نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لندن:گورنرپنجاب چودھری محمد سرور کی پریس کانفرنس
  • بریکنگ :- گورنربننےکی خواہش نہیں تھی،پارٹی نےعہدہ دیا،چودھری محمد سرور
  • بریکنگ :- آپ کوسائیڈلائن کیاگیا؟صحافی،مجھےبعدمیں پتہ چلا،چودھری سرورکاجواب
  • بریکنگ :- لندن:کام کاعہدہ دیاجاتاتوڈلیورکرسکتاتھا،گورنرپنجاب چودھری سرور
  • بریکنگ :- اپنےدائرہ اختیارمیں آنیوالےکام خوش اسلوبی سےکرنےکی کوشش کررہاہوں،گورنر
  • بریکنگ :- ملک کابوسیدہ نظام عوامی مسائل حل کرنےسےقاصرہے،چودھری سرور
  • بریکنگ :- پولیس اورعدلیہ میں اصلاحات لانےمیں ناکام رہے، گورنر چودھری سرور
  • بریکنگ :- پولیس،عدلیہ اورپراسیکیوشن میں بڑےپیمانےپراصلاحات کی ضرورت ہے،گورنرپنجاب
  • بریکنگ :- پاکستان کاالمیہ ہےشخصیات کےپیچھےبھاگتےرہے،ادارےمضبوط نہیں کیے،چودھری سرور
  • بریکنگ :- ن لیگ کےدورمیں شروع ہونےوالاادارہ اوورسیزپنجاب کمیشن اچھاکام کررہا ہے،گورنر
Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

کشمیر کا مستقبل ثالثی سے جڑ گیا ہے؟

اس وقت مملکت کی مشرقی و مغربی سرحدات پہ کئی دہائیوں سے پنپنے والے جنوبی ایشیا کے دو دائمی تنازعات‘کشمیر ایشو اورافغان تنازعہ‘بظاہر تحلیل ہوتے نظر آ رہے ہیں اورہمارے خیال میں فریقین اب ان دونوں تنازعات کو بنیادی وجوہ اور مقاصد سے الگ کر کے حالات کے جبر کے تحت حل کرنے پہ مجبور دکھائی دیتے ہیں۔شایدڈپلومیسی کے تقاضے بھی یہی ہوں گے کہ جب کوئی معاملہ زیادہ بگڑ جائے تو اسے ماضی کے روایتی مؤقف اور مستقبل کی توقعات سے جدا کر کے سر پہ منڈلاتی مشکلات اور حاضر و موجود حالات کے تقاضوں کے مطابق حل کرنا پڑتا ہے‘اس لئے ہو سکتا ہے‘دو ایٹمی طاقتوں کے مابین جنگ کے امکانات کو ہویدا کرنے والے مسئلہ کشمیر کو بھی اب اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بجائے لمحہِ موجودکے زمینی حقائق کے تحت ثالثی کے ذریعے حل کرنا پڑے گا‘بصورت دیگر اب پاک بھارت جنگ بھی اس تنازعہ کو حل نہیں کر پائے گی۔مسائل کا حل تو کجا یہ جنگ جنوبی ایشیا سمیت پورے عالمی امن کو خطرات سے دوچار کر سکتی ہے‘ مگر تنازعۂ کشمیر کا کوئی حل نہیں دے سکتی۔یہ بالکل ویسی ہی صورت حال جیسے نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پہ جارحیت کا فیصلہ کر لیا تو جنرل مشرف کے سامنے صرف دو آپشن تھے‘وہ اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیں یا پھر عالمی طاقتوںکے عتاب کا سامنا کریں؛چنانچہ اُس وقت پاکستان کو افغان کانفلکٹ بارے اپنے ماضی کے روایتی مؤقف اور مستقبل کے منصوبوںکوپس پشت ڈال کےGiven circumstances کے اندر معاملات کو آگے چلانے کا فیصلہ کرنا پڑاجس میں اگرچہ ہمیں ستّر ہزار سے زیادہ جانیں گنوانے کے علاوہ بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ‘لیکن اس سب کے باوجود جنرل مشرف نے اس جنگ کو افغانستان کی سرحدوں کے اندر محدود کر کے خود اپنی مملکت اور اس خطے کی سلامتی کوایک ہولناک جنگ کے مضمرات سے بچا لیا۔یہ اُسی عملیت پسندی کا اعجاز ہے جو آج اٹھارہ سال بعد حالات کے ویسے ہی جبر کے تحت‘جس کا اکتوبر 2001 ء میں پاکستان کو سامنا تھا‘امریکہ بھی افغانستان چھوڑ کے بے نیل ومرام واپس جانے پہ مجبور ہو گیا ہے۔امریکیوں نے بھی افغانستان سے پسپائی کا فیصلہ اپنے ماضی کے مؤقف یا مستقبل کے منصوبوں کے مطابق نہیں بلکہ حالات کی نزاکتوں کے پیش نظر کیا ہو گا۔بلاشبہ اس لمحہِ موجود میں مسئلہ کشمیر کا ممکنہ حل یہی ہوسکتا ہے کہ استصواب کے روایتی اور اصولی موقف پہ اصرار کئے بغیر اسے حالات کے موجودہ تناظر میں ثالثی کے طریقۂ کار کے مطابق حل کیا جائے‘کیونکہ ثالثی کے عالمی قوانین بجائے خود متنازعہ علاقوں کو سو فیصد کسی ایک فریق کو دینے کی راہ میں حائل ہیں‘اس لیے ثالثی سے مراد کشمیر کی تقسیم ہی ہو گی‘اس مسئلہ کے آؤٹ آف دی باکس حل کیلئے نوازشریف اور واجپائی کے درمیان طے پانے والے لاہور معاہدہ میں بھی تین آپشنز پہ اتفاق کیا گیا تھا‘جن میں ایک تو دریائے توی کی مشرقی طرف انڈیا اور مغربی جانب کا علاقہ پاکستان کو دینے‘دوسرا جموں پاکستان کو اور سری نگر سمیت لداخ بھارت کو دینے اور تیسرے تھوڑی سی ردّ و بدل کے ساتھ اسی موجودہ لائن آف کنٹرول کومستقل سرحد تسلیم کر کے اس تنازعہ کو ہمیشہ کیلئے نمٹانے پہ اتفاق کیا گیا تھا۔
شملہ معاہدہ کے وقت بھی بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے پرائم منسٹر ذوالفقارعلی بھٹو کوکشمیر کی تقسیم کا آپشن دیا تھا لیکن مسٹر بھٹو جیسے رجائیت پسند لیڈر نے یہ کہہ کہ اسے مسترد کر دیا تھا کہ''کشمیر کوئی کیک نہیں جسے دو حصوں میں تقسیم کر لیا جائے‘یہاں لائن آف کنٹرول کی دونوں جانب زندہ لوگ بستے ہیں‘جن کی رائے اور جذبات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں‘‘لیکن آج اگر بھٹو زندہ ہوتے تو وہ بھی عملیت پسند سیاستدان کی طرح ایسے حالات میں استصواب کی بجائے ثالثی کا آپشن قبول کر لیتے۔امر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ ستّر سالوں میں برصغیر کے بنیادی ڈھانچے میں کئی ایسی جوہری تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیںجن کی بساط لپیٹنا گردشِ ایام کو واپس پلٹانے کی کوشش کے مترادف ہو گا۔پچھلی سات دہائیوں میں جس طرح بھارت نے کشمیر سے نکلنے والے تین دریاؤں پر کئی ڈیم تعمیر کر کے پورے مشرقی پنجاب میں ایگریکلچر کا ایسا وسیع نظام تشکیل دے لیا جس کے ساتھ اب بھارت کی معاشی بقا وابستہ ہے‘ اسی طرح پاکستان نے بھی کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں پہ ڈیم بنا کے مغربی پنجاب میں زراعت کا ایسا وسیع ڈھانچہ استوار کر لیا ہے جو ہماری ایگرو بیس معیشت کی اساس کا درجہ رکھتا ہے؛چنانچہ اس وقت پورے کشمیر کا کسی ایک ملک کی طرف جانا ممکن نہیں رہا‘کشمیر اب صرف پاکستان کی نہیں بلکہ دونوں ملکوں کی اقتصادی اور تزویری شہ رگ بن چکا ہے‘اس لیے عملاً اس پر دونوں میں سے کسی ایک ملک کا تصرف محال ہو گا اور آج کے حالات میں کشمیر کو دونوں ملکوں سے الگ کر کے آزاد ریاست بنانے کا درجہ دینے کا امکان بھی عملی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔سابق آئی ایس آئی چیف جنرل اسد درانی کے مطابق جس وقت امان اللہ خان گلگتی نے ریاست کشمیر کو دوبارہ متحد کرنے کی خاطر جموں و کشمیر نیشنل لبریشن فرنٹ بنایا تو پاکستان اور انڈیا دونوں پوری ریاست کشمیر کی خود مختیار حیثیت کے تصور سے جڑے خدشات سے الرٹ ہو گئے‘ کیونکہ خود مختیار کشمیر امکانی طور پہ چین سمیت کئی عالمی طاقتوں کے ساتھ دفاعی و اقتصادی معاہدات کا اسیر بن کے بھارت اور پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتا تھا۔علیٰ ہذالقیاس‘ان ستّر سالوں میںاسی طرح کے کئی ایسے گنجلک معاملات وجود پا چکے ہیں جن سے صرفِ نظرکرنا دونوں مملکتوں کیلئے اب ممکن نہیں رہا۔اس وقت جب مصائب کے سیلاب ِبلا نے مسلم دنیا کو گھیر رکھا ہے لیکن ہم عہدِ زوال کے سکندری مہندسین کی طرح فروعات میں الجھ رہے ہیں‘جذباتیت سے قطع نظر کر کے اس مسئلہ پہ جتنا گہرائی میں جا کے غور کریں گے تو ہمیں یہی بات سمجھ آتی جائے گا کہ موجودہ حالات میں مسئلہ کشمیر کا ثالثی کے سوا کوئی اور حل باقی نہیں بچا۔وزیراعظم عمران خان نے درست کہا کہ ''جنگ اس مسئلہ کا حل نہیں‘‘اس حقیقت سے بھی اغماض ممکن نہیں کہ اس تنازعہ نے اگر طول پکڑا تو کشمیر کے نوے لاکھ باسیوں سمیت انڈیا میں بسنے والے دوسو ملین مسلمانوں کا مستقبل مخدوش ہوتا جائے گا۔گزشتہ دودہائیوں میں استعماری طاقتوں نے ہندوانتہا پسندی کو سرمایہ فراہم کر کے بالآخر وہاں اینٹی مسلم سیاسی استبداد یقینی بنا لیا۔بہرحال‘اگر بھارتی مملکت پر بی جے پی کا استبدادی غلبہ اسی طرح بڑھتا گیا تو وہ وقت دور نہیں‘جب نہرو اور گاندھی کا ہندوستان ایک بار پھر راجواڑوں میں بٹ جائے گا کیونکہ تاریخ کا اہم ترین اصول یہی ہے کہ جو چیز جیسی تیزی سے ابھرتی ہے وہ ویسی ہی سرعت کے ساتھ گرتی ضرور ہے۔تاہم ہماری مقتدرہ کیلئے کشمیری عوام کو اس امر پہ قائل کرنا دشوار ہوگا کہ فی الوقت جنگ اس مسئلہ کا حل ہے نہ اب کشمیری عوام اس تنازعہ کو طویل عرصے کیلئے اسی حالت میں برداشت کر سکتے ہیں‘حالات کا جبر‘کشمیریوں سمیت اس خطے کے عوام کی بقا اور عالمی طاقتوں کے مفادات کے تقاضے یہی ہیں کہ افغان تنازعہ کا مذاکرات کے ذریعے پرامن حل اور کشمیرکی سافٹ پارٹیشن کو قبول کرلیا جائے۔امریکی اس معاملے میں اس لئے دلچسپی رکھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں ڈیڑھ‘ڈیڑھ ارب کی آبادیوں کے حامل چین اور بھارت اس خطے میں تیل کے بڑے خریدار ہونگے‘امریکہ چین کی مڈل ایسٹ‘ایران اور روس تک براہ راست رسائی کو روکنے اور ان کی Economic containment کی خاطرایک بفرسٹیٹ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے‘ہندوستان کو جس کی قیمت اسے تنازعۂ کشمیر کے حل کی صورت میں دینا ہے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں