ذوالفقار علی بھٹو (پیدائش: 5 جنوری 1928ء، پھانسی: 4 اپریل 1979ء)

ذوالفقار علی بھٹو (پیدائش: 5 جنوری 1928ء، پھانسی: 4 اپریل 1979ء)

اسپیشل فیچر

تحریر : عامر ریاض


1960 ء کی دہائی کے دوسرے نصف میں ذوالفقار علی بھٹو نے جب عوامی سیاست میں قدم رنجا فرمایا، تو اس وقت کتنے ہی جغادری سیاستدانوں کا طوطی پاکستان میں بولتا تھا۔ نواب آف کالاباغ سے تو اک دنیا خوف کھاتی تھی ،مگر 1965ء کے بعد وہ اقتدار کی غلام گردشوں میں پریشان پھرتے تھے۔ بہت سے سینئر سیاستدانوںکی سیاست کو ایوبی کالاقانون ’’ایبڈو‘‘ کھا گیا تھا، مگر اب پابندیوں کا عشرہ ختم ہونے والا تھا۔سیکولر، قوم پرستوں اور ترقی پسندوں کا اتحاد یعنی نیشنل عوامی پارٹی 1966ء کے بعدروس چین لڑائیوں اور اندرونی خلفشاروں کی وجہ سے سخت ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ 1970ء تک اس پارٹی میں سے کتنے ہی گروہ الگ ہو چکے تھے جبکہ بہت سے قابل ذکر رہنمائوںنے نومولودپی پی پی میں شامل ہوکر بصیرتوں کا ثبوت دیا۔ تاشقند کا معاہدہ اور چین کے ساتھ شاہراہ قراقرم کی تشکیل جیسے اہم فیصلے جس ایوبی حکومت نے کیے ،وہ عوامی حمایت سے یکسر محروم تھی کہ اس کے ردعمل کا سامنا کرنے والا کوئی نہ رہا۔یہ تھے وہ حالات جن میں زیرک ذوالفقار علی بھٹو نے پرانے سیاستدانوں اور سکہ بند پارٹیوں سے ملنے کی بجائے نئی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ لاڑکانہ کے رہائشی تھے اور کراچی کی اشرافیہ میں ہر کوئی سرشاہنواز بھٹو اور ان کے فرزند کو جانتا تھا، مگر بھٹو نے پارٹی بنانے کے لیے لاہور کا انتخاب کیا۔ وہ جی ٹی روڈ پر پارٹی بنانے میں سرگرداں رہے۔ وہ جانتے تھے کہ کراچی، جی ایچ کیو اور اسلام آباد میں ان کے مخالفین زیادہ اور حمایتی کم ہیں۔ وہ سیاست میں امیر حمزہ بن کر آئے اور لشکرحریف کے پرخچے اڑا دیے۔ دسمبر 1970ء میں وہ فاتح تو بن گئے، مگر ان کی نومولود پارٹی اقتدار کے رموزواسرار کو سمجھنے میں مشاق نہیں تھی۔ بالغ رائے دہی کے تحت وفاقی سطح پر ہونے والے انتخابات کے رستے بننے والایہ پہلا عوامی دور حکومت تھا کہ نومولود پارٹی سے غلطیاں بھی سرزد ہوئیں ،مگر جس جرم کی پاداش میں 5جولائی 1977ء کوپی پی پی کی حکومت توڑی گئی اور پھرذوالفقار علی بھٹوکو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ اس میں ہوسِ اقتدارہی کو اولیت حاصل تھی۔ عدالتیں اس دور میں کتنی آزاد تھیں؟ اس بارے تو کوئی دورائے نہیں۔ بھٹو کا مقدمہ سننے والے جسٹس نسیم حسن شاہ تو اس ’’عدالتی قتل‘‘ کا اعتراف بھی کر چکے ہیں۔1972ء سے 1977ء کے درمیان ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کو پہلا متفقہ آئین دیا کہ یہ تحفہ ہے، جس پر انھیں ابراہیم لنکن اور اتاترک قرار دیا جا سکتا تھا، مگر سیاستدانوں کی اس قدر تکریم بڑوں کی ’’وارا‘‘ نہیں کھاتی تھی۔ قومی اتحاد کی تحریک انتخابات کے دوبارہ انعقاد کے گرد گھومتی تھی، مگر ضیاالحق نے اسے بھٹو کی پھانسی کے لیے استعمال کیا کہ اس کا پردہ نوابزادہ نصراللہ خان اور پروفیسر غفور چاک کر چکے ہیں۔کم ازکم آج 2014 ء میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں آنے والے چاروں مارشل لاء سیاستدانوں کے غلط کاموں کے خلاف نہیں بلکہ اقتدار کی ہوس اور اداروں کی آڑ میں ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے لگائے گئے تھے۔ بھٹو کا بذریعہ عدالت قتل بھی انھی مفادات کے تحت کیا گیا اک قابل مذمت اقدام تھا، مگر کیا منتخب اداروں کی تکریم، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی اور جمہوری تسلسل کو روکا جا سکا۔ بس 4 اپریل اسی بات کو یاد رکھنے کا استعارہ ہے کہ آج جس جمہوری بندوبست میں ہم رہ رہے ہیں ،اس کے لیے جو بہت سی قربانیاں دی گئیں ہیں، ان میں ایک نمایاں ترین مثل ذوالفقار علی بھٹو کی ہے۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
اے آئی کیمرے والا ٹوتھ برش

اے آئی کیمرے والا ٹوتھ برش

ڈائیسن کی جدید پیشرفتدانتوں کی صفائی کیلئے استعمال ہونے والا عام ٹوتھ برش اب مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو کر ایک اسمارٹ ڈیوائس کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ معروف ٹیکنالوجی کمپنی ڈائیسن نے یہ برش متعارف کرایا ہے، جس میں اے آئی سے لیس کیمرا نصب ہے۔ یہ جدید ٹوتھ برش دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی کا جائزہ لینے کے ساتھ صارف کو بہتر برشنگ کیلئے رہنمائی فراہم کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ تاہم اس کی420 پاؤنڈ قیمت نے اسے عام ٹوتھ برش کے مقابلے میں خاصا مہنگا بنا دیا ہے۔ برطانوی کمپنی ڈائیسن اپنے اعلیٰ معیار کے ویکیوم کلینرز کیلئے مشہور ہے، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے اس نے ذاتی نگہداشت کی مصنوعات کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔ کمپنی پہلے ہی ہیئر ڈرائیر، ہیئر اسٹریٹنرز، ہاتھ میں پکڑے جانے والے پنکھے اور ایئر پیوریفائر جیسی مصنوعات مارکیٹ میں پیش کرچکی ہے۔ اب ڈائیسن نے ''کیمرہ جیٹ‘‘ کے ذریعے ڈینٹل مصنوعات کی مارکیٹ میں قدم رکھا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ دانت صاف کرنے کا ''بالکل نیا طریقہ‘‘ ہے، جس میں دانتوں کی صفائی اور فلاسنگ کے عمل کو ایک ہی ڈیوائس کے ذریعے انجام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔اس ٹوتھ برش کی سب سے نمایاں خصوصیت اس میں نصب کیمرا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے دانتوں کے درمیان موجود انتہائی باریک خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ جیسے ہی ڈیوائس کسی خلا کا سراغ لگاتی ہے، وہاں منہ صاف کرنے والے محلول کی ایک انتہائی باریک دھار پہنچائی جاتی ہے۔ ڈائیسن کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے منہ کے ان حصوں کی صفائی بھی ممکن ہوتی ہے جہاں عام برش کی رسائی مشکل ہوتی ہے اور یہ عمل فلاسنگ جیسا کام کرتا ہے۔کمپنی کے مطابق اس ٹوتھ برش کی تیاری میں چھ سال لگے ہیں اور یہ مارکیٹ میں دستیاب معروف پریمیم الیکٹرک ٹوتھ برشز کے مقابلے میں 69 فیصد تک زیادہ پلاک ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈائیسن کے بانی اور چیف انجینئر سر جیمز ڈائیسن کا کہنا ہے کہ کمپنی کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ لوگ عموماً ان مقامات کی صفائی نظرانداز کردیتے ہیں جہاں پلاک زیادہ بنتا ہے، یعنی دانتوں کے درمیان موجود خلا۔ ان کے مطابق کمپنی نے تین بنیادی مسائل حل کرنے کی کوشش کی، دانتوں کے درمیان موجود خلا کو دیکھنا، وہاں سے پلاک ختم کرنا اور برشنگ کے مجموعی عمل کو مزید مؤثر بنانا۔سر جیمز ڈائیسن کے مطابق کیمرے، مشین لرننگ، انتہائی درست سیال ٹیکنالوجی، جدید برشنگ ٹیکنالوجی، کنیکٹیویٹی اور وائی فائی کو یکجا کرکے ڈائیسن کیمرہ جیٹ منہ کی صحت برقرار رکھنے کا ایک بالکل نیا طریقہ پیش کرتا ہے۔تاہم 420 پاؤنڈ کی قیمت نے اس نئی ایجاد کو خاصی مہنگی مصنوعات بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ صارفین کو دو متبادل برش ہیڈز کیلئے مزید 25 پاؤنڈ جبکہ ڈائیسن کے تیار کردہ غیر جھاگ دار ٹوتھ پیسٹ اور ماؤتھ رِنس کیلئے 8.49 پاؤنڈ اضافی ادا کرنا ہوں گے۔اگرچہ بہت سے لوگ ایک ٹوتھ برش پر 420 پاؤنڈ خرچ کرنے سے گریز کرسکتے ہیں، لیکن قیمتوں کے حوالے سے ڈائیسن کی مصنوعات پہلے بھی توجہ کا مرکز بنتی رہی ہیں۔ اس سے قبل کمپنی نے 820 پاؤنڈ مالیت کے ہیڈ فونز بھی متعارف کرائے تھے، جن میں ہوا صاف کرنے کا ایک غیر معمولی نظام نصب کیا گیا تھا۔زیادہ تر دندان ساز روزانہ دانتوں کو فلاس کرنے کی تجویز دیتے ہیں، تاہم تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عملی طور پر برطانیہ کے صرف 10 فیصد افراد روزانہ فلاسنگ کرتے ہیں۔ فلاسنگ کو آسان بنانے کیلئے ڈائیسن نے اپنا ٹوتھ برش تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس منصوبے کو مکمل کرنے میں 661 انجینئرز کی ٹیم کو چھ سال لگے۔ ٹوتھ برش میں نصب کیمرا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے دانت صاف کرتے وقت ہر سیکنڈ میں 28 براہِ راست تصاویر اسکین کرتا ہے۔ جیسے ہی دانتوں کے درمیان کسی خلا کی نشاندہی ہوتی ہے، تقریباً فوری طور پر، یعنی صرف 0.1 سیکنڈ کے اندر، ایک مخروطی شکل کی باریک دھار فعال ہوجاتی ہے، جو اس خلا میں ماؤتھ رِنس اسپرے کرتی ہے۔ تاہم ڈائیسن کے مطابق زیادہ تر واٹر فلاسرز میں سوئی نما دھار استعمال ہوتی ہے، جو دانتوں پر جمی ہوئی ضدی پلاک کو مؤثر طریقے سے ہٹانے میں مشکلات کا سامنا کرتی ہے۔کمپنی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈائیسن کے تیار کردہ مصنوعی پلاک پر جب اس قسم کی دھار کا تجربہ کیا گیا تو اس نے پلاک میں سوراخ تو کردیا، لیکن اس کی چپچپاہٹ پر قابو پانے اور اسے مکمل طور پر ہٹانے میں ناکام رہی۔اس کے برعکس ڈائیسن کی مخروطی دھار ایک منفرد، وسیع مخروطی شکل کا اسپرے استعمال کرتی ہے۔ اس کا وسیع پھیلاؤ ایک ہی وقت میں زیادہ حصے کو صاف کرتے ہوئے پلاک کو ہٹا دیتا ہے، جبکہ اسے نسبتاً کم دباؤ پر استعمال کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے تاکہ مسوڑھوں اور دانتوں کی بیرونی تہہ (اینامل) پر زیادہ نرمی سے اثر پڑے۔ماؤتھ رِنس ایک خصوصی 'اینٹی گریوٹی ٹینک‘ میں محفوظ رہتا ہے، جو ٹوتھ برش کو کسی بھی زاویے پر رکھنے کے باوجود مسلسل ماؤتھ رِنس کی دھار خارج کرتا رہتا ہے۔ڈائیسن کے مطابق، ''ہمارا اینٹی گریوٹی ٹینک اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ اس میں ہوا کے خلاکو ختم کیا جاسکے اور ڈیوائس کو خالی فائر کرنے سے روکا جا سکے۔یہ خصوصیت خاص طور پر دانتوں کے پچھلے حصے کی صفائی کے دوران اہم ہے، کیونکہ اس وقت ڈیوائس عموماً افقی پوزیشن میں ہوتی ہے‘‘۔ جب ماؤتھ رِنس کم ہونے لگتا ہے تو ٹوتھ برش کو اس کے ڈاکنگ اسٹیشن پر رکھتے ہی یہ خودکار طور پر دوبارہ بھر جاتا ہے۔ یہی ڈاکنگ اسٹیشن ٹوتھ برش کو چارج کرنے کا کام بھی انجام دیتا ہے۔جہاں تک برش ہیڈ کا تعلق ہے، سر جیمز ڈائیسن نے اس میں دوہری برسلز پر مشتمل ڈیزائن استعمال کیا ہے، جس میں دو مختلف اقسام کے برسلز شامل ہیں۔اندرونی برسلز قدرے سخت ہیں اور دانتوں پر موجود داغ دھبے دور کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ بیرونی برسلز نرم رکھے گئے ہیں تاکہ مسوڑھوں پر تکلیف یا خراش پیدا نہ ہو۔ لائیو ویونگ کا آپشن آپ مائی ڈائیسن ایپ کے ذریعے لائیو ویونگ کا آپشن منتخب کرسکتے ہیں، جس سے آپ اپنے منہ کے اندر کی براہِ راست ویڈیو دیکھ سکیں گے۔ ایپ پر صارفین کو رہنمائی کے ساتھ دانتوں کی صفائی، طریقہ استعمال کی ویڈیوز، برشنگ اور فلاسنگ سے متعلق معلومات، صفائی کے احاطے کی نقشہ بندی اور ذاتی نوعیت کی رہنمائی بھی دستیاب ہوگی۔

سڈنی میراتھن 2026ء، ریکارڈز کی بہار

سڈنی میراتھن 2026ء، ریکارڈز کی بہار

''میراتھن کی دنیا کا ساتواں عجوبہ‘‘سڈنی میراتھن 2026ء نے دوڑ کے شائقین کو نہ صرف شاندار کھیل کا نظارہ فراہم کیا بلکہ متعدد نئے ریکارڈز کے باعث تاریخ کا حصہ بھی بن گئی۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہونے والی اس عالمی سطح کی دوڑ میں ہزاروں ایتھلیٹس نے شرکت کی، جبکہ ایتھوپیا کے اَدی سو گوبینا نے 2 گھنٹے 4 منٹ 42 سیکنڈ میں دوڑ مکمل کرکے نیا کورس ریکارڈ قائم کیا۔ اس کے ساتھ خواتین کی دوڑ میں کینیا کی پیرس جیپچیرنے کامیابی حاصل کی، جبکہ مختلف کیٹیگریز میں بھی نمایاں ریکارڈز قائم ہوئے۔ مجموعی طور پر سڈنی میراتھن 2026ء نے ثابت کردیا کہ یہ مقابلہ اب صرف ایک میراتھن نہیں بلکہ دنیا کے ممتاز ترین رننگ ایونٹس میں اپنی جگہ مضبوط کرچکا ہے۔مسلسل تیسرے سال گنیز ورلڈ ریکارڈز نے سڈنی میراتھن میں غیر معمولی کارنامے انجام دینے والے ریکارڈ ساز رنرز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ دن طویل فاصلے کی دوڑ کے تازہ ترین ایڈیشن کا موقع تھا، جبکہ سڈنی نے دنیا کی سات ایبٹ ورلڈ میراتھن میجرز میں شامل ہونے کی دوسری سالگرہ بھی منائی۔ دنیا کے 140 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے کھیلوں کے نامور کھلاڑی اور شوقیہ رنرز آسٹریلیا کے اس شہر میں جمع ہوئے تاکہ اپنی جسمانی برداشت اور صلاحیتوں کو آزما سکیں۔ اس مقابلے کو ''میراتھن کی دنیا کا ساتواں عجوبہ‘‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔گنیز ورلڈ ریکارڈز کے ایڈجوڈی کیٹر برائن سوبل بھی موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے میراتھن کے دوران قائم یا توڑے جانے والے ریکارڈز کی باضابطہ تصدیق کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ان تمام رنرز کی حوصلہ افزائی اور حوصلہ بلند کیا جنہوں نے اپنی دوڑ کو ایک اضافی چیلنج کے ذریعے مزید یادگار اور غیر معمولی بنانے کا فیصلہ کیا۔برائن نے کہا کہ کینسر کے علاج کے چیلنجز پر قابو پانے، ماحولیاتی مسائل کے بارے میں شعور اجاگر کرنے یا غیر روایتی لباس میں میراتھن میں حصہ لینے جیسے مختلف کارناموں کے ذریعے ان رنرز نے ثابت کردیا ہے کہ ریکارڈ قائم کرنا کس قدر خاص اور غیر معمولی تجربہ ہوسکتا ہے۔ ان کامیابیوں کا مشاہدہ کرنا اور یہ دیکھنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ یہ رنرز گنیز ورلڈ ریکارڈز کے تاریخی صفحات میں اپنے لیے جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔سڈنی میراتھن 2026ء کے اختتام پر ریکارڈ قائم کرنے کی چھ کوششوں میں سے تمام چھ کامیاب رہیں۔40 ہزار سے زائد ایتھلیٹس شمالی سڈنی کی ملر اسٹریٹ پر جمع ہوئے، جہاں میراتھن کا آغاز صبح 6 بج کر 15 منٹ پر ہوا۔ رنرز 42.195 کلومیٹر طویل میراتھن کورس مکمل کرنے کیلئے تیار تھے۔ ان کا مقصد میڈل کے ساتھ گنیز ورلڈ ریکارڈز کا اعزاز اپنے نام کرنا تھا۔ فنِش لائن عبور کرنے والا پہلا رنر آسٹریلوی ایتھلیٹ اور سابق پیشہ ور سائیکلسٹ ٹوبی فلر تھا۔غیر معمولی عزم، استقامت اور متاثر کن جسمانی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹوبی فلر نے ملٹی پل مائیلوما کے مرض میں مبتلا مرد کی جانب سے تیز ترین میراتھن مکمل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے یہ فاصلہ 3 گھنٹے، 18 منٹ اور 1 سیکنڈ میں طے کیا۔ ٹوبی کو 23 برس کی عمر میں ملٹی پل مائیلوما کی تشخیص ہوئی تھی۔ یہ ہڈیوں میں موجود پلازما خلیوں کو متاثر کرنے والی ایک ناقابلِ علاج قسم کی کینسر کی بیماری ہے۔ وہ گزشتہ پانچ برس سے اس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ٹوبی تسلیم کرتے ہیں کہ بیماری کی وجہ سے مستقل بنیادوں پر تربیت کرنا مشکل ہے، تاہم انہوں نے کبھی کوشش ترک نہیں کی اوردوڑ جاری رکھی۔ ٹوبی نے آج یہ ریکارڈ قائم کرکے ایک منفرد مثال قائم کر دی۔ ان کا مقصد کینسر کے ساتھ زندگی گزارنے والے دوسرے افراد کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ اپنی بیماری کے باوجود اپنے خوابوں کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں۔برسبین سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹ کینٹ اوہوری نے دن کا دوسرا ریکارڈ اپنے نام کیا۔ انہوں نے بیئر کین کا لباس پہن کر تیز ترین میراتھن مکمل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ کینٹ نے یہ دوڑ 3 گھنٹے، 28 منٹ اور 27 سیکنڈ میں مکمل کی۔کینٹ اوہوری اپنی غیر معمولی ایتھلیٹک صلاحیتوں اور کھیلوں و صحت مند طرزِ زندگی کے فوائد اجاگر کرنے کے مشن کے باعث اس سے قبل بھی خبروں کی زینت بن چکے ہیں۔ اس مرتبہ انہوں نے سڈنی کے مشہور اوپیرا ہاؤس کے سامنے فنش لائن عبور کی تو وہ نارنجی اور سفید رنگ کے بیئر کین کے لباس میں ملبوس تھے۔ کینٹ برسبین میں قائم معروف رننگ کمیونٹی ری باؤنڈ کلب کے بانی ہیں، جو رنرز، ٹرائیتھلیٹس اور کھیلوں سے وابستہ افراد کیلئے ایک کمیونٹی ہے۔دن کی ایک اور نمایاں کامیابی فل برینٹ کی تھی، جو سڈنی سے تعلق رکھنے والے ڈیجیٹل اور کمیونیکیشنز کے ماہر ہیں۔ انہوں نے کچھوے کا روپ دھارتے ہوئے رینگنے والے جانور کے لباس میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے (مرد) کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ فل برینٹ نے دلکش سبز رنگ کا کچھوے کا لباس پہن کر میراتھن 3 گھنٹے، 45 منٹ اور 52 سیکنڈ میں مکمل کی۔ سڈنی میراتھن کے ریکارڈ ہولڈرزٹوبی فلرملٹی پل مائیلوما کے مرض میں مبتلا مرد کی جانب سے تیز ترین میراتھن کا ریکارڈ قائم کیا گیا،انہوں نے مطلوبہ فاصلہ 3 گھنٹے 18 منٹ 1 سیکنڈمیں طے کیا۔کینٹ اوہوری بیئر کین کے لباس میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والا مرد،انہوں نے مطلوبہ فاصلہ 3 گھنٹے 28 منٹ 27 سیکنڈمیں طے کیا۔کرس فائیویجسم کے اندر نصب ذیلی جلدی ڈیفبریلیٹر کے ساتھ تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والا مرد، فاصلہ3 گھنٹے 36 منٹ 27 سیکنڈمیں طے کیا۔فل برینٹرینگنے والے جانور کے لباس میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والا مرد، 3 گھنٹے 45 منٹ 52 سیکنڈمیں فاصلہ کیا۔ربیکا جوئنر اسکاؤٹ یونیفارم میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والی خاتون، 3 گھنٹے 55 منٹ 37 سیکنڈمیں فاصلہ مکمل کیا۔نلہاری بھنڈاری روایتی بھوٹانی لباس میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والا مرد ، 4 گھنٹے 7 منٹ 6 سیکنڈمیں مطلوبہ فاصلہ طے کیا۔

آج کا دن

آج کا دن

چین میں ہلاکت خیز زلزلہ5ستمبر 2022ء کو چین کے صوبہ سیچوان میں 6.8 شدت کا شدید زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ زلزلے کے جھٹکوں سے متعدد عمارتیں منہدم ہوئیں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا جبکہ کئی علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔ اس قدرتی آفت کے باعث کم از کم 93 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 25 افراد لاپتا ہوگئے۔ '' ڈسکوری‘‘ کا پہلا خلائی سفر1984ء میں آج کے روز اسپیس شٹل ڈسکوری نے اپنا پہلا خلائی مشن ''ایس ٹی ایس 41ڈی‘‘ مکمل کیا اور کامیابی سے زمین پر واپس آئی۔ یہ ڈسکوری کا اوّلین خلائی سفر تھا، جس کے دوران خلائی شٹل نے مختلف سائنسی اور تکنیکی سرگرمیاں انجام دیں۔ مشن کی کامیاب تکمیل کے بعد اس کی بحفاظت واپسی خلائی تحقیق اور قابلِ استعمال خلائی شٹل ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔پین ایم فلائٹ 73 ہائی جیک5ستمبر 1986ء کو بھارت سے پاکستان آنے والی ''پین ایم فلائٹ 73‘‘ کو کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہائی جیک کر لیا گیا۔ طیارے میں عملے سمیت 358 افراد سوار تھے۔ ہائی جیکنگ کے دوران مسافروں اور عملے کو کئی گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھا گیا۔ یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ میں پیش آنے والے اہم اور المناک فضائی واقعات میں شمار ہوتا ہے، جس نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔سری لنکا میں قتل عام5 ستمبر 1990ء کو سری لنکن خانہ جنگی کے دوران ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ سری لنکن فوج کے اہلکاروں نے ایسٹرن یونیورسٹی قتل عام کے دوران 158 شہریوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ ملک میں جاری طویل خانہ جنگی کے دوران ہونے والی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شمار ہوتا ہے۔ترکی : اسلحہ خانے میں دھماکہ 5 ستمبر 2012 ء کو افون کاراحسار، ترکی میں اسلحہ خانے میں دھماکہ ہوا۔ ترک مسلح افواج کے مطابق حادثے میں 25 فوجی ہلاک اور تین شہری زخمی ہوئے۔دھماکے کے بعد علاقے میں آگ لگ گئی۔ آگ بجھانے کے بعد دو نان کمیشنڈ افسران، دو اسپیشل سارجنٹس اور 21 پرائیویٹ گارڈز کو مردہ حالت میں نکالا گیا۔ اس حادثے کی بعد کئی تحقیقاتی کمیشن بنائے گئے۔محمد علی کا اولمپک طلائی تمغہ 1960ء میں آج کے روز امریکا کے عظیم باکسر محمد علی، جو اس وقت کیسیئس کلے کے نام سے جانے جاتے تھے، نے روم میں منعقدہ اولمپک کھیلوں میں لائٹ ہیوی ویٹ باکسنگ مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلائی تمغہ جیتا۔ بعد ازاں وہ دنیا کے عظیم ترین باکسرز میں شمار ہوئے۔

مصنوعی ذہانت سے گفتگو

مصنوعی ذہانت سے گفتگو

کیا انسان بھی روبوٹ جیسا بن رہاہے؟مصنوعی ذہانت (AI) ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ ہم معلومات حاصل کرنے، لکھنے، خریداری کرنے، کسٹمر سروس لینے، تعلیم حاصل کرنے اور حتیٰ کہ ذاتی مشورے کے لیے بھی AI سے بات کرتے ہیں۔ جدید AI صرف سوال کا جواب نہیں دیتی بلکہ ہماری زبان، اندازِ گفتگو اور ترجیحات کو سمجھ کر اپنے جواب کو ہمارے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے۔ بظاہر یہ سہولت انسان اور مشین کے درمیان فاصلے کو کم کرتی ہے، لیکن ایک تحقیق نے ایک دلچسپ اور قدرے تشویشناک سوال اٹھایا ہے: کیا مشینیں انسانوں جیسا بننے کے ساتھ ساتھ انسانوں کو بھی مشین جیسا بنا رہی ہیں؟ انسان مشین کے انداز کو کیوں اپناتا ہے؟یونیورسٹی آف برمنگھم کے محققین کے مطابق انسان سماجی ماحول میں دوسروں کے رویوں کی لاشعوری طور پر نقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے نفسیات میں mirroring کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر سامنے والا شخص مسکرائے تو ہم بھی مسکرا دیتے ہیں، اگر وہ مخصوص انداز میں گفتگو کرے تو ہم بھی غیر محسوس طور پر اپنا انداز بدل سکتے ہیں۔اب یہی عمل AI یا سماجی روبوٹس کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ جدید AI صارف کی گفتگو کے مطابق اپنے الفاظ، انداز اور ردعمل کو تبدیل کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک دو طرفہ عمل پیدا ہو سکتا ہے کہ روبوٹ انسان جیسا بنتا ہے اور انسان روبوٹ کے انداز کو اپنانا شروع کر دیتا ہے۔ محققین نے اسی تصور کو ''Robotoid Humanness‘‘ کا نام دیا ہے۔ روبوٹ جیسا ہونے سے مراد کیا ہے؟یہاں روبوٹ جیسا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اچانک جذبات سے عاری مشین بن جائے گا۔ اس سے مراد زیادہ تر بات چیت، رویے اور سوچ کے انداز میں تبدیلی ہے ،مثلاً اگر کوئی شخص مسلسل ایسے AI سسٹم سے گفتگو کرے جو مختصر، براہِ راست، حکم یا معلومات پر مبنی جملوں کو ترجیح دیتا ہو تو ممکن ہے کہ وہ خود بھی گفتگو میں زیادہ مختصر، رسمی اور مشینی انداز اختیار کرنے لگے۔ بار بار ایسا ہونے سے انسان اپنی گفتگو کو جذبات، غیر ضروری تفصیل اور انسانی اشاروں سے کم کر سکتا ہے۔یہ اثر خاص طور پر ان ماحول میں اہم ہو سکتا ہے جہاں انسان کا AI سے مسلسل رابطہ ہو، جیسے کسٹمر سروس، صحت، ریٹیل اور دیگر خدمات۔ تحقیق کے مطابق بار بار ہونے والی ایسی تعاملات انسان کے اپنے بارے میں تصور کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ اصل خطرہ AI نہیں بلکہ ضرورت سے زیادہ انحصار ہےاس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ AI استعمال کرنا خطرناک ہے یا ہر وہ شخص جو ChatGPT سے بات کرتا ہے روبوٹ بن جائے گا۔ یہ تحقیق بنیادی طور پر ایک تصوری اور نظریاتی فریم ورک پیش کرتی ہے کہ انسان اور مشین کے درمیان مسلسل تعامل کس طرح رویوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے اس خبر کو یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ AI ہر انسان کی شخصیت تبدیل کر دیتی ہے۔اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب انسان AI کے ردعمل کو اپنی شخصیت یا فیصلوں کا مستقل پیمانہ بنانا شروع کر دے۔ محققین نے خبردار کیا ہے کہ الگورتھم کی مسلسل توثیق انسان میں Confirmation bias پیدا کر سکتی ہے؛ یعنی انسان صرف وہی ردعمل قبول کرنے لگے جو اس کے پہلے سے موجود خیالات کی تصدیق کرے۔ اسی طرح مسلسل مثبت یا منفی فیڈ بیک انسان کے اعتماد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ انسانی پہلو کو زندہ رکھنا ضروری ہےAI ایک کارآمد ٹیکنالوجی ہے لیکن اسے انسان کا متبادل نہیں بلکہ معاون سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ AI ہمیں معلومات جلد فراہم کر سکتی ہے اور پیچیدہ کام آسان کر سکتی ہے مگر انسانی تعلقات میں ہمدردی، غیر لفظی اشارے، جذبات، تجربہ اور اخلاقی ذمہ داری کی اپنی اہمیت ہے،لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ ہم AI سے بات کیوں کرتے ہیں اصل سوال یہ ہے کہ ہم AI کے ساتھ بات کرنے کے بعد انسانوں سے کیسے بات کرتے ہیں۔ اگر AI ہماری زندگی کو آسان بنائے، ہماری سوچ کو وسیع کرے اور ہمیں زیادہ مؤثر بنائے تو یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ لیکن اگر ہم انسانی گفتگو، تنقیدی سوچ اور حقیقی تعلقات کو چھوڑ کر ہر معاملے میں الگورتھم کی منظوری تلاش کرنے لگیں تو یہ تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔آخرکار، ٹیکنالوجی کا مقصد انسان کو مشین بنانا نہیں بلکہ انسان کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ AI جتنی زیادہ انسانی ہوتی جائے اتنا ہی ضروری ہے کہ انسان اپنی انسانیت کو برقرار رکھنے کے بارے میں زیادہ باشعور رہے۔

گلو بل وارمنگ

گلو بل وارمنگ

دو بڑے سمندروں کے درمیان موسمیاتی تعلق بدل گیا سمندر صرف پانی کے وسیع ذخیرے نہیں بلکہ عالمی موسمیاتی نظام کے بنیادی ستون ہیں۔ ایک سمندر میں ہونے والی تبدیلی اکثر ہزاروں کلومیٹر دور دوسرے سمندر، فضا، بارش اور درجہ حرارت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اب سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گلوبل وارمنگ اس قدرتی نظام کے ایک اہم اور دیرینہ تعلق کو تبدیل کر رہی ہے۔'نیچر کمیونیکیشنز ‘میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق بحرالکاہل اور بحرِ ہند کے درمیان صدیوں سے قائم ایک اہم موسمیاتی تعلق حالیہ دہائیوں میں نمایاں طور پر کمزور بلکہ اپنی نوعیت میں تبدیل ہو گیا ہے۔ محققین کے مطابق یہ تبدیلی صرف سمندروں کے گرم ہونے تک محدود نہیں بلکہ ان کے درمیان موجود موسمیاتی رابطے کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ بحرِ ہند کا درجہ حرارت ایشیا، افریقہ اور آسٹریلیا کے بڑے حصوں میں بارش اور موسم کے حالات پر اثر انداز ہوتا ہے۔بحرالکاہل ، بحرِ ہند موسمیاتی پل کیسے کام کرتا ہے؟بحرالکاہل اور بحرِ ہند بظاہر ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں لیکن فضا ان دونوں کے درمیان ایک قدرتی پل کا کام کرتی ہے۔ اس تعلق میں بحرالکاہل کے اوپر موجودPacific Walker Circulation انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ ایک وسیع فضائی گردش ہے جو سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں فرق کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ گرم سمندری پانی کے اوپر ہوا گرم ہو کر اوپر اٹھتی ہے، فضا میں حرکت کرتی ہے، دوسرے علاقوں میں نیچے آتی ہے اور یوں ہواؤں اور بارش کے بڑے نظام تشکیل پاتے ہیں۔عام حالات میں بحرالکاہل میں ہونے والی تبدیلیاں اس فضائی نظام کے ذریعے بحرِ ہند کے درجہ حرارت کو بھی متاثر کرتی رہی ہیں۔ مثال کے طور پر ایل نینو جیسے واقعات کے دوران یہ گردش کمزور ہو سکتی ہے اور اس کا اثر بحرِ ہند تک پہنچ سکتا ہے۔ماضی میں بحرالکاہل کی اس فضائی گردش میں تبدیلی اور بحرِ ہند کے وسیع پیمانے پر درجہ حرارت میں تبدیلی کے درمیان ایک نسبتاً مستحکم تعلق موجود تھا۔ سائنسدان اسی تعلق کو موسمی حالات کی پیش گوئی کے لیے بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب یہ تعلق پہلے جیسا نہیں رہا۔گلوبل وارمنگ نے کیا تبدیل کیا؟تحقیق کے مطابق 1950ء کی دہائی سے اب تک بحرِ ہند کے گرم ہونے کی رفتار تقریباً 0.1 ڈگری سیلسیس فی دہائی رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 1980ء کی دہائی کے بعدPacific Walker Circulation میں بھی مضبوطی دیکھی گئی۔بظاہر یہ دونوں تبدیلیاں الگ الگ عوامل معلوم ہوتی ہیں لیکن ان کے باہمی اثرات نے سمندروں کے درمیان روایتی موسمیاتی تعلق کو تبدیل کر دیا ہے۔ تحقیق کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ حالیہ دہائیوں میں بحرالکاہل کی فضائی گردش اور بحرِ ہند کے درجہ حرارت کے درمیان تعلق کی سمت ہی تبدیل ہو گئی ہے۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو بحرِ ہند اب پہلے کی طرح بحرالکاہل کی تبدیلیوں کی پیروی نہیں کر رہا۔ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی گرین ہاؤس گیسوں اور انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی طویل مدتی گرمی اب بحرالکاہل کے قدرتی اثرات پر غالب آ رہی ہے۔یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کیونکہ اگر دو بڑے سمندروں کے درمیان پرانا تعلق تبدیل ہو جائے تو صرف سمندری درجہ حرارت ہی متاثر نہیں ہوگا بلکہ وہ موسمی نظام بھی بدل سکتے ہیں جن پر کروڑوں انسانوں کی زندگی اور معیشت منحصر ہے۔400 سالہ موسمیاتی ریکارڈ نے کیا بتایا؟یہ سوال اہم تھا کہ موجودہ تبدیلی واقعی غیر معمولی ہے یا ماضی میں بھی قدرتی طور پر ایسی صورتحال پیدا ہوتی رہی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ جدید آلات کے ذریعے سمندروں کے درجہ حرارت اور فضائی گردش کی قابلِ اعتماد پیمائش کا ریکارڈ تقریباً ایک صدی تک ہی محدود ہے۔ اس لیے محققین نے ماضی کے موسمی حالات جاننے کے لیے قدرتی ریکارڈز سے مدد لی۔شاون وانگ اور ان کے ساتھیوں نے 35 مرجانی ریکارڈز، تین درختوں کے حلقوں کے ریکارڈز اور ایک غار میں بننے والی معدنی تہہ سے حاصل ہونے والے شواہد استعمال کیے۔ ان قدرتی ریکارڈز کی مدد سے محققین نے 1631ء سے 1990 ء تک بحرالکاہل اور بحرِ ہند کے موسمیاتی حالات کو دوبارہ سمجھنے کی کوشش کی۔نتائج حیران کن تھے۔ تقریباً چار صدیوں کے زیادہ تر عرصے میں دونوں سمندروں کے موسمیاتی نظام ایک دوسرے کے ساتھ نسبتاً مضبوط تعلق رکھتے تھے۔البتہ 1810ء سے 1850ء کے درمیان یہ تعلق خاصا کمزور ہوا تھا۔ اس دور میں کئی بڑے آتش فشانی دھماکے ہوئے جن میں 1815 ء میں انڈونیشیا کے ماؤنٹ تمبورا کا تباہ کن دھماکا بھی شامل تھا۔بڑے آتش فشانی دھماکوں سے سلفر پر مشتمل ذرات فضا کی بلند تہوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ذرات سورج کی روشنی کا کچھ حصہ واپس خلا میں منعکس کر دیتے ہیں جس سے زمین کا درجہ حرارت عارضی طور پر کم ہو سکتا ہے۔ چونکہ یہ ٹھنڈک دنیا کے مختلف حصوں میں یکساں نہیں ہوتی اس لیے سمندری درجہ حرارت، ہواؤں اور فضائی گردش میں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔مستقبل کی موسمی پیش گوئیوں کیلئے خطرے کی گھنٹیمحققین نے موجودہ دور کے تعلق کو گزشتہ ایک ہزار سال کے موسمیاتی ماڈلز اور ریکارڈز سے بھی موازنہ کیا۔ 1945ء سے 2025ء کے عرصے میں دونوں سمندروں کے درمیان تعلق میں جو تبدیلی سامنے آئی وہ ماضی کی قدرتی تبدیلیوں کے مقابلے میں غیر معمولی نکلی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بحرالکاہل اور بحرِ ہند کے درمیان ہر قسم کا موسمیاتی تعلق ختم ہو گیا ہے، تاہم جو تبدیلی آئی ہے وہ موسمی پیش گوئیوں کے لیے اہم ہے۔یہ تبدیلی خاص طور پر ایشیا، افریقہ اور آسٹریلیا کے لیے اہم ہے جہاں بحرِ ہند کا درجہ حرارت بارش اور موسمی حالات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بارش کے نظام اور پانی کی دستیابی پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اہم چیلنج بن چکے ہیں۔ مستقبل میں سمندروں کے درمیان بدلتے تعلقات ان پیش گوئیوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

ایکٹیم کی جنگدو ستمبر 31 قبل مسیح کو یونان کے مغربی ساحل کے قریب ایکٹیم کے مقام پر ایک فیصلہ کن بحری جنگ لڑی گئی۔ اس جنگ میں رومی رہنما اوکٹیوین کی افواج کا مقابلہ مارک انٹونی اور مصر کی ملکہ کلیوپیٹرا ہفتم کی مشترکہ طاقت سے ہوا۔ یہ معرکہ رومی جمہوریہ کے آخری دور میں اقتدار کے لیے جاری شدید سیاسی اور فوجی کشمکش کا نتیجہ تھا۔ اوکٹیوین اور انٹونی دونوں روم کی سب سے طاقتور شخصیات میں شامل تھے لیکن ان کے درمیان اختلافات بڑھتے گئے۔ انٹونی نے مصر کی ملکہ کلیوپیٹرا کے ساتھ سیاسی اور ذاتی اتحاد قائم کر لیا تھا، جسے اوکٹیوین نے اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھا۔ایکٹیم کی جنگ کا سب سے بڑا نتیجہ یہ تھا کہ اوکٹیوین روم کا واحد طاقتور حکمران بن گیا۔ بعد میں وہ آگسٹس کے نام سے روم کا پہلا شہنشاہ بنا۔ لندن کی عظیم آتش زدگیدو ستمبر 1666ء کو لندن میں آتش زدگی کا خوفناک واقعہ ہوا۔ اُس زمانے میں لندن کا بڑا حصہ لکڑی کی عمارتوں، تنگ گلیوں اور ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تعمیرات پر مشتمل تھا۔ ان حالات کے باعث آگ کو روکنا انتہائی مشکل تھا۔ اس کے علاوہ خشک موسم اور تیز ہوا نے بھی آگ کو تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔آگ چند گھنٹوں میں آس پاس کے علاقوں تک پہنچ گئی اور پھر شہر کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت آگ بجھانے کے لیے جدید فائر بریگیڈ، پانی کے پائپوں اور فائر ٹرکوں جیسی سہولیات موجود نہیں تھیں۔اس تباہی میں لندن کی ہزاروں عمارتیں جل گئیں۔ آگ کے بعد لندن کی تعمیرِ نو شروع ہوئی، عمارتوں میں اینٹ اور پتھر استعمال کرنے اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر توجہ دی گئی۔ امریکی محکمہ خزانہ کا قیامدو ستمبر 1789ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں محکمہ خزانہ قائم کیا گیا۔ یہ اقدام نئی امریکی وفاقی حکومت کے ابتدائی دور میں انتہائی اہم تھا۔ امریکی انقلاب کے بعد امریکہ ایک نئے آئینی اور وفاقی نظام کی طرف بڑھ چکا تھا لیکن نئی حکومت کو اپنے مالی معاملات چلانے کے لیے ایک منظم مرکزی ادارے کی ضرورت تھی۔ اسی ضرورت کے تحت کانگریس نے محکمہ خزانہ قائم کیا۔ بعد میں الیگزینڈر ہملٹن امریکہ کے پہلے وزیرِ خزانہ مقرر ہوئے۔ انہوں نے امریکی مالیاتی نظام کو منظم کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ ان کی مالیاتی پالیسیوں نے ابتدائی امریکی ریاست کو معاشی طور پر مضبوط بنانے میں مدد دی۔ دوسری جنگِ عظیم کا اختتامدوستمبر 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کا ایک تاریخی مرحلہ مکمل ہوا۔ اس روز جاپان کے نمائندوں نے امریکی بحری جہازپر ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کیے۔ اس دستاویز کے ذریعے جاپانی حکومت اور اس کی مسلح افواج نے اتحادی طاقتوں کے سامنے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ تقریب میں اتحادی طاقتوں کی جانب سے جنرل ڈگلس میک آرتھر نے نمائندگی کی۔دستاویز پر دستخط کے بعد دوسری جنگِ عظیم کا آخری بڑا محاذ بھی باضابطہ طور پر ختم ہو گیا۔ جاپان نے 15 اگست 1945ء کو ریڈیو کے ذریعے اپنے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر دیا تھا لیکن دو ستمبر کو ہونے والی تقریب نے اس فیصلے کو قانونی اور رسمی شکل دی۔ اسی لیے دو ستمبر کو عام طور پر دوسری جنگِ عظیم کے رسمی اختتام کی تاریخ سمجھا جاتا ہے۔ ویتنام کا اعلانِ آزادیدو ستمبر 1945ء کو ویتنام کے رہنما ہو چی منہ نے ہنوئی میں ایک بڑے عوامی اجتماع کے سامنے ویتنام کی آزادی کا اعلان کیا۔ ویتنام طویل عرصے تک فرانسیسی نوآبادیاتی اقتدار کے تحت رہا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان نے بھی ویتنام پر اپنا اثر قائم کیا۔ 1945ء میں جاپان کی شکست کے بعد ویتنام میں سیاسی صورت حال تبدیل ہوئی۔ہو چی منہ نے دو ستمبر کو عوام کے سامنے جو اعلان پڑھا اس میں ویتنامی عوام کے آزادی اور خودمختاری کے حق پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر ہنوئی میں ایک بہت بڑا عوامی اجتماع موجود تھا، جس نے آزادی کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔اگرچہ اس اعلان کے بعد ویتنام کو فوری مکمل آزادی حاصل نہیں ہوئی۔1954ء میں فرانسیسی افواج کی شکست کے بعد ویتنام کی سیاسی تقسیم اور بعد کی جنگیں کئی دہائیوں تک جاری رہیں۔