جس تناسب سے ہماری فلمی صنعت پر بھارتی فلمیں غالب آرہی ہیں، ہمارے اخبارات کے فلمی صفحات میں بھی اسی تناسب سے انڈین فنکاروں کی خبریں چھائی ہوتی ہیں۔ ٹی وی چینلز نے انڈین فلموں کو گھر گھر پہنچا دیا ہے ۔سو اخباری صفحات میں بھی بھارتی فلموں اور فنکاروں کی خبریں دلچسپی سے پڑھی جاتی ہیں ۔ قارئین ! اگلے روز بالی ووڈ کے کنگ خان کے حوالے سے دلچسپ خبر آپ نے بھی پڑھی ہوگی ،جس میں بھارتی فلمی دنیا کے ہیرو شارخ خان نے ایک دلچسپ انکشاف اور اعتراف کیا ہے کہ ن کے اندر تھوڑا سا زنانہ پن موجود ہے ۔خبر کی تفصیل اتنی سی ہے کہ ممبئی کی ایک تقریب میں گفتگو کے دوران کنگ خان نے کہا کہ وہ تھوڑے سے زن نما مرد ہیں اور فلموں میں خواتین کی خصوصیات والے زیادہ کردار وہ اس لیے ادا نہیں کرتے کہ انہیں ڈرہوتا ہے کہ ان میں پائی جانے والی خصوصیات ان پر حاوی نہ ہو جائیں ۔انہوں نے کہا کہ: ’’ میں بیٹھتا بھی خواتین کی طرح ہوں‘‘ عزیز قارئین ! ویسے یہ کوئی نئی بات نہیں، ہمارے اردگرد ایسے بہت سے مرد حضرات پائے جاتے ہیں جن میں ’’ نسوانیت ‘‘کے اثرات نمایا ں دکھائی دیتے ہیں ۔اسی طرح بعض ایسی خواتین بھی ہوتی ہیں جن میں کسی ’’ فنی خرابی‘‘ کے باعث خواتین والی باتیں کم اور مردانہ پن کے او صاف زیادہ جھلکتے ہیں۔خبر والی بات یہ ہے کہ کسی مشہور شخصیت نے اسکا اعتراف پہلی بار کیا ہے۔یہاں تو جن مردوں کی ایک ایک ادا سے زنانہ پن جھلکتا رہتا ہے وہ بھی اپنے آپ کو مرد بلکہ ’’ مردِ مجاہد ‘‘ کہلانے پر مصر رہتے ہیں۔اس خبر کے اثرات پر ہم آگے چل کر روشنی ڈالیں گے لیکن کنگ خان کے اعتراف پر انہیں داد ضرور ملنی چاہیے کہ انہوں نے عالمی شہرت کے باوجود اپنے اندر کی نسوانیت کا ببانگ دہل اعتراف کیاہے۔پاکستان کی کئی وجیہہ شخصیات میں بھی نسوانیت کی جھلکیاں ملتی ہیں مگر ’’شاہ رخی ‘‘ اعتراف کون کرے۔یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔دنیا نیوز کے پاپو لر ترین پروگرام حسب ِحال کے عزیزی سہیل احمد، جہاں خواجہ سراوئں کی اداکاری بہت خوب کرتے ہیں وہیں بہت سی شخصیات میں پائی جانے والی نسوانیت کو بھی ناظرین تک نہایت شگفتہ انداز میں پہنچاتے ہیں۔۔ہم حسب حال باقاعدگی سے دیکھتے ہیں ۔عزیزی ہی کے توسط سے ہمارے علم میں یہ اضافہ ہوا کہ ہماری بعض سیاسی شخصیات میں بھی نسوانیت کے نقوش بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ ہمارے ایک سابق وفاقی ’’ مچھل ‘‘ وزیر کا گٹ اپ کر کے عزیزی جب گفتگو کرتے ہیں تو سہیل احمد کی فنکاری پر بے تحاشا داد دینی پڑتی ہے۔عزیزی کبھی کبھی ’’ ممی ڈیڈی ‘‘ بچوں میں پائی جانے والی نسوانیت کا بھی عمدہ اظہار کہتے ہیں۔ بات شاہ رخ کے اندر زنانہ پن کی ہو رہی تھی ۔ویسے تو اس خبر سے قبل ہی ہمارے ٹریفک کے اشاروں پر ایک ایسی مخلوق د کھائی دیتی ہے جو زنانہ روپ میں بھیک مانگتی پھرتی ہے ۔ ایک وقت تھاخواجہ سرا گلی محلوں، شادی بیاہ اور بچوں کی ولادت پر گاتے بجاتے نظر آتے تھے۔مگر اب ٹیلی ویژن کے غالب آنے کے بعد گلی محلوں میں ،فنکار خواجہ سرا بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیںبلکہ اب توخواجہ سرا زیادہ تر جمعرات کے روز بازاروں میں بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ شاید انہی اصل خواجہ سرائوں کی دیکھا دیکھی اب بے روز گار نوجوانو ں نے بھی خواجہ سرائی بہروپ اپنا کر سڑکوں کے چوراہوں اور ٹریفک اشاروں پر گدا گری کا دھندہ شروع کر دیا ہے۔لاہور کی سڑکوں پر عموما ًشام کے اوقات میں ایسے زبردستی کے خواجہ سرا گاڑیوں کے آگے پیچھے دھڑلے سے بھیک وصول کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں میں جب نسوانیت غالب آجاتی ہے تو وہ آدھے کی بجائے پورے زنانے بن جاتے ہیں ۔شاہ رخی اعتراف کے بعد نوجوانوں کے اس طرف مزید مائل ہو نے کا اندیشہ ہے۔ہمارے ہاں ڈراموں اور فلموں کے ہیرو ز اور اداکار وں سے متاثر ہونے کا رجحان عام ہے ۔ ایک زمانے میں اداکار وحید مراد اور ندیم کے بالوں کے سٹائل بہت مقبول ہوا کرتے تھے۔نوجوان بالوں سے لے کر ملبوسات تک میں ان کی نقل کرتے تھے۔ آج کل میڈیا کے اثرات زیادہ ہیں ۔کئی نوجوان کانوں میں مندری بالا بھی ڈالتے ہیں ۔کئی خواتین کی طرح لمبے بال بھی رکھتے ہیں ۔کلائی میں ایک چوڑی نما کڑا اور ناک میں کوکا ڈال کر پھرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر چنگے بھلے مرد کا خاتون بننے کو جی کیوں چاہتا ہے؟وہ نسوانی ادائیں دکھانے پر کیوں مجبور ہوتا ہے؟آخر اسکے اندر کے نظام میں کچھ تو عدم توازن ہے۔اس عدم توازن کی وجوہات پر غور و فکر کیا جانا چاہیے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔اس کے ساتھ سماج میں پھیلتے ہوئے ’’ہیجڑا پن‘‘ کے اثرات کو کم کرنے کی تدابیر بھی ہونی چاہییں۔کچھ عرصہ قبل خواجہ سرا ئوں کے باقاعدہ شناختی کارڈ بنائے گئے بعض محکموں میں انہیں بھرتی بھی کیا جانے لگا۔ شنید ہے کہ ا نکم ٹیکس والوں کو خواجہ سرائوں کی مدد سے ٹیکس وصولی میں خاصی مدد ملی ہے۔ کچھ خواجہ سرا سیاست کا چسکا بھی رکھتے ہیں ،کئی نے حالیہ انتخابات میں مردوں کا مقابلہ بھی کیا مگر ہمارے عوام بھی خاصے ’’باذوق ‘‘ واقع ہوئے ہیں ۔وہ خواجہ سراوئں کے جلسوں میں تو نظر آتے رہے لیکن الیکشن میں ووٹ اپنی پسندیدہ پارٹیوں ہی کو دے گئے۔ بالکل اداکارہ میرا کی والدہ کے انتخابی جلسوں کی طرح۔۔ویسے اگر سیاسی جماعتیں خواجہ سرائوں کا کوٹہ بھی رکھ لیں تو اسمبلی میں ان کی نمائندگی بھی ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا کر لیا جاتا تو آج الماس بوبی ٹیکس کے محکمے کا وزیر بن کر جنگی بنیادوں پر ٹیکس اکٹھا کر رہی ہوتیںکہ نئی حکومت کو ہر حال میں ٹیکس اکٹھا کرنا ہے کیونکہ بغیر خزانے کے حکومت دو قدم نہیں چل سکتی۔۔اور اب تو پنجاب میںحکومت نے پوش ایریا کے پانچ مرلہ کے مکانوں پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے۔ ٹیکس جمع کرنا کوئی آسان کام نہیں، اسی لئے ٹیکس افسران مٹھی گرم ہوتے ہی، ٹیکس سے بچنے کی تدابیر بھی خود بتادیتے ہیں۔ یوں ان کی اپنی ماہانہ انکم میںتو اضافہ ہو جاتا ہے لیکن ٹیکس قومی خزانے میں جمع نہیں ہو سکتا۔ٹیکس افسران کے ساتھ اگر خواجہ سرائوں کا پیوند لگادیا جائے توٹیکس وصولی میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔بڑے بڑے بجلی اور ٹیکس چوروں کو خواجہ سرائوں کے فنکارانہ طریقے سے شرمندہ کر کے ہی ان سے ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے۔کاش شاہ رخ خان کی طرح ہمارے ہاں بھی رضاکارانہ طور پر ادھورے مرد اعتراف ِنسوانیت کر لیں اور قوم کے ٹیکس وصولی نظام کا حصہ بن کر اپنی کار کردگی دکھائیں کہ خزانہ خالی ہے اور ہمیں ہر حال میں ٹیکس اکٹھا کرنا ہے ۔ ؎ ٹیکس آپ ہی دے کر اگر آزاد ہو ملت ہے ایسے خسارے میں مسلماں کو پرافٹ