محسن نقوی کی مولانا پرچارج شیٹ، سیاستدانوں کے گرد گھیرا تنگ

 محسن نقوی کی مولانا پرچارج شیٹ، سیاستدانوں کے گرد گھیرا تنگ

ریاست کے احترام کو اقتدار سے مشروط کرنے کی سیاست کا حساب ہونا چاہیے

لاہور(تجزیہ: محمد حسن رضا)پاکستان کی سیاست میں اقتدار، مفادات، مذہب اور اصولوں کے نام پر بہت کچھ ہوتا رہا لیکن وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ میں مولانا فضل الرحمن کے سیاسی طرزِ عمل پر جو چارج شیٹ پیش کی ، وہ معمول کی سیاسی بیان بازی سے کہیں زیادہ نہ صرف سنگین ہے بلکہ ایک نہیں دیگر کئی سیاستدانوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا بھی پیش خیمہ ہے ۔ محسن نقوی کے الفاظ نے ان سوالات کو ایک مرتبہ پھر زندہ کردیا ہے کہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کے اصل سیاسی اصول کیا ہیں؟۔ کیا ریاست کا احترام صرف اس وقت تک واجب ہے جب تک اقتدار میں حصہ ملتا رہے ؟ ۔

کیا حکومت میں شمولیت، وزارتیں اور سیاسی مفادات ہی ریاست کے ساتھ وفاداری کا معیار بن چکے ہیں؟ اور کیا اقتدار سے محرومی کسی سیاستدان کو یہ حق دے دیتی ہے کہ وہ اسی ریاست کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرے جس کے آئینی نظام میں وہ دہائیوں تک اقتدار اور مراعات سے مستفید ہوتا رہا؟۔ محسن نقوی کا سب سے اہم اور غیر معمولی جملہ یہ تھا کہ بعض لوگ اسلام کو کاروبار اور سیاست کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یہ محض سیاسی تنقید نہیں بلکہ ایک انتہائی سنگین اخلاقی اور سیاسی الزام ہے ۔ محسن نقوی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ بعض لوگ ان کے پاس آکر گورنر راج نافذ کرنے کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ یہ دعویٰ اپنی نوعیت میں انتہائی اہم ہے ۔ مولانا کی جانب سے ایک طرف جمہوریت، آئین اور عوامی مینڈیٹ کی بات کرنا اور دوسری طرف سیاسی مخالفین سے نجات کے لئے گورنر راج جیسے غیر معمولی اقدام کی خواہش رکھنا، اصول پسندی نہیں بلکہ سیاسی دُ ہرے معیار کی بدترین مثال ہوگی۔

یہ ہے وہ د ہرا معیار جو محسن نقوی نے عوام کے سامنے رکھا۔ محسن نقوی کے بیان میں ایک اور غیر معمولی بات یہ تھی کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے لیے اپنے سابقہ احترام کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کے نزدیک ریاستی اداروں سے متعلق گفتگو میں ذمہ داری کی ایک حد موجود ہے ۔ اس پوری بحث کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ محسن نقوی کے الزامات کو محض ایک سیاسی تقریر سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے ۔ مذہب کو سیاسی ڈھال، جمہوریت کو ضرورت اور ریاست کے احترام کو اقتدار سے مشروط کرنے کی سیاست کا حساب ہونا چاہیے ۔ پاکستان کی ریاست کسی سیاسی شخصیت کی محتاج نہیں بلکہ سیاسی شخصیات کا وجود اور ان کی سیاست اسی ریاست کے آئینی نظام کی مرہونِ منت ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...