مذاکرات کا آپشن ختم نہیں ہوا، ڈیڈلاک وقتی ہو سکتا
وفاقی حکومت بظاہرمارچ روکنے ممکنہ اقدامات کی طرف بڑھتی نظر آ رہی ہے
(تجزیہ:سلمان غنی)
وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے مذاکراتی عمل میں پیدا ہونے والے ڈیڈلاک اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ پختونخوا کے کردار بارے انکشاف کے بعد بظاہر حکومت دہشت گردی کے سدباب کیلئے ممکنہ اقدامات، خصوصاً آئینی آپشنز کی طرف بڑھتی نظر آ رہی ہے ۔ حکومت اور فورسز میں اس حوالے سے یکسوئی اور سنجیدگی دکھائی دے رہی ہے کہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی کے سدباب کیلئے مؤثر اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ تاہم اس میں صوبائی حکومت کا عدم تعاون رکاوٹ بن سکتا ہے ۔حکومت اور اس کے اتحادیوں کی کوشش تھی کہ صوبائی حکومت کو ساتھ لے کر دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ مذاکراتی عمل کی بنیاد بھی یہی تھی کہ وفاق اور صوبہ مل کر دہشت گردی کے خلاف سرگرم ہوں اور صوبے کو امن دیا جائے ۔ مذاکرات نتیجہ خیز کیوں نہ بن سکے اور رکاوٹ کون اور کیوں بنا، اس حوالے سے بہت کچھ سامنے آ چکا ہے۔
اطلاعات یہی ہیں کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اس عمل میں رکاوٹ بنے اور صوبے میں امن و امان یقینی بنانے کے بجائے اپنے سیاسی قائد کے سامنے سرخرو ہونے کے ایجنڈے کو ترجیح دی، یہی نکتہ ڈیڈلاک کی بنیاد بنا۔لیکن کیا اب صورتحال اسی طرح چلتی رہے گی، بظاہر ایسا نہیں۔ حکومت اور فورسز کو ریاستی مفادات دیکھنے اور دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کیلئے اقدامات کرنا ہیں۔ اگر صوبائی حکومت ساتھ نہیں دیتی تو کیا وفاق اور ریاست ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں گے ؟ ایسا ممکن نظر نہیں آ رہا۔ خیبرپختونخوا کے حالات سنگین ہیں اور صوبہ دہشت گردی اور بدامنی کی لپیٹ میں ہے ، جبکہ صوبائی حکومت اپنے سیاسی ایجنڈے پر گامزن نظر آتی ہے ۔صوبائی حکومت یہ سمجھتی دکھائی دیتی ہے کہ احتجاج کے آپشن کو بروئے کار لا کر حکومت اور ریاست کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے ۔ مسئلہ محض سیاست کا نہیں بلکہ ریاست کا ہے ۔ دشمن دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے اور اس کے عزائم ڈھکے چھپے نہیں۔ ایسے حالات میں انتشار کے بجائے اتحاد کی زیادہ ضرورت ہے ۔بعض سیاسی معاملات میں پی ٹی آئی کے تحفظات جائز ہو سکتے ہیں اور ان پر ریلیف ملنا چاہیے ، لیکن دہشت گردی کے خلاف آپریشن یا ریاستی اقدامات کو سیاسی معاملات سے مشروط کرنے سے بات آگے نہیں بڑھے گی۔
گزشتہ رات ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے ابتدا میں اچھی خبریں آئیں کہ فریقین نے مسائل کے حل پر اتفاق کر لیا ہے ۔ وزیر داخلہ کے ایوان صدر جانے اور اعلامیے پر اعتماد میں لینے کے عمل سے ایک مرحلے پر امید پیدا ہوئی، مگر بعدازاں طے شدہ اعلامیے پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کی منظوری کی شرط سامنے آنے سے معاملات پھر الجھ گئے ۔یوں طے شدہ اعلامیے پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کے نتیجے میں مذاکرات ڈیڈلاک میں تبدیل ہو گئے ۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کو کہنا پڑا کہ مذاکرات میں ڈیڈلاک ہے اور اس کی وجہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بنے ، ان کا کہنا تھا کہ اگر معلوم ہوتا کہ معاہدے کو ویٹو کیا جائے گا تو مذاکرات ہی نہ کرتے ۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ دہشت گردی کا قلع قمع کرنا چاہتی ہے ، جبکہ صوبائی حکومت لانگ مارچ پر مصر ہے ۔وزیر داخلہ کے بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور ریاست دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی پر یکسو ہیں ۔ دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت اپنے سیاسی قائد تک رسائی، ان کی صحت اور طبی سہولیات کو بنیادی مسئلہ قرار دے رہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں اسے اعتماد میں لینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
طے شدہ امور پر اتفاق رائے کے بعد پیدا ہونے والا ڈیڈلاک ظاہر کرتا ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر ایک مخصوص سیاسی مؤقف مذاکراتی عمل پر اثرانداز ہوا۔ تاہم حالات پر نظر ڈالیں تو مذاکرات کا آپشن ابھی ختم نہیں ہوا، ڈیڈلاک وقتی بھی ہو سکتا ہے ۔البتہ اسلام آباد کے حوالے سے حکومت کی پالیسی واضح دکھائی دیتی ہے کہ لانگ مارچ کو دارالحکومت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت دہشت گردی کے سدباب اور اسلام آباد میں لانگ مارچ کے حوالے سے سخت پالیسی پر گامزن ہے ۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ پشاور اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے ۔دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت اسلام آباد پر سیاسی دباؤ بڑھانے کیلئے اپنی قوت کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔ تاہم اب بھی بعض حلقے وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان، خصوصاً دہشت گردی کے سدباب کیلئے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق رائے کیلئے سرگرم ہیں۔ حکومت نے واضح کر رکھا ہے کہ آئندہ مذاکرات کا عمل دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی سے مشروط ہوگا۔ اب دیکھنا ہوگا کہ صوبائی حکومت سیاسی مفادات کو ترجیح دیتی ہے یا دہشت گردی کے سدباب کیلئے سنجیدہ تعاون کرتی ہے ۔ اس حوالے سے آئندہ دو تین روز اہم قرار د ئیے جا رہے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments