Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

غیر اعلانیہ جنگیں

ڈیجیٹل میڈیا کے اس عہد میں عالمی سطح کے وسیع سیاسی و سماجی ابلاغ نے نسلی، لسانی اور مذہبی تعصبات کی دھار کو تیز کر کے ازمنہ رفتہ کے مزارات میں دفن ان مذہبی تنازعات کو پھر سے زندہ کر دیا ہے، جو ماضی میں انسانوں کے مابین باہمی تشدد اور ظلم کا وسیلہ بنتے رہے۔ انٹرنیٹ نے ہر شخص کی متروک کتابوں اور فراموش کردہ سیاسی اور مذہبی بحوثات پہ مشتمل متنازعہ تاریخی مواد تک رسائی آسان بنا کے ہمیں ماضی میں جھانکنے کی سہولت عطا کی، جس سے سوشل میڈیا کی دنیا میں کئی ایسے انتہا پسند گروہ وجود میں آ گئے جو ماضی سے سبق سیکھنے کی بجائے گزرے ہوئے وقتوں کے مبینہ مواد کو تاریخی تناظر سے جدا کر کے اپنے منفی عزائم کی تکمیل کا جواز بنانے پہ اتر آئے۔ لیکن یہ 19ویں صدی نہیں جب جنگ عظیم اول سے قبل رومن کیتھولک چرچ اور مغربی میڈیا نے عثمانی ترکوں کے فرضی مظالم کی داستانیں پھیلا کے عیسائیوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرتوں کے بیج بوئے تھے، جس کے بعد یونانی فورسز نے جب سمرنا، تھیسلی اور مقدونیہ میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا تو ان اندوہناک مظالم کو عیسائی دنیا میں وسیع پیمانے پہ حمایت ملی‘ لیکن مسلم دنیا مغرب کی چیرہ دستیوں سے بے خبر رہی‘ بلکہ غلام ہندوستان کے لاکھوں مسلمان انگریز کی فوج میں بھرتی ہو کے خود مسلمان ملکوں کو تاراج کرنے کے عمل میں شریک ہوئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ موریا، تھسلی اور قبرص پانچ سو برس تک ترکوں کے قبضے میں رہا۔ ان ممالک کے چپّے چپّے پہ اسلامی تہذیب کے آثار موجود ہیں؛ تاہم ان کی آبادیوں میں غیر مذاہب کے افراد بھی اسی طرح بستے رہے‘ جس طرح خود مسلمان لیکن ابھی ان ممالک کو عثمانیوں کے ہاتھ سے نکلے پوری صدی بھی نہ گزری تھی کہ وہاں سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔ کریٹ تین سو برس تک مسلمانوں کا مسکن رہا۔ اسے 1898ء میں یونان کے حوالے کیا گیا۔ محض چند سالوں میں اس کی ستّر ہزار نفوس پہ مشتمل آبادی معدوم ہو گئی۔ مقدونیہ سات سو برس تک مسلمانوں کا وطن رہا۔ اس کی ساٹھ فیصد آبادی مسلمان تھی‘ لیکن عثمانی حکومت کے کنٹرول سے نکلنے کے بعد صرف آٹھ سالوں کے اندر ہی مسلمان وہاں اقلیت میں بدل دیئے گئے؛ تاہم آج ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے اس عہد میں ایسا ممکن نہیں، اب کسی بھی مذہب سے وابستہ لاکھوں انسانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانا آسان نہیں کیونکہ آج کینیڈا میں اگر کہیں پتہ بھی ہلے تو جاپان اور آسٹریلیا میں بیٹھے انسان اس کی سرسراہٹ سن لیتے ہیں۔ اسی تیز تر سماجی ابلاغ کی قوت کے ذریعے ایک دوسرے سے ہزاروں کلو میٹر دور بیٹھے ہم خیال لوگوں کی باہمی جڑت جہاں نفرت کی آبیاری کرتی ہے وہاں یہی سوشل میڈیا ہمارے لئے ایک دوسرے کے حالات سے با خبر رہنے اور مظلوم طبقات کے لئے آواز اٹھانے کا ذریعہ بھی ہے؛ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دنیا کے تین بڑے مذاہب کے درمیان تیزی سے بڑھتی خلیج کے پیچھے مغرب کی پالیسی کار فرما ہے؛ اگرچہ بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں برپا ہونے والے کمیونسٹ انقلاب کے خوف نے عیسائیت کے غلبہ تلے کراہتی مسلم سلطنتوں کو سکھ کا سانس لینے کی مہلت دی۔ 
سرد جنگ کے عہد میں مغرب کی سرمایہ دار اشرافیہ نے کمیونزم کے خطرے سے نمٹنے کی خاطر مڈل ایسٹ میں مسلمانوں کی مستحکم حکومتیں قائم رکھنے میں اس لئے مدد دی کہ مسلم دنیا کے ہم خیال حکمرانوں کی وساطت سے مسلمان معاشروں کے اندر کمیونزم کے خلاف ایسی مزاحمتی فعالیت پیدا کی جائے جس سے سرخ انقلاب کے بڑھتے ہوئے قدم رک جائیں۔ اس حکمت عملی کے تحت مغربی دنیا نے کمیونزم کی یلغار روک لی، لیکن 1988ء میں سوویت یونین کے زوال کے بعد جب کمیونزم کا خطرہ ٹل گیا اور امریکہ واحد سپر پاور بن کے ابھرا تو مغرب والوں کے مفادات بدل گئے؛ چنانچہ نہایت پراسرار طور پہ یہی اینٹی کمیونسٹ تحریکیں بجائے خود مسلم سماج میں ایسے ہمہ جہت تشدد کو پروان چڑھانے کا سبب بنیں‘ جس نے مسلمانوں کے داخلی استحکام کو پراگندہ کر دیا؛ لہٰذا دیکھتے ہی دیکھتے مڈل ایسٹ میں سرد جنگ کے تقاضوں کے تحت قائم کی گئی مضبوط حکومتیں اندرونی خلفشار اور بیرونی جارحیتوں کے ذریعے بکھرنے لگیں۔ پہلے نائن الیون کی آڑ میں افغانستان پہ حملہ کر کے واحد مسلم ایٹمی مملکت، پاکستان، کو تاریخ کی پیچیدہ ترین جنگ کے چنگل میں پھنسا دیا گیا، پھر کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کو جواز بنا کے امریکہ نے عراق کی مضبوط فوج کو تہس نہس کر ڈالا، اس کے بعد روس اور امریکہ کی مبینہ پراکسی وار نے شام جیسی حساس مملکت کو خانہ جنگی کی آگ میں دھکیل دیا۔
اکیسویں صدی کے پہلے دو عشروں میں سیاسی اور مذہبی تعصبات پہ مبنی خونیں پولرائزیشن نہایت تیزی کے ساتھ عرب معاشروں کی جزئیات تک پھیلتی گئی، جس کے نتیجہ میں بالترتیب مصر، لیبیا، مراکش اور یمن کی مضبوط حکومتیں داخلی انتشار میں الجھ کے بیرونی مداخلت کی نذر ہو گئیں، علیٰ ہذالقیاس‘ اس وقت مسلم ملکوں میں داعش، بوکو حرام اور تحریک طالبان سمیت سینکڑوں ایسے فعال گروپ سرگرم ہیں جو نتائج کی پروا کئے بغیر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے شوق میں اپنی ہی مملکتوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس کے برعکس سابق صدر رچرڈ نکس کی ڈاکٹرائن کے مطابق کمیونزم کے زوال کے بعد مغربی ریاستوں نے مین سٹریم میڈیا کے ذریعے مینوپولیٹ کر کے مغرب کے مذہب گریز معاشروں کو یہودیت اور عیسائیت کی عصبیتوں میں منظم کرنے کی وہی پالیسی اپنائی، جو دوسری صلیبی جنگ سے قبل آزمائی گئی تھی، جس کا لا محالہ ہدف اس وقت بھی اسلام تھا‘ اور آج بھی مسلمان ہیں؛ چنانچہ اسی حکمت عملی کے تحت امریکہ اور برطانیہ کے انٹیلی جنس اداروں نے مختلف کارروائیوں کے ذریعے مغربی سماجی کے اندر مسلمانوں کے خلاف ایسی نفرت انگیز فضا پروان چڑھائی جس میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں فائرنگ کر کے پچاس سے زیادہ مسلمان عورتوں، مردوں، بوڑھوں اور بچوں کا قتل عام کیا گیا۔
اگرچہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن اور وہاں کی سیاسی اشرافیہ‘ دونوں اپنے عقلی طرز عمل سے متاثرین کے زخموں پہ پھاہا رکھ کے کرسچین اور مسلمانوں کے درمیان براہ راست ٹکرائو سے دامن بچانے کی کوشش کر رہی ہیں‘ لیکن اب مغرب کے روشن سماج کی سطح کے نیچے پلنے والی نفرتوں کو زیادہ دیر تک چھپانا ممکن نہ ہو گا۔ نیوزی لینڈ واقعہ کے بعد جب مغربی معاشروں پہ سوگ کی فضا طاری تھی تو عین اسی وقت ہالینڈ میں ایک ترک نوجوان نے بس پہ فائرنگ کر کے تین افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ اسی روز آسٹریلیا میں ایک کرسچین نوجوان نے مسجد کے گیٹ سے گاڑی ٹکرا کے مسلمانوں سے نفرت کا اظہار کیا تھا۔ بلا شبہ جدید ٹیکنالوجی کے وسیلے تیزی سے سمٹتی دنیا میں اب کہیں بھی امن کے جزیرے قائم نہیں رہ سکتے اور تشدد کی وہ آگ جو فلسطین، افغانستان، عراق، لیبیا، شام اور مراکش میں بھڑکائی گئی اس کی حدّت بہت جلد مغرب کی فلاحی ریاستوں اور خوشحال معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ترک صدر طیب اردوان نے درست کہا ''دہشت گرد برینٹن ٹرینٹ کے اسلحہ پہ درج تمام عبارتیں ترکی کے خلاف سازشوں کا پتہ دیتی ہیں، ہم اس معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے، نیوزی لینڈ حملوں کی حساب دہی لازم ہے، بعض عناصر صدیاں گزر جانے کے باوجود دل میں کینہ رکھتے ہیں، جن کا مقصد مسلمانوں کا بے جا خون بہانا ہے۔ مغرب والے اس سانحہ کو نیک نیتی و سنجیدگی سے لیں، ورنہ اس آگ کی چنگاریاں ان کے اپنے گھروں کو راکھ کا ڈھیر نہ بنا دیں‘‘۔ بلا شبہ اگر بیسویں صدی کے آغاز پہ جاں باز ترک نہ ہوتے تو بلقان اور افریقہ سے اسلام مٹ چکا ہوتا‘ اور شام و عراق میں بھی کلیسا کے ناقوس بج رہے ہوتے۔ یہ ترکوں کی خارا شگاف تلواریں تھیں جنہوں نے روس اور برطانیہ کے عزائم کی راہ روکی اور آج بھی ترک ہی دنیا بھر کے مسلمانوں کے محافظ بن کے ابھرے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں