ایرانی صدر کا دورہ پاکستان غیر معمولی اہمیت کا حامل
ایران کے پاکستان کی طرف جھکاؤ کی بڑی وجہ تبدیل شدہ بھارتی طرز عمل
(تجزیہ:سلمان غنی)
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے آج منگل کو ہنگامی دورہ پاکستان کو غیر معمولی اہمیت کا حامل قراردیا جا رہا ہے ، دورہ کی خاص بات یہ ہے کہ ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بعد یہ ایرانی صدر کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے جو پاکستان کا ہے اور ایرانی لیڈر شپ عاشورہ سے قبل ہی پاکستان کا دورہ ضروری سمجھتی ہے ۔ ایران امریکا مفاہمتی معاہدہ کے بعد صدر مسعود پزشکیان نے ایرانی قوم کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے کردار کی تعریف کی تھی ۔ لہٰذا ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کا تجزیہ ضروری ہے کہ انہوں نے بیرونی محاذ پر پاکستان کا انتخاب ہی کیوں کیا اور مستقبل میں پاک امریکا تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی۔
پاکستان واحد ملک تھا جس نے اسرائیل اور امریکا کی ایران پر جارحیت کی سب سے پہلے مذمت کی اور جنگ بندی کی کوششوں کا آغاز کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں پاکستان اور ایران کے درمیان ہمسائیگی کے باوجود تعلقات مثالی نہ تھے اور ایران کی علاقائی ترجیح بھارت رہا ،لیکن امریکی حملے پرپاکستان کے طرز عمل کے بعد اب ایران کو اپنے حقیقی دوست اور دشمن کا ادراک ہو چکا اور اب پاکستان ایران کے درمیان بڑھتی قربت کو ایک ناگزیر سٹرٹیجک پارٹنر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ بھی پاکستان تھا جس کی وجہ سے عرب ممالک بھی ایران پر امریکی و اسرائیلی حملہ کو خطرناک قراردیتے ہوئے مذاکرات کے آپشن کو بروئے کار لانے پر زور دیتے رہے ، ویسے بھی اگر تاریخ پر نظردوڑائی جائے تو تہران اور اسلام آباد کے تعلقات گہرے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ اسلام آباد ’’اسلام آباد مفاہمت نامہ کے بعد ہورہا ہے لہٰذا یہ ایک رسمی ملاقات یا رسمی دورہ نہیں بلکہ سٹرٹیجک ڈپلومیسی کا حصہ ہے ۔امریکی پابندیوں میں نرمی کے بعد پاکستان و ایران معاشی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔پاکستانی توقع رکھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ ہمارے دیرینہ دوستانہ برادرانہ روابط پاکستان کیلئے ترقی کا اہم ذریعہ ثابت ہوں گے ۔ ایران کے پاکستان کی طرف جھکاؤ اور جذبات وابستگی کی ایک بڑی وجہ خود بھارت کا ایران کے حوالہ سے تبدیل شدہ طرز عمل بھی ہے جس نے ایران کو بڑا سبق دیا اور وہ علاقائی حریفوں کے ساتھ اپنے قدرتی حلیفوں کی طرف منہ موڑنے پر مجبور ہوا۔