گلگت بلتستان الیکشن ،کسی کیلئے بھی سادہ اکثریت مشکل
ن لیگ پی پی ملکر حکومت بنا سکتے ،پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کا بھی اہم کردار
(تجزیہ:سلمان غنی)
قومی سیاست پر گلگت بلتستان کے انتخابات کا غلبہ ہے جس کیلئے تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور کل اتوار کے روز اس کے لئے پولنگ ہوگی ۔انتخابی میدان میں ویسے تو بڑی تعداد میں آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں لیکن اصل مقابلہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان ہوتا نظر آ رہا ہے ،پی ٹی آئی کو یہاں اپنے نام سے تو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ملی لیکن وہ متعدد حلقوں میں آزاد امیدواروں کے ساتھ بالواسطہ طور پر میدان میں ہے ، سیاسی ماحول گرم ہے اور پیپلز پارٹی کی جانب سے اس کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ ن کی طرف خواجہ سعد رفیق اور پارٹی کے دیگر رہنما متعدد حلقوں میں جلسے کرتے نظر آ رہے ہیں، پی ٹی آئی براہ راست تو میدان میں سرگرم نظر نہیں آ رہی لیکن اس نے پہلے سے ہی یہاں انتخابی دھاندلی کا شور مچانا شروع کر رکھا ہے لیکن انتخابی عمل کو قریب سے دیکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں کوئی بھی جماعت سادہ اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی اور انتخابات کے نتیجہ میں یہاں یا تو مسلم لیگ ن آزاد اراکین کو ساتھ ملا کر حکومت سازی کرے گی یا گلگت بلتستان میں بھی پاکستان والا تجربہ دہراتے ہوئے مسلم لیگ ن ا ور پیپلز پارٹی مل کر ہی حکومت سازی کر سکتے ہیں۔
جہاں تک ممکنہ انتخابی نتائج کا سوال ہے تو امکان ظاہر کیا جا رہا ہے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن یہاں سے زیادہ سے زیادہ آٹھ آٹھ نشستیں حاصل کر سکتی ہیں، جبکہ آزاد امیدوار جنہیں پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہوگی وہ بھی چار نشستوں پر کامیاب ہو سکتے ہیں جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے حوالے سے بھی رپورٹس ہیں کہ وہ دو سے تین نشستیں حاصل کر سکتی ہے ، گلگت بلتستان کی کل نشستوں کی تعداد 33 ہے جبکہ انتخاب 24 نشستوں پر ہو رہا ہے دیگر نشستیں بالواسطہ طور پر ہوں گی۔ گلگت بلتستان کے انتخابات میں اہم حلقے ہنزہ، استور، غذر، سکردو ،نگر ،دیامر اور گلگت کے مشرقی حلقے شامل ہیں۔ ان حلقوں میں معمولی ووٹوں کے فرق سے نتائج تبدیل ہو سکتے ہیں اور کئی مقامات پر جماعتی اثر و رسوخ سے زیادہ شخصیات اور برادریوں کا فرق نمایاں ہے ،زیادہ گہما گہمی سابق وزرائے اعلیٰ کے حلقوں میں نظر آ رہی ہے ، ان کے درمیان مقابلوں کو انتخاب کا سب سے دلچسپ پہلو قرار دیا جا رہا ہے ،خاص طور پر گلگت، دیامیر اور استور کے بعض حلقوں پر مبصرین کی نظریں ہیں ۔
مذکورہ انتخابات میں دلچسپ پہلو یہاں تحریک انصاف کا ووٹ بینک ہے ، انتخابی عمل پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مشکل حالات اور انتخابی عمل میں بحیثیت جماعت پا بندی کے باوجود پی ٹی آئی کا ووٹ بینک بڑی حد تک موجود ہے لیکن اس کے امیدوار آزاد حیثیت میں میدان میں ہیں ، پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار حکومت بنانے کی پوزیشن میں تو نہیں ہوں گے لیکن حکومت سازی کے عمل میں ان کا کردار اہم ہو سکتا ہے کیونکہ آزاد حیثیت میں وہ کسی بھی جماعت کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال کر اپ سیٹ کر سکتے ہیں۔ یہاں آزاد امیدواروں کی بھی دو اقسام ہیں، ایک پی ٹی آئی اے کے حمایت یافتہ اور دوسرے اپنے علاقائی اثر و رسوخ کی بنا پر میدان میں ہیں، اور ان کے حوالے سے عام رائے یہ ہے کہ ان کے پاس بے بہا وسائل ان کی حیثیت میں بڑا کردار ادا کر سکیں گے ۔ لہٰذا گلگت بلتستان کے انتخاب میں آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والوں کی اہمیت انتخابی نتائج کے بعد زیادہ ہوگی ۔گلگت بلتستان کی انتخابی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہاں کے ووٹرز کشمیر کی طرح اکثر وفاق میں برسراقتدار جماعت کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں لیکن نئے حالات میں یہاں نوجوانوں کا ووٹ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور کوئی اپ سیٹ کر سکتا ہے ۔