لو جی ! وزیر اعظم میا ں محمد نوا ز شریف کی مسکرا ہٹیں ختم ہونے اور چہرے پر سنجیدگی اور تفّکر کی وجہ سمجھ میں آ گئی ہے‘ ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کو ئی تیسری با ر اتنے مینڈیٹ کے ساتھ وزارتِ عظمیٰ کا تا ج سر پر رکھ رہا ہو اور ہر طر ف سے مبا ر ک سلامت کی آ وا زیں آ رہی ہوں تولبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ بھی نہ پھو ٹ سکے ۔اصل بات یہ تھی کہ میا ں صا حب جا نتے تھے کہ وزیر اعظم بنتے ہی انہیں ’’بجٹ دھماکے‘‘ کی ذمہ داری قبول کرنی ہے۔اور بجٹ کے بارے میں یہ بھی قیاس کیا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً تیار ہی تھا نئی حکومت نے ہلکی پھلکی اصلاح کے بعد اسے پڑھنے کی ذمہ داری اسحاق ڈار کو سونپ دی۔ عوام پر یہ بجٹ خلاف توقع ہے۔ ہر طرف سے آہ و بکا اور چیخ پکار کا سماں ہے اور لوگ دہائی دے رہے ہیں ۔میاں نواز شریف انتخابات سے چند روز قبل تک نہایت خوشگوار موڈ میں ( لبوں پر مسکراہٹ سجائے) عوامی جلسوں سے خطاب کر رہے تھے اور عوام الناس کی تقدیر بدلنے اور مزدور کی تنخوا ہ کم از کم پندرہ ہزار روپے کرنے کے وعدے کر رہے تھے لیکن وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے تک وہ مکمل متفکر اور سنجیدہ ہو گئے ۔ دراصل چہرہ اندرونی کیفیات کا آئنہ دار ہوتا ہے ۔میاں صاحب اچھے دل کے مالک ہیں۔ وہ اپنی اندرونی کیفیات چھپانے پر دسترس نہیں رکھتے۔ سو وہ اندر سے آزردہ ہیں کہ وہ اپنی کہی ہوئی باتوں پر فی الفور عمل کرنے سے قاصر ہیں ۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ پچھلی حکومت اپوزیشن ، آزادعدلیہ اور چوکس میڈیا کے ہوتے ہوئے بھی خزانہ خالی کر گئی ۔کچھ روز پہلے میاں صاحبان لوٹی ہوئی رقم کی پائی پائی وصول کرنے کی تقریریں کرتے رہے مگر اب حالات بدلے ہیں تو ان کا لب و لہجہ بھی تبدیل ہو گیا ہے۔ اپنے نعروں اور وعدوں کو اتنی جلدی بھولنا نہ تو میاں صاحبان کے بس میں تھااور نہ ہی عوام بھولے ہیں۔سو ایک فکر(پشیمانی) نے ماحول سنجیدہ بنا رکھا ہے ۔آزاد میڈیا وعدوں اور نعروں کی یاد دہانی کے لیے انتخابی جلسوں کے کلپ دکھاتا رہے گا‘ اوپر سے بجٹ دھماکے میں میاں نواز شریف مزدور کی تنخوا ہ پندرہ ہزار روپے کرنے کی بجائے سرکاری ملازمین کو ایک دھیلے کا ریلیف دینے سے بھی قاصر رہے ہیں ۔ بس یہی قلق انہیں مسکرانے سے باز رکھتا ہے۔یہ پریشانی ،خاموشی اور سنجیدگی کوئی مرض نہیں ہے بلکہ اُن کا فرض مسکراہٹ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔بجٹ تو ہر سال آتا ہے اور عموماََ لوگ بجٹ پر کبھی خوش نہیں ہوتے۔ہر بجٹ مہنگائی میں اضافہ کرتا ہے مگر ارکانِ اسمبلی اپنی تنخواہیں، الائونسز اور مراعات بڑھاتے ہوئے ان سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں اور عوام کو ہمیشہ کڑوی گولیا ں نگلنے کی تلقین بھی کرتے رہتے ہیں۔شاید جمہوریت عوام سے بہترین انتقام کا نام ہے ۔عوام نے ایک جمہوریت سے جان چھڑائی اور توقع رکھی کہ انتخابات کے بعد کوئی بہتر تبدیلی آئے گی‘ مگر بجٹ تقریر سے اگلے روز ہی اشیائے ضرورت کو پر لگ گئے ہیں۔ پٹرول، گیس، چینی، دودھ ،گھی،پان،سگریٹ او ر مرچ مصالحوں سے لے کر اے سی، فریج اور گاڑیوں کی قیمتوں تک میں اضافہ ہو گیا ہے۔اس سے متاثر صرف اور صرف غریب اور مڈل کلاس لوگ ہوں گے۔امراء اور متمول لوگ تو شاپنگ کرنے بھی دبئی جاتے ہیں۔انہیں روز مرہ کی اشیائے ضرورت کے مہنگا ہونے پر کوئی اثر نہیں ہوتا‘ البتہ پٹرول مہنگا ہونے پر انہوں نے ’’ہائی برڈ‘‘ گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹی ختم کرالی ہے۔ظاہر ہے اسمبلی میں اسی طبقے کی نمائندگی ہے۔غریب عوام کا تو وہاں کوئی نمائندہ نہیں ہے۔ اسمبلیوں کے ارکان میں عموماََ وہی لوگ ہوتے ہیں جو کروڑوں خرچ کر کے انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں پھر وہ کروڑوں کو دگنا کرنے میں لگ جاتے ہیں ۔اب تو رشوت سرکاری دفاتر میں پوسٹنگ ٹرانسفر کے زمرے میں بھی سرِ عام لی جانے لگی ہے۔لہٰذا کاروبارِ سیاست جسے بظاہر خدمت کا نام دیا جاتا تھا، حقیقت میں کاروبار ِ اشرافیہ بن کر رہ گیا ہے۔ حکومت بھی چونکہ انہی لوگوں کی نمائندہ ہے سو ٹیکس دینے کے اہل ایک خاص طبقے کو اِس بجٹ میں بھی خاصی چھوٹ دی گئی ہے۔اب اگر دودھ، گھی، چینی، دالیں، سگریٹ، پان، مشروبات، قلم، کاپیاں، کتابیں مہنگی ہوتی ہیں تو اس سے چند فیصد اشرافیہ کو کیا فرق پڑسکتاہے؟فرق تو دو وقت کی روٹی بمشکل کمانے والے لوگوں کو پڑے گا۔ہم تو حکومتی ماہرینِ معاشیات پر حیران ہیںجو کھانے پینے اور بنیادی ضروریاتِ زندگی پر بھی ٹیکس لگانے اور مہنگا کرنے پر تُلے رہتے ہیں۔کیا انہیں علم نہیں کہ ہائی برڈ گاڑیاں خریدنے والے کتنے فیصد ہیں؟ اور یہ کہ صرف اور صرف تنخواہ پر گزارا کرنے والے ،آنے والے طوفانِ مہنگائی میں کیا کریں گے؟اب تو اعلیٰ تعلیم کے طلبا کی سالانہ فیسو ں پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ وزیرِ خزانہ کہتے ہیں کہ ہم نے حاجیوں پر ٹیکس نہیں لگایا‘ ٹور آپریٹر پر ٹیکس لگایا ہے۔کیا اس کا اثر بھی بالآخر حجاج پر نہیں پڑے گا؟ پٹرول مہنگا کرنے سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔وزراء اِس بجٹ کو متوازن اور عوام دوست بجٹ قرار دے رہے ہیں۔جبکہ نوّے فیصد عوام نے اسے عوام دشمن اور متنازعہ بجٹ قرا ر دیا ہے‘بلکہ بعض تو اس بجٹ کو ’’گل گھوٹو‘‘ بھی کہہ رہے ہیں۔اب سرکاری ملازمین سڑکوں پر روٹیاں گلے میں ڈال کر سینہ کوبی کرتے نظر آئیں گے۔اسحاق ڈار سرکاری ملازمین کو نصیحت کر رہے ہیںکہ وہ کڑوی نگل کر صبر کریں۔تنخواہ بڑھانے پر غورو فکر کے لیے کمیٹی بنا دی گئی ہے۔اللہ اللہ خیر صلا۔ اگر عوامی نمائندے اتنے ہی محبِ وطن اور عوام دوست ہیں تو سب سے پہلے اپنی تنخواہیں اور مراعات خود پر حرام قرار دے ڈالیں ،عوام سے قربانی مانگنے والوں کو اس کا آغاز اپنے آپ سے کرنا چاہیے۔دیکھتے ہیں بغیر پیسے اور مراعات کے کون کون عوام کی خدمت کرتا ہے؟مسلم لیگ ن اپنے انتخابی جلسوں میں لوٹی ہوئی دولت وصول کرنے کی باتیں کرتی رہی ہے۔اب میدان گھوڑے سمیت حاضر ہے ۔بسم اللہ کریں سب کا احتساب کریں ۔کرپشن کرنے والوں کو الٹا لٹکائیں ۔خزانہ لوٹنے والوں سے لوٹی دولت واپس لے کر دوبارہ خزانہ بھریں۔ بیوروکریٹس کو بیرونِ ملک دوروں سے قبل اپنے ٹیکس واجبات کلیئر کرانے اور زرعی قرضہ لینے والوں کو انکم ٹیکس کی تفصیلات جمع کرانے کی پابندی کافی نہیں، اِن سے براہِ راست ٹیکس وصول کیا جائے۔سرکاری حج عمرے اور کوٹہ سسٹم بھی ختم کیا جائے۔احتساب کرنے سے قبل خود کو احتساب کے کٹہرے میں لا کر ہی دوسروں کا احتساب کیا جا سکتا ہے۔تاجر ،صنعتکار طبقے کی حکومت اگر صرف اور صرف اپنے طبقے کے مفادات کا خیال کرتی رہی تو یاد رہے کہ لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا چاہتا ہے۔فی الوقت بجٹ میں بھلے لیپ ٹاپ ختم کر کے سرکاری ملازمین کو کچھ نہ کچھ ریلیف دیا جائے۔ ورنہ آئندہ دنوں میں خاصی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اور لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ ع اِک اُنج کوہجی اُتوں سُتی اٹھی