نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لندن:گورنرپنجاب چودھری محمد سرور کی پریس کانفرنس
  • بریکنگ :- گورنربننےکی خواہش نہیں تھی،پارٹی نےعہدہ دیا،چودھری محمد سرور
  • بریکنگ :- آپ کوسائیڈلائن کیاگیا؟صحافی،مجھےبعدمیں پتہ چلا،چودھری سرورکاجواب
  • بریکنگ :- لندن:کام کاعہدہ دیاجاتاتوڈلیورکرسکتاتھا،گورنرپنجاب چودھری سرور
  • بریکنگ :- اپنےدائرہ اختیارمیں آنیوالےکام خوش اسلوبی سےکرنےکی کوشش کررہاہوں،گورنر
  • بریکنگ :- ملک کابوسیدہ نظام عوامی مسائل حل کرنےسےقاصرہے،چودھری سرور
  • بریکنگ :- پولیس اورعدلیہ میں اصلاحات لانےمیں ناکام رہے، گورنر چودھری سرور
  • بریکنگ :- پولیس،عدلیہ اورپراسیکیوشن میں بڑےپیمانےپراصلاحات کی ضرورت ہے،گورنرپنجاب
  • بریکنگ :- پاکستان کاالمیہ ہےشخصیات کےپیچھےبھاگتےرہے،ادارےمضبوط نہیں کیے،چودھری سرور
  • بریکنگ :- ن لیگ کےدورمیں شروع ہونےوالاادارہ اوورسیزپنجاب کمیشن اچھاکام کررہا ہے،گورنر
Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

کورونا کے بعد دنیا بدل جائے گی؟

اس امر میں اب کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ کورونا وبا کے تدارک کے لئے نافذ کئے گئے ہمہ گیر لاک ڈاون نے مجموعی طور پہ عالمی سماج کی ہیئت بدل ڈالی اور دنیا بھر کے سیاسی نظریات، فلسفیانہ اصول اور سماجی رویّوں میں گہری تبدیلیوں کے آثار ہویدا ہونے لگے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ماضی کی ساری روایات اورکم و بیش چار ہزار سالوں پہ محیط انسانی تجربات کا مجموعی سرمایا بے معنی ہو جائے گا۔ گویا انسانوں کو اپنی ذہنی وراثت کے تسلسل سے دستبردار ہونا پڑے گا اور عہدِ جدید کا ریاستی تمدن مشینی انداز میں انسانی معاشروں کو کنٹرول کرنے کی قوت حاصل کر کے روایتی سیاسی آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق جیسے رومانوی تصورات کو ریاستی مفادات کے تابع کر لے گا۔ اگر تیزی سے بدلتے ہوئے اسی تناظر میں ہم گروہی کشمکش میں الجھے اپنے خطے کی سیاست پہ نظر ڈالیں تو ہمیں انتہائی غیر محسوس انداز میں سارے اندرونی و بیرونی سیاسی تضادات مٹتے نظر آتے ہیں جو کسی نئے سیاسی تمدن کی تشکیل کا سبب بن سکتے ہیں۔ لاک ڈائون کے نفاذ کے ساتھ ہی ہماری داخلی سیاسی کشمکش کی شدت میں بتدریج کمی واقع ہوئی اور زندگی کا اجتماعی دھارا قدرے پُرسکون انداز میں بہنے لگا۔ اپوزیشن کا متنوع کردار معدوم ہو گیا بلکہ اب تو اپوزیشن والوں کی بات پر سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ بھی دھیان نہیں دیتے۔ ایسا لگتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں کسی بالادست قوت کے محور میں گھومنے پہ مجبور ہیں۔ قومی سیاست میں تضادات کو بڑھانے والی وہ جماعتیں بھی کسی پُراسرار خاموشی کی دھند میں ڈوب گئیں جو بالخصوص جنوب ایشیائی اور بالعموم عالمی سیاست کی حرکیات میں موثر کردار ادا کرتی نظر آتی تھیں، حتیٰ کہ مملکت کی تزویراتی حکمت عملی کے ٹول کے طور پہ بروئے کار آنے والے گروہوں کا جاہ و جلال بھی ماند پڑ گیا ہے۔ ممکنہ طور پر بہت جلد جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کا فلیش پوائنٹ یعنی ''کشمیر ایشو‘‘ بھی ایسی تزویراتی اصلاحات کے تابع کر لیا جائے گا جس کا سرچشمہ اعلیٰ درجہ کی سیاسی مہارت کے علاوہ پیپرین،کوہیان اور میکی ویلین کی اصلاحاتی حکمت عملی کے اصول ہوں گے۔ اسی پالیسی شفٹ کی بدولت نت نئے خیالات کی کونپلیں کھلیں گی جو ایسے تجزیاتی علوم کے لاتعداد جہتیں پیدا کرنے کا محرک بنیں گی جو ان معاملات میں نئے اداکاروں کی شمولیت کی راہ ہموار بنا دیں گے۔ کشمیر ایشو میں چین کی شمولیت اسی پیراڈائم شفٹ کا نتیجہ ہو سکتی ہے گویا کشمیر کے منجمد ایشو بارے کئی ایسی نئی سوچیں پروان چڑھیں گی، جو اس ایشو سے جڑے تمام تنازعات کے حل کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔ شاید اسی لئے تمام تر تلخیوں کے باوجود بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات معمول کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔ اس وقت افغان گورنمنٹ کو انڈیا کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت فراہم کرنے کے علاوہ انڈین جاسوس کلبھوشن کو قانونی سہولتوں کی فراہمی کا فیصلہ ہوا کے رخ کا پتا دے رہا ہے۔ ابھی کل ہی وزیراعظم عمران خان نے بنگلا دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی، جو 1971ء میں متحدہ پاکستان کے حامی بنگالی مسلمانوں کو جنگی جرائم کی پاداش میں سزائیں سنانے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ ادھر غیر معمولی تجارتی مقابلہ کے باوجود وسیع تر عالمی مفادات کے تحت امریکہ اور چین‘ دونوں‘ جنوبی ایشیا میں نئی اسٹرٹیجک اصلاحات کی حمایت کر سکتے ہیں۔ علاقائی طاقتیں ملک کے اندر جامع اصلاحات کی حوصلہ افزائی کیلئے بھی پُرجوش نظر آتی ہیں تاکہ یہاں ایک جدید فلاحی ریاست کے تصور کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ چنانچہ اس وقت کچھ بنیادی نوعیت کی اصلاحات کو ممکن بنانے کی خاطر حکومتی ادارے مدارس اور اس میں پڑھنے والے طلبہ کی فہرست مانگ رہے ہیں۔ اگلے چند ماہ میں شاید مدارس و مساجد بارے کسی متوازن پالیسی پہ ریاست اور جید علماء کرام کے مابین اتفاق رائے حاصل کر لیا جائے گا۔
لاریب‘ انتہائی تیزی سے ترقی پاتی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طاقت نے عالمی تعلقات کے طور طریقوں اور اکیسویں صدی کے طرزِ حکمرانی کو بدل دیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اگلے چند سالوں میں ترقی یافتہ ممالک میں ڈھائی ارب سے زیادہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے شہری نئے تقاضوں کے ساتھ ابھریں گے جو موجودہ سماجی ڈھانچہ اور سیاسی تمدن کو نسلی تفریق اور عمیق گروہی انتشار میں مبتلا کر دیں گے، یہی غیر معمولی شعوری پھیلائو ان کی سوچ کو ملکی حدود اور قومی مفادات سے ماورا کر دے گا، چنانچہ اب تمام ممالک کو امکانات کے نئے دریچے کھولنے کے ساتھ ساتھ اپنی نئی ٹیکنالوجی پالیسی بنانا پڑے گی، جس کی گونج ہمیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی حالیہ آبزرویشن میں بھی سنائی دیتی ہے۔ تاہم ان اصلاحات کے لئے ایک ایسا غیر روایتی میکنزم پروان چڑھانا پڑے گا جس کے رواں عمل کے اندر جدید سٹیٹ کرافٹ کی خود کار تشکیل وجود پا سکے تاکہ سیاسی و نظریاتی امور پہ کم سے کم تنازعات پیدا ہوں۔ اِسے ہم ایک قسم کی فطرتِ انسانی پہ قابو پانے کی کاوش کہہ سکتے ہیں۔ شاید اب جدید ریاستیں غیر علانیہ طور پہ خود کو اس مقام پہ فائز کرنے جا رہی ہیں‘ جس کی آرزوئیں ماضی کی متعدد حکمراں طاقتیں کر چکی ہیں۔ اِس دورِ جدید میں چونکہ کسی فرد کے لئے یہ مقام حاصل کرنا ممکن نہیں رہا اس لئے ریاست کا وہ کمپلیکس ڈھانچہ‘ جس کا ہر فرد خود بھی حصہ ہوتا ہے اور جسے کسی کے لئے بھی براہ راست باطل ثابت کرنا ممکن نہیں ہوتا‘ اب قانونی اتھارٹی اور اجتماعی مفادات کو جواز بنا کر بہ آسانی اپنی مطلق حاکمیت کا قلادہ لوگوں کے گلے میں ڈال سکتا ہے۔ خاص طور پہ ریاستوں کا وہ مربوط عالمی نظام جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی قوت سے مزّین اور زمینی وسائل پہ کامل تصرف رکھتا ہو لوگوں کے افکار و نظریات کو ریگولیٹ کرنے کی جسارت کر سکتا ہے۔ بلاشبہ، اس وقت ریاست بطور ادارہ اپنی قوت و حشمت اور تصرف و اختیار کے بام عروج پہ آن پہنچی ہے اور یہی حتمی غلبہ دراصل اس کے اختتام کا آخری مرحلہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ بے سمت اضطرابی قوت سے بہرہ ور یہ ڈیجیٹل معاشرے کسی بھی ریاست کے اندر غیر معمولی ہلچل تو پیدا کر سکتے ہیں لیکن اجتماعی حیات کو مقصدیت میں مربوط کرنے کی صلاحیت سے تہی دست ہیں۔
ماضی قریب میں بھی ہم نے دیکھا کہ سماجی ابلاغ کے انہی طاقتور ذرائع نے کئی ممالک کی قومی سیاست اور عالمی تعلقات کی نزاکتوں پہ غیر معمولی اثر تو ڈالا لیکن یہ نظریاتی، جمہوری اور ترقی پسندی کا متبادل نہیں بن سکے۔ ابھی حال ہی میں عرب بہار اور مصر و تیونس میں بے پناہ عوامی اضطراب پیدا کرنے کے باوجود انفارمیشن ٹیکنالوجی وہاں کسی اصولی نظریہ کی نشو و نما ممکن نہیں بنا سکی۔ قصہ کوتاہ، کیا یہ دنیا اب جارج آرویل کے مشہور ناول ''اینیمل فارم‘‘ کی تمثیل میں ڈھل جائے گی؟
اگرچہ اس تصور کو عملی جامہ پہنانا ممکن نہیں ہو گا لیکن اس عہد کے ریاستی شعور کو اس جسارت سے روکنا بھی ناممکن ہو گا۔ مشہور فلسفی سپائی نوزا نے کہا تھا ''ریاست کو شہری کے ذہن پہ جتنا کم اختیار ہو گا اتنا ہی دونوں کے حق میں مفید ہو گا۔ مملکت کا اقتدار جب اجسام و افعال سے بڑھ کر انسانوں کے افکار اور روح تک جا پہنچے تو انسانی سماج کی نشو و نما ختم اور ریاست برباد ہو جاتی ہے‘‘ لیکن مغرب کی ترقی یافتہ اشرافیہ سپائی نوزا کی سوچ کو غلط ثابت کرنے کا تہیہ کئے بیٹھے ہے، وہ ایک میکانکی تمدن کے قیام کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہر حد عبور کرنے پہ کمر بستہ دکھائی دیتی ہے۔ بلاشبہ صرف فطرت ہی اپنی تدبیرِ مخفی سے کائنات کی ہر چیزکو ریگولیٹ کر سکتی ہے، لہٰذا تمام تر قوت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود انسانی زندگی کے مقامی دھارے کو اس وسیع کائنات کے اجتماعی نظام سے جدا نہیں کیا جا سکے گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں