھی اہم کردار ادا کیا ، منصوبے نے ثابت کیا کہ پاکستان میں عالمی معیار کا ثقافتی تحفظ ممکن ہے ،تصویری دیوار کی تکمیل کی خوشی میں آغا خان کلچرل سروس پاکستان، والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے اشتراک سے ایک عظیم افتتاحی تقریب میں پاکستان اور دنیا بھر سے مہمانوں اور شخصیات کو مدعو کیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں