پیپلزپارٹی جانتی ہے 28ویں ترمیم کا راستہ روکنا ناممکن

 پیپلزپارٹی جانتی ہے 28ویں ترمیم کا راستہ روکنا ناممکن

حکومت پیپلزپارٹی کے ساتھ اور بغیر نمبرز پورے کرنے میں مصروف ہے

( تجزیہ: سلمان غنی )

حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے مجوزہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم پر ابھی تک کوئی واضح اور دوٹوک مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم اس کی تیاری حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے ،امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عیدالاضحیٰ  کے بعد سیاسی و حکومتی محاذ پر یہ ترمیم ایک بڑا ایشو بن کر ابھرے گی اور اس کے خدوخال باقاعدہ سیاسی بحث کا حصہ ہوں گے ، سوال یہ ہے کہ اس ترمیم کی ضرورت و اہمیت کیا ہے ، کیا حکومت اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے ، پیپلز پارٹی کے تحفظات کیا ہیں، اور صوبائی حکومتوں کا کردار کیا ہوگا،یہ تمام پہلو سنجیدہ تجزیے کے متقاضی ہیں،بظاہر دیکھا جائے تو اٹھائیسویں ترمیم کی منظوری کے لیے سیاسی میدان کسی حد تک تیار دکھائی دیتا ہے ، حکومت نمبرز گیم پورے کرنے میں مصروف ہے اور پیپلز پارٹی کے ساتھ اور اس کے بغیر دونوں آپشنز پر غور جاری ہے ، حکومتی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی سے بات چیت جاری ہے اور قوی امکان ہے کہ وہ اس ترمیم کا حصہ بن جائے گی، اس کے تحفظات بھی دور کر لیے جائیں گے ، تاہم پیپلز پارٹی بظاہر اپنے مؤقف پر قائم نظر آتی ہے ،ماہرین کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکمت عملی وہی ہو سکتی ہے۔

جو اس نے 26ویں اور 27ویں ترامیم کے موقع پر اختیار کی تھی، جہاں ابتدا میں فاصلے کا تاثر دیا گیا مگر آخرکار وہ حکومتی موقف کا حصہ بن گئی، اس بار بھی ایک طرف پیپلز پارٹی تحفظات کا اظہار کر رہی ہے ، جبکہ دوسری جانب ایوانِ صدر اس معاملے میں سرگرم مشاورت کا حصہ ہے ، قانونی و سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی وہی فیصلہ کرے گی جو حکومت اور مقتدر حلقوں کے لیے قابل قبول ہوگا،جہاں تک ترمیم کے مسودے کا تعلق ہے تو وہ ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا، تاہم بعض اہم نکات سامنے آ چکے ہیں، ان میں این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی، صوبوں کی جانب سے وفاق کے ساتھ مالی تعاون، اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت وسائل کی نئی تقسیم شامل ہیں،تعلیم، صحت اور بہبودِ آبادی جیسے شعبے دوبارہ وفاق کے پاس آنے کی تجویز بھی زیر غور ہے ، پانی کی تقسیم اور گورننس میں اصلاحات بھی اس ترمیم کا حصہ بن سکتی ہیں،نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ ابھی غیر واضح ہے ، پیپلز پارٹی خصوصاً صوبائی خودمختاری کے معاملے پر حساس ہے اور کسی بھی قدغن کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، تاہم وہ یہ بھی سمجھتی ہے کہ ترمیم کا راستہ مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، اسی لیے امکان ہے کہ وہ ایسا رویہ اختیار نہیں کرے گی۔

جس سے اس کی صوبائی حکومتیں یا آئینی عہدے خطرے میں پڑیں، صدر آصف زرداری کے حوالے سے عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ سیاسی معاملات کو مہارت سے سنبھالتے ہیں، اس لیے پیپلز پارٹی زیادہ سخت مزاحمت نہیں کرے گی بلکہ زیادہ سے زیادہ ریلیف لینے کی کوشش کرے گی۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے پیپلز پارٹی کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں اور چاہتی ہے کہ یہ وفاقی بجٹ کا حصہ رہے ، جبکہ بعض ماہرین کا مؤقف ہے کہ اس بوجھ کو صوبوں کو منتقل کیا جانا چاہیے ،جہاں تک نمبرز گیم کا تعلق ہے تو حکومت کو زیادہ پریشانی نہیں، کیونکہ اس حوالے سے اہم ذمہ داری فیصلہ ساز حلقوں نے خود سنبھال رکھی ہے ، اپوزیشن کو ابھی تک اعتماد میں نہیں لیا گیا، کیونکہ خدشہ ہے کہ وہ اپنے سیاسی مطالبات، خصوصاً بانی پی ٹی آئی کے لیے ریلیف، سامنے رکھے گی،مجموعی طور پر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اٹھائیسویں ترمیم بھی گزشتہ ترامیم کی طرح منظور ہو جائے گی، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ترمیم بجٹ سے پہلے آتی ہے یا بعد میں، تاہم قرائن یہی بتاتے ہیں کہ اس کے اہم نکات آئندہ بجٹ میں ضرور جھلکیں گے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں