مجموعی ترقیاتی بجٹ 4715 ارب، وفاق 1126 صوبے 3138 ارب خرچ کریں گے
پنجاب 1450ارب، سندھ 816ارب، پختونخوا 564ارب، بلوچستان 308ارب ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرینگے این ایچ اے 264ارب، پاور ڈویژن 91ارب، آبی وسائل 179ارب، ضم اضلاع،کشمیر کیلئے 153ارب مختص کرنے کی تجویز وزیراعظم پی ایس ڈی پی بڑھا کر 1326ارب روپے کرنے کے خواہشمند، آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت جاری :ذرائع
اسلام آباد(مدثرعلی رانا)آئندہ مالی سال کیلئے نیشنل ڈویلپمنٹ پر 4ہزار 715ارب روپے خرچ کیے جائیں گے ۔ وفاق اور صوبوں کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 4264ارب روپے ہوگا جبکہ سرکاری ملکیتی اداروں کا ڈویلپمنٹ بجٹ ملا کر مجموعی ترقیاتی بجٹ 4ہزار 715ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ وفاق 1126 اور صوبوں کے ترقیاتی پروگراموں کا حجم 3138 ارب روپے ہوگا۔جاری منصوبوں کی مجموعی لاگت 11 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئی۔ این 25 پر 125 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے ۔ کولیکشن پارٹنرز کیلئے 87 ارب روپے ، ایس ڈی جیز کیلئے 70 ارب روپے ، بلوچستان کیلئے 100 ارب روپے ، اے جے کے ، جی بی اور انضمام شدہ اضلاع کیلئے 153 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جس کے بعد پی ایس ڈی پی کیلئے آئندہ مالی سال کیلئے 591 ارب روپے خرچ ہو سکیں گے ۔آئندہ مالی سال پنجاب 1450 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام پر خرچ کرے گا۔ پنجاب ترقیاتی بجٹ میں مجموعی 1306 ارب روپے مقامی وسائل سے فراہم کرے گا، پنجاب کیلئے غیر ملکی امداد کی مد میں 144 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔ سندھ کا سالانہ ترقیاتی پروگرام 816 ارب روپے مقرر کیا جائے گا۔ سندھ کے ترقیاتی بجٹ میں 520 ارب روپے مقامی وسائل سے شامل ہیں، سندھ کیلئے غیر ملکی امداد کا حجم 296 ارب روپے تجویز ہے ۔بجٹ دستاویز کے مطابق خیبرپختونخوا کے ترقیاتی پروگرام کا حجم 564 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
خیبرپختونخوا کیلئے 377 ارب روپے مقامی وسائل سے فراہم کیے جائیں گے ، خیبرپختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 187 ارب روپے غیر ملکی امداد تجویز ہے ۔ بلوچستان کا سالانہ ترقیاتی پروگرام 308 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے ۔ دستاویز کے مطابق بلوچستان کے ترقیاتی بجٹ میں 275 ارب روپے مقامی وسائل سے شامل ہیں، بلوچستان کیلئے 33 ارب روپے غیر ملکی امداد مختص کرنے کی تجویز ہے ۔چاروں صوبوں کے مقامی وسائل پر مشتمل ترقیاتی بجٹ 2478 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ، جبکہ صوبائی ترقیاتی منصوبوں کیلئے غیر ملکی امداد کا مجموعی حجم 660 ارب روپے تجویز ہے ۔ وفاقی وزارتوں اور ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 754 ارب سے زیادہ مختص کیے گئے ہیں۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور پاور ڈویژن کیلئے 355 ارب روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے ۔ این ایچ اے کو آئندہ مالی سال 264 ارب روپے اور پاور ڈویژن کو آئندہ مالی سال 91 ارب روپے دیئے جائیں گے ۔ آبی وسائل ڈویژن کو آئندہ مالی سال 179 ارب روپے دئیے جائیں گے ۔ ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی سکیموں کیلئے 72 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔صوبوں اور سپیشل ایریاز کیلئے 251 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے جس میں صوبائی نوعیت کے منصوبوں پر 99 ارب روپے سے زیادہ خرچ کیے جائیں گے اورٍانضمام شدہ اضلاع کیلئے 66 ارب روپے سے زیادہ مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔
آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے 86 ارب روپے مختص کیے جانے کا تخمینہ ہے ۔فیڈرل ایجوکیشن اور پروفیشنل ٹریننگ کیلئے 36 ارب سے زیادہ ، ڈیفنس ڈویژن کیلئے 11 ارب روپے ، ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 41 ارب 19 کروڑ روپے سے زیادہ ، ریلوے ڈویژن کو 27 ارب 88 کروڑ روپے ، پلاننگ ڈویلپمنٹ کو 25 ارب روپے ، نیشنل ہیلتھ کو 22 ارب روپے ترقیاتی فنڈز کی مد میں ملیں گے ۔دستاویز پلاننگ کمیشن کے مطابق وزارت داخلہ کو 16 ارب روپے ، وزارت اطلاعات کو 4 ارب روپے سے زیادہ ملیں گے ۔ سپارکو کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 5 ارب 50 کروڑ روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے ۔ آئندہ مالی سال کیلئے 1126 ارب روپے پی ایس ڈی پی کیلئے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں انرجی منصوبوں پر 135 ارب روپے ، واٹر ریسورسز کیلئے 140 ارب مختص کیے گئے ہیں، ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن کیلئے 408 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا۔سوشل سیکٹر پر آئندہ مالی سال 187 ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ، آئندہ مالی سال کے دوران گورننس کے منصوبوں پر 10.2 ارب لگایا گیا ہے ۔ مالی سال 2026-27 میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر 53 ارب خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
خصوصی علاقہ جات کے منصوبوں کیلئے 79 ارب روپے اور انضمام شدہ اضلاع کیلئے 66 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔آئندہ مالی سال وفاق اور صوبوں کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 4264 ارب روپے ہوگا جبکہ سرکاری ملکیتی اداروں کا ڈویلپمنٹ بجٹ ملا کر مجموعی ترقیاتی بجٹ 4 ہزار 715 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ دستاویز کے مطابق وفاق 1126 اور صوبوں کے ترقیاتی پروگراموں کا حجم 3138 ارب روپے ہوگا۔وزیراعظم شہباز شریف وفاقی پی ایس ڈی پی 200 ارب روپے مزید بڑھانے کے خواہش مند ہیں۔ باوثوق ذرائع کی جانب سے بتایا گیا کہ ایف بی آر نے مزید دو سو ارب روپے اضافی ریونیو جمع کرنے سے انکار کیا ہے جس پر وزیراعظم کی جانب سے وزارت خزانہ کو بجٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہدایات دی گئی ہیں۔ وزیراعظم وفاقی پی ایس ڈی پی کا حجم 1126 ارب روپے سے بڑھا کر 1326 ارب روپے مختص کرنا چاہتے ہیں جس پر آئی ایم ایف کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے ۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے جواب دیا کہ اگر اضافی ریونیو حاصل کر کے مالیاتی گنجائش ہو تو پی ایس ڈی پی کا حجم بڑھا سکتے ہیں۔