چیمئپنز ٹرافی کیلئے قومی کرکٹ ٹیم کا کیمپ ایبٹ آباد میں لگانے کا فیصلہ بیٹسمینوں کی خامیاں دور کرنے والا نا پید

چیمئپنز ٹرافی کیلئے قومی کرکٹ ٹیم کا کیمپ ایبٹ آباد میں لگانے کا فیصلہ بیٹسمینوں کی خامیاں دور کرنے والا نا پید

جنوبی افریقہ کے دورے میں مختلف کنڈیشنز کے سبب بیٹسمین مسلسل جدوجہد کرتے رہے،انگلش ماحول سے ہم آہنگی کیلئے خصوصی پچوں پر مشق کرائی جائے گی،ایگزیکٹو کو آرڈی نیشن کمیٹی بیٹنگ کوچ کا معاملہ پھر ٹل گیا، پاکستانی ماہر پرمعترض واٹمور کو امیدوار کی تلاش کا ٹاسک دے دیا گیا،ذرائع ،ٹیم کی تباہی کے ذمہ دار وہی ہیں جنہوں نے ہیڈ کوچ کا تقرر کیا ہے، محسن خان

پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایگزیکٹو کو آرڈی نیشن کمیٹی کے ایک اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کیلئے قومی ٹیم کا کیمپ ایبٹ آباد میں لگایا جائے لیکن ایک بار پھر بیٹسمینوں کی خامیاں دور کرنے والا ناپید ہے،پی سی بی کے مطابق جنوبی افریقہ میں مختلف کنڈیشنز کے سبب بیٹسمین جدوجہدمسلسل کرتے رہے،انگلش ماحول سے ہم آہنگی کیلئے خصوصی پچوں پر مشق کرائی جائے گی، ذرائع کا کہنا ہے کہ بیٹنگ کوچ کا معاملہ پھر ٹل گیا ، پاکستانی ماہر پر معترض ڈیو واٹمور کو موزوں امیدوار کی تلاش کا ٹاسک دے دیا گیا،سابق ٹیسٹ کھلاڑی محسن خان کا کہنا ہے کہ ٹیم کی تباہی کے ذمہ دار وہی ہیں جنہوں نے ہیڈ کوچ کا تقرر کیا ہے۔گذشتہ دنوں پی سی بی کی ایگزیکٹو کو آرڈی نیشن کمیٹی کے ایک اجلاس میں دو اہم فیصلے کئے گئے جن کے مطابق وسیم اکرم کو فاسٹ بالرز کی تربیت کیلئے ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں جبکہ اس کے بعد ایبٹ آباد میں قومی ٹیم کا دس روزہ ٹریننگ کیمپ لگایا جائے گا ،ای سی سی نے محسوس کیا کہ جنوبی افریقہ کے دورے میں مختلف ماحول اور وکٹوں کے سبب پاکستانی بیٹسمین مسلسل جدوجہد کرتے رہے اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں انگلینڈ کے مختلف ماحول کو پیش نظر رکھتے ہوئے ای سی سی کے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ ایبٹ آباد میں ایسی وکٹیں تیار کی جائیں جو انگلش وکٹوں سے قریب تر ہوں اور ان پر کھلاڑی دورے کی تیاری کر سکیں۔فاسٹ بالرز اور قومی ٹیم کے ٹریننگ کیمپ کی تاریخوں کا بعد میں اعلان کیا جائےگا لیکن امکان یہی ہے کہ رواں ماہ کے آخر میں یہ تیاریاں شروع کر دی جائیں گی۔ناقدین اور ماہرین کی اکثریت اس بات پر حیران ہے کہ پی سی بی نے ماحول اور وکٹوں کی جانب تو توجہ مرکوز کر رکھی ہے لیکن بیٹنگ کوچ کی تقرری پر مسلسل خاموشی ہے اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیٹسمینوں کی خامیاں دور کرنے والا کیوں ناپید ہے جس کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ ڈیو واٹمور کی جانب سے اعتراض اس کی سب سے بڑی وجہ ہے جو کسی پاکستانی بیٹنگ کوچ کو ٹیم کے ساتھ رکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ان کی جانب سے اعتراض کے بعد پی سی بی نے یہ ذمہ داری بھی انہیں دے دی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق بیرون ملک سے کوچ تلاش کر لیں ۔ امکان ہے کہ بیٹنگ کوچ آسٹریلیا کے ہائی پرفارمنس سینٹر سے لایا جائے گا۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ رواں ماہ کے آخر تک قومی ٹیم کیلئے بیٹنگ کوچ کا تقرر کرے گا جس پر دوبارہ کام شروع کردیاگیا ہے۔ذرائع کے مطابق واٹمور کا موقف ہے کہ بیٹنگ کوچ کے عہدے پر کسی پاکستانی کرکٹر کے تقرر سے ٹیم میں سیاست کو فروغ ملے گا جس سے ٹیم کی کارکردگی پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔ ڈیوواٹمور نے آسٹریلیا سے کسی بیٹنگ کوچ کو پاکستان لانے پر آمادہ کرنے کی ذمہ داری لی ہے جو جدید تیکنیک سے واقفیت رکھتا ہو ۔ہیڈ کوچ اپنے ہم وطن ا سٹوارٹ لاءکو بیٹنگ کوچ مقرر کرنے کے خواہشمند ہیں تاہم دیگر امیدواروں سے بھی مذاکرات ہو رہے ہیں۔دوسری جانب سابق ٹیسٹ کرکٹر محسن خان کا کہنا ہے کہ ڈیو واٹمور اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام ہو چکے ہیں جن کا تقرر قومی ٹیم کیلئے تباہی کا سبب بن گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس کے ذمہ دار ڈیوواٹمور سے کہیں زیادہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کا تقرر کیا ہے اور انہیں ذمہ داریاں دے رہے ہیں ۔محسن خان نے اس تاثر کو یکسر غلط قرار دیا کہ وہ اپنی برطرفی کے سبب مسلسل تنقید کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ڈیو واٹمور کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔سابق افتتاحی کھلاڑی نے کہا کہ وقار یونس بھی اچھے طریقے سے فرائض انجام دے رہے تھے اور پھر انہوں نے جوائن کیا تو انگلینڈ کو وائٹ واش کر کے تاریخ رقم کی جبکہ اس وقت کوئی تنازعات بھی نہیں تھے ۔ان کا کہنا ہے کہ لوگ ان پر انگور کھٹے ہیں جیسی باتیں بناتے ہیں لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ کھلاڑی ڈسٹرب کیوں ہو گئے ہیں۔انہوں نے تسلیم کیا کہ جنوبی افریقہ کا دورہ آسان نہیں تھا لیکن ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کا کوئی اقدام نہیں کیا گیاورنہ یہ کھلاڑی کچھ بھی کر گذرتے۔سابق کوچ نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ٹیم میں منتخب ہونے کی کوئی عمر نہیں ہوتی اور فٹ کھلاڑی تیس تو کیا چالیس سال کی عمر میں بھی کھیل سکتا ہے اور کپتان مصباح الحق اور یونس خان تو ٹیم کے سب سے فٹ کھلاڑی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چیمپئنز ٹرافی میں بھی پاکستان کامیابی حاصل کرنے کی پوری اہلیت رکھتا ہے بس کھلاڑیوں کو پورے اعتماد کے ساتھ منتخب کر کے ان پر بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے ، استعمال درست اور کوئی خامیاں بتانے والا ہو تو کامران اکمل اور شاہد آفریدی بھی کار آمد ہو سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں