نوجوان میں گٹکے کا بڑھتا ہوارجحان

نوجوان میں گٹکے کا بڑھتا ہوارجحان

اسپیشل فیچر

تحریر : وجاہت رضوی


انسان دورِ نوجوانی میں اپنی صحت سے لاپروائی کرتاہے جب کہ اسی دور میں اس پر ماحول اور اس سے زیادہ دوستوں کی صحبت اثر انداز ہوتی ہے۔ انسان جوانی کے دَور میں اچھی بری عادتوں میں جلد مبتلا ہوجاتا ہے۔بری صحبت کی وجہ سے اس کی طبیعت تمباکو نوشی یا دوسرے نشوں کی طرف مائل ہونے لگتی ہے ۔کراچی کے نوجوانوںمیں گٹکے کی وبا عام ہے۔ گٹکے کی تیاری کا طریقہ انتہائی غلیظ اورمہلک ہے ۔ اس کی تیاری میں تیسرے درجے کا چونا، کتھا،تمباکو کا کچرا،بیٹری کا پانی،جانوروں کا خون، پسا ہوا شیشہ،ربڑ کے باریک ٹکڑے ، تھِنر اور پھپھوند لگی چھالیہ استعمال کی جاتی ہے ۔ ان سب چیزوں کا نام سن کر ہی طبیعت خراب ہونے لگتی ہے۔ اس جان لیوا گٹکا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرپرستی میں خوب ترقی کررہا ہے۔ اسے اب کئی طریقوں سے بنایا جاتا ہے جب کہ اس کے مختلف نام بھی رکھ لیے گئے ہیں مثلاً مین پوری، ماوا وغیرہ۔ افسو س ناک بات یہ ہے کہ ان کے رپیر پرتحریر ہوتا ہے’’ حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق۔‘‘ اگر نوجوان اس کے مضر اثرات کا جائزہ لینا چاہیں تو رات ان میں سے کسی بھی شے کو تھوڑے سے پانی میں ڈال کر اس میں ایک بلیڈ رکھ دیں ۔ صبح آپ کو حیرانی ہوگی کہ بلیڈ گل چکا ہے مگر ہمارا نوجوان اس کے باجوود یہ زہر اپنی رگوں میں انڈیل رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے یہاں منہ کے کینسر سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نوجوان طبقہ اس تیزی سے اس لت کی طرف کیوں راغب ہے ۔ کیا نوجوان اسے صرف مزے کے لیے استعمال کررہے ہیں یا معاشرے کی ناہمواریوں نے انہیں اس جانب راغب کیا ہے؟ اس حوالے سے چندنوجوانوں سے بات کی گئی آپ بھی ان کا نقطۂ نظر ملاحظہ کیجیے۔احسن علی( طالب علم جامعہ کراچی): آج کل جو حالات چل رہے ہیں انسان اس میں اتنا پریشان ہے ۔جس چیز سے اسے سکون ملے اسی کے نزدیک ہوجاتا ہے۔نوجوانوں کو گٹکا کھانے کی عادت کی وجہ سے ان کی صحت تو خراب ہوتی ہی ہے مگر ان کا چہرہ بھی بہت برالگتا ہے۔ سرکاری جامعات میں یہ خطرناک چیز پابندی کے باوجود دستیاب ہے دیکھا گیا ہے کہ غریب طبقہ نشے کی اس عادت میں زیادہ مبتلا ہورہا ہے۔سلمان اعظمی(طالب علم) :ہمارے یہاں ہر نوجوان کسی نہ کسی بری عادت میں مبتلا ہے جس سے وہ آسانی سے جان نہیں چھڑا سکتا کسی چیز یا عمل کو عادت بنانا انسان کے اختیا رمیں ہوتا ہے لیکن اسے ترک کرنا اس کے بس میں نہیں ہوتا ۔ میری کلاس میں کافی لڑکے گٹکا کھاتے ہیں، جو اپنی ذمے داریوں سے بھاگتے ہیں۔ وہ جواز دیتے ہیں کہ ہم تو اتنے سال سے کھارہے ہیں اب تک تو کچھ نہیں ہوا ، اس کے بغیر دماغ نہیں چلتا ۔ گٹکا کھانے والے عموماً ضدی ہوتے ہیں ۔ یہ خطرناک شے بیماریوں میں مسلسل اضافے کا سبب بن رہی ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ جلد ازجلداس برائی کا خاتمہ کرے۔عارف (آرکیٹکچر): ہمارے معاشرے کی اچھائیاں مخفی او ر برائیاں واضح رہتی ہیں۔ جن میں سے ایک برائی گٹکا اور مین پوری وغیرہ ہے۔ کچی آبادیوں سمیت پوش علاقو ں میں بھی گٹکا دستیاب ہے۔ شاباش ہے ان نوجوانوںکو جو گٹکا کھاتے ہیں اور خود اپنا نقصان کرتے ہیں۔ حالاں کہ اخباروں میں اتنے مضامین اور ٹی وی پر اتنے پروگرام نشر ہوچکے ہیں مگر شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں اس گٹکے کی وجہ سے جنازہ نہ اٹھا ہو۔ پوش علاقوں میں کمپنی کا بنایا ہوا اور کچی آبادیوں میں گھروں میں تیار کردہ گٹکا با آسانی فروخت ہوتا ہے۔ دکانوں پر گٹکے کی تھیلیاں لٹکا کر اس کی مارکیٹنگ کی جاتی ہے۔ وہ نوجوان کم زور اور بزدل ہیں جو گھریلو پریشانیوں سے فرار کے لیے یہ زہر اپنے جسموں میںاتار کر اپنی صلاحیتیں کھورہے ہیں ۔ گٹکا کھا کر پاکستان کی ترقی کی باتیں کرنے والے بھی قابل مذمت ہیں۔فیاض رضا( نجی کمپنی ملازم): سکون کی تلاش تو ہر انسان کو رہتی ہے اور اس کے حصول کے لیے مختلف طریقے ڈھونڈتے ہیں جن سے وقتی طور پر سکون حاصل ہوتا ہے جب کہ بعض لوگ اسی سکون کے لیے نشہ کرتے ہیںاب مہنگائی کے باعث آج کا نوجوان سستے نشے کی طرف راغب ہے گٹکا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ نوجوان گٹکا مین پوری وغیرہ کھا کر خود کو تازہ دم تصور کرنے کی خوش فہمی میں مبتلارہتے ہیں اور اپنی صحت کی طرف سے بالکل لاپروا ہوجاتے ہیں۔عمران متقی(بینک ملازم): نوجوانوںمیں گٹکے کی عادت خطرناک حد تک معاشرے کو برباد کررہی ہے اور گٹکا کھانے والے جوان و بزرگ اپنا وقار کھودیتے ہیں ا س عادت سے ان کی صحت اور شخصیت دونوںمتاثر ہوتی ہیں۔لوگ ایسے لوگوں سے بات کرنا پسند نہیں کرتے کیوں کہ ان کے منہ سے بوآتی ہے جو لوگ گٹکا کھا کر کائونٹر پر آتے ہیں میری کوشش ہوتی ہے کہ ان کا کام جلدی ختم کروں تاکہ وہ جلدی روانہ ہوجائیں ۔میر ا سوال یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ایسی جگہوں پر چھاپے کیوں نہیں مارتے اور گٹکا بنانے والوں کو گرفتار کیوں نہیں کرتے ؟ ایسے دکان دار جو موت بیچنے کے گناہ گار ہیں انہیں سزا کیوں نہیں دی جاتی؟ جمال حیدر( ملازم سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی) : معا شرے میں ویسے ہی کم خرابیاںنہ تھیں جو یہ گٹکا نامی برائی بھی پیدا ہوگئی ۔ ایسے نوجوانوںپر دکھ ہوتاہے جواسے عادت بنا لیتے ہیںجس کی وجہ سے ہر جگہ شرمندگی بھی اٹھاتے ہیں۔کہیں انٹرویو دینے جائیں تو ان میںخود اعتمادی فقدان نظر آتا ہے ۔دراصل اس سے دانت اتنے گندے ہوجاتے ہیں کہ سامنے والا کراہیت محسوس کرتاہے۔میرا تعلق میڈیکل سے ہے مجھے اسی حوالے سے بہت سے مریض نظر آتے ہیں جن کو سرطان ،دانتوں کا سڑنا،آنتوں کا سکڑنا جیسی بیماریاں ہوتی ہیں جن کی سب سے بڑی وجہ گٹکا،مین پوری کا استعمال ہے۔قانون نافذ کرنے والے خو د اس کااستعما ل کر تے ہیںتو وہ روک تھام کیاکریںگے۔ کاشف عباس (ملازم نجی کمپنی): آج کے نوجوان میں تعمیری سو چ کا فقدان ہے ۔ہر طرف برائیا ں ہیںجس میںہمارا نوجوان پھنستا چلا جا رہا ہے۔ملازمت نہ ملنا،کم تن خواہ اورضروریاتِ زندگی پوری نہ ہونے سے زیادہ تر انسان برائی کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔اس لیے یہ برائی بھی معاشرے میں پھیلتی جا رہی ہے۔ پہلے لوگوں سے چھپ کے کھاتے ہیں پھر تو اپنے والدین کے سامنے بھی اس کے استعمال سے گریز نہیں کرتے جب کہ جگہ جگہ پیک تھوک کر گندگی الگ پھیلاتے ہیںاور مختلف بیماریوں میں خود بھی گرفتار ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی مبتلا کرتے ہیں۔ گٹکا کھانے والے جوان ذہنی طور پر کم زور پڑجاتے ہیں ،ان میںقوتِ فیصلہ اورخود اعتمادی بھی ختم ہو جا تی ہے ، یہ عموماً محفلوں میںجانے سے بھی گھبراتے ہیں۔ ہمیں خود بھی اس بیماری کو خاتمے کے لیے کاوشیں کرنی ہوںگی۔ورنہ آہستہ آہستہ یہ برائی ہماری آنے والی نسلوں میں سرائیت کر جائے گی۔مہروزاحسن(حکیم) : گٹکا ،پان،مین پوری ،ماوا،وغیرہ۔ایسے امراض ہیں جن سے نجات ٖنہایت مشکل ہے ۔اس کی تشویش ناک علامات میںمنہ میں چھالے ،گال کی کھال پرابھرنے والے نشانات شامل ہیں۔منہ کا سرطان ،آنتوںکا خشک ہوجانا جیسی جان لیوا بیماریاں اسی وجہ سے ہیں۔جن کاعلاج بہت مشکل اور مہنگا بھی ہے۔اس سے قوتِ مدافعت ختم ہو کر رہ جاتی ہے، نزلے جیسی چھوٹی بیماری بھی ختم ہونے میں وقت لیتی ہے ،لیکن انسان جانتے بوجھتے اس نقصان کو اپنے گلے ڈال رہا ہے۔ بہت سے مریضوں سے وجہ پوچھوتو جوا ب آتا ہے کھا نا ہضم کرنے کے لیے کھاتے ہیں۔اس گٹکے میں پانی ملاکررکھ دیںتو صبح اس میں باریک باریک کیڑے بلبلاتے صاف نظر آئیں گے۔ برانڈوالے گٹکے میں بلیڈ ڈال دیں تو صبح اس کا نام و نشان بھی مٹ جائے گا۔سرکاری اداروںکی سرپرستی میں زہر فروشی کا کام جار ی و ساری ہے اورکوئی روکنے والا نہیں۔جوانوں کو سمجھنا چاہیے کہ گٹکا کھانے سے وقت نہیں گزر رہا بلکہ گٹکا نوجوانوں کو گزار رہا ہے۔ محمد علی(نان لینئر ایڈیٹر ): گٹکاایک لعنت ہے ۔آج کل نوجوان اس کو ختم کرنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں ،اسی لیے طر ہرف کھاتے نظر آتے ہیں۔ہمارے یہاںزیادہ تر ڈرائیور، کنڈیکٹر جگہ جگہ تھوک کے لوگوں کو بھی اس کے زیرِاثر لا رہے ویسے مجھے یاد آرہا ہے کہ اس کے بیچنے اور خریدنے پرپابندی لگی تھی مگر وہ پابندی نظر نہیں آتی۔چھے مہینہ پہلے میں گٹکا کھاتا تھا کیوں کہ تدوین نگاری کے دوران کمپیوٹر کا استعمال رہتا ہے تو منہ چلانے کے لیے گٹکا کھا لیتا تھا ۔وقتی طور پر تو خوب کام ہوتا تھا پھر نیند بھی خو ب آتی تھی اور اگر نہیں کھاتا تو جسم بھاری بھاری لگتا تھا ۔ڈاکٹر کے مشورے کے بعد اس سے نجات ملی۔گٹکا منہ کا اس قدر برا حال کرتا ہے، دانتوںمیں درد ،زبان پر چھا لے او ریہ نہیںکہ صرف غریب آدمی ہی گٹکا کھا رہا ہے۔بلکہ اچھے خاندان کے خوش شکل افراد بھی اس لت میں گرفتار ہیں ۔مجتبیٰ شاہ(پرائیویٹ کالج کے طالبِ علم ): یہ آج کل کا فیشن بن گیا ہے،خاص کر نوجوانوں میںیہ فیشن عام ہے۔ دوستوں کی صحبت میں رہ کر سگریٹ جیسی بری عادت میں مشغول ہوجاتے ہیں۔زیادہ تر افراد مسائل سے گھبرا کر گٹکا کھانے عادت ڈال لیتے ہیںاور اپنی ذمے داریوں سے منہ موڑ لیتے ہیں۔جس طرح سگریٹ پھیپھڑوں کے لیے مضر ہے اسی طرح چھالیہ، گٹکامنہ کے سرطان جیسی جان لیوا بیماری کی بنیادی وجہ ہے لیکن منع کرنے پرنوجوان باز نہیں آتے۔یہ انتہائی خطرناک عادت ہما را مستقبل تباہ کر رہی ہے۔ ہمیں اس برائی کا خا تمہ کرنے کے لیے فوری اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔ سارہ محمود(انٹیریر ڈزائینر): میں کمپیوٹر کے استعمال کرتے وقت پاپ کارن کھاتی رہتی ہوں جب کہ میرے ساتھ کام کرنے والے نوجوان لڑکے گٹکا اورچھا لیہ کا استعمال کرتے ہیں ۔ان میں سے زیادہ تر کو دانتوں کی تکالیف کی شکایت اورکم مرچوں کے کھانے میں بھی مرچیں تیز لگتی ہیں۔افسوس گٹکا پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا اورمخصوص کمیونٹی کی خواتین بھی اس کا ستعمال کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ہر جگہ اس کی پیک نظر آتی ہے۔نوجوان اموات کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ نوجوان جانے کیوں کینسر جیسے جان لیوا مرض کو خرید رہے ہیں؟ اور خودکشی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ایپل کے مہنگے ترین موبائل

ایپل کے مہنگے ترین موبائل

جدید ٹیکنالوجی، قیمتی دھات اور منفرد ڈیزائنآئی فون ڈیو تقریباً59لاکھ روپے کا ،''پالمیٹ18کے‘‘ ہیروں سے مزینٹیکنالوجی کی دنیا میں جدید سمارٹ فونز جہاں نت نئے فیچرز اور منفرد ڈیزائن کے باعث صارفین کی توجہ حاصل کر رہے ہیں، وہیں بعض کمپنیاں اور لگژری برانڈز ان آلات کو محض ضرورت کے بجائے شان و شوکت کی علامت بنانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ ایپل کے فولڈ ایبل ''آئی فون ڈیو‘‘ کے ''لیکوئیڈ میٹل‘‘ ورژن نے اپنی غیر معمولی قیمتوں کے باعث ٹیکنالوجی کی دنیا میں خاصی دلچسپی پیدا کی ہے۔ ایپل کے اس خصوصی فون کی قیمت تقریباً 59لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جو اسے عام اسمارٹ فونز سے کہیں آگے لے جاتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، قیمتی دھات اور منفرد ڈیزائن کے امتزاج سے تیار کیا گیا یہ ماڈل اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ صارفین جدید موبائل فون کیلئے آخر کتنی بڑی رقم خرچ کرنے کو تیار ہیں۔ایپل کا اب تک کا سب سے مہنگا آئی فون رواں ماہ کے آغاز میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ برطانیہ میں اس فولڈ ایبل ڈیوائس کی قیمت 1,999 سے 3,199 پاؤنڈ کے درمیان ہے، جو ایپل کے جدید ترین فلیگ شپ فونز ''آئی فون 18 پرو‘‘ اور ''آئی فون 18 پرو میکس‘‘ سے بھی زیادہ ہے، جن کی ابتدائی قیمت 1,199 پاؤنڈ ہے۔آئی فون ڈیو کا یہ نرخ بھی اس کے ایک خصوصی ماڈل کے مقابلے میں معمولی دکھائی دیتا ہے۔ اسے لگژری کمپنی کیویار (Caviar) نے تیار کیا ہے۔''لیکوئیڈ میٹل‘‘ (Liquid Metal) کے نام سے متعارف کرایا گیا خصوصی فون مکمل طور پر اسٹرلنگ سلور (خالص چاندی کی مخصوص قسم) سے تیار کیا گیا ہے۔ کیویار کے مطابق ''اس کی سطح حرکت میں منجمد دھات کا تاثر دیتی ہے، جبکہ بدلتے ہوئے عکس فون کی ساخت میں گہرائی اور سیال پن کو مزید نمایاں کرتے ہیں‘‘۔ تاہم، اگر آپ یہ منفرد فون حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے خاصی بڑی رقم خرچ کرنا ہوگی۔ لیکوئیڈ میٹل آئی فون ڈیو کی قیمت 21,340 ڈالر (تقریباً 59لاکھ روپے) تک ہے، جو ایپل کے پیش کردہ آئی فون ڈیو سے تقریباً 10 گنا زیادہ ہے۔کیویار کے مطابق، لیکوئیڈ میٹل ورژن ایپل آئی فون میں موجود تبدیلی کے تصور کو آگے بڑھاتا ہے اور اسمارٹ فون کو ایک ہموار دھاتی ساخت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس کے مطابق، ''مجسمہ نما سیال لکیریں فون کی نئی ساخت کو نمایاں کرتی ہیں اور مسلسل حرکت کا احساس پیدا کرتی ہیں، گویا ڈیوائس کے ساتھ اس کی سطح بھی خود تبدیل ہو رہی ہو‘‘۔جہاں تک اس میں استعمال ہونے والے مواد کا تعلق ہے، کمپنی نے آئینے جیسی چمک رکھنے والی اسٹرلنگ سلور کا انتخاب کیا ہے۔ کیویار نے مزید بتایا کہ اسٹرلنگ سلور کو مجسمہ نما ابھری ہوئی ساخت میں ڈھالا گیا ہے اور اسے آئینے جیسی چمک کے ساتھ پالش کیا گیا ہے۔ کیویار کے مطابق، اس خصوصی فون کے صرف 17 یونٹ تیار کیے گئے ہیں۔ 256 جی بی اسٹوریج والے ماڈل کی قیمت 18,840 ڈالر جبکہ 512 جی بی ورژن کی قیمت 19,200 ڈالر ہے۔ اسی طرح 1 ٹی بی اسٹوریج والا ماڈل 19,910 ڈالر میں دستیاب ہے۔ دوسری جانب سب سے مہنگا 2 ٹی بی ورژن 21,340 ڈالر میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ کیویار نے ایپل کے فلیگ شپ ڈیوائسز آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس کو بھی لگژری انداز میں پیش کیا ہے۔ کمپنی نے ان دونوں فونز کے 76 خصوصی کسٹم ورژنز تیار کیے ہیں، جن کی قیمت 7,130 ڈالر سے شروع ہو کر 8890 ڈالر تک جاتی ہے۔ان میں مہنگے ترین ماڈلز میں ''پالمیٹ 18کے‘‘ بھی شامل ہے، جسے آرٹ ڈیکو طرز کے ڈیزائن میں 18 قیراط سونے اور ہیروں سے تیار کیا گیا ہے۔ کیویار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ''اس فون کا باڈی 18 قیراط سونے سے تیار کیا گیا ہے اور اسے کھجور کے پتوں کے نقش سے سجایا گیا ہے، جو متحدہ عرب امارات کی مشہور کھجوروں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔‘‘ کمپنی کے مطابق، 100 سے زائد ہیرے ہاتھ سے نصب کیے گئے ہیں، جو اس آرائشی ڈیزائن کو مزید خوبصورت بناتے ہیں، جبکہ قیمتی پتھروں سے مزین ایپل کا لوگو ڈیزائن کی سادگی اور متناسب ساخت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں جب کیویار نے ایپل کی مصنوعات کے غیر معمولی اور لگژری ورژن متعارف کرائے ہوں۔ رواں سال اپریل میں بھی کمپنی نے آئی فون 17 پرو میکس کا ایک خصوصی لگژری ورژن تیار کیا تھا، جس میں ایپل کے شریک بانی اسٹیو جابز کے مشہور سیاہ ٹرٹل نیک لباس کا ایک ٹکڑا شامل کیا گیا تھا۔

بڑی آنکھوں والے تیرتے ڈراوے ’’لومنگ آئی بوائے‘‘

بڑی آنکھوں والے تیرتے ڈراوے ’’لومنگ آئی بوائے‘‘

آبی پرندوں کو بھگانے کیلئے سائنسدانوں کا انوکھا و دلچسپ تجربہسمندری ساحلوں پر سی گلز کی بڑی تعداد بعض اوقات شہریوں اور ماہی گیروں کیلئے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔ خوراک کی تلاش میں یہ پرندے انسانوں کے قریب آ جاتے ہیں اور بعض مقامات پر کچرے اور خوراک کے مقامات کے گرد جمع ہو کر مسائل پیدا کرتے ہیں۔ انہیں دور رکھنے کیلئے سائنسدانوں نے اب ایک دلچسپ اور غیر معمولی طریقہ آزمایا ہے۔ برطانیہ کے کارن وال کے ساحل پر بڑے بڑے گوگلی آنکھوں والے ''تیرتے ڈراؤے‘‘ پانی میں چھوڑے گئے ہیں، جن کا مقصد سی گلز کو خوفزدہ کرکے مخصوص علاقوں سے دور رکھنا ہے۔سائنس دانوں نے برطانیہ کے علاقے کارن وال کے ساحل کے قریب سمندر میں ایک ''تیرتا ڈراؤنا مجسمہ‘‘ نصب کیا ہے۔یہ تیرتا ہوا ڈراؤنا مجسمہ ''لومنگ آئی بوائے‘‘ (LEB) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اسے سمندری پرندوں کو ماہی گیری کے جالوں میں پھنسنے سے بچانے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔فِش ٹیک میرین کے سینئر فشریز سائنس دان ٹام ہوپر کے مطابق ''لومنگ آئی بوائے بنیادی طور پر ایک گھومتا ہوا سر ہے جس پر ایک آنکھ بنی ہوئی ہے۔ اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی متحرک یا ابھرتی ہوئی آنکھ پرندوں کو دیکھ رہی ہو، جس کے باعث پرندے ماہی گیری کے جالوں کے قریب جانے سے گریز کرتے ہیں‘‘۔ اگرچہ یہ طریقہ سننے میں قدرے مزاحیہ معلوم ہوتا ہے، تاہم ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ تکنیک انتہائی مؤثر ہے۔ اس تیرتے ڈراؤنے مجسمے کو نصب کرنے کے بعد گِلِموٹ اور ریزربِل نامی سمندری پرندوں کے ماہی گیری کے جالوں میں پھنسنے کے امکانات 59 فیصد تک کم ہوگئے۔ہر سال یورپ کے ساحلی علاقوں میں تقریباً 95 ہزار سمندری پرندے غیر ارادی طور پر ماہی گیری کے جالوں میں پھنس کر ڈوب جاتے ہیں۔ اس عمل کو ''بائی کیچ‘‘ (Bycatch) کہا جاتا ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو کئی اقسام کے سمندری پرندوں کو متاثر کرتا ہے، جن میں گِلِموٹ اور ریزربِل بھی شامل ہیں۔یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے محققین نے اپنی نئی تحقیق میں پرندوں کو ماہی گیری کے جالوں سے دور رکھنے کیلئے دو طریقوں کا تجربہ کیا۔ ان میں ''لومنگ آئی بوائز‘‘ (LEBs) اور ''اسکیری برڈ‘‘ پتنگیں شامل تھیں۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ''اسکیری برڈ‘‘ پتنگیں شکاری پرندوں کی شکل میں تیار کی جاتی ہیں، تاکہ دوسرے پرندے انہیں دیکھ کر اس علاقے سے دور رہیں۔دو سال تک جاری رہنے والے تجربے کے دوران کارن وال کے 10 ماہی گیروں کی کشتیوں پر کیمرے نصب کیے گئے، جن کے ذریعے یہ جائزہ لیا گیا کہ ان طریقوں سے جالوں میں سمندری پرندوں کے غیر ارادی طور پر پھنسنے کی شرح پر کیا اثر پڑتا ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ دونوں طریقے انتہائی مؤثر ثابت ہوئے۔ ''لومنگ آئی بوائز‘‘ کے استعمال سے پرندوں کے جالوں میں پھنسنے کے امکانات 59 فیصد جبکہ شکاری پرندوں کی شکل والی پتنگوں کے ذریعے 71 فیصد کم ہوگئے۔یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے تحقیق کے مرکزی مصنف ٹام ہورٹن نے کہا کہ یہ مطالعہ اب تک کے مضبوط ترین شواہد میں سے ایک فراہم کرتا ہے کہ سادہ اور عملی حفاظتی طریقے گل نیٹ فشریز میں سمندری پرندوں کے غیر ارادی شکار کو نمایاں حد تک کم کرسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق کے ذریعے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کن اوقات اور مقامات پر پرندوں کے جالوں میں پھنسنے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس معلومات کی مدد سے اب حفاظتی اقدامات کو ان مقامات اور اوقات پر مرکوز کیا جاسکتا ہے جہاں کمزور سمندری پرندوں کی آبادی کے تحفظ کیلئے ان کا سب سے زیادہ فائدہ ہو، جبکہ پائیدار ماہی گیری کے طریقوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔مسٹر ہوپر نے مزید کہا کہ سمندر میں استعمال ہونے والی کوئی بھی ٹیکنالوجی سادہ اور مضبوط ہونی چاہیے۔ اسی لیے ماہی گیروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہمیں یہ جاننے کا موقع ملا کہ یہ آلات عملی طور پر کس طرح استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس تجربے سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور اب ہم ان آلات کو مزید بہتر اور مؤثر بنا سکتے ہیں تاکہ وہ ماہی گیروں کی عملی ضروریات کے مطابق ہوں‘‘۔یہ پہلا موقع نہیں کہ سائنس دانوں نے سمندری پرندوں کو دور رکھنے کیلئے بڑی بڑی ''گوگلی آنکھوں‘‘ کا سہارا لیا ہو۔رواں سال کے آغاز میں یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے سائنسدانوں نے شرارتی سی گلز کو کھانے کی اشیا سے دور رکھنے کیلئے ٹیک اوے کھانے کے ڈبوں پر بڑی بڑی آنکھیں چسپاں کرنے کی تجویز بھی پیش کی تھی۔اس تحقیق کے دوران ماہرین نے ٹیک اوے کھانے کے ڈبوں پر گوگلی آنکھیں چسپاں کرکے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ آیا ان کا بھوکے سی گلز کیلئے کھانے کی کشش پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔حیرت انگیز طور پر تحقیق میں معلوم ہوا کہ آنکھوں کی موجودگی سے سی گلز بدک جاتے ہیں۔ وہ ایسے ڈبوں کی طرف نسبتاً دیر سے بڑھتے اور ان پر چونچ مارنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔تحقیق کی مرکزی مصنف ڈاکٹر لورا کیلی نے ''دی کنورسیشن‘‘ کیلئے لکھے گئے ایک مضمون میں وضاحت کی کہ بہت سے جانور، خواہ جنگلی ہوں یا پالتو، آنکھوں کی موجودگی کے بارے میں خاصے حساس ہوتے ہیں۔ آنکھیں کسی شکاری کی موجودگی کی علامت ہوسکتی ہیں یا ارادے کے اظہار کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ براہِ راست آنکھوں میں دیکھنا اکثر جارحیت کا اظہار سمجھا جاتا ہے، جبکہ نظریں چرانا خطرہ نہ ہونے کی علامت ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق جانور عموماً اس وقت دفاعی ردعمل ظاہر کرتے ہیں جب انہیں محسوس ہو کہ کوئی آنکھیں گاڑ کر انہیں دیکھ رہا ہے۔سی گلز کو دور رکھنے کے سائنسی طریقے٭...سی گلز کو ڈانٹیں یا بلند آواز میں چلائیں۔٭...زیبرا کی دھاریوں یا چیتے کی کھال جیسے نمایاں اور متضاد ڈیزائن والے کپڑے پہنیں۔٭...جو سی گلز بہت قریب آنے لگیں، ان سے آنکھوں کا رابطہ برقرار رکھیں۔٭...کھانا پیراسول، چھتری، چھت یا قریب قریب فاصلے پر لگی جھنڈیوں کے نیچے بیٹھ کر کھائیں، یا دیوار سے پشت لگا کر کھائیں۔٭...اپنا بیگ کبھی کھلا نہ چھوڑیں اور اس کی زِپ ضرور بند رکھیں۔٭...محض تفریح کیلئے سی گلز کو کبھی کھانا نہ کھلائیں۔٭...اپنے کھانے کے ڈبے یا پیکنگ پر گوگلی آنکھیں چسپاں کریں۔

آج کا دن

آج کا دن

اٹلانس کی پہلی پرواز3اکتوبر 1985ء کو امریکی خلائی شٹل ''اٹلانٹس‘‘ نے اپنی پہلی خلائی پرواز مکمل کی۔ یہ پرواز ایس ٹی ایس 51 جے مشن کے تحت انجام دی گئی، جس میں ''ڈی ایس سی ایستھری‘‘ نظام کے دو دفاعی مواصلاتی سیٹلائٹس خلا میں پہنچائے گئے۔ یہ اٹلانٹس خلائی شٹل کی پہلی پرواز تھی اور امریکی خلائی پروگرام کی اہم کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔معاہدہ نِش 1739ء میں آج کے روزسلطنت عثمانیہ اور روس کے درمیان معاہدہ نِش پر دستخط ہوئے، جس کے نتیجے میں 1735ء سے 1739ء تک جاری رہنے والی روس ترک جنگ کا خاتمہ ہوا۔ یہ جنگ دونوں سلطنتوں کے درمیان خطے میں سیاسی اور فوجی کشیدگی کا سبب بنی رہی۔ معاہدے کے ذریعے دونوں فریقوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور اپنے باہمی تنازعات کو ایک معاہدے کے تحت سمیٹا۔ اٹلی:کشتی کا سانحہ3اکتوبر 2013ء کو اٹلی کے جزیرے لیمپڈوسا کے قریب تارکین وطن کو لے جانے والی ایک کشتی سمندر میں ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 360 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حادثہ بحیرہ روم میں پیش آنے والے انتہائی المناک انسانی سانحات میں شمار کیا جاتا ہے۔ کشتی میں سوار افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ حادثے نے غیر محفوظ سمندری سفر، انسانی اسمگلنگ اور تارکین وطن کی مشکلات کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔برطانیہ جوہری طاقت بنا1952ء میں آج کے روزبرطانیہ نے مغربی آسٹریلیا کے مونٹی بیلو جزائر میں ''آپریشن ہریکین‘‘ کے تحت کامیابی سے جوہری ہتھیار کا تجربہ کیا۔ اس تجربے کے بعد برطانیہ دنیا کی تیسری جوہری طاقت بن گیا۔ یہ تجربہ برطانوی دفاعی اور جوہری پروگرام کی ایک اہم پیش رفت تھا۔ اس سے قبل امریکہ اور سوویت یونین جوہری ہتھیار تیار کرکے ان کا تجربہ کر چکے تھے۔ انسان بردار خلائی مشن3اکتوبر1962ء کو امریکی خلائی پروگرام ''پروجیکٹ مرکری‘‘ کے تحت خلا باز ولی شیرا کو خلا میں روانہ کیا گیا۔ اس مشن کے دوران انہوں نے زمین کے گرد چھ چکر لگائے۔ یہ پرواز امریکی انسان بردار خلائی پروگرام کی اہم کامیابیوں میں شمار ہوئی۔ مشن کا مقصد خلا باز کی کارکردگی، خلائی جہاز کے نظام اور طویل دورانیے کی خلائی پرواز کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا تھا۔لنگیاڈس قتل عام1943ء میں آج کے دن نازیوں کی جانب سے ایک قتل عام کیا گیا جس میں فرسٹ ماؤنٹین ڈویژن نے حصہ لیا، اسے ''لنگیاڈس کا قتل عام‘‘ کہا جاتا ہے۔ شمال مغربی یونان میں لنگیاڈس کے قریب ایک جرمن افسر قتل ہو گیا۔ جس کے بعد نازیوں نے ایک آپریشن شروع کیا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کیا گیا۔ قتل کئے جانے والوں میں زیادہ تعداد بچوں، خواتین اور بزرگوں کی تھی۔

عالمی یومِ ترجمہ

عالمی یومِ ترجمہ

فروغِ علم میں ترجمے کی اہمیتہر سال 30 ستمبر کو عالمی یومِ ترجمہ (International Translation Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن دنیا بھر میں مترجمین، ترجمانوں اور زبان و ادب سے وابستہ ماہرین کی خدمات کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ترجمہ محض ایک زبان کے الفاظ کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ علم، فکر، تہذیب، ادب اور تجربات کو ایک معاشرے سے دوسرے معاشرے تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انسانی تاریخ میں علم کے پھیلاؤ اور تہذیبوں کے باہمی رابطے میں ترجمے نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ علم کی منتقلی کا ذریعہدنیا میں مختلف زبانوں کے وجود نے جہاں انسانی تہذیب کو رنگا رنگی عطا کی وہیں زبان کا فرق علم کے تبادلے میں ایک رکاوٹ بھی بن سکتا تھا۔ ترجمے نے اس رکاوٹ کو بڑی حد تک ختم کیا۔ ایک زبان میں پیدا ہونے والا علمی سرمایہ دوسری زبان بولنے والے لوگوں تک ترجمے کے ذریعے پہنچا اور یوں علم کسی ایک خطے یا قوم تک محدود نہیں رہا۔قدیم زمانے سے ہی فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات، جغرافیہ اور دیگر علوم کی کتابوں کے تراجم نے انسانی علم کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلامی تاریخ میں عباسی دور کا علمی و ترجمے کا کام اس کی نمایاں مثال ہے جب یونانی، فارسی اور دیگر زبانوں کے علمی ذخیرے کا عربی میں ترجمہ ہوا۔ اس علمی سرگرمی نے مسلمانوں کے علمی اور سائنسی ارتقا میں اہم کردار ادا کیا اور بعد ازاں یہی علمی سرمایہ مختلف راستوں سے یورپ تک پہنچا۔آج بھی یہی اصول برقرار ہے۔ دنیا کے کسی ایک حصے میں ہونے والی سائنسی تحقیق، نئی دریافت، ادبی تخلیق یا فکری بحث اس وقت عالمی سطح پر زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب اسے دوسری زبانوں میں منتقل کیا جائے۔ادب اور ثقافت کے درمیان رابطہترجمہ صرف سائنسی اور فنی معلومات تک محدود نہیں۔ عالمی ادب کے فروغ میں بھی اس کا کردار بنیادی ہے۔ ایک ملک کے ناول، افسانے، شاعری اور فلسفیانہ ادب جب دوسری زبانوں میں منتقل ہوتے ہیں تو مختلف معاشروں کے لوگ دوسری تہذیبوں کے جذبات، روایات، تاریخ اور طرزِ فکر کو سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔اسی طرح ترجمہ ثقافتی فاصلے کم کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ کسی معاشرے کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے اعداد و شمار جاننا کافی نہیں، بلکہ اس کی زبان، ادب اور ثقافتی اظہار کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اچھا مترجم صرف الفاظ منتقل نہیں کرتا بلکہ مفہوم، سیاق و سباق اور ثقافتی حساسیت کو بھی دوسری زبان کے قارئین تک پہنچاتا ہے۔آئی ٹی نے ترجمے کی دنیا بدل دیگزشتہ چند دہائیوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ترجمے کے شعبے میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ پہلے ایک طویل کتاب یا دستاویز کا ترجمہ کرنے میں کئی ماہ یا بعض اوقات سال لگ سکتے تھے، جبکہ آج کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور جدید سافٹ ویئر نے اس عمل کو کہیں زیادہ تیز اور منظم بنا دیا ہے۔کمپیوٹر اسسٹڈ ٹرانسلیشن (CAT) ٹولز، آن لائن لغات، اصطلاحاتی ڈیٹابیس، ٹرانسلیشن میموری اور مشینی ترجمے کے نظام نے مترجمین کی کارکردگی میں اضافہ کیا ہے۔ اب ایک مترجم پہلے سے ترجمہ کیے گئے جملوں اور اصطلاحات کو دوبارہ استعمال کر سکتا ہے، جس سے وقت کی بچت اور زبان میں یکسانیت پیدا ہوتی ہے۔انٹرنیٹ نے بھی اس شعبے میں انقلاب برپا کیا ہے۔ مترجم کو اب لغت یا حوالہ جاتی کتاب کے لیے لازماً کتب خانے جانے کی ضرورت نہیں۔ مختلف آن لائن ذرائع، ڈیجیٹل لغات، علمی جرائد اور اصطلاحاتی ذخائر چند لمحوں میں دستیاب ہو جاتے ہیں۔مصنوعی ذہانت اور مشینی ترجمہحالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت (AI) نے ترجمے کے شعبے میں ایک نئی تبدیلی پیدا کی ہے۔ AI صرف لفظ بہ لفظ ترجمہ کرنے کے بجائے جملے کے سیاق و سباق، زبان کے انداز اور بعض اوقات پورے متن کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مشینی ترجمہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ رواں اور قابلِ فہم ہوا ہے۔AI کی مدد سے اب بڑی مقدار میں مواد مختصر وقت میں دوسری زبان میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ویب سائٹس، تعلیمی مواد، کاروباری دستاویزات، تکنیکی معلومات اور عام مواصلات میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ آواز کی شناخت اور خودکار سب ٹائٹلنگ جیسی ٹیکنالوجیز نے زبانوں کے درمیان فوری رابطے کے امکانات وسیع کیے ہیں۔تاہم مصنوعی ذہانت نے مترجم کی ضرورت ختم نہیں کی۔ پیچیدہ ادبی، قانونی، طبی، سفارتی اور حساس نوعیت کے متن میں انسانی فہم اور دانش اب بھی اہم ہے۔ AI بعض اوقات اصطلاح، محاورے، مفہوم یا مخصوص پس منظر کو غلط سمجھ لیتا ہے۔ اس لیے مستقبل میں انسان اور AI کے اشتراک پر مبنی ترجمہ زیادہ اہم دکھائی دیتا ہے۔مترجم کا کردار بدل گیا مستقبل کا مترجم AI سے تیار کردہ ابتدائی ترجمے کی جانچ، اصلاح، ثقافتی مطابقت اور حتمی معیار کی ذمہ داری سنبھالے گا۔ اس کے لیے زبان پر عبور کے ساتھ ٹیکنالوجی کو سمجھنا بھی ضروری ہوگا۔

مصنوعی ذہانت کے دور میں تنقیدی سوچ کیسے برقرار رکھی جائے؟

مصنوعی ذہانت کے دور میں تنقیدی سوچ کیسے برقرار رکھی جائے؟

مصنوعی ذہانت خصوصاً جنریٹو اے آئی نے معلومات حاصل کرنے، لکھنے، تحقیق کرنے اور مسائل حل کرنے کے طریقوں کو تیزی سے بدل دیا ہے۔ چند برس پہلے جس کام کے لیے گھنٹوں مطالعہ، تلاش اور تجزیہ درکار ہوتا تھا، آج وہ چند سیکنڈ میں مکمل ہو جاتا ہے۔ تاہم اس سہولت کے ساتھ ایک اہم سوال بھی سامنے آیا ہے کہ اگر انسان ہر مشکل ذہنی کام مصنوعی ذہانت کے حوالے کر دے تو کیا اس کی اپنی سوچنے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے؟ بعض مطالعات میں اے آئی سے سیکھنے میں مدد ملنے کے شواہد سامنے آئے ہیں جبکہ کچھ تحقیقات یہ اشارہ دیتی ہیں کہ اگر طالب علم ہر کام کے لیے تیار جواب پر انحصار کرے تو اس کی اپنی علمی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔اے آئی سہولت بھی اور آزمائش بھیچین کی Tsinghua University کے محقق Lixiang Yan کا تجربہ اس بحث کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے ایک آن لائن کورس کے لیے AI ایجنٹ استعمال کیا تو معلوم ہوا کہ یہ ٹیکنالوجی اسائنمنٹس مکمل کرنے، سوالات کے جواب دینے اور مباحثوں میں حصہ لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس صورت حال میں طالب علم بظاہر کورس کی تمام سرگرمیاں مکمل کر سکتا تھا مگر ضروری نہیں کہ وہ خود علمی طور پر ان سرگرمیوں میں شریک بھی ہو۔یہی وہ مقام ہے جہاں مصنوعی ذہانت اور انسانی تعلیم کے درمیان بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف صحیح جواب حاصل کرنا نہیں بلکہ جواب تک پہنچنے کے عمل میں علم، دلیل، تجزیے اور تجربے کو استعمال کرنا بھی ہے۔ماہرین کے مطابق انسانی ذہن بھی عضلات کی طرح ہے، جس طرح جسمانی عضلات کو مضبوط رکھنے کے لیے مشق ضروری ہے، اسی طرح یادداشت، reasoning اور پرابلم سالونگ کے لیے ذہنی مشق ضروری ہے۔ اگر ہر مشکل سوال کا جواب فوری طور پر اے آئی سے حاصل کر لیا جائے تو انسان کو خود سوچنے کی مشق کم ہو گی۔تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اے آئی لازماً ذہنی صلاحیتوں کو کم کرتی ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اسے کس انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر اے آئی صرف تیار جواب فراہم کرے تو انسان کی اپنی کوشش محدود ہو سکتی ہے لیکن اگر یہی ٹیکنالوجی سوالات اٹھانے، غلطیوں کی نشاندہی کرنے، مختلف نقطہ نظر پیش کرنے اور فیڈ بیک دینے کے لیے استعمال ہو تو یہ سیکھنے کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔تنقیدی سوچ ہے کیا؟Critical thinking یا تنقیدی سوچ کو عام طور پر معلومات کو صرف قبول کرنے کے بجائے ان کا تجزیہ کرنے، شواہد کا جائزہ لینے، مختلف امکانات پر غور کرنے اور منطقی نتیجے تک پہنچنے کی صلاحیت کہا جا سکتا ہے۔ اس میں یہ صلاحیت بھی شامل ہے کہ انسان اپنے خیال کے مخالف نقطہ نظر کو سن سکے اور ضرورت پڑنے پر اپنی رائے تبدیل کر سکے۔تاہم تنقیدی سوچ محض ایک عمومی ہنر نہیں جسے ایک مرتبہ سیکھنے کے بعد ہر شعبے میں یکساں طور پر استعمال کیا جا سکے۔ کسی شعبے میں بنیادی علم بھی ضروری ہے۔اے آئی کے دور میں تعلیم کا نیا چیلنجتعلیمی اداروں کے لیے مصنوعی ذہانت کا سب سے بڑا سوال شاید یہ نہیں کہ اسے روکا جائے یا استعمال کیا جائے بلکہ یہ ہے کہ طلبہ کو اسے صحیح طریقے سے استعمال کرنا کیسے سکھایا جائے۔سائنسی جریدے 'نیچر ‘کی رپورٹ کے مطابق ابھی اس بارے میں حتمی سائنسی نتیجہ موجود نہیں کہ جنریٹو اے آئی مجموعی طور پر طلبہ کی Critical thinking کو کم کر رہا ہے۔ مطالعات نسبتاً نئے ہیں، نتائج مختلف ہیں اور طویل مدتی تحقیق محدود ہے۔ 2024ء کی ایک تحقیق میں ایسے طلبہ کا جائزہ لیا گیا جنہوں نے ریاضی کے سوال حل کرنے کے لیے جنریٹو اے آئی استعمال کی۔ اے آئی کی مدد کے دوران ان کی کارکردگی بہتر ہوئی لیکن جب اے آئی کی سہولت ہٹا دی گئی تو ان کی کارکردگی ان طلبہ سے بھی کم رہی جنہوں نے ابتدا سے اے آئی استعمال نہیں کی تھی۔اس طرح کے نتائج یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ کیا بہتر کارکردگی واقعی بہتر سیکھنے کی علامت ہے یا صرف بہتر ٹیکنالوجی کے استعمال کا نتیجہ۔تعلیمی ماہرین کے مطابق طلبہ کو صرف جواب حاصل کرنے کے بجائے سوال پوچھنے، دلیل دینے، شواہد تلاش کرنے اور اپنے نتیجے کا دفاع کرنے کی مشق کرانا ضروری ہے۔ مقابلہ نہیں ذمہ دارانہ تعاونمصنوعی ذہانت کی ترقی کو روکنا نہ ممکن ہے اور نہ ہی ضروری۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنی بنیادی علمی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی کے حوالے نہ کرے۔ اے آئی کو ایک معاون، استاد، تحقیقی ساتھی یا فیڈ بیک دینے والے نظام کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن حتمی سوچ اور فیصلہ سازی میں انسانی کردار برقرار رہنا چاہیے۔معلومات کی فراوانی کے دور میں اصل طاقت صرف معلومات تک رسائی نہیں بلکہ یہ سمجھنے میں ہے کہ کون سی معلومات قابلِ اعتماد ہیں، ان کے پیچھے کیا شواہد ہیں اور ان سے کیا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت انسان کے لیے ایک طاقتور ذریعہ بن سکتی ہے مگر سوچنے کی ذمہ داری انسان ہی کی رہنی چاہیے۔مستقبل میں وہ معاشرے زیادہ مضبوط علمی بنیاد قائم کر سکیں گے جہاں لوگ مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس کے نتائج پر سوال اٹھانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔

آج کا دن

آج کا دن

پاکستان اقوام متحدہ کا رکن بنا30 ستمبر 1947ء پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم دن ہے۔ پاکستان کے قیام کے صرف چند ہفتوں بعد اسی روز اسے اقوام متحدہ کی باقاعدہ رکنیت حاصل ہوئی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان کی رکنیت منظور کی اور یوں نئی ریاست نے عالمی سفارتی نظام میں اپنا باضابطہ مقام حاصل کرلیا۔ پاکستان کی جانب سے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں نے اقوام متحدہ میں ملک کی نمائندگی کی۔ رکنیت حاصل کرنے کے بعد پاکستان کو جنرل اسمبلی اور اقوام متحدہ کے دوسرے اداروں میں بین الاقوامی مسائل پر اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملا۔ برلن ایئر لفٹ کا اختتام30 ستمبر 1949ء کو برلن ایئر لفٹ باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہوئی۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہونے والی سرد جنگ کے ابتدائی دور کی سب سے بڑی انسانی اور لاجسٹک کارروائیوں میں سے ایک تھی۔ جنگ کے بعد جرمنی اور برلن اتحادی طاقتوں کے مختلف انتظامی علاقوں میں تقسیم تھے۔ 1948 ء میں سوویت یونین نے مغربی برلن کی طرف جانے والے زمینی اور آبی راستوں کو بند کردیا جس سے مغربی برلن کے تقریباً بیس لاکھ باشندوں کو خوراک، ایندھن اور دیگر ضروری سامان کی شدید ضرورت پیش آئی۔ امریکہ، برطانیہ اور ان کے اتحادیوں نے ہزاروں پروازوں کے ذریعے خوراک، کوئلہ، ادویات اور دیگر ضروری سامان مغربی برلن پہنچایا گیا۔ یہ آپریشن تقریباً 15 ماہ تک جاری رہا۔پہلی جوہری آبدوز30 ستمبر 1954ء کو امریکی بحریہ کی یو ایس ایس ناٹیلس کو باقاعدہ طور پر بحریہ میں شامل کیا گیا۔ یہ دنیا کی پہلی جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز تھی۔ اس کی تیاری امریکی بحریہ اور جوہری انجینئرنگ کے ماہرین کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ تھی۔ اس آبدوز کی کامیابی نے دنیا کی بحری حکمت عملی کو تبدیل کردیا اور بعد میں امریکہ، سوویت یونین، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک نے جوہری آبدوزیں تیار کیں۔ جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں بعد میں طویل فاصلے تک خفیہ سفر، جوہری ہتھیاروں کی ترسیل اور سمندری نگرانی کے لیے انتہائی اہم بن گئیں۔ فلنسٹونز نشر ہوا30 ستمبر 1960ء کو مشہور امریکی ٹیلی ویژن سیریز فلنسٹونز(The Flintstones) پہلی مرتبہ نشر ہوئی۔ اس پروگرام کی کہانی ماقبل تاریخ کے ایک خیالی معاشرے میں رہنے والے فلنسٹون خاندان اور ان کے پڑوسیوں کے گرد گھومتی تھی۔ پروگرام کی انفرادیت یہ تھی کہ اگرچہ اس کا ماحول پتھر کے زمانے جیسا تھا لیکن کرداروں کی روزمرہ زندگی جدید امریکی متوسط طبقے سے مشابہ تھی۔بعد میں اس کے کردار امریکی مقبول ثقافت کا حصہ بن گئے۔ کئی دہائیوں تک اس کے خصوصی پروگرام، فلمیں، کھلونے اور دیگر مصنوعات سامنے آتی رہیں۔ بوٹسوانا آزاد ہوا30 ستمبر 1966ء کو بوٹسوانا نے برطانوی نوآبادیاتی انتظام سے آزادی حاصل کی۔ آزادی سے پہلے یہ علاقہ بیچوانالینڈ پروٹیکٹوریٹ کے نام سے برطانوی انتظام کے تحت تھا۔ آزادی کے دن ملک کا نام جمہوریہ بوٹسوانا رکھا گیا اور سیرتسے خاما ملک کے پہلے صدر بنے۔ آزادی کے وقت ملک کی معیشت محدود تھی اور بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور انتظامی اداروں کے حوالے سے کئی مشکلات موجود تھیں۔ بعد کے برسوں میں ملک میں ہیروں کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے، جنہوں نے اس کی معیشت کو نمایاں طور پر تبدیل کردیا۔