10 افسروں کی بیرون ملک تعیناتی روکنے کافیصلہ کالعدم

10 افسروں کی بیرون ملک تعیناتی روکنے کافیصلہ کالعدم

وزیر اعظم کی منظوری سے دوبارہ اشتہار جاری کرنا بھی غیر قانونی قرار دیدیا تعیناتی لیٹر جاری کرنیکاحکم، 30 روز میں تمام امور مکمل کئے جائیں:ہائیکورٹ

اسلام آباد(رضوان قاضی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے خفیہ ادارے کی رپورٹ پر ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسران کی بیرون ملک تعیناتی روکنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم کی منظوری سے دوبارہ اشتہار جاری کرنا بھی غیر قانونی قرار دے دیااور ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کے 10 افسران کی بیرون ملک تعیناتی سے متعلق درخواستیں منظورکرلیں۔جسٹس انعام امین منہاس نے 26 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس میں کہاگیاہے کہ عدالت کو نہیں بتایا گیا انٹیلیجنس رپورٹ میں کیا تھا جس کی بنیاد پر \"Not Suitable\"کی سفارش کی گئی،عدالتی نظیریں موجود ہیں اگر کوئی انتظامی فیصلہ کسی ٹھوس مواد کے بغیر ہو تو وہ غیر معقول اور من مانی تصور ہو گا،یہ بھی عدالتی نظیریں موجود ہیں ،سول سرونٹس سے بغیر جواب مانگے ان کے خلاف اینٹلیجنس رپورٹ کو استعمال کرنا غیر قانونی ہے ،وزارت تجارت حکام خود مانتے ہیں انہوں نے انٹیلیجنس رپورٹ پوری نہیں پڑھی صرف \"Not Suitable\" کا ٹک لگا کر سکیورٹی کلیئرنس روک دی،عدالت سمجھتی ہے کہ پالیسی اور سکیورٹی کے معاملات میں عدالت کو مداخلت سے گریز کرنا چاہئے ، فیصلہ میں عدالت نے وزارت تجارت کو درخواست گزار افسران کو تعیناتی لیٹر جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے یہ بھی کہاکہ لیٹر جاری کرنے کے 30 دن کے اندر تعیناتی کے قبل تمام امور مکمل کئے جائیں،پٹیشنرز کو بغیر تاخیر بیرونِ ملک پاکستان ٹریڈ مشنز میں پوسٹنگ چارج کی اجازت دی جائے ،درخواست گزار افسران کے حوالے سے کوئی بھی منفی رپورٹ یا مواد عدالت کے سامنے نہیں رکھا گیا،بار بار عدالتی احکامات کے باوجود وزارتِ تجارت مبینہ انٹیلیجنس رپورٹ ریکارڈ پر پیش کرنے میں ناکام رہی،بغیر وجوہات کے وزیر اعظم اور سلیکشن بورڈ کی طرف سے منظور شدہ میرٹ لسٹ کو منسوخ یا ویٹو نہیں کر سکتے ،پٹیشنرز نے تمام ٹیسٹ اور انٹرویو کلیئر کیے اور 28 کامیاب امیدواروں کی لسٹ میں شامل ہوئے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں