بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دیکر لوٹنا ’’ مالی قتل ‘‘ ملزم رعایت کے مستحق نہیں : لاہور ہائیکورٹ

 بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دیکر لوٹنا ’’ مالی قتل ‘‘ ملزم رعایت کے مستحق نہیں : لاہور ہائیکورٹ

ملزم کا طریقہ واردات نہایت خطرناک اور سفاکانہ ، عادی اور خطرناک مجرم کو رعایت نہیں دی جا سکتی،عدالت نوجوان کو کراچی سے لیبیا اور پھر اٹلی بھیجا گیا،کشتی حادثے کے بعد لاپتہ:سرکاری وکیل،ضمانت کی درخواست مسترد

لاہور(کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے انسانی سمگلنگ اور بیرونِ ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر شہری کو لوٹنے کے مقدمہ میں گرفتار ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی،متاثرہ نوجوان کو کراچی سے لیبیا اور پھر اٹلی بھیجا گیا، جہاں کشتی الٹنے   کے واقعے میں اس کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ہے اور وہ تاحال لاپتہ ہے ۔ جسٹس تنویر احمد شیخ نے قرار دیاکہ ملزم کا طریقہ واردات نہایت خطرناک اور سفاکانہ ہے ، جس کے ذریعے سادہ لوح شہریوں کو بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر ان کی جمع پونجی لوٹی جاتی ہے ، ایسے ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں ، ملزم کے خلاف ایف آئی اے تھانہ اے ا یچ ٹی سی راولپنڈی میں 2023 میں مقدمہ درج ہوا، جس میں اس پر انسانی سمگلنگ اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ملزم یکم دسمبر 2024 سے جیل میں ہے ، مقدمے کا چالان تاخیر سے جمع ہوا اور اب تک ایک بھی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا، لہٰذا تاخیر کی بنیاد پر ضمانت دی جائے۔ تاہم سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اور اس کے ساتھیوں نے مدعی سے 25 لاکھ روپے وصول کئے۔

اس کے بیٹے کو غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھجوانے کا بندوبست کیا۔ متاثرہ نوجوان کو کراچی سے لیبیا اور پھر اٹلی بھیجا گیا، جہاں کشتی الٹنے کے واقعے میں اس کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ہے اور وہ تاحال لاپتہ ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ ایک سال سے زائد حراست کی بنیاد پر ضمانت دی جا سکتی ہے ، تاہم یہ خودکار حق نہیں۔ عدالت ایسے ملزمان کو رعایت نہیں دے سکتی جو سنگین جرائم میں ملوث ہوں یا جنہیں عادی اور خطرناک مجرم تصور کیا جائے ۔فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کا طریقہ واردات نہایت خطرناک اور سفاکانہ ہے ، جس کے ذریعے سادہ لوح شہریوں کو بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر ان کی جمع پونجی لوٹی جاتی ہے ۔ عدالت نے اسے مالی قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ جسٹس تنویر احمد شیخ نے قرار دیا کہ مقدمے میں ملزم کے خلاف شواہد اور الزامات کی سنگینی کے پیش نظر ضمانت منظور نہیں کی جا سکتی، لہٰذا درخواست خارج کی جاتی ہے ۔عدالت نے واضح کیا کہ فیصلے میں دی گئی آبزرویشنز عبوری نوعیت کی ہیں اور ٹرائل کورٹ کو متاثر نہیں کریں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں