کتاب کلچر

کہتے ہیں کہ کتابیں انسان کی بہترین رفیق ہوتی ہیں ۔ایک اچھی کتاب انسان کا بہترین سرمایہ ہوتی ہے۔کتابیں بھی زندہ ہوتی ہیں،زندہ حروف، دھڑکتے جملوں اور مہکتے لفظوں والی کتابیں مردہ روح کو زندہ کرتی ہیںاور دلوں کو جگانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔کتابیں ہنستی مسکراتی ہیں ،روتی اور رُلاتی بھی ہیں، بہترین غم خوار، رہنما، مشیر، جھنجوڑنے، ڈرانے، چونکانے اور اٹھانے والی بھی ہوتی ہیں۔ایسی کتب کو لوگ عمر بھر سینے سے لگا کے رکھتے ہیں ۔کمپیوٹر اور الیکٹرنک میڈیا چاہے کتنی بھی ترقی کی منازل طے کر لے ،کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے ۔زندہ اور باوقار قومیں ،کتاب دوستی میں ہمیشہ پیش پیش رہتی ہیں۔کتابوں کی ترویج و اشاعت اور فروغ میں ہمہ وقت اقدامات کرتی رہتی ہیں۔مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں کتاب کلچر فروغ نہیں پا سکا۔ جوں جوں زمانہ ترقی کر رہا ہے ،قومی سطح پر ہم زوال کی طرف رواں دواں ہیں۔آج سے پندرہ بیس برس پہلے میونسپل کمیٹیوں‘ قصبوں اور کسی حد تک گلی محلوں کی سطح پر لائبریریاں ہوا کرتی تھیں۔ آنہ لائبریری کی اپنی شہرت اور مقبولیت ہوا کرتی تھی۔لوگوں میں کتب بینی کا ذوق ہوا کرتا تھا۔سکولوں میں لائبریری پیریڈ ہوتے تھے اوربچوں کے لیے بہت سے رسالے نکلتے تھے۔جن میں تعلیم و تربیت ،بچوں کی دنیا،نونہال ،بچوں کا باغ اور کئی دوسرے جرائد بچوں میں بے حد مشہور تھے ۔ کئی ادبی رسائل و جرائد قارئین میں مقبول تھے۔ آج ادبی جریدے جنسِ نایاب بنتے جارہے ہیں۔ چند دیوانے ہیں جو اپنی جیب کاٹ کر ادب پروری میں مصروف ہیںمگر حکومت کی طرف سے انہیں کوئی تعاون حاصل نہیں۔ جہاں تک کتب کی اشاعت کا تعلق ہے تو کتابیں اب پہلے سے زیادہ شائع ہورہی ہیں‘ لیکن وہ اِس قدر مہنگی ہیں کہ عام آدمی کی دسترس سے دور ہو چکی ہیں ۔نئی لائبریریوں کا قیام تو کجا، پہلے سے قائم پبلک لائبریریوں کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے۔حالانکہ لائبریریو ں کے بغیر کوئی کتاب محفوظ ہو ہی نہیں سکتی۔ کہایہی جاتا ہے کہ کمپیوٹر اور میڈیا کی ترقی نے لوگوں کو کتاب سے دور کر دیا ہے لیکن یہ بات درست نہیں‘ کمپیوٹر یا میڈیا کتنی بھی ترقی کی منازل طے کر لے، کتاب کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ آج بھی اگر کہیں اِکا دکا کتاب میلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے تو وہاں لوگوں کا رش دیدنی ہوتا ہے۔لوگ کتابوں کے سٹالوں پر اپنے ذوق کے مطابق کتابیں تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ہم نے قاہرہ میں یہ بات خاص طور پر نوٹ کی کہ وہاں لوگ کتابوں سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ قاہرہ میں ہر سال عالمی کتاب میلے کا انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے جس میں دنیابھر کے پبلشرز اور اشاعتی ادارے بڑے بڑے ہال نما خیمے لگا کر کتب کی نمائش کرتے ہیں ۔ان خیموں میں بیٹھنے اور اشیا ئے خورو نوش کے لیے خوبصورت کیفے بھی سجائے جاتے ہیں۔پانچ برسوں میں ہم قاہرہ کے میلے میں کئی بار گئے۔ کتاب میلہ اتنے بڑے رقبے پر منعقد کیا جاتا ہے کہ باقاعدہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک چھوٹی سی ٹرین چلتی رہتی ہے۔قاہرہ کا کتاب میلہ فرینکفرٹ کے بعد دنیا کا سب سے بڑا میلہ قرا ر دیا جاتا ہے۔اسے عالم ِعرب کا سب سے بڑا قدیم میلہ اور ثقافتی شو بھی کہا جاتا ہے۔میلہ تین ہفتے جاری رہتا ہے ۔اب تو مصر کا بھی کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے لیکن ہمیں آج قاہرہ کتاب میلہ اس لیے یاد آیا ہے کہ گزشتہ دنوں لاہور میں قائداعظم لائبریری کے زیر اہتمام بھی سہ روزہ کتاب میلہ منعقد کیا گیا‘ جس کا سہرابلا شبہ ڈی جی لائبریریزڈاکٹر ظہیر الدین بابر اور سیکریٹری آر کائیوز‘ ممتاز شاعر اور دانشور اوریا مقبول جان کے سر ہے‘ جنہوںنے رات دن ایک کر کے اپنی ٹیم کے ساتھ اسے کامیاب بنایا ۔اس بار انہوں نے کتابوں کے علاوہ آرکائیو کے شعبے کی اہمیت باور کرانے کی بھی بھر پور کوشش کی۔ قائداعظم لائبریری کے کتاب میلے میں لاہور کے تقریباََ سبھی اہم اشاعتی ادارو ں نے اپنے اپنے سٹال لگائے اور کتاب دوستوں کو کسی حد تک سستی کتابیں پیش کرنے کی کوشش کی ۔قائد اعظم لائبریری کے زیر اہتمام کئی پروگرام بھی ترتیب دیے گئے ہیں ۔ آخر ی روز کالم نویس اور صحافیوں کو مدعو کیا گیا تھا ۔ سعید آسی کی کتاب کا پروگرام بھی بہت یاد گار تھا جس میں وفاقی وزیر پرویز رشید بھی بطور خاص شریک ہوئے۔یہیں سے چند دوست جن میں سید ارشاد عارف ، عامر ہاشم خاکوانی ،سلمان عابد، اور تنویر شہزاد لائبریری کو چل دئیے کہ کتاب میلے کی آخری نشست بھی منعقد ہونے والی تھی۔ نشست سے قبل یار لوگ رئوف طاہر کے کلمہ حق پر داد دے رہے تھے ،انہوں نے وضاحت کی کہ حالات جہاں پہنچ گئے ہیں اس کی عکاسی کرنا اور اپنے رہنمائوں کو حقیقی صورت حال سے آگاہ کرنا ہی حقیقی دوستی ہے۔ اور ہم نے ہمیشہ وہی کہا جو محسوس کیا۔ کچھ دیر بعدجناب اوریا مقبول جان بھی تشریف لے آئے کہ وہی آخری نشست کے میزبان بھی تھے ۔ اس نشست میں سابق وزیر اعلیٰ نجم سیٹھی،جناب مجیب الرحمن شامی اور دیگر موجود تھے۔اوریا مقبول جان نے سب احباب کی توجہ ، سول سیکریٹریٹ میں گھوڑوں کے قدیم اصطبل میں پڑی ستر ہزار سے زائد نایاب کتب ،مسودات اور مخطوطات کی طرف مبذول کروائی ۔اس تاریخی اور قیمتی سر مائے کو محفوظ بنانے کے لیے کئی تجاویز پیش کی گئیں او ر اس کے لیے مناسب جگہ اور دیکھ بھال کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔توقع ہے کہ حکومت ِپنجاب لائبریریوں اور اس تاریخی اثاثے کی بحالی کے لئے خصوصی اقدامات کرے گی۔ لائبریریوں کے فروغ اور کتب میلوں کے انعقاد سے لوگوں میں کتاب دوستی فروغ پا سکتی ہے۔ ہم لوگ فوڈ سٹریٹس پر تو جہ دیتے ہیں مگر بک سٹریٹ قائم کرنے اور کتابیں سستی کرنے کے اقدامات پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ کتاب کلچر کو فروغ دیا جائے ۔قصبوں اور شہروں کی سطح پر لائبریوں کو بہتر بنایا جائے ۔کالجوں ، یونیورسٹیوں اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں سہ ماہی کتب میلوں کا اہتمام کیا جائے تاکہ کتب بینی فروغ پائے اور لوگوں میں علم و شعور کے ساتھ ساتھ امن ،محبت اور برداشت کی روش قائم ہو سکے۔آئیں ! ہم سب مل کر کتابوں سے دوستی کریں اور اس سلسلے میںعلم اور کتاب دوستوں کا ہاتھ بٹائیں کہ فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں