پی ٹی …آئی…گئی

ہم صدارتی ’’آموں‘‘ کو کالم کامو ضو ع بنا نے کا ارا دہ کر رہے تھے تا کہ صدر آصف زرداری کو یا د دلائیںکہ ہم نے بھی اپنے کئی کالمو ں میں ’’ زردا ریت ‘‘ پر خامہ فرسا ئی کی ہو ئی ہے اور آپ یہ جو خا ص خاص لو گو ں کو آ م کے تحائف بھیج رہے ہیں ، ہمیں کیو ں نظر اندا ز کئے ہو ئے ہیں؟ آخر ہم بھی عام لوگو ں کی ترجمانی پر ’’ از خود ‘‘ مامو ر ہیں ، کیا ہو جا تا اگر ایوان ِصدر سے ہمیں بھی کوئی آم تحفہ ہی بھجوا دیا جاتا۔ ہم اُس ’’ آ م تحفے ‘‘ پر خا ص کالم لکھ کر ’’آم حلالی‘‘ کی اپنی سی کو شش ضرور کر تے ، مگر نہ جانے کیوں ہمیں یہ مو قع سرِ عام نہ دیا گیا ، ورنہ آج دھڑلے سے ’’آ میانہ ذکر ‘‘ کر تے ہو ئے ہم یہ نہ کہہ رہے ہوتے کہ: ’’ عزیز قا رئین ! بہ خدا ہم نے صدر کے آم وصول کئے نہ کھا ئے ، نہ ہی عمرا ن خان کی طرح عام لوگوں میں تقسیم کئے‘‘۔ مگر اسی عمرانی تقسیم سے ہمیں عمران خان کا صحت یا بی کے بعد دنیا نیوز چینل پر محمد مالک کو دیا گیا انٹرویو یا د آ گیا ، جس میں انہوں نے جہاں اپنی بعض غلطیوں کا بر ملا اعتراف کیا وہاں اپنے آئندہ منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی۔ عمران خان نے اپنی صحت کے با رے میں بتا یا کہ حادثے میں اُ ن کی کمر کی ہڈیا ں شدید متاثر ہوئیںاور اب تک وہ مکمل صحت یا ب نہیں ہو ئے ، کمر کی ہڈیوں کو سیدھا رکھنے کے لئے تا حا ل انھیں ایک جیکٹ پہننی پڑ تی ہے ۔عمران خان صوبہ کے پی کے میں ایک مثالی حکو مت قائم کر نے کے آرزو مند ہیں ، خدا کرے اُن کی یہ آ رزو پو ری ہو تا کہ دوسرے صوبے بھی اُ ن کی پیروی کر سکیں۔ عمران انتخابات کے بعد، پہلے تو دھاندلی کے الزاما ت لگا تے رہے اس کے لئے اُن کی پارٹی احتجاج بھی کرتی رہی ہے لیکن اب احتجا ج ماند پڑ چکا ہے اور پی ٹی آئی کے جیتنے والے امیدوار اسمبلیوں میں اپنی ’’کارکردگی‘‘ دکھا نے میں مصرو ف ہیں، حالانکہ ضمنی انتخابات سر پر آ گئے ہیں۔ ان انتخابا ت میں عمران خان اپنے امیدوار کسی حد تک فائنل کر چکے ہیں ، پشا ور حلقہ این اے 1میںگل باد شا ہ اور میانوالی سے عمران ہی کی چھوڑی نشست پر عائلہ ملک کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ میانوالی اور پشاور کی نشستیں چھوڑنے پر وہاں کے عوام نے احتجا ج بھی کیا لیکن عمران خان پنڈی کی نشست رکھنے پر مجبو ر تھے کہ اگر انھوں نے یہ نشست خالی کی تو مسلم لیگ( ن ) آ سانی سے جیت جا ئے گی۔ بات میانوالی کی نشست پر عائلہ ملک کو ٹکٹ دینے کی ہو رہی تھی، میانوالی کے احباب کا خیا ل ہے کہ عائلہ ملک کا اس حلقے سے جیتنا آسان نہیں ہو گا کیو نکہ مسلم لیگ (ن) یہا ں سے شادی خیلوںمیں سے کسی کو اپنا امیدوا ر نامزد کر سکتی ہے۔ میانوالی کے اس حلقے کے عوا م عبدالرحمن ببلی کے حق میں ہیں، بعض کا خیا ل ہے ٹکٹ انعام اللہ نیا زی کو دیا جا تا لیکن پی ٹی آئی والے دونوں سے نالاں ہیں۔ ببلی سے اس لئے نا را ض ہیں کہ اُ س نے بر وقت پی ٹی آئی جائن نہیں کی تھی ۔ سنا ہے کہ ببلی عمران خان کو پسند کر تا ہے مگر کسی وجہ سے اب تک وہ پی ٹی آئی کے ’’میرٹ ‘‘ پر پورا نہیں اتر سکا ، لالہ عطااللہ عیسیٰ خیلوی بھی عبدالرحمن ببلی کو پی ٹی آ ئی کا ٹکٹ دینے کے حق میں تھے، مگر عمرا ن خان نے وہی با ت کی کہ ’’پا رٹی فیصلہ کر ے گی‘‘۔ پارٹی کے بعض فیصلو ں سے پی ٹی آئی کی ساکھ متا ثر ہو ئی ہے جس کا اعتراف اب عمران خو د بھی کر تے ہیں ۔ اصل با ت یہ ہے کہ عمران خان پارٹی پر گرفت رکھنے میں کا میا ب نظر نہیںآ تے ، حیرت تو یہ ہے کہ قو می اسمبلی میں اُن کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر پرویز مشرف کے خلا ف مقدمہ چلا نے کے حق میں ہیں جب کہ عمران خان سا بق صدر کے خلا ف کارروائی کو فی الوقت مو خر کر نے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ عمران خان کے نا قدین کا خیا ل ہے کہ وہ ہر کام میں ہمیشہ دیر کر دیتے ہیں۔ اگر وہ اپنے لاہو ر کے پہلے جلسے کے بعد بجلی ، گیس کے بحرا ن میں عوام کے جلوسوں کی قیا دت کرتے تو پی پی اور اُ س کے اتحا دیوں کی حکو مت عوام کے سمندر کے آ گے نہ ٹھہر سکتی لیکن عمران اپنی پارٹی بنانے میں لگے رہے ،یوں بہت سے ایسے لوگ بھی اُن کی پارٹی میں گھس آئے جنھیں عوام پسند نہیں کرتے تھے۔ اِس سے پی ٹی آئی کا گرا ف نیچے آ تا چلا گیا…عمران اپنی پارٹی کے الیکشن میں مصرو ف رہے اور پی پی اور مسلم لیگ نے نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کے معمر سر براہوں کو ’’ شفا ف ‘‘ انتخا بات کی نگرا نی سو نپ دی۔ آج عمران خان کہتے ہیں کہ : ’’ طاہر القا دری کی تشویش بجا تھی ،ہمیں پہلے الیکشن کے نظام کو درست کرنا چاہیے تھا ‘‘ مگر بد قسمتی سے پی ٹی آئی نے نگرا ن حکومتوں کے قیام سے لے کر الیکشن کمیشن کے سربراہ کے تقر ر تک ، کسی پر کو ئی اعترا ض نہ کیا ، نتیجہ اُن کے سامنے ہے۔ اب ایسے احتجاج کا فا ئدہ ؟ ضمنی انتخابات میں جیت عموماً حکو متی پا رٹی کی ہو تی ہے ۔ایسے میں اگر عمران خان اپنے مضبو ط امیدوار سا منے نہیں لا تے تو کچھ بعید نہیں کہ وہ ضمنی الیکشن میں ایک نشست بھی نہ جیت سکیں ، البتہ عمران خان اگر خیبر میں کچھ کر گزریں اور اپنی پار ٹی میں نظم و ضبط اور میرٹ پر سختی سے عمل پیرا ہو جا ئیں تو شا ید اگلے انتخا با ت میں میاں صا حب اُ ن کو با ری دے دیں ،ورنہ خیبر میں بھی حالا ت نہ بدلے تو سمجھیںپی ٹی آئی…’’گئی‘‘… عمران خان اپوزیشن کا حقیقی کر دا ر ادا کر نے کے لئے سامنے آ ئیں تا کہ جمہو ریت مضبو ط ہو سکے۔ لوگ عمران خان سے محبت کے ساتھ ساتھ اُن پر یقین بھی رکھتے ہیں ، لیکن تاحال بجٹ کے حوالے سے عمران خان نے کھل کر اظہا رِ خیا ل نہیں کیا ۔ہماری نئی حکومت خو ددار بھی ہے اور آئی ایم ایف کے آ گے کشکول رکھنے کی تیاری میں بھی ہے ، حالاں کہ سیا نے کہتے ہیں : ’’مانگنا اور مرنا ایک جیسا ہے ‘‘ بھلے قرض ہی مانگا جا ئے…عام آ دمی کا تا ثر یہی ہے کہ نواز شریف کی ہر حکو مت میں قرضے لینے یا اُتارنے کی باتیں ضرور ہو تی ہیں ، آ ج کی تا جر دوست حکومت بھی عام آدمی کی فکر کر نے کی بجا ئے خوا ص یا محدود پیما نے پر ترقی کا سوچتی ہے…حکومتِ پنجاب کے سا بقہ دور پر نظر ڈالیں تو سستی روٹی سکیم سے لے کر لیپ ٹاپ، پیلی ٹیکسی، سولر انرجی یونٹ، آشیانہ ہائوسنگ سکیم اور یہاں تک کہ دانش سکو ل کے منصوبے بھی محدو د تعدا د کے لئے تھے۔حکومتی منصو بے تو زیا دہ سے زیادہ لو گوں کی فلا ح کے لئے ہوا کر تے ہیں۔ صرف چند ہزا ر افرا د کو نوازنا، وہ بھی حکو متی سطح پر کو ئی دانشمندی نہیں۔ ابھی تک بجلی بحرا ن کے حل کے لئے کچھ بھی نہیں کیاگیا، ہا ں اگر عمران خان خیبر پی کے میں بجلی پیدا کر نے کا کوئی بندوبست کر گزریں تو عین ممکن ہے کہ پنجاب اور دوسرے صوبے بھی اس پر عمل پیرا ہو جا ئیں، کیا خیا ل ہے آپ کا؟

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں