صدر کی رخصتی

لیجئے صاحبو! آصف زرداری اپنی مدتِ صدارت بخیر و خوبی مکمل کر کے ایوانِ صدر سے رخصت ہوا چاہتے ہیں۔شنید ہے کہ اب وہ ’’کھُل کھلا ‘‘ کر حقیقی سیاست کریں گے اور اپنے حریفوں کو حیران و پریشان کردیں گے؛ بلکہ اگر عمران خان اسی طرح غلطیاں کرتے رہے تو اگلی بارپھر زرداری کا نعرہ سچ ثابت ہو سکتا ہے۔ یوں گویا آصف زرداری اگلی باری کے لئے ایوان ِ صدر سے رخصت ہو رہے ہیں۔ ان کی رخصتی کے ساتھ ہی اُن کے پیر محمد اعجاز بھی قصرِ صدارت سے الوداع ہو جائیں گے۔صدر زرداری کا صدارتی دو رانیہ تا دیر یاد رکھا جائے گاکہ کسی جمہوری صدر نے شاید پہلی بار اپنے منصب کا عرصہ نہایت سلیقے سے مکمل کیا ہے۔صدر زرداری کئی حوالوں سے یاد رکھے جائیں گے۔اپنے عرصۂ صدارت میں انہوں نے سب سے زیادہ غیر ملکی دورے کیے اور اپنے کئی مہربانوں کو بھی خوب سیر کرائی ۔ اِن دوروں میں سب سے زیادہ کرائے کی گاڑیاں استعمال کرنے کا اعزاز بھی انہی نے حاصل کیا ۔ایک خبر کے مطابق انہوں نے ایک عرب ملک کے دوروں میں اکیس دن کے لیے 194 جبکہ دبئی کے 45 دورو ں میں اپنے وفود کے لیے 290 کرائے کی گاڑیاں استعمال کیں ۔اپنے عرصۂ صدارت میں انہوں نے سوئٹزرلینڈ میں 90 دن کے قیام میں 65 کاریں اورپیرس کے چار دوروں میں کرائے کی سو گاڑیاں استعمال کیں۔جبکہ امریکہ میں صدر اور وزیر اعظم کے دوروں کے لیے 765 گاڑیاں کرائے پرلی گئیں۔ صدر زرداری اگر امداد بھی لینے گئے تو اپنے صدارتی جاہ و جلال پر کبھی آنچ نہ آنے دی۔ ان کا یہ جاہ وجلال ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ہاں ان کا ایک قول بھی نا قابل فراموش اقوال میں شمار کیا جائے گاجس کے مطابق آپ نے فرمایا تھا کہ: ’’ وعدے کوئی قرآن اور حدیث نہیں ہوا کرتے‘‘ آصف زرداری کی برداشت بھی کبھی بھلائی نہ جاسکے گی۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے کئی بار ’’گو زرداری گو‘‘ کے نعرے بھی گونجتے رہے لیکن آصف زرداری نے نہایت خندہ پیشانی سے سب کی تنقید برداشت کی۔ ویسے یہ بات ماننی پڑے گی کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے جتنی تنقید برداشت کی شاید ہی کوئی اور حکومت یا اس کے صدرا ور وزیر اعظم برداشت کرسکیں۔آصف زرداری اول تو ایوانِ صدر سے بہت کم باہر نکلے ، اگر کبھی نکلے بھی تو صرف غیر ملکی دوروں پر یا بھٹو خاندان کے مزارات پر تعزیتی جلسوںمیں شرکت کے لیے۔ اِن جلسوں میں بھی انہوں نے اپنی تقاریر میں صرف سیاسی اداکاروں کا تذکرہ کیا ۔انہوں نے اپنی سیاسی چالوں سے اپنے کئی حریفوں اور مخالفوں کو چاروں شانے چت کیا ۔اپنے پارٹی کے کئی مخالفین کو ہیروسے زیروبنا کر سبق بھی سکھایا۔ ان کے رفیقان اور جیل کے خدام میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آصف زرداری احسان فراموش ہیں۔انہوںنے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ یاروں کے یار ہیں ۔اس وصف کو تو خود اُن کے پیر صاحب بھی مانتے ہیں ۔پیر اعجاز نے اخباری نمائندوں سے گفتگومیں فرمایا ہے کہ : ’’ آصف زرداری دوستوں کے دوست ہیں‘‘ انہوں نے کہا کہ زرداری صدر نہیں بادشاہ تھے ۔وہ پچھلے گیارہ برس سے ان کے ساتھ ہیں ۔پیر اعجاز صاحب نے کہا : ’’ میں ایک ملنگ آدمی ہوں لہٰذا ایوانِ ِصدر سے رخصت ہونے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ پیر صاحب کا کہنا ہے کہ انہیں جہاں دو وقت کی روٹی ملے گی کھا کر سو جائیں گے ۔انہوں نے صحافیوں کو اپنی خالی جیبیںدکھاتے ہوئے کہا کہ دیکھ لیں یہ جیبیں بالکل خالی ہیں۔پیر اعجاز نے بتایا کہ وہ آصف زرداری کے لیے ’’ گوٹی ‘‘ فِٹ کر سکتے تھے مگر آصف زرداری نے منع کر دیا ۔تاہم میری دعائیں آصف کے ساتھ ہیں وہ جہاں رہیں گے پُرسکون رہیں گے اور اُن پر مقدمات محض رسمی کارروائی ہوگی‘‘۔ اب تو لوگ یہ بھی کہنے لگے ہیںکہ آصف زرداری کے عرصۂ صدارت مکمل کرنے کا کریڈٹ اُن کے پیر اعجاز کے سر ہے کہ زرداری صاحب اپنے پیر صاحب کے فرمودات پر ہمیشہ عمل پیرا رہے ۔ یوں زیادہ عرصہ سمندر کے کناروں پر گزارنے کے علاوہ ایوانِ صدر میں بکروں کے صدقات بھی دیے جاتے رہے ۔زرداری صاحب اب جہاں جائیں گے توقع ہے کہ پیر صاحب کو ساتھ ہی رکھیں گے اور پھر ایسے ’’ملنگ‘‘ پیر کوجس کا خرچہ دو وقت کی روٹی اور سگریٹ کے سوا کچھ نہ ہو ، ساتھ رکھنا کون سا مشکل ہے ۔ ایسا سستا پیر تو ہر سیاستدان کے پاس ہونا چاہئے۔ویسے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نئے منتخب صدر ممنون حسین ،پیر اعجاز کو ایوان صدر میں ہی رکھ لیں اور ممنون صاحب تو کسی سیاسی پارٹی کے سربراہ بھی نہیں اور نہ ہی انہیں کسی سیاسی حریف سے کوئی خطرہ ہے، سو پیر صاحب کو زیادہ ’’ چلّے وظیفے ‘‘ کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی نہ ہی صدر ممنون کو کالے بکروں کا صدقہ جاری رکھنا پڑے گا ۔ان کی صدارت بکروں کی قربانی کے بغیر بھی چلتی رہے گی۔رہی غوث علی شاہ ،سرتاج عزیز اور ممتاز بھٹو جیسے احباب کی خفگی تو اُسے بڑے میاں صاحب خود ہینڈل کر لیں گے۔بس ذرا میاں صاحب اہم امور سے فارغ ہو لیں۔ یوں بھی دوستوں کو راضی کرنا کون سا مشکل ہوتا ہے اور میاں صاحبان سے زیادہ دیر کوئی ناراض ہو بھی نہیں سکتا بشرطیکہ خود میاں صاحب کسی سے ناراض نہ ہو جائیں۔بات آصف زرداری کے ایوانِ صدر سے رخصتی کی ہو رہی تھی ،تو جان لیں کہ آصف زرداری کو بھی پرویز مشرف کی طرح ’’گارڈ آف آنر ‘‘دے کر رخصت کیا جائے گا۔ اللہ تعالی آصف زرداری کی ’’آنر ‘‘ میں مزید اضافہ کرے جو پیروں فقیروں کو بھی مانتے ہیں ۔اِس کا اجر اُن کو آخرت میں بھی ملے گا، بالکل اس بادشاہ کی طرح جو درویشوں کی خدمت کرتا تھا۔کہتے ہیںایک نیک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ بادشاہ بہشت میں ہے اور درویش دوزخ میں ۔پوچھا یہ کیا معاملہ ہے ؟ لوگ تو کچھ اور سمجھے تھے۔ جواب ملا:بادشاہ کو درویشوں سے عقیدت تھی اور اس درویش کو بادشاہوں سے محبت…واللہ اعلم بالصواب۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں