احسان دانش… شاعر، ادیب اور معمار

احسان دانش… شاعر، ادیب اور معمار

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


’’بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں، تنہائی جنہیں دہراتی ہے۔‘‘ مہدی حسن کی آواز میں گایا ہوا یہ گیت جب بھی کانوں سے ٹکراتا ہے تو انسان گویا اداسیوں کے صحرا میں بھٹکنے لگتا ہے۔ لیکن یہ اداسی بے معنی نہیں بلکہ اپنے اندر کئی مفاہیم لیے ہوئے ہے۔ اسے اداسی کی مہک کہنا چاہیے۔بقول شاعر؎ اداسیوں کی مہک ہر طرف بکھرتی ہےہماری طرح انساں جہاں گزرتے ہیںمذکورہ بالا گیت احسان دانش نے شباب کیرانوی کی ایک فلم کیلئے لکھا تھا اوراس گیت نے شہرت کی ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ شباب کیرانوی چونکہ احسان دانش کے شاگرد تھے اس لئے ان کی درخواست پر احسان دانش نے یہ گیت تحریر کیا۔ وہ کوئی باقاعدہ نغمہ نگاری نہیں کرتے تھے۔ احسان دانش کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ وہ بلند پایہ شاعر بھی تھے، بے مثل ادیب بھی اور بڑے باکمال معمار بھی۔ انہوں نے مزدوری بھی کی اور پھر معمار (Architect) کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے۔ وہ تمام زندگی مشقت کی چکی گھماتے رہے۔ مزدور کی زندگی کیا ہے اوراسے دووقت کی روٹی کمانے کیلئے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ صرف وہی جانتا ہے۔ اس حوالے سے احسان دانش کا یہ عدیم النظیر شعر ملاحظہ کیجئے۔؎ اس شہرمیں مزدور جیسا دربدر کوئی نہیںجس نے سب کے گھربنائے اس کا گھر کوئی نہیںاحسان دانش 1914ء میں کھنڈالہ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام احسان الحق تھا۔ غربت و افلاس کی وجہ سے وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کرسکے۔ انہوں نے خود ہی عربی اور فارسی سیکھی ۔ پھر وہ لاہور آ گئے اور مستقل طور پر اس شہر میں سکونت اختیار کرلی۔ روٹی روزگار کیلئے انہیں سخت محنت کرنا پڑی۔ کیریئر کے شروع میں وہ رومانوی شاعری کی طرف راغب تھے۔ لیکن بعد میں انہوں نے مزدوروں کیلئے نظمیں تخلیق کیں اور انہیں شاعر مزدورکا خطاب دیا گیا۔ ان کی شاعری نے عام آدمی کو بہت متاثر کیا۔ ان کا شعری اسلوب سادہ تھا اور ان کا شعری اسلوب ہی ان کی شہرت کا باعث بنا۔ ان کی شاعری میں سلاست اور روانی تھی ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ خیال کی ندرت بھی تھی۔ ان سب خوبیوں نے احسان دانش کو برصغیر کے ممتاز اردو شعراء کی صف میںلاکھڑا کیا۔ انہوں نے دیوان غالب کی شرح بھی لکھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کا بہت سا کلام ابھی تک شائع نہیں ہوا۔ انہوں نے 80 سے زیادہ کتابیں لکھیں اور سینکڑوں مضامین بھی تحریر کیے۔ ان کی مشہورکتابوں میں ’’جہانِ دانش، جہان دیگر، تذکیروتانیث، ابلاغ دانش، آواز سے الفاظ تک، درد زندگی، حدیث ادب اور نقیرفطرت’’ شامل ہیں۔’’جہان دانش‘‘ احسان دانش کی معرکۃ آلارا تصنیف ہے۔ یہ ان کی خودنوشت ہے جو ان کی زندگی میں پیش آنے والے حقیقی واقعات پر مبنی ہے۔ انداز بیان اس قدر اثر انگیز ہے کہ مطالعے کے دوران قاری کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ یہ خودنوشت دانش صاحب کو ہمیشہ زندہ رکھے گی۔ ان کے شاگردوںکی تعداد بھی اچھی خاصی تھی۔ احسان دانش ایک صاحب احساس اور انسان دوست شخص تھے۔ انہوں نے زندگی کی تلخیوں کا زہر پیا تھا اور وہ اس حقیقت سے بخوبی آشنا تھے کہ دکھ کیا ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ احسان دانش شاعر مزدور بھی کہلائے لیکن انہوں نے جس طمطراق سے رومانوی شاعری کی وہ حیرت انگیز ہے۔ افلاس کی چکی میں پسنے والا شخص لطیف جذبات کا کیسے حامل ہوسکتا ہے؟ احسان دانش نے بہرحال یہ ثابت کر دکھایا وگرنہ ساحر لدھیانوی تو کہتے ہیں ’’مفلسی، حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے‘‘۔رومانوی شاعری کے حوالے سے احسان دانش کے مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ کیجئے۔؎ اب کہ یوں دل کو سزا دی ہم نےاس کی ہر بات بھلا دی ہم نے؎ یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسےساتھ چل موج صبا ہو جیسےلوگ یوں دیکھ کے ہنس دیتے ہیںتومجھے بھول گیا ہو جیسےاحسان دانش نے اپنی شاعری کا دائرہ محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے معروضی حقائق کو بڑی خوبصورتی سے اپنے احساسات کا لباس پہنایا۔ اس سے ان کی شاعری کی کئی جہتیں سامنے آ گئیں۔مندرجہ ذیل اشعار دیکھئے:۔؎ زندگی تجھ سے شکایت ہی کہاں تھی لیکنتیری تلخی میرے لہجے سے عیاں تھی لیکن؎ نظر فریب قضا کھا گئی تو کیا ہوگاحیات موت سے ٹکرا گئی تو کیا ہوگاغم حیات سے بے شک ہے خودکشی آسانمگر جو موت بھی شرما گئی تو کیا ہوگا؎ وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئےوہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لئےایک طرف ان کی شاعری تخیل کے حوالے سے قاری کو بہت متاثر کرتی ہے تو دوسری طرف ان کی شاعری کے فنی محاسن کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ وہ شعر کی باریکیوں سے اچھی طرح واقف تھے۔ اس کے علاوہ ان کی شاعری کا ایک اور وصف نکتہ آفرینی بھی تھا۔ یہ شعر ملاحظہ کیجئے۔؎ احسانؔ ہے بے سودگلہ ان کی جفا کاچاہاتھا انہیں ہم نے خطا وار ہمی تھےاحسان دانش تمام عمر ادب کے نایاب موتی بکھیرتے رہے۔ بے شمار لوگوں نے ان سے فیض حاصل کیا۔ صرف شعرو ادب کے حوالے سے ہی نہیں، وہ پیہم جدوجہد کے حوالے سے بھی دوسروں کے لئے مثال بنے رہے۔ طلباء کے ساتھ وہ بڑی شفقت سے پیش آتے تھے۔ جب بھی کوئی نوجوان ان کے پاس جاتا تھا اور اس خواہش کا اظہار کرتا کہ وہ شاعری کے میدان میں نام کمانا چاہتا ہے تو وہ مسرت کا اظہار کرتے لیکن ساتھ میں یہ نصیحت بھی کرتے کہ پہلے اپنی تعلیم مکمل کرو۔ وہ اکثر کہا کرتے کہ شاعری کو ناگزیر نہ سمجھا جائے۔ پہلے رزق کمانے کے وسائل تلاش کیے جائیں۔ نوجوانوں کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ پہلے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں تاکہ انہیں معاشی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پھر اگر قدرت نے تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے توشعر و سخن کے میدان میں بھی جھنڈے گاڑے جاسکتے ہیں۔1978ء میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔ آخری سانس تک ان کا تخلیقی سفر جاری رہا۔ 1982ء کو یہ عدیم النظیر شاعر اورادیب عالم جاوداں کو سدھار گیا۔ انہوں نے اپنی موت کے حوالے سے بھی کیا خوبصورت شعر کہا ہے۔؎ موت بھی آئی تو اس ناز کے ساتھمجھ پہ احسان کیا ہو جیسے٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
گلو بل فریز: سردی کی عالمی لہر نے زندگی کو کیسے بدل دیا

گلو بل فریز: سردی کی عالمی لہر نے زندگی کو کیسے بدل دیا

زمین کی تاریخ میں کئی ایسے دور گزرے ہیں جنہوں نے زندگی کے دھارے کو یکسر بدل دیا مگر آج سے تقریباً 44.5کروڑ سال پہلے آنے والا شدید عالمی سرد دور (Global Freeze) ان میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس دور میں پیش آنے والا لیٹ آرڈووِیشین ماس ایکسٹنکشن (Late Ordovician Mass Extinction) زمین کی ابتدائی بڑی معدومیوں میں سے ایک تھا جس نے سمندری حیات کے تقریباً 85 فیصد حصے کو ختم کر دیا۔ تاہم حیران کن طور پر یہی تباہی بعد ازاں ایک نئی ارتقائی کامیابی کی بنیاد بنی جس کے نتیجے میں جبڑے رکھنے والے فقاری جانوروں (Jawed Vertebrates) کا عروج ممکن ہوا۔جب زمین اچانک منجمد ہو گئیآرڈووِیشین دور (48.6 تا 44.3 کروڑ سال قبل) کے اختتام پر زمین نے اچانک ایک بڑی موسمی کروٹ لی۔ جنوبی نصف کرے میں واقع عظیم براعظم گونڈوانا پر وسیع گلیشیئر پھیل گئے۔ سمندروں کا پانی برف میں تبدیل ہونے لگا جس کے باعث کم گہرے سمندر سکڑ گئے۔ اس تبدیلی کو ماہرین آئس ہاؤس کلائمیٹ کہتے ہیں۔ اسی دوران سمندری کیمیائی توازن بگڑ گیا، آکسیجن کی کمی اور سلفر کی زیادتی نے سمندری حیات کے لیے حالات مزید جان لیوا بنا دیے نتیجتاً وہ دنیا جس میں زندگی کا بڑا حصہ سمندروں پر مشتمل تھا شدید بحران کا شکار ہو گئی۔معدومی کے دو بڑے مرحلےسائنسدانوں کے مطابق یہ معدومی اچانک نہیں آئی بلکہ دو مراحل میں وقوع پذیر ہوئی۔ پہلے مرحلے میں شدید سردی اور گلیشیئروں کے پھیلاؤ نے سمندری مسکن تباہ کر دیے۔ چند ملین سال بعد جب حالات کچھ بہتر ہونے لگے تو دوسرا مرحلہ آیا۔ اس بار برف پگھلی، سمندر کی سطح بلند ہوئی مگر گرم اور کم آکسیجن والے پانی نے اُن انواع کو بھی ختم کر دیا جو سرد ماحول سے مطابقت پیدا کر چکی تھیں۔اس تباہی سے پہلے زمین کی سمندری دنیا حیرت انگیز حد تک متنوع تھی۔ لمپری نماکونوڈونٹ اپنی بڑی بڑی آنکھوں کے ساتھ سمندروں میں تیرتے تھے، ٹرائیلوبائٹس سمندر کی تہہ پر رینگتے دکھائی دیتے تھے جبکہ دیوہیکل سی سکارپینز اور پانچ میٹر لمبے خول والے نوٹیلائڈز سمندروں کے طاقتور شکاری تھے۔ اس ماحول میں جبڑے والے ابتدائی فقاری جانور موجود تو تھے مگر تعداد میں کم اور نسبتاً غیر نمایاں۔پناہ گاہیں اور ارتقا کا نیا موقعاوکی ناوا انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی تازہ تحقیق جو Science Advances میں شائع ہوئی بتاتی ہے کہ اس تباہی کے دوران کچھ خطے ریفیو جیا بن گئے یعنی ایسی محفوظ پناہ گاہیں جہاں چند انواع باقی رہ سکیں۔یہاں جبڑے والے فقاری جانوروں کو ایک غیر متوقع برتری حاصل ہوئی۔ تحقیق کے مطابق یہی گروہ ان محدود مگر نسبتاً محفوظ علاقوں میں زندہ رہا اور آہستہ آہستہ تنوع اختیار کرنے لگا۔200 سالہ فوسل ریکارڈ کا نیا تجزیہتحقیق کے لیے سائنسدانوں نے گزشتہ 200 برسوں کے فوسل ڈیٹا کو یکجا کر کے ایک نیا جامع ڈیٹا بیس تیار کیا۔ اس تجزیے سے واضح ہوا کہ معدومی کے بعد اگرچہ فوری طور پر بحالی نہیں ہوئی مگر کئی ملین سالوں میں جبڑے والے فقاری جانوروں کی اقسام میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ تحقیق کے مرکزی مصنف وہائی ہیگی وارا کے مطابق یہ اضافہ براہِ راست معدومی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا نتیجہ تھا۔جغرافیہ نے ارتقا کو کیسے شکل دی؟تحقیق کا ایک اہم پہلو حیاتی جغرافیہ ہے۔ سائنسدانوں نے پہلی بار یہ جانچا کہ معدومی سے پہلے اور بعد میں انواع زمین کے مختلف خطوں میں کیسے پھیلیں۔ خاص طور پر موجودہ جنوبی چین کا خطہ نہایت اہم ثابت ہوا جہاں جبڑے والی ابتدائی مچھلیوں کے مکمل فوسلز ملے ہیں جو جدید شارک سے قریبی تعلق رکھتی ہیں۔ یہی خطہ بعد میں عالمی سطح پر فقاری جانوروں کے پھیلاؤ کا مرکز بنا۔ارتقائی حیاتیات کا ایک پرانا سوال یہ ہے کہ آیا جبڑا کسی نئے ماحولیاتی کردار کے حصول کے لیے بنا یا پہلے ماحول دستیاب تھا اور بعد میں ارتقائی تبدیلی آئی؟اس تحقیق کے مطابق پہلے خالی ماحولیاتی جگہیں پیدا ہوئیں جو معدوم ہونے والی انواع نے چھوڑ دی تھیں۔ ان جگہوں کو پُر کرنے کے عمل میں جبڑے والے جانوروں نے بتدریج ارتقائی برتری حاصل کی۔مکمل صفایا نہیں ترتیب نواہم بات یہ ہے کہ یہ معدومی مکمل صفایا نہیں تھی۔ کئی بغیر جبڑ والے فقاری جانور آئندہ چارکروڑ سال تک سمندروں میں غالب رہے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ جبڑے والے جانور زیادہ مؤثر ثابت ہوئے اور بالآخر غالب آ گئے۔سائنسدان اس عمل کو ڈائیورسٹی ری سیٹ سائیکل کہتے ہیں یعنی قدرتی آفات کے بعد زندگی کا نیا مگر مانوس انداز میں دوبارہ ابھرنا۔آج کے لیے کیا سبق؟پروفیسر لارن سالان کے مطابق یہ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ شدید ماحولیاتی تبدیلیاں صرف تباہی نہیں لاتیں بلکہ بعض اوقات نئی ارتقائی راہیں کھولتی ہیں۔آج جب دنیا ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے تو زمین کی قدیم تاریخ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ زندگی کس طرح بحرانوں سے گزر کر خود کو نئے سانچوں میں ڈھالتی ہے۔

صفر:جو کچھ نہ ہو کر بھی سب کچھ ہے

صفر:جو کچھ نہ ہو کر بھی سب کچھ ہے

ریاضی کی دنیا میں اگر کسی ایک عدد کو سب سے زیادہ انقلابی قرار دیا جائے تو وہ بلا شبہ صفر ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا ہندسہ ہے جس کی اپنی کوئی مقدار نہیں مگر حقیقت میں یہی ''کچھ نہ ہونے‘‘ کا تصور انسانی تاریخ کی سب سے بڑی فکری جست ثابت ہوا۔ صفر نے نہ صرف حساب کے طریقے بدلے بلکہ سائنس، معیشت، ٹیکنالوجی اور حتیٰ کہ فلسفے پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔صفر سے پہلے کی دنیایہ بات جاننا دلچسپ ہے کہ انسانی تہذیب ہزاروں برس تک صفر کے بغیر چلتی رہی۔ قدیم مصری، یونانی اور رومی گنتی کے نظام رکھتے تھے مگر ان میں صفر کا کوئی باقاعدہ تصور موجود نہیں تھا۔ رومن اعداد میں آج بھی صفر نہیں پایا جاتا، اسی وجہ سے ان کے ذریعے بڑے حساب یا پیچیدہ ریاضیاتی مسائل حل کرنا نہایت مشکل تھا۔ اس دور میں لوگ اشیا کو گنتے تو تھے مگر ''کچھ نہ ہونے‘‘ کو ایک عدد کی شکل میں سمجھنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ ایک فکری انقلابصفر کا باقاعدہ تصور پہلی بار برصغیر میں ابھرا۔ ساتویں صدی میں بھارتی ریاضی دان برہما گپتا نے صفر کو محض ایک خالی جگہ یا علامت نہیں بلکہ ایک مکمل عدد کے طور پر متعارف کرایا۔ انہوں نے صفر کے ساتھ جمع، تفریق اور دیگر حسابی اصول بھی وضع کیے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ریاضی محض گنتی سے نکل کر ایک منظم علم کی صورت اختیار کرنے لگی۔بعد ازاں یہی تصور مسلم دنیاتک پہنچا۔ مسلم ریاضی دانوں خصوصاً الخوارزمی نے ہندوستانی عددی نظام کو اپنایا، اس میں بہتری پیدا کی اور اسے یورپ تک منتقل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں رائج اعداد کو ''ہندوعربی اعداد‘‘ کہا جاتا ہے۔ عددی نظام کی بنیادصفر کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس نے مقاماتی عددی نظام کو ممکن بنایا۔ مثال کے طور پر 101 اور 11 میں فرق صرف صفر کی وجہ سے ہے۔ صفر یہ بتاتا ہے کہ کسی خاص مقام پر کوئی قدر موجود نہیں، مگر اس کے باوجود وہ مقام اہم ہے۔ اگر صفر نہ ہو تو نہ ہزار بن سکتے ہیں، نہ لاکھ، نہ کروڑ اور نہ ہی اعشاری نظام وجود میں آ سکتا ہے۔بینکاری، حساب کتاب، تجارت، بجٹ سازی اور قومی معیشتیں سب اسی نظام پر قائم ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ صفر کے بغیر جدید معیشت کا تصور بھی ممکن نہیں۔مثبت اور منفی اعداد کا توازنصفر ریاضی میں توازن کا نقطہ ہے۔ یہ مثبت اور منفی اعداد کے درمیان حدِ فاصل قائم کرتا ہے۔ نفع اور نقصان، گرمی اور سردی، سطح سمندر سے اوپر اور نیچے یہ سب تصورات صفر کے بغیر ادھورے ہیں۔ اگر صفر نہ ہوتا تو منفی اعداد محض ایک خیالی تصور رہ جاتے اور الجبرا جیسا اہم علم کبھی پروان نہ چڑھ پاتا۔مساواتوں اور مسائل کا حلریاضی اور طبیعیات کے بیشتر مسائل آخرکار صفر پر آ کر ختم ہوتے ہیں۔ مساواتوں کا حل عموماً یہ تلاش کرنا ہوتا ہے کہ کسی مقدار کی قیمت صفر کب بنتی ہے۔ گراف میں دو لکیروں کا نقطہ تقاطع کسی شے کا رک جانا یا کسی قوت کا ختم ہونا،یہ سب صفر کے ذریعے ہی بیان کیے جاتے ہیں۔سائنس اور کیلکولس میں صفرجدید سائنس، خاص طور پر کیلکولس صفر کے تصور کے بغیر نامکمل ہے۔ رفتاریاتبدیلی کی شرح اس بات پر منحصر ہے کہ کوئی مقدار صفر کے کتنے قریب پہنچ رہی ہے۔ طبیعیات کے قوانین، انجینئرنگ کے فارمولے اور خلائی سائنس سب صفر کے گرد گھومتے ہیں۔ڈیجیٹل دنیا کی بنیادآج کی ڈیجیٹل دنیا صفر کے بغیر ناقابلِ تصور ہے۔ کمپیوٹر، موبائل فون، انٹرنیٹ، اے آئی یہ سب بائنری سسٹم پر کام کرتے ہیں جس کی بنیاد دو ہندسوں پر ہے: 0 اور 1۔ صفر یہاں ''آف‘‘ کی علامت ہے جبکہ ایک ''آن‘‘ کو ظاہر کرتا ہے۔ یوں صفر نے جدید ٹیکنالوجی کو جنم دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔صفر محض ریاضی کا عدد نہیں بلکہ ایک گہرا فلسفیانہ تصور بھی ہے۔ یہ ''عدم‘‘، ''خلا‘‘ اور ''خالی پن‘‘ کی نمائندگی کرتا ہے۔ بہت سی تہذیبیں ''کچھ نہ ہونے‘‘ کے تصور سے خوف زدہ تھیں مگر صفر نے انسان کو سکھایا کہ عدم بھی معنی رکھتا ہے اور بعض اوقات ''کچھ نہ ہونا‘‘ ہی سب سے بڑی حقیقت ہوتا ہے۔صفر نے گنتی کو علم میں، حساب کو سائنس میں اور معلومات کو ٹیکنالوجی میں بدل دیا۔ یہ وہ خاموش عدد ہے جس کے بغیر جدید دنیا کا پہیہ ایک لمحے کو بھی نہیں گھوم سکتا۔ بظاہر کچھ نہ ہونے والا یہ ہندسہ درحقیقت انسانی ذہانت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔یقیناً صفر وہ عدد ہے جس نے ''کچھ نہیں‘‘ کو '' سب کچھ ‘‘بنا دیا۔

آج کا دن

آج کا دن

آشوٹزکیمپ کا خاتمہ27 جنوری 1945ء کو سوویت یونین کی ریڈ آرمی نے پولینڈ میں واقع نازی حراستی کیمپ آشوٹز کو آزاد کروایا۔ یہ کیمپ دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمنی کے نسل کش پروگرام کی سب سے خوفناک علامت سمجھا جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق یہاں تقریباً 11 لاکھ افراد کو قتل کیا گیا، جن میں یہودیوں کے علاوہ پولش، روما (Gypsies)، سوویت جنگی قیدی اور دیگر اقلیتیں بھی اس ظلم کا نشانہ بنیں۔جب سوویت فوجی کیمپ میں داخل ہوئے تو انہوں نے ہزاروں کمزور، بھوکے اور بیمار قیدیوں کو زندہ پایا ۔ آشوٹز کی آزادی نے دنیا کو نازی مظالم کی اصل شدت سے آگاہ کیا۔ برقی بلب کا پیٹنٹ27 جنوری 1880ء کو مشہور امریکی موجد تھامس ایڈیسن کو برقی بلب کا پیٹنٹ دیا گیا۔ اگرچہ ایڈیسن سے پہلے بھی کئی سائنسدان روشنی پیدا کرنے کے تجربات کر چکے تھے مگر ایڈیسن کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے بلب کو عملی، سستا اور طویل عرصے تک جلنے کے قابل بنایا، جس سے یہ عام لوگوں کے استعمال میں آ سکا۔ایڈیسن کے بلب نے انسانی زندگی میں انقلابی تبدیلی پیدا کی۔ برقی بلب کی ایجاد کے بعد شہروں میں رات کے وقت سرگرمیاں بڑھیں، صنعتوں کو فروغ ملا اور تعلیمی و سماجی زندگی میں نئی وسعت پیدا ہوئی اوریہ ایجاد جدید برقی نظام کی بنیاد بنی۔اپولو 1 کا حادثہ27 جنوری 1967ء کو امریکی خلائی پروگرام کو شدید دھچکا لگا جب اپولو 1 مشن کے دوران ایک زمینی آزمائش میں آگ لگنے سے تین خلابازہلاک ہو گئے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب کیپسول لانچ پیڈ پر موجود تھا اور اندر آکسیجن بھری ہوئی تھی جس نے آگ کو انتہائی تیزی سے پھیلنے میں مدد دی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ڈیزائن کی خامیاں، حفاظتی انتظامات کی کمی اور ناقص مواد اس حادثے کی بنیادی وجوہات تھیں۔ اس کے بعد ناسا نے خلائی جہازوں کے ڈیزائن، حفاظتی پروٹوکول اور آزمائشی طریقہ کار میں بڑی اصلاحات کیں، بالآخر 1969 میں انسان پہلی بار چاند پر قدم رکھنے میں کامیاب ہوا۔موزارٹ کی پیدائش27 جنوری 1756ء کو دنیا کا عظیم موسیقار وولف گینگ امیڈیئس موزارٹ آسٹریا کے شہر سالزبرگ میں پیدا ہوا۔ موزارٹ بچپن ہی سے غیر معمولی موسیقی صلاحیتوں کا مالک تھا۔پانچ سال کی عمر میں وہ موسیقی ترتیب دینے لگا اور یورپ بھر میں شاہی درباروں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔موزارٹ نے اپنی مختصر زندگی (35 سال) میں 600 سے زائد موسیقی کے شاہکار تخلیق کیے جن میں سمفنیز، اوپرا، سوناتاز اور مذہبی موسیقی شامل ہے۔ موزارٹ کی مشہور تخلیقات میں The Magic Flute،Don Giovanni اور Requiem شامل ہیں جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنی اور پیش کی جاتی ہیں۔پیرس امن معاہدہ 27 جنوری 1973ء کو پیرس امن معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کا مقصد ویتنام جنگ کا خاتمہ تھا۔ یہ جنگ تقریباً دو دہائیوں تک جاری رہی اور اس میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ معاہدے کے تحت امریکہ نے ویتنام سے اپنی فوجیں واپس بلانے پر رضامندی ظاہر کی جبکہ جنگی قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ ویتنام جنگ نے امریکی معاشرے میں شدید اختلافات کو جنم دیا تھا اور عوامی دباؤ کے باعث حکومت کو جنگ ختم کرنے کی راہ اختیار کرنا پڑی۔ اگرچہ پیرس معاہدے کے بعد بھی ویتنام میں کچھ عرصہ لڑائی جاری رہی۔

دنیا کے حیرت انگیز جانور

دنیا کے حیرت انگیز جانور

جنہوں نے اپنی شکل و جسامت سے گنیز بک میں جگہ بنائیدنیا میں بعض جانور اپنی منفرد شکل و انداز کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں بلکہ ریکارڈ بھی قائم کرتے ہیں۔ چاہے وہ غیر معمولی رنگت، غیرمعمولی قد یا عجیب و غریب بالوں اور نقوش کے حامل ہوں۔ ایسے جانور اپنی خصوصیات کی بدولت عالمی شہرت حاصل کرتے ہیں۔ یہ منفرد جانور کبھی تو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ بناتے ہیں، تو کبھی سوشل میڈیا پر ہزاروں دل جیت لیتے ہیں۔ ان کے حیرت انگیز انداز اور انوکھے مظاہرے انسانوں کیلئے تفریح اور حیرت کا سبب بنتے ہیں اور حیوانات کی خوبصورتی اور تنوع کی نمائندگی کرتے ہیں۔یہاں ہم کچھ ایسے ہی دلچسپ ریکارڈ توڑنے والے جانوروں پر نظر ڈالیں گے۔ ہَمفری:چھوٹا مگر طاقتوراگر آپ ایک بیل کا تصور کریں تو کیا ذہن میں آئے گا؟ کچھ بڑا، مضبوط اور ناقابلِ شکست؟ بیل اکثر فارم کے ''بادشاہ‘‘ ہوتے ہیں، لیکن کیا آپ نے کبھی منی ایچر بیل دیکھا ہے؟ 27 اپریل 2018ء کو، چھوٹے جانوروں کی دنیا کے ایک ''ستارے‘‘ کو ناپا گیا، اور صرف 67.6 سینٹی میٹر (26.6 انچ) قد کے ساتھ یہ اب تک کا سب سے چھوٹا بیل بن گیا۔ اس کا اصل نام ہائیکنز آرک جیوپیٹر (Heikens Ark Jupiter)ہے، لیکن وہ ''ہَمفری‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا قد کالونا ویٹرنری کلینک، آئیووا، امریکہ میں جانچا گیا۔یہ منی ایچر زیبو(Zebu ) نسل کا بیل ہے۔ 2017ء میں جب اس کے مالک نے جانوروں کی نیلامی میں اس کی بولی لگائی، تو قد کی بنیاد پر وہ اسے بچہ سمجھ رہے تھے، لیکن حقیقت میں وہ دو سال کا تھا اور اپنی مکمل بالغ قد تک پہنچ چکا تھا، جو ایک کچن کی کرسی سے زیادہ نہیں تھا۔ ہَمفری اپنے دن ویسے ہی گزارتا ہے جیسے کوئی اور فارم جانور، گھاس کھاتا ہے اور کھیت میں گھومتا ہے، مگر اسے باقی جانوروں سے منفرد بناتا ہے کہ وہ اب گنیز ورلڈ ریکارڈ کا حامل ہے۔گھریلو بلی کی سب سے لمبی دماگلی باری ہے ایک ایسے جانور کی جس نے ریکارڈ بک میں جگہ بنائی اور وہ بھی ایک انتہائی لمبی دُم کے ساتھ۔ امریکہ کی مسٹر پگزلے ایڈمز (Mr. Pugsley Addams) نامی یہ بلی مینکون نسل کی ہے، جو گنیز ورلڈ ریکارڈز کے دو اعزازات کی حامل ہے۔ 24 فروری 2025ء کو اس بات کی تصدیق کی گئی کہ پگزلے نہ صرف زندہ گھریلو بلیوں میں سب سے لمبی دم کا ریکارڈ رکھتی ہے بلکہ اب تک کی کسی بھی گھریلو بلی کی سب سے لمبی دم کا اعزاز بھی اسی کے نام ہے۔ یہ خوبصورت سرمئی بلی مینیسوٹا سے تعلق رکھتی ہے اور اپنی دو بہنوں وِنی اور ڈچس اور بھائی گومیز کے ساتھ رہتی ہے۔ اس خوشگوار گھرانے کی دیکھ بھال بلیوں کی شوقین امانڈا کیمرون کرتی ہیں، جنہوں نے گنیز ورلڈ ریکارڈز کو بتایا کہ پگزلے انتہائی تجسس پسند، مہم جو اور ذہین ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کی دم غیر معمولی حد تک لمبی ہے، جو 46.99 سینٹی میٹر (18.5 انچ) لمبی ہے۔قدآور اور ننھابھینسایہاں ہم ایک ہی نسل کے دو حیرت انگیز جانور پیش کر رہے ہیں، جو شکل و جسامت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ سب سے پہلے ہے ''کنگ کانگ‘‘ جو اس وقت دنیا کا سب سے قدآور بھینسے کے طور پر گنیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہے۔ یہ غیر معمولی طور پر بڑا بھینسا ایک حقیقی دیو قامت جانور ہے اور تھائی لینڈ میں واقع نن لینی فارم پر رہتا ہے۔ کنگ کانگ کی پیدائش 1 اپریل 2021ء کو ہوئی اور فارم کے مالکان نے فوراً محسوس کر لیا کہ وہ دوسرے بھینسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑا ہے۔ درحقیقت، اس کا قد اوسط بھینسے سے تقریباً 50 سینٹی میٹر زیادہ ہے۔ کیلا کھانے کا شوقین اور انسانوں کے ساتھ کھیل کود پسند کرنے والے اس بھینسے کو 15 جنوری 2025ء کو ناپا گیا، جہاں اس کا قد 186 سینٹی میٹر (6 فٹ 0.8 انچ) پایا گیا۔ یہ پیمائش اس کے کھر سے لے کر کندھوں کے اوپر والے حصے تک کی گئی۔دوسری جانب قد کے پیمانے پر ہیں رادھا، جو قد میں چھوٹی مگر بے حد دلکش ہیں، اور دنیا کی سب سے چھوٹی زندہ بھینس ہے۔ یہ مادہ مْرّہ (Murrah) نسل کی بھینس ہے، جو مالواڈی، مہاراشٹر، بھارت میں اپنے مالک کے فارم پر پیدا ہوئی، اور اسے 12 ستمبر 2025ء کو ناپا گیا۔ پیمائش کے بعد معلوم ہوا کہ اس کا قد صرف 83.8 سینٹی میٹر (2 فٹ 8 انچ) ہے، جو گنیز ورلڈ ریکارڈ کی حامل دنیا کی سب سے چھوٹی خاتون جیوَتی امگے (بھارت) کے قد سے محض چند انچ زیادہ ہے۔چھوٹے قد والا گھوڑاجب آپ گھوڑے کا تصور کرتے ہیں تو شاید لمبی ٹانگوں اور گھنی ایال والا جانور ذہن میں آئے جو سورج ڈھلتے وقت دوڑتا ہوا دکھائی دے؟ مگر یہ ننھا بادشاہ کسی بھی گھوڑے جتنا خوبصورت ہے، بس ذرا سا قد میں چھوٹا ہے۔پومْکل (Pumuckel) اس وقت دنیا کے سب سے چھوٹے زندہ نر گھوڑے کا گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر چکا ہے، اور اس نے یہ اعزاز 16 اگست 2025ء کو حاصل کیا۔جرمنی کے شہر بریکر فیلڈ میں جب اس کی پیمائش کی گئی تو اس کا قد صرف 52.6 سینٹی میٹر (21.1 انچ) نکلا۔ یہ ننھا سا مشہور گھوڑا توجہ کا شوقین ہے اور اسے تھراپی ہارس کے طور پر تربیت دی گئی ہے، جو اکثر نگہداشت کے مراکز اور اسکولوں کا دورہ کرتا ہے۔جانوروں کی دنیا میں بے شمار انواع ایسی ہیں جو اپنی جگہ منفرد اور خاص ہیں، اور ہم ان کی کہانیاں دنیا کے ساتھ بانٹنا اور ان حیرت انگیز خوبیوں کا جشن منانا پسند کرتے ہیں جو انہیں وہ بناتی ہیں جو وہ ہیں۔

ایفسس:تاریخ، تہذیب اور عظمت کا شاہکار

ایفسس:تاریخ، تہذیب اور عظمت کا شاہکار

ترکی کی سرزمین پر واقع قدیم شہر ایفسس انسانی تاریخ کے ان درخشاں ابواب میں شامل ہے جہاں وقت نے اپنی رفتار ضرور دکھائی، مگر عظمت کے نقوش ماند نہ پڑ سکے۔ بحیرہ ایجیئن کے قریب واقع یہ شہر کبھی علم و فن، تجارت و سیاست اور مذہب و تہذیب کا عالمی مرکز ہوا کرتا تھا۔ یونانی و رومی ادوار کی شاندار یادگاریں آج بھی اس بات کی گواہ ہیں کہ ایفسس صرف اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسی تہذیبی داستان ہے جو صدیوں بعد بھی انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں ایفسس کا ذکر ایک ایسے شہر کے طور پر ملتا ہے جس نے عروج و زوال دونوں کو دیکھا، مگر اپنی عظمت کی پہچان ہمیشہ برقرار رکھی۔ایفسس ترکی کے مغربی حصے میں واقع ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے جو کبھی یونانی اور رومی تہذیب کا ایک شاندار مرکز ہوا کرتا تھا۔ یہ شہر موجودہ ازمیر (Izmir) کے قریب واقع ہے اور آثارِ قدیمہ کے اعتبار سے دنیا کے اہم ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ ایفسس نہ صرف سیاسی و تجارتی سرگرمیوں کا مرکز تھا بلکہ علم، فن تعمیر اور مذہبی روایات میں بھی اسے غیر معمولی حیثیت حاصل تھی۔ایفسس کی بنیاد تقریباً دسویں صدی قبل مسیح میں رکھی گئی۔ ابتدا میں یہ یونانی نوآبادی کے طور پر آباد ہوا، بعد ازاں رومی سلطنت کے زیر اثر آیا اور تیزی سے ترقی کی۔ رومی دور میں ایفسس ایشیا مائنر کا سب سے بڑا اور خوشحال شہر بن گیا، جہاں آبادی لاکھوں میں بتائی جاتی ہے۔ اس زمانے میں یہ شہر بندرگاہ کی حیثیت رکھتا تھا اور مشرق و مغرب کے درمیان تجارت کا اہم سنگم تھا۔ایفسس کی سب سے مشہور عمارت لائبریری آف سیلسس(Library of Celsus) ہے، جو قدیم دنیا کی عظیم ترین کتب خانوں میں شمار ہوتی تھی۔ یہ نہ صرف علم کا خزانہ تھی بلکہ فن تعمیر کا بھی اعلیٰ نمونہ ہے۔ اس کے علاوہ گریٹ تھیٹر، جس میں تقریباً 25 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی، آج بھی اپنی شان و شوکت کی گواہی دیتا ہے۔ یہاں ڈرامے، موسیقی کے پروگرام اور عوامی اجتماعات منعقد ہوتے تھے۔ایفسس کی سب سے بڑی مذہبی پہچان معبدِ آرٹیمس (Temple of Artemis) ہے، جو قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شامل تھا۔ اگرچہ آج اس کے صرف چند آثار باقی ہیں، لیکن تاریخ میں اس معبد کو غیر معمولی عظمت حاصل رہی ہے۔ یہ معبد دیوی آرٹیمس کے نام پر بنایا گیا تھا اور دور دراز سے زائرین یہاں عبادت کیلئے آتے تھے۔ایفسس کو عیسائی تاریخ میں بھی خاص مقام حاصل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت مریم ؑ نے اپنی زندگی کے آخری ایام اسی علاقے میں گزارے۔ اسی نسبت سے ایفسس مذہبی سیاحت کا بھی اہم مرکز ہے۔ وقت کے ساتھ بندرگاہ میں مٹی بھر جانے، زلزلوں اور سیاسی تبدیلیوں کے باعث ایفسس زوال کا شکار ہوا اور بالآخر ویران ہو گیا۔ تاہم آج یہ شہر ایک کھلے عجائب گھر کی صورت میں موجود ہے، جہاں ہر سال لاکھوں سیاح آ کر قدیم تہذیب کی جھلک دیکھتے ہیں۔ مختصراً ایفسس ترکی کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے جو انسانی تہذیب، علم، فن اور مذہب کی عظمت کا آئینہ دار ہے۔ یہ شہر آج بھی ماضی کی گونج سناتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عظیم تہذیبیں وقت کے ساتھ مٹ تو جاتی ہیں، مگر ان کے نقوش تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

کینو: ذائقے اور توانائی کا امتراج

کینو: ذائقے اور توانائی کا امتراج

نارنجی رنگ کا یہ پھل نباتات کے خاندان اسپند یا سداب (Rutaceae) کی جنس ترنج سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی جنس میں انگور، لیموں، نارنگی، مالٹا، ترنج، چکوترا وغیرہ شامل ہیں۔ اس جنس کے درخت اور بیلیں رسیلے پھلوں کی وجہ سے گرم علاقوں میں کاشت کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کینو، مالٹے وغیرہ کا وطن جنوب مشرقی ایشیا ہے۔ وہاں سے یہ ترشا وہ پھل پوری دنیا میں پھیلے۔ اب سپین، امریکا، برازیل اور جنوبی افریقہ میں کینوں کے وسیع باغات ہیں۔ پاکستان میں سرگودھا، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ میں کینو اور اس کے رشتے داروں کے بڑے بڑے باغات ہیں۔ جنس ترنج میں موسمی بھی شامل ہے جس میں ترشی سب سے کم ہوتی ہے۔ ترشا وہ پھلوں کے پودے بلندی پر نہیں اگتے کیونکہ سردی انہیں مار ڈالتی ہے۔ ترشاوہ پھل رنگت، چھلکے کی موٹائی، رس کی مقدار، مٹھاس اور خوشبو کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کی جسامت کا انحصار جغرافیائی حالات اور آب و ہوا پر بھی ہے۔ علاوہ ازیں گرم آب و ہوا کے پھل زیادہ کھٹے ہوتے ہیں۔ کینو کا درخت 35 فٹ تک ہو سکتا ہے۔ کینو یا مالٹے کا رس محلل کاربوہائیڈریٹ، نامیاتی تیزاب ، وٹامن سی، وٹامن بی کمپلیکس، نمکیات اور دیگر غذائیات پر مشتمل ہوتا ہے۔ معدنیات میں چونا، فاسفورس اور لوہا موجود ہیں۔ کینو کی غذائی قوت پر اگر غور کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ یہ پھل بھی انسان کیلئے قدرت کے اعلیٰ ترین تحائف میں سے ایک ہے۔ ایک شیریں کینو کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا رس معدے میں جا کر جذب ہو جاتا ہے۔ معدے پر کوئی بار نہیں پڑتا، گویا رس ہضم شدہ غذا ہے جسے بس منہ کے ذریعہ معدہ میں ڈال لینا کافی ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کینو میں ایسی غذائیت نہیں ہوتی جیسی روٹی وغیرہ میں ہوتی ہے۔ اس لیے کینو کے استعمال سے جسم میں توانائی پیدا نہیں ہوتی۔ یہ خیال محج ناواقفیت کی بنا پر ہے اور خصوصاً اس وجہ سے کہ پھل کے رس کا بار معدہ پر پڑتا معلوم نہیں ہوتا۔ ماہرین غذا کی تحقیق ہے کہ ایک بڑے شیریں کینو کا رس ہمارے جسم کو اتنی قوت بخشتا ہے جتنی کہ ڈبل روٹی کا نصف ٹکڑا۔ فرق صرف یہ ہے کہ روٹی کئی گھنٹے میں ہضم ہو کر جسم کو قوت دیتی ہے اور کینو کا رس معدے میں پہنچتے ہی جسم کے کام آتا ہے، یہی سبب ہے کہ اسے کمزور مریض کی غذا میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔ یہ خیال رہے کہ کینو جتنا شیریں ہو گا اتنی ہی زیادہ اس میں غذائی قوت ہو گی۔ دودھ کو ہضم کرنے کیلئے معدہ کو کام کرنا پڑتا ہے مگر کینو کا رس فوراً ہضم ہوتا ہے۔ کینو کی اس خصوصیت نے اسے دودھ سے بھی زیادہ مفید بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان مریضوں کو جنہیں دودھ ہضم نہیں ہوتا، کینو کا رس دیتے ہیں۔ کینو کے رس میں بہت سے معدنی نمکیات پائے جاتے ہیں خصوصاً چونا وغیرہ جس کے استعمال سے تیزابیت رفع ہوتی ہے۔ تیزابیت کی شکایت عموماً ان لوگوں کو زیادہ پیدا ہوتی ہے جو غذا میں گوشت زیادہ کھاتے اور بیٹھے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کیلئے کینو کا استعمال غایت درجہ مفید رہتا ہے۔ کینو کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ آنتوں میں ناقص غذا سے جو سستی پیدا ہو جاتی ہے، اسے رفع کرتا ہے۔ چنانچہ دائمی قبض کے مریضوں کیلئے رات کو سوتے وقت اور صبح اٹھتے ہی ایک یا دو کینو کھانا نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ سہ پہر کے وقت بھی کینو کھانا قبض کیلئے مفید ہے۔