نوجوان میں گٹکے کا بڑھتا ہوارجحان

نوجوان میں گٹکے کا بڑھتا ہوارجحان

اسپیشل فیچر

تحریر : وجاہت رضوی


انسان دورِ نوجوانی میں اپنی صحت سے لاپروائی کرتاہے جب کہ اسی دور میں اس پر ماحول اور اس سے زیادہ دوستوں کی صحبت اثر انداز ہوتی ہے۔ انسان جوانی کے دَور میں اچھی بری عادتوں میں جلد مبتلا ہوجاتا ہے۔بری صحبت کی وجہ سے اس کی طبیعت تمباکو نوشی یا دوسرے نشوں کی طرف مائل ہونے لگتی ہے ۔کراچی کے نوجوانوںمیں گٹکے کی وبا عام ہے۔ گٹکے کی تیاری کا طریقہ انتہائی غلیظ اورمہلک ہے ۔ اس کی تیاری میں تیسرے درجے کا چونا، کتھا،تمباکو کا کچرا،بیٹری کا پانی،جانوروں کا خون، پسا ہوا شیشہ،ربڑ کے باریک ٹکڑے ، تھِنر اور پھپھوند لگی چھالیہ استعمال کی جاتی ہے ۔ ان سب چیزوں کا نام سن کر ہی طبیعت خراب ہونے لگتی ہے۔ اس جان لیوا گٹکا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرپرستی میں خوب ترقی کررہا ہے۔ اسے اب کئی طریقوں سے بنایا جاتا ہے جب کہ اس کے مختلف نام بھی رکھ لیے گئے ہیں مثلاً مین پوری، ماوا وغیرہ۔ افسو س ناک بات یہ ہے کہ ان کے رپیر پرتحریر ہوتا ہے’’ حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق۔‘‘ اگر نوجوان اس کے مضر اثرات کا جائزہ لینا چاہیں تو رات ان میں سے کسی بھی شے کو تھوڑے سے پانی میں ڈال کر اس میں ایک بلیڈ رکھ دیں ۔ صبح آپ کو حیرانی ہوگی کہ بلیڈ گل چکا ہے مگر ہمارا نوجوان اس کے باجوود یہ زہر اپنی رگوں میں انڈیل رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے یہاں منہ کے کینسر سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نوجوان طبقہ اس تیزی سے اس لت کی طرف کیوں راغب ہے ۔ کیا نوجوان اسے صرف مزے کے لیے استعمال کررہے ہیں یا معاشرے کی ناہمواریوں نے انہیں اس جانب راغب کیا ہے؟ اس حوالے سے چندنوجوانوں سے بات کی گئی آپ بھی ان کا نقطۂ نظر ملاحظہ کیجیے۔احسن علی( طالب علم جامعہ کراچی): آج کل جو حالات چل رہے ہیں انسان اس میں اتنا پریشان ہے ۔جس چیز سے اسے سکون ملے اسی کے نزدیک ہوجاتا ہے۔نوجوانوں کو گٹکا کھانے کی عادت کی وجہ سے ان کی صحت تو خراب ہوتی ہی ہے مگر ان کا چہرہ بھی بہت برالگتا ہے۔ سرکاری جامعات میں یہ خطرناک چیز پابندی کے باوجود دستیاب ہے دیکھا گیا ہے کہ غریب طبقہ نشے کی اس عادت میں زیادہ مبتلا ہورہا ہے۔سلمان اعظمی(طالب علم) :ہمارے یہاں ہر نوجوان کسی نہ کسی بری عادت میں مبتلا ہے جس سے وہ آسانی سے جان نہیں چھڑا سکتا کسی چیز یا عمل کو عادت بنانا انسان کے اختیا رمیں ہوتا ہے لیکن اسے ترک کرنا اس کے بس میں نہیں ہوتا ۔ میری کلاس میں کافی لڑکے گٹکا کھاتے ہیں، جو اپنی ذمے داریوں سے بھاگتے ہیں۔ وہ جواز دیتے ہیں کہ ہم تو اتنے سال سے کھارہے ہیں اب تک تو کچھ نہیں ہوا ، اس کے بغیر دماغ نہیں چلتا ۔ گٹکا کھانے والے عموماً ضدی ہوتے ہیں ۔ یہ خطرناک شے بیماریوں میں مسلسل اضافے کا سبب بن رہی ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ جلد ازجلداس برائی کا خاتمہ کرے۔عارف (آرکیٹکچر): ہمارے معاشرے کی اچھائیاں مخفی او ر برائیاں واضح رہتی ہیں۔ جن میں سے ایک برائی گٹکا اور مین پوری وغیرہ ہے۔ کچی آبادیوں سمیت پوش علاقو ں میں بھی گٹکا دستیاب ہے۔ شاباش ہے ان نوجوانوںکو جو گٹکا کھاتے ہیں اور خود اپنا نقصان کرتے ہیں۔ حالاں کہ اخباروں میں اتنے مضامین اور ٹی وی پر اتنے پروگرام نشر ہوچکے ہیں مگر شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں اس گٹکے کی وجہ سے جنازہ نہ اٹھا ہو۔ پوش علاقوں میں کمپنی کا بنایا ہوا اور کچی آبادیوں میں گھروں میں تیار کردہ گٹکا با آسانی فروخت ہوتا ہے۔ دکانوں پر گٹکے کی تھیلیاں لٹکا کر اس کی مارکیٹنگ کی جاتی ہے۔ وہ نوجوان کم زور اور بزدل ہیں جو گھریلو پریشانیوں سے فرار کے لیے یہ زہر اپنے جسموں میںاتار کر اپنی صلاحیتیں کھورہے ہیں ۔ گٹکا کھا کر پاکستان کی ترقی کی باتیں کرنے والے بھی قابل مذمت ہیں۔فیاض رضا( نجی کمپنی ملازم): سکون کی تلاش تو ہر انسان کو رہتی ہے اور اس کے حصول کے لیے مختلف طریقے ڈھونڈتے ہیں جن سے وقتی طور پر سکون حاصل ہوتا ہے جب کہ بعض لوگ اسی سکون کے لیے نشہ کرتے ہیںاب مہنگائی کے باعث آج کا نوجوان سستے نشے کی طرف راغب ہے گٹکا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ نوجوان گٹکا مین پوری وغیرہ کھا کر خود کو تازہ دم تصور کرنے کی خوش فہمی میں مبتلارہتے ہیں اور اپنی صحت کی طرف سے بالکل لاپروا ہوجاتے ہیں۔عمران متقی(بینک ملازم): نوجوانوںمیں گٹکے کی عادت خطرناک حد تک معاشرے کو برباد کررہی ہے اور گٹکا کھانے والے جوان و بزرگ اپنا وقار کھودیتے ہیں ا س عادت سے ان کی صحت اور شخصیت دونوںمتاثر ہوتی ہیں۔لوگ ایسے لوگوں سے بات کرنا پسند نہیں کرتے کیوں کہ ان کے منہ سے بوآتی ہے جو لوگ گٹکا کھا کر کائونٹر پر آتے ہیں میری کوشش ہوتی ہے کہ ان کا کام جلدی ختم کروں تاکہ وہ جلدی روانہ ہوجائیں ۔میر ا سوال یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ایسی جگہوں پر چھاپے کیوں نہیں مارتے اور گٹکا بنانے والوں کو گرفتار کیوں نہیں کرتے ؟ ایسے دکان دار جو موت بیچنے کے گناہ گار ہیں انہیں سزا کیوں نہیں دی جاتی؟ جمال حیدر( ملازم سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی) : معا شرے میں ویسے ہی کم خرابیاںنہ تھیں جو یہ گٹکا نامی برائی بھی پیدا ہوگئی ۔ ایسے نوجوانوںپر دکھ ہوتاہے جواسے عادت بنا لیتے ہیںجس کی وجہ سے ہر جگہ شرمندگی بھی اٹھاتے ہیں۔کہیں انٹرویو دینے جائیں تو ان میںخود اعتمادی فقدان نظر آتا ہے ۔دراصل اس سے دانت اتنے گندے ہوجاتے ہیں کہ سامنے والا کراہیت محسوس کرتاہے۔میرا تعلق میڈیکل سے ہے مجھے اسی حوالے سے بہت سے مریض نظر آتے ہیں جن کو سرطان ،دانتوں کا سڑنا،آنتوں کا سکڑنا جیسی بیماریاں ہوتی ہیں جن کی سب سے بڑی وجہ گٹکا،مین پوری کا استعمال ہے۔قانون نافذ کرنے والے خو د اس کااستعما ل کر تے ہیںتو وہ روک تھام کیاکریںگے۔ کاشف عباس (ملازم نجی کمپنی): آج کے نوجوان میں تعمیری سو چ کا فقدان ہے ۔ہر طرف برائیا ں ہیںجس میںہمارا نوجوان پھنستا چلا جا رہا ہے۔ملازمت نہ ملنا،کم تن خواہ اورضروریاتِ زندگی پوری نہ ہونے سے زیادہ تر انسان برائی کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔اس لیے یہ برائی بھی معاشرے میں پھیلتی جا رہی ہے۔ پہلے لوگوں سے چھپ کے کھاتے ہیں پھر تو اپنے والدین کے سامنے بھی اس کے استعمال سے گریز نہیں کرتے جب کہ جگہ جگہ پیک تھوک کر گندگی الگ پھیلاتے ہیںاور مختلف بیماریوں میں خود بھی گرفتار ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی مبتلا کرتے ہیں۔ گٹکا کھانے والے جوان ذہنی طور پر کم زور پڑجاتے ہیں ،ان میںقوتِ فیصلہ اورخود اعتمادی بھی ختم ہو جا تی ہے ، یہ عموماً محفلوں میںجانے سے بھی گھبراتے ہیں۔ ہمیں خود بھی اس بیماری کو خاتمے کے لیے کاوشیں کرنی ہوںگی۔ورنہ آہستہ آہستہ یہ برائی ہماری آنے والی نسلوں میں سرائیت کر جائے گی۔مہروزاحسن(حکیم) : گٹکا ،پان،مین پوری ،ماوا،وغیرہ۔ایسے امراض ہیں جن سے نجات ٖنہایت مشکل ہے ۔اس کی تشویش ناک علامات میںمنہ میں چھالے ،گال کی کھال پرابھرنے والے نشانات شامل ہیں۔منہ کا سرطان ،آنتوںکا خشک ہوجانا جیسی جان لیوا بیماریاں اسی وجہ سے ہیں۔جن کاعلاج بہت مشکل اور مہنگا بھی ہے۔اس سے قوتِ مدافعت ختم ہو کر رہ جاتی ہے، نزلے جیسی چھوٹی بیماری بھی ختم ہونے میں وقت لیتی ہے ،لیکن انسان جانتے بوجھتے اس نقصان کو اپنے گلے ڈال رہا ہے۔ بہت سے مریضوں سے وجہ پوچھوتو جوا ب آتا ہے کھا نا ہضم کرنے کے لیے کھاتے ہیں۔اس گٹکے میں پانی ملاکررکھ دیںتو صبح اس میں باریک باریک کیڑے بلبلاتے صاف نظر آئیں گے۔ برانڈوالے گٹکے میں بلیڈ ڈال دیں تو صبح اس کا نام و نشان بھی مٹ جائے گا۔سرکاری اداروںکی سرپرستی میں زہر فروشی کا کام جار ی و ساری ہے اورکوئی روکنے والا نہیں۔جوانوں کو سمجھنا چاہیے کہ گٹکا کھانے سے وقت نہیں گزر رہا بلکہ گٹکا نوجوانوں کو گزار رہا ہے۔ محمد علی(نان لینئر ایڈیٹر ): گٹکاایک لعنت ہے ۔آج کل نوجوان اس کو ختم کرنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں ،اسی لیے طر ہرف کھاتے نظر آتے ہیں۔ہمارے یہاںزیادہ تر ڈرائیور، کنڈیکٹر جگہ جگہ تھوک کے لوگوں کو بھی اس کے زیرِاثر لا رہے ویسے مجھے یاد آرہا ہے کہ اس کے بیچنے اور خریدنے پرپابندی لگی تھی مگر وہ پابندی نظر نہیں آتی۔چھے مہینہ پہلے میں گٹکا کھاتا تھا کیوں کہ تدوین نگاری کے دوران کمپیوٹر کا استعمال رہتا ہے تو منہ چلانے کے لیے گٹکا کھا لیتا تھا ۔وقتی طور پر تو خوب کام ہوتا تھا پھر نیند بھی خو ب آتی تھی اور اگر نہیں کھاتا تو جسم بھاری بھاری لگتا تھا ۔ڈاکٹر کے مشورے کے بعد اس سے نجات ملی۔گٹکا منہ کا اس قدر برا حال کرتا ہے، دانتوںمیں درد ،زبان پر چھا لے او ریہ نہیںکہ صرف غریب آدمی ہی گٹکا کھا رہا ہے۔بلکہ اچھے خاندان کے خوش شکل افراد بھی اس لت میں گرفتار ہیں ۔مجتبیٰ شاہ(پرائیویٹ کالج کے طالبِ علم ): یہ آج کل کا فیشن بن گیا ہے،خاص کر نوجوانوں میںیہ فیشن عام ہے۔ دوستوں کی صحبت میں رہ کر سگریٹ جیسی بری عادت میں مشغول ہوجاتے ہیں۔زیادہ تر افراد مسائل سے گھبرا کر گٹکا کھانے عادت ڈال لیتے ہیںاور اپنی ذمے داریوں سے منہ موڑ لیتے ہیں۔جس طرح سگریٹ پھیپھڑوں کے لیے مضر ہے اسی طرح چھالیہ، گٹکامنہ کے سرطان جیسی جان لیوا بیماری کی بنیادی وجہ ہے لیکن منع کرنے پرنوجوان باز نہیں آتے۔یہ انتہائی خطرناک عادت ہما را مستقبل تباہ کر رہی ہے۔ ہمیں اس برائی کا خا تمہ کرنے کے لیے فوری اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔ سارہ محمود(انٹیریر ڈزائینر): میں کمپیوٹر کے استعمال کرتے وقت پاپ کارن کھاتی رہتی ہوں جب کہ میرے ساتھ کام کرنے والے نوجوان لڑکے گٹکا اورچھا لیہ کا استعمال کرتے ہیں ۔ان میں سے زیادہ تر کو دانتوں کی تکالیف کی شکایت اورکم مرچوں کے کھانے میں بھی مرچیں تیز لگتی ہیں۔افسوس گٹکا پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا اورمخصوص کمیونٹی کی خواتین بھی اس کا ستعمال کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ہر جگہ اس کی پیک نظر آتی ہے۔نوجوان اموات کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ نوجوان جانے کیوں کینسر جیسے جان لیوا مرض کو خرید رہے ہیں؟ اور خودکشی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
انٹرنیشنل ڈیٹا پروٹیکشن ڈے

انٹرنیشنل ڈیٹا پروٹیکشن ڈے

ڈیجیٹل دور میں ہماری نجی زندگی کا تحفظہر سال 28 جنوری کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل ڈیٹا پرائیویسی ڈے یا ڈیٹا پروٹیکشن ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام، اداروں اور حکومتوں میں اس بات کا شعور اجاگر کرنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ذاتی معلومات (Personal Data) کس قدر قیمتی ہیں اور ان کے تحفظ کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔ آج جب ہماری زندگی کا بڑا حصہ انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور آن لائن سروسز سے جْڑا ہوا ہے، تو ڈیٹا پرائیویسی ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، قانونی اور اخلاقی سوال بن چکا ہے۔ڈیٹا پروٹیکشن کیا ہے؟ڈیٹا پروٹیکشن سے مراد کسی فرد کی ذاتی معلومات جیسے نام، شناختی نمبر، فون نمبر، ای میل، بینک تفصیلات، طبی ریکارڈ، لوکیشن ڈیٹا اور آن لائن سرگرمیوں کا تحفظ ہے، تاکہ یہ معلومات بغیر اجازت استعمال، فروخت یا غلط ہاتھوں میں نہ جائیں۔ ڈیجیٹل دور میں ہر کلک، ہر سرچ اور ہر ایپ استعمال کرنے سے ہمارا ڈیٹا کسی نہ کسی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے، جو اگر غیر محفوظ ہو تو سنگین مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔انٹرنیشنل ڈیٹا پروٹیکشن ڈے کی تاریخڈیٹا پروٹیکشن ڈے کی بنیاد یورپ میں رکھی گئی۔ 28 جنوری 1981ء کو کونسل آف یورپ نے پہلا بین الاقوامی معاہدہ (Convention 108) منظور کیا جو ذاتی ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق تھا۔ اسی یاد میں 2006ء سے ہر سال یہ دن منایا جا رہا ہے۔ بعد ازاں یورپ کے ساتھ ساتھ امریکہ، ایشیا اور دیگر خطوں میں بھی اس دن کو اہمیت دی جانے لگی۔ڈیجیٹل دنیا میں بڑھتے خطراتآج کے دور میں ڈیٹا ایک نئی کرنسی بن چکا ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں صارفین کے ڈیٹا کی بنیاد پر اشتہارات، کاروباری حکمت عملیاں اور حتیٰ کہ سیاسی مہمات بھی چلاتی ہیں۔ ڈیٹا لیکس، ہیکنگ، شناخت کی چوری (Identity Theft)، آن لائن فراڈ اور سائبر جرائم کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک چھوٹی سی لاپرواہی جیسے کمزور پاس ورڈ یا غیر محفوظ وائی فائی کسی فرد کی مالی اور سماجی زندگی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔سوشل میڈیا اور پرائیویسیفیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوگ روزمرہ زندگی کی تفصیلات شیئر کرتے ہیں۔ اکثر صارفین یہ نہیں جانتے کہ ان کی تصاویر، لوکیشن اور ذاتی خیالات کیسے ڈیٹا کی صورت میں محفوظ اور استعمال کیے جاتے ہیں۔ ڈیٹا پرائیویسی ڈے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کیا شیئر کر رہے ہیں، کس کے ساتھ کر رہے ہیں اور اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔قوانین اور ضابطےدنیا کے کئی ممالک نے ڈیٹا پروٹیکشن کے لیے سخت قوانین بنائے ہیں۔ یورپ کا GDPR (General Data Protection Regulation) اس کی نمایاں مثال ہے جس کے تحت صارفین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جان سکیں کہ ان کا ڈیٹا کہاں اور کیسے استعمال ہو رہا ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں بھی مختلف قوانین نافذ ہیں۔ہمارے ملک میں اگرچہ ڈیجیٹل سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں لیکن ڈیٹا پروٹیکشن سے متعلق قانون سازی ابھی ارتقائی مراحل میں ہے۔ پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل پر بحث ضرور ہو رہی ہے، مگر اس پر مؤثر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔ڈیٹا پرائیویسی صرف فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ اداروں اور حکومتوں کی بھی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ سرکاری محکمے، بینک، ٹیلی کام کمپنیاں، ہسپتال اور تعلیمی ادارے عوام کا حساس ڈیٹا رکھتے ہیں۔ اگر یہ ادارے ڈیٹا سکیورٹی کو سنجیدگی سے نہ لیں تو بڑے پیمانے پر نقصان ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا پرائیویسی ڈے اسی اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔عام صارف کیا کر سکتا ہے؟ڈیٹا کے تحفظ کے لیے چند بنیادی اقدامات ہر فرد اختیار کر سکتا ہے جیسا کہ مضبوط اور منفرد پاس ورڈز کا استعمال،دہری تصدیق (Two-factor authentication)،غیر ضروری ایپس کو اجازت نہ دینا،پبلک وائی فائی پر حساس معلومات شیئر نہ کرنا،سوشل میڈیا پر پرائیویسی سیٹنگز کو باقاعدگی سے چیک کرنا۔یہ اقدامات بڑے نقصانات سے بچا سکتے ہیں۔ڈیٹا پرائیویسی اور انسانی حقوقڈیٹا پرائیویسی کو بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ نجی زندگی کا احترام، اظہارِ رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی ڈیٹا کے درست استعمال سے جُڑے ہیں۔ اگر ڈیٹا کا غلط استعمال ہو تو نہ صرف فرد بلکہ جمہوری نظام اور معاشرتی توازن بھی متاثر ہو سکتا ہے۔انٹرنیشنل ڈیٹا پرائیویسی ڈے محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ ڈیجیٹل سہولتوں کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور فرد، ادارہ اور ریاست ڈیٹا کے تحفظ کو سنجیدگی سے لیں۔ شعور، قانون سازی اور ذمہ دارانہ رویہ ہی وہ راستہ ہے جس سے ہم ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ اپنی نجی زندگی کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ڈیٹا پرائیویسی کا تحفظ دراصل ہماری شناخت، آزادی اور مستقبل کا تحفظ ہے۔

آگ کیا ہے؟عام سی شے، حیران کن سائنسی عمل

آگ کیا ہے؟عام سی شے، حیران کن سائنسی عمل

آگ کو انسان صدیوں سے جانتا اور استعمال کرتا آ رہا ہے۔ کھانا پکانے سے لے کر صنعت، جنگ اور روزمرہ زندگی میں، آگ انسانی تہذیب کا بنیادی حصہ رہی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جس آگ کو ہم ایک ''چیز‘‘ یا ''شے‘‘ سمجھتے ہیں، سائنسی اعتبار سے وہ کسی ٹھوس، مائع یا گیس کی صورت میں موجود ہی نہیں۔ دراصل آگ کوئی مادہ نہیں بلکہ ایک کیمیائی عمل ہے اور یہی حقیقت اسے عام فہم تصورات سے کہیں زیادہ عجیب بنا دیتی ہے۔عام طور پر ہم آگ کو شعلوں، روشنی اور حرارت کی شکل میں دیکھتے ہیں اس لیے یہ گمان ہوتا ہے کہ آگ بھی ہوا یا گیس کی طرح کوئی مادہ ہے مگر سائنس کہتی ہے کہ آگ نہ تو مادہ ہے اور نہ ہی اسے کسی برتن میں بند کیا جا سکتا ہے۔ آگ دراصل جلنے کا عمل ہے جسے سائنسی زبان میں Combustion کہا جاتا ہے۔ یہ وہ کیمیائی ردعمل ہے جس میں کوئی ایندھن آکسیجن کے ساتھ تیزی سے مل کر حرارت اور روشنی پیدا کرتا ہے۔فائر ٹرائینگل؟سائنسدان آگ کے بارے میں سمجھانے کے لیے ایک سادہ مگر اہم تصور پیش کرتے ہیں جسے فائر ٹرائینگل کہا جاتا ہے۔ اس کے تین بنیادی عناصر ہیں: ایندھن، یعنی وہ شے جو جل سکتی ہو، جیسے لکڑی، کوئلہ، تیل یا گیس۔ آکسیجن ،ہوا میں موجود آکسیجن جلنے کے عمل کے لیے لازمی ہے، اور حرارت یعنی ابتدائی توانائی جو جلنے کے عمل کو شروع کرتی ہے جیسے چنگاری یا شعلہ۔ اگر ان تین میں سے ایک بھی عنصر ختم کر دیا جائے تو آگ بجھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آگ بجھانے کے لیے کبھی پانی، کبھی ریت اور کبھی فوم استعمال کیا جاتا ہے تاکہ آکسیجن یا حرارت کا سلسلہ ٹوٹ جائے۔شعلے اصل میں کیا ہوتے ہیں؟ہم جو آگ کے شعلے دیکھتے ہیں وہ دراصل خود آگ نہیں بلکہ جلنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گرم گیسیں ہوتی ہیں۔ جب لکڑی یا موم بتی جلتی ہے تو اس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ، پانی کے بخارات اور دیگر گیسیں بنتی ہیں۔ یہ گیسیں اوپر کی طرف اٹھتی ہیں اور ان میں موجود باریک کاربن ذرات (Soot) جب بہت زیادہ گرم ہو جاتے ہیں تو چمکنے لگتے ہیں۔ یہی چمک ہمیں زرد یا نارنجی شعلے کی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مکمل جلنے کی صورت میں، جیسے گیس کے چولہے پر شعلہ نیلا ہوتا ہے کیونکہ وہاں کاربن ذرات نہیں بنتے بلکہ گیس صاف طور پر جلتی ہے۔کیا آگ پلازما ہے؟کبھی کبھار یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آیا آگ کو پلازما کہا جا سکتا ہے یا نہیں۔ پلازما مادے کی ایک خاص حالت ہوتی ہے جس میں ایٹم اپنے الیکٹران کھو دیتے ہیں۔ عام آگ جیسے لکڑی یا موم بتی کی آگ اتنی گرم نہیں ہوتی کہ اسے مکمل پلازما کہا جائے تاہم بہت زیادہ درجہ حرارت پر مثلاً سورج یا ویلڈنگ آرک میں آگ پلازما کی کچھ خصوصیات ضرور اختیار کر لیتی ہے۔آگ اور مادہ کا تعلقآگ خود مادہ نہیں مگر یہ مادے کو تبدیل ضرور کرتی ہے۔ جلنے کے بعد لکڑی راکھ میں بدل جاتی ہے، گیسیں فضا میں شامل ہو جاتی ہیں اور توانائی حرارت و روشنی کی شکل میں خارج ہو جاتی ہے۔ اس طرح آگ دراصل مادے کو ختم نہیں کرتی بلکہ اسے ایک حالت سے دوسری حالت میں بدل دیتی ہے، جو توانائی کے قانونِ تحفظ کی بہترین مثال ہے۔زمین پر آگ کیوں ممکن ہے؟آگ جیسی ہمیں زمین پر نظر آتی ہے وہ کائنات میں بہت نایاب ہے۔ اس کی بنیادی وجہ زمین کے ماحول میں آکسیجن کی وافر مقدار ہے جو پودوں اور دیگر جانداروں کی بدولت ممکن ہوئی۔ اگر زمین پر زندگی نہ ہوتی تو شاید آگ بھی وجود میں نہ آتی۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان کہتے ہیں کہ آگ بالواسطہ طور پر زندگی کی مرہونِ منت ہے۔خلا میں آگ کا عجیب رویہخلا میں جہاں کششِ ثقل نہیں ہوتی آگ کا رویہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہاں شعلے اوپر کی طرف نہیں اٹھتے بلکہ گول شکل اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ گرم گیسیں اوپر نہیں جا سکتیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آگ کا ظاہری انداز ماحول پر بہت زیادہ منحصر ہوتا ہے۔آگ جسے ہم ایک عام اور روزمرہ کی چیز سمجھتے ہیں، درحقیقت ایک پیچیدہ اور حیرت انگیز سائنسی عمل ہے۔ یہ نہ کوئی ٹھوس شے ہے نہ مائع اور نہ ہی مکمل گیس بلکہ یہ توانائی کے اخراج کا وہ مظاہرہ ہے جو ایندھن اور آکسیجن کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔ آگ کو سمجھنا ہمیں نہ صرف سائنس کے بنیادی اصولوں سے روشناس کراتا ہے بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ کائنات میں بہت سی چیزیں ویسی نہیں ہوتیں جیسی ہمیں نظر آتی ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

خلائی شٹل چیلنجر کا حادثہ28 جنوری 1986ء کو امریکی خلائی ایجنسی ناسا کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے سانحات میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا جب خلائی شٹل چیلنجر پرواز کے صرف 73 سیکنڈ بعد تباہ ہو گئی۔ اس حادثے میں شٹل میں سوار تمام سات خلا باز ہلاک ہو گئے۔ حادثے کی بنیادی وجہ شٹل کے سالڈ راکٹ بوسٹر میں خرابی تھی۔ اس سانحے نے ناسا کی انتظامی کمزوریوں، دباؤ میں کیے گئے فیصلوں اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کو بے نقاب کر دیا۔چیلنجر حادثے کے بعد امریکی خلائی پروگرام کو تقریباً تین سال کے لیے معطل کر دیا گیا۔ پرائیڈ اینڈ پریجوڈس کی اشاعت 28 جنوری 1813ء کو انگریزی ادب کی تاریخ کا ایک اہم دن آیا جب مشہور ناولPride and Prejudice پہلی بار شائع ہوا۔ اس ناول کی مصنفہ جین آسٹن تھیں جو اس دور میں خواتین مصنفات میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔یہ ناول انیسویں صدی کے برطانوی معاشرے میں طبقاتی فرق، شادی، خواتین کے سماجی کردار اور اخلاقی اقدار پر گہری نظر ڈالتا ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار الزبتھ بینیٹ ایک ذہین، خوددار اور آزاد خیال خاتون ہے جبکہ مسٹر ڈارسی ایک امیر مگر بظاہر مغرور شخص۔ ناول کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کس طرح غرور اور تعصب انسانی تعلقات میں غلط فہمیوں کو جنم دیتے ہیں۔ امریکی کوسٹ گارڈ کا قیام28 جنوری 1915ء کو امریکہ میں کوسٹ گارڈ کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد امریکی ساحلی حدود کی حفاظت، سمندری قوانین کا نفاذ اور انسانی جانوں کا تحفظ تھا۔کوسٹ گارڈ نہ صرف ایک فوجی ادارہ ہے بلکہ امن کے زمانے میں یہ سول انتظامیہ کے تحت بھی کام کرتا ہے۔ جنگ کے دوران اسے امریکی بحریہ کے ماتحت کر دیا جاتا ہے۔پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکی کوسٹ گارڈ نے اہم کردار ادا کیا۔ لیگو برِک کا پیٹنٹ 28 جنوری 1958ء کو ڈنمارک کی کھلونوں کی کمپنی LEGO نے اپنی مشہور پلاسٹک برِک کا پیٹنٹ حاصل کیا۔ یہ وہی ڈیزائن تھا جس نے بعد میں دنیا بھر کے بچوں اور بڑوں میں تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیا۔لیگو کا آغاز 1932ء میں ہوا تھا مگر 1958ء کا پیٹنٹ اس کمپنی کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس ڈیزائن کی بدولت لیگو کھلونوں کو نہ صرف مضبوط بنایا جا سکا بلکہ انہیں بار بار جوڑنے اور کھولنے کی سہولت بھی حاصل ہوئی۔ لیگو نے بچوں کی تعلیم اور تخلیقی اظہار میں انقلابی کردار ادا کیا۔ دنیا بھر کے سکولوں میں لیگو کو تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایڈورڈ ششم کی تاج پوشی28 جنوری 1547ء کو انگلینڈ کے بادشاہ ایڈورڈ ششم کی تاج پوشی کا اعلان کیا گیا۔ وہ مشہور بادشاہ ہنری ہشتم کا بیٹا تھا اور صرف نو سال کی عمر میں تخت پر بیٹھا۔ایڈورڈ ششم کے دورِ حکومت میں انگلینڈ میں مذہبی اصلاحات کو نمایاں فروغ ملا۔ چونکہ وہ خود کم عمر تھااس لیے اصل اختیارات اس کے مشیروں کے ہاتھ میں تھے جنہوں نے چرچ آف انگلینڈ کو مزید پروٹسٹنٹ سمت میں آگے بڑھایا۔ ایڈورڈ ششم کی حکومت چھ سال پر مشتمل تھی اور وہ 15 سال کی عمر میں وفات پا گیا مگر اس کا دور انگلینڈ کی مذہبی اور سیاسی تاریخ میں گہرے اثرات چھوڑ گیا۔

گلو بل فریز: سردی کی عالمی لہر نے زندگی کو کیسے بدل دیا

گلو بل فریز: سردی کی عالمی لہر نے زندگی کو کیسے بدل دیا

زمین کی تاریخ میں کئی ایسے دور گزرے ہیں جنہوں نے زندگی کے دھارے کو یکسر بدل دیا مگر آج سے تقریباً 44.5کروڑ سال پہلے آنے والا شدید عالمی سرد دور (Global Freeze) ان میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس دور میں پیش آنے والا لیٹ آرڈووِیشین ماس ایکسٹنکشن (Late Ordovician Mass Extinction) زمین کی ابتدائی بڑی معدومیوں میں سے ایک تھا جس نے سمندری حیات کے تقریباً 85 فیصد حصے کو ختم کر دیا۔ تاہم حیران کن طور پر یہی تباہی بعد ازاں ایک نئی ارتقائی کامیابی کی بنیاد بنی جس کے نتیجے میں جبڑے رکھنے والے فقاری جانوروں (Jawed Vertebrates) کا عروج ممکن ہوا۔جب زمین اچانک منجمد ہو گئیآرڈووِیشین دور (48.6 تا 44.3 کروڑ سال قبل) کے اختتام پر زمین نے اچانک ایک بڑی موسمی کروٹ لی۔ جنوبی نصف کرے میں واقع عظیم براعظم گونڈوانا پر وسیع گلیشیئر پھیل گئے۔ سمندروں کا پانی برف میں تبدیل ہونے لگا جس کے باعث کم گہرے سمندر سکڑ گئے۔ اس تبدیلی کو ماہرین آئس ہاؤس کلائمیٹ کہتے ہیں۔ اسی دوران سمندری کیمیائی توازن بگڑ گیا، آکسیجن کی کمی اور سلفر کی زیادتی نے سمندری حیات کے لیے حالات مزید جان لیوا بنا دیے نتیجتاً وہ دنیا جس میں زندگی کا بڑا حصہ سمندروں پر مشتمل تھا شدید بحران کا شکار ہو گئی۔معدومی کے دو بڑے مرحلےسائنسدانوں کے مطابق یہ معدومی اچانک نہیں آئی بلکہ دو مراحل میں وقوع پذیر ہوئی۔ پہلے مرحلے میں شدید سردی اور گلیشیئروں کے پھیلاؤ نے سمندری مسکن تباہ کر دیے۔ چند ملین سال بعد جب حالات کچھ بہتر ہونے لگے تو دوسرا مرحلہ آیا۔ اس بار برف پگھلی، سمندر کی سطح بلند ہوئی مگر گرم اور کم آکسیجن والے پانی نے اُن انواع کو بھی ختم کر دیا جو سرد ماحول سے مطابقت پیدا کر چکی تھیں۔اس تباہی سے پہلے زمین کی سمندری دنیا حیرت انگیز حد تک متنوع تھی۔ لمپری نماکونوڈونٹ اپنی بڑی بڑی آنکھوں کے ساتھ سمندروں میں تیرتے تھے، ٹرائیلوبائٹس سمندر کی تہہ پر رینگتے دکھائی دیتے تھے جبکہ دیوہیکل سی سکارپینز اور پانچ میٹر لمبے خول والے نوٹیلائڈز سمندروں کے طاقتور شکاری تھے۔ اس ماحول میں جبڑے والے ابتدائی فقاری جانور موجود تو تھے مگر تعداد میں کم اور نسبتاً غیر نمایاں۔پناہ گاہیں اور ارتقا کا نیا موقعاوکی ناوا انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی تازہ تحقیق جو Science Advances میں شائع ہوئی بتاتی ہے کہ اس تباہی کے دوران کچھ خطے ریفیو جیا بن گئے یعنی ایسی محفوظ پناہ گاہیں جہاں چند انواع باقی رہ سکیں۔یہاں جبڑے والے فقاری جانوروں کو ایک غیر متوقع برتری حاصل ہوئی۔ تحقیق کے مطابق یہی گروہ ان محدود مگر نسبتاً محفوظ علاقوں میں زندہ رہا اور آہستہ آہستہ تنوع اختیار کرنے لگا۔200 سالہ فوسل ریکارڈ کا نیا تجزیہتحقیق کے لیے سائنسدانوں نے گزشتہ 200 برسوں کے فوسل ڈیٹا کو یکجا کر کے ایک نیا جامع ڈیٹا بیس تیار کیا۔ اس تجزیے سے واضح ہوا کہ معدومی کے بعد اگرچہ فوری طور پر بحالی نہیں ہوئی مگر کئی ملین سالوں میں جبڑے والے فقاری جانوروں کی اقسام میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ تحقیق کے مرکزی مصنف وہائی ہیگی وارا کے مطابق یہ اضافہ براہِ راست معدومی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا نتیجہ تھا۔جغرافیہ نے ارتقا کو کیسے شکل دی؟تحقیق کا ایک اہم پہلو حیاتی جغرافیہ ہے۔ سائنسدانوں نے پہلی بار یہ جانچا کہ معدومی سے پہلے اور بعد میں انواع زمین کے مختلف خطوں میں کیسے پھیلیں۔ خاص طور پر موجودہ جنوبی چین کا خطہ نہایت اہم ثابت ہوا جہاں جبڑے والی ابتدائی مچھلیوں کے مکمل فوسلز ملے ہیں جو جدید شارک سے قریبی تعلق رکھتی ہیں۔ یہی خطہ بعد میں عالمی سطح پر فقاری جانوروں کے پھیلاؤ کا مرکز بنا۔ارتقائی حیاتیات کا ایک پرانا سوال یہ ہے کہ آیا جبڑا کسی نئے ماحولیاتی کردار کے حصول کے لیے بنا یا پہلے ماحول دستیاب تھا اور بعد میں ارتقائی تبدیلی آئی؟اس تحقیق کے مطابق پہلے خالی ماحولیاتی جگہیں پیدا ہوئیں جو معدوم ہونے والی انواع نے چھوڑ دی تھیں۔ ان جگہوں کو پُر کرنے کے عمل میں جبڑے والے جانوروں نے بتدریج ارتقائی برتری حاصل کی۔مکمل صفایا نہیں ترتیب نواہم بات یہ ہے کہ یہ معدومی مکمل صفایا نہیں تھی۔ کئی بغیر جبڑ والے فقاری جانور آئندہ چارکروڑ سال تک سمندروں میں غالب رہے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ جبڑے والے جانور زیادہ مؤثر ثابت ہوئے اور بالآخر غالب آ گئے۔سائنسدان اس عمل کو ڈائیورسٹی ری سیٹ سائیکل کہتے ہیں یعنی قدرتی آفات کے بعد زندگی کا نیا مگر مانوس انداز میں دوبارہ ابھرنا۔آج کے لیے کیا سبق؟پروفیسر لارن سالان کے مطابق یہ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ شدید ماحولیاتی تبدیلیاں صرف تباہی نہیں لاتیں بلکہ بعض اوقات نئی ارتقائی راہیں کھولتی ہیں۔آج جب دنیا ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے تو زمین کی قدیم تاریخ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ زندگی کس طرح بحرانوں سے گزر کر خود کو نئے سانچوں میں ڈھالتی ہے۔

صفر:جو کچھ نہ ہو کر بھی سب کچھ ہے

صفر:جو کچھ نہ ہو کر بھی سب کچھ ہے

ریاضی کی دنیا میں اگر کسی ایک عدد کو سب سے زیادہ انقلابی قرار دیا جائے تو وہ بلا شبہ صفر ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا ہندسہ ہے جس کی اپنی کوئی مقدار نہیں مگر حقیقت میں یہی ''کچھ نہ ہونے‘‘ کا تصور انسانی تاریخ کی سب سے بڑی فکری جست ثابت ہوا۔ صفر نے نہ صرف حساب کے طریقے بدلے بلکہ سائنس، معیشت، ٹیکنالوجی اور حتیٰ کہ فلسفے پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔صفر سے پہلے کی دنیایہ بات جاننا دلچسپ ہے کہ انسانی تہذیب ہزاروں برس تک صفر کے بغیر چلتی رہی۔ قدیم مصری، یونانی اور رومی گنتی کے نظام رکھتے تھے مگر ان میں صفر کا کوئی باقاعدہ تصور موجود نہیں تھا۔ رومن اعداد میں آج بھی صفر نہیں پایا جاتا، اسی وجہ سے ان کے ذریعے بڑے حساب یا پیچیدہ ریاضیاتی مسائل حل کرنا نہایت مشکل تھا۔ اس دور میں لوگ اشیا کو گنتے تو تھے مگر ''کچھ نہ ہونے‘‘ کو ایک عدد کی شکل میں سمجھنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ ایک فکری انقلابصفر کا باقاعدہ تصور پہلی بار برصغیر میں ابھرا۔ ساتویں صدی میں بھارتی ریاضی دان برہما گپتا نے صفر کو محض ایک خالی جگہ یا علامت نہیں بلکہ ایک مکمل عدد کے طور پر متعارف کرایا۔ انہوں نے صفر کے ساتھ جمع، تفریق اور دیگر حسابی اصول بھی وضع کیے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ریاضی محض گنتی سے نکل کر ایک منظم علم کی صورت اختیار کرنے لگی۔بعد ازاں یہی تصور مسلم دنیاتک پہنچا۔ مسلم ریاضی دانوں خصوصاً الخوارزمی نے ہندوستانی عددی نظام کو اپنایا، اس میں بہتری پیدا کی اور اسے یورپ تک منتقل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں رائج اعداد کو ''ہندوعربی اعداد‘‘ کہا جاتا ہے۔ عددی نظام کی بنیادصفر کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس نے مقاماتی عددی نظام کو ممکن بنایا۔ مثال کے طور پر 101 اور 11 میں فرق صرف صفر کی وجہ سے ہے۔ صفر یہ بتاتا ہے کہ کسی خاص مقام پر کوئی قدر موجود نہیں، مگر اس کے باوجود وہ مقام اہم ہے۔ اگر صفر نہ ہو تو نہ ہزار بن سکتے ہیں، نہ لاکھ، نہ کروڑ اور نہ ہی اعشاری نظام وجود میں آ سکتا ہے۔بینکاری، حساب کتاب، تجارت، بجٹ سازی اور قومی معیشتیں سب اسی نظام پر قائم ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ صفر کے بغیر جدید معیشت کا تصور بھی ممکن نہیں۔مثبت اور منفی اعداد کا توازنصفر ریاضی میں توازن کا نقطہ ہے۔ یہ مثبت اور منفی اعداد کے درمیان حدِ فاصل قائم کرتا ہے۔ نفع اور نقصان، گرمی اور سردی، سطح سمندر سے اوپر اور نیچے یہ سب تصورات صفر کے بغیر ادھورے ہیں۔ اگر صفر نہ ہوتا تو منفی اعداد محض ایک خیالی تصور رہ جاتے اور الجبرا جیسا اہم علم کبھی پروان نہ چڑھ پاتا۔مساواتوں اور مسائل کا حلریاضی اور طبیعیات کے بیشتر مسائل آخرکار صفر پر آ کر ختم ہوتے ہیں۔ مساواتوں کا حل عموماً یہ تلاش کرنا ہوتا ہے کہ کسی مقدار کی قیمت صفر کب بنتی ہے۔ گراف میں دو لکیروں کا نقطہ تقاطع کسی شے کا رک جانا یا کسی قوت کا ختم ہونا،یہ سب صفر کے ذریعے ہی بیان کیے جاتے ہیں۔سائنس اور کیلکولس میں صفرجدید سائنس، خاص طور پر کیلکولس صفر کے تصور کے بغیر نامکمل ہے۔ رفتاریاتبدیلی کی شرح اس بات پر منحصر ہے کہ کوئی مقدار صفر کے کتنے قریب پہنچ رہی ہے۔ طبیعیات کے قوانین، انجینئرنگ کے فارمولے اور خلائی سائنس سب صفر کے گرد گھومتے ہیں۔ڈیجیٹل دنیا کی بنیادآج کی ڈیجیٹل دنیا صفر کے بغیر ناقابلِ تصور ہے۔ کمپیوٹر، موبائل فون، انٹرنیٹ، اے آئی یہ سب بائنری سسٹم پر کام کرتے ہیں جس کی بنیاد دو ہندسوں پر ہے: 0 اور 1۔ صفر یہاں ''آف‘‘ کی علامت ہے جبکہ ایک ''آن‘‘ کو ظاہر کرتا ہے۔ یوں صفر نے جدید ٹیکنالوجی کو جنم دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔صفر محض ریاضی کا عدد نہیں بلکہ ایک گہرا فلسفیانہ تصور بھی ہے۔ یہ ''عدم‘‘، ''خلا‘‘ اور ''خالی پن‘‘ کی نمائندگی کرتا ہے۔ بہت سی تہذیبیں ''کچھ نہ ہونے‘‘ کے تصور سے خوف زدہ تھیں مگر صفر نے انسان کو سکھایا کہ عدم بھی معنی رکھتا ہے اور بعض اوقات ''کچھ نہ ہونا‘‘ ہی سب سے بڑی حقیقت ہوتا ہے۔صفر نے گنتی کو علم میں، حساب کو سائنس میں اور معلومات کو ٹیکنالوجی میں بدل دیا۔ یہ وہ خاموش عدد ہے جس کے بغیر جدید دنیا کا پہیہ ایک لمحے کو بھی نہیں گھوم سکتا۔ بظاہر کچھ نہ ہونے والا یہ ہندسہ درحقیقت انسانی ذہانت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔یقیناً صفر وہ عدد ہے جس نے ''کچھ نہیں‘‘ کو '' سب کچھ ‘‘بنا دیا۔

آج کا دن

آج کا دن

آشوٹزکیمپ کا خاتمہ27 جنوری 1945ء کو سوویت یونین کی ریڈ آرمی نے پولینڈ میں واقع نازی حراستی کیمپ آشوٹز کو آزاد کروایا۔ یہ کیمپ دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمنی کے نسل کش پروگرام کی سب سے خوفناک علامت سمجھا جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق یہاں تقریباً 11 لاکھ افراد کو قتل کیا گیا، جن میں یہودیوں کے علاوہ پولش، روما (Gypsies)، سوویت جنگی قیدی اور دیگر اقلیتیں بھی اس ظلم کا نشانہ بنیں۔جب سوویت فوجی کیمپ میں داخل ہوئے تو انہوں نے ہزاروں کمزور، بھوکے اور بیمار قیدیوں کو زندہ پایا ۔ آشوٹز کی آزادی نے دنیا کو نازی مظالم کی اصل شدت سے آگاہ کیا۔ برقی بلب کا پیٹنٹ27 جنوری 1880ء کو مشہور امریکی موجد تھامس ایڈیسن کو برقی بلب کا پیٹنٹ دیا گیا۔ اگرچہ ایڈیسن سے پہلے بھی کئی سائنسدان روشنی پیدا کرنے کے تجربات کر چکے تھے مگر ایڈیسن کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے بلب کو عملی، سستا اور طویل عرصے تک جلنے کے قابل بنایا، جس سے یہ عام لوگوں کے استعمال میں آ سکا۔ایڈیسن کے بلب نے انسانی زندگی میں انقلابی تبدیلی پیدا کی۔ برقی بلب کی ایجاد کے بعد شہروں میں رات کے وقت سرگرمیاں بڑھیں، صنعتوں کو فروغ ملا اور تعلیمی و سماجی زندگی میں نئی وسعت پیدا ہوئی اوریہ ایجاد جدید برقی نظام کی بنیاد بنی۔اپولو 1 کا حادثہ27 جنوری 1967ء کو امریکی خلائی پروگرام کو شدید دھچکا لگا جب اپولو 1 مشن کے دوران ایک زمینی آزمائش میں آگ لگنے سے تین خلابازہلاک ہو گئے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب کیپسول لانچ پیڈ پر موجود تھا اور اندر آکسیجن بھری ہوئی تھی جس نے آگ کو انتہائی تیزی سے پھیلنے میں مدد دی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ڈیزائن کی خامیاں، حفاظتی انتظامات کی کمی اور ناقص مواد اس حادثے کی بنیادی وجوہات تھیں۔ اس کے بعد ناسا نے خلائی جہازوں کے ڈیزائن، حفاظتی پروٹوکول اور آزمائشی طریقہ کار میں بڑی اصلاحات کیں، بالآخر 1969 میں انسان پہلی بار چاند پر قدم رکھنے میں کامیاب ہوا۔موزارٹ کی پیدائش27 جنوری 1756ء کو دنیا کا عظیم موسیقار وولف گینگ امیڈیئس موزارٹ آسٹریا کے شہر سالزبرگ میں پیدا ہوا۔ موزارٹ بچپن ہی سے غیر معمولی موسیقی صلاحیتوں کا مالک تھا۔پانچ سال کی عمر میں وہ موسیقی ترتیب دینے لگا اور یورپ بھر میں شاہی درباروں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔موزارٹ نے اپنی مختصر زندگی (35 سال) میں 600 سے زائد موسیقی کے شاہکار تخلیق کیے جن میں سمفنیز، اوپرا، سوناتاز اور مذہبی موسیقی شامل ہے۔ موزارٹ کی مشہور تخلیقات میں The Magic Flute،Don Giovanni اور Requiem شامل ہیں جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنی اور پیش کی جاتی ہیں۔پیرس امن معاہدہ 27 جنوری 1973ء کو پیرس امن معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کا مقصد ویتنام جنگ کا خاتمہ تھا۔ یہ جنگ تقریباً دو دہائیوں تک جاری رہی اور اس میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ معاہدے کے تحت امریکہ نے ویتنام سے اپنی فوجیں واپس بلانے پر رضامندی ظاہر کی جبکہ جنگی قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ ویتنام جنگ نے امریکی معاشرے میں شدید اختلافات کو جنم دیا تھا اور عوامی دباؤ کے باعث حکومت کو جنگ ختم کرنے کی راہ اختیار کرنا پڑی۔ اگرچہ پیرس معاہدے کے بعد بھی ویتنام میں کچھ عرصہ لڑائی جاری رہی۔