اکتوبر آتا ہے تو دل کے گوشے میں اک یاد کے مدفن پر دیا سا جل اٹھتا ہے، جی ہاں ! طفیل ابن ِگل کی یادوں کا دیا، اور ایسے میں دل جیسے اگر بتیوں کے دھوئیں سے بھر جاتا ہے ۔کبھی وہ ملتان کے ایک روزنامہ میں ’’ خبروں کے آئینے میں ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتا تھا۔ اس وقت میں لاہور نہیں آیا تھا بلکہ طفیل ابن ِ گل بھی اُن دنوں میری طرح لاہور کے صرف خواب دیکھا کرتا تھا ۔ ہم د ونوں محلے دار تھے ۔ مجھے شاعری چین نہیں لینے دیتی تھی اور اسے بڑا ’’ کالم نگار‘‘ بننے کا جنون تھا۔ ہم پہروں مستقبل کے خوابوں میں کھوئے رہتے تھے۔ اس وقت حسن آباد ٹائون زیادہ آباد نہیں تھا۔ میں اسے ملنے جاتا تو وہ چارپائی گلی میں نکال لیتا اور ہم چاندنی میں رات گئے تک مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے تھے ۔ اسے فخر تھا کہ وہ ایک بہت بڑے اخبار کا کالم نگار ہے ۔ ان دنوں اگرچہ روز نامہ امروز کو بھی ملتان میں اہم حیثیت حاصل تھی مگر نوائے وقت اس وقت بھی مقبولیت میں سرفہرست تھا ۔ طفیل ابن گل کا کالم ہر روز تصویر کے ساتھ صفحہ دو یا تین پر شائع ہوتا تھا ۔ اپنے طرز ِ تحریر اور برجستہ اندازِ بیاں سے وہ قارئین میں بہت مقبول ہو چکا تھا ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک روز، چاندنی رات میں اپنے گھر کے باہر ویران گلی میں چارپائی پر بیٹھے ہوئے ، اس نے بتایا تھا کہ وہ کل لاہور روانہ ہو رہا ہے ۔وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ لاہور فنکاروں، شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں کا شہر ہے ۔ اگر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا ہے تو لاہور ہجرت ضروری ہے۔ یہ طفیل ابن ِگل ہی تھا جس کی وساطت سے میں بھی ملتان کے اسی روزنامے میں ادبی کالم لکھنے لگا تھا اور پھر ایک روز اس کے پیچھے پیچھے لاہور بھی پہنچ گیا تھا ۔ یارِعزیزرضی الدین رضی ہم سے ایک سال قبل لاہور آ چکا تھا ، اس نے محترمہ بشریٰ رحمن کے جریدے ’’ وطن دوست‘‘ کو جائن کر لیا تھا ۔ طفیل ابن ِ گل اور میں کچھ عرصہ لاہور میں کندن بننے کے مراحل سے گزرتے رہے‘( لاہور آنے والوں کو ابتدا میں یہ کشٹ کاٹنے پڑتے ہیں ) لیکن پھر اسے روزنامہ امروز میں ملازمت مل گئی ااور وہیں اس نے کالم بھی شروع کر دیا ۔اس دوران ہمدم دیرینہ اطہر ناسک نے بھی اپنا تبادلہ صادق آباد سے لاہور کرا لیا تھا ۔ اب ہم چاروں دوست اکٹھے ہو چکے تھے ۔ رضی الدین رضی رومانوی نظمیں لکھتا، اطہر ناسک فلمی کہانیاں اور میں گیت۔ ہم صبح نکلتے اور شام کو پاک ٹی ہائوس اور کبھی موہنی روڈ کے کسی ہوٹل پر اکٹھے ہو جاتے۔ ان دنوں طفیل ابن گل اور رضی حیدر بلڈنگ موہنی روڈ پر منتقل ہو گئے تھے۔ اسی کمرے میں کچھ عرصہ اطہرناسک بھی ان کے ساتھ رہا۔ بعد ازاں وہ اقبال ٹائون شفٹ ہو گیا‘ جبکہ میں ان دنوں فیض باغ میں رہتا تھا۔ ہماری شامیں اکٹھی گزرتی تھیں ۔ طفیل رضی سے بے حد محبت کرتا تھا۔ رضی نے جب ملتان واپس جانے کا قصد کیا تو ہم سب دوست اداس ہو گئے۔ طفیل سب سے زیادہ اداس تھا کہ اب وہ تنہا ہو گیا تھا۔ ہم نے سٹیشن سے رضی کو رخصت کیا اور رات گئے تک پلیٹ فارم پرہی بیٹھے رہے ۔ جب مجھے قصور کالج میں لیکچر رشپ ملی تو طفیل ابن ِگل سے ملاقاتوں کا سلسلہ ہفتہ وار چھٹی تک محدود ہو گیا۔ وقت گزرتا رہا۔ اسی دوران امروز بند ہونے کے بعد وہ ایک بار پھر بے روزگار ہو گیا لیکن جلد ہی اس نے روزنامہ جرأت میں روزانہ قسط وار ناول لکھنا شروع کر دیا جو قارئین میں بہت مقبول ہوا ۔ ایک روز پتہ چلا کہ اس نے دست شناسی کے حوالے سے کالم شروع کر دیا ہے ۔ انہی دنوں فلمی دنیا کے بہت سے لوگ اس کے علمِ دست شناسی کے معترف ہو گئے ۔ اب وہ بشارت کے قلمی نام سے پہچانا جاتا تھا ۔ اس سے آخری ملاقات پرانی انار کلی لاہور میں ہوئی تھی۔ میں اور اطہر ناسک پرانی انارکلی میں بیٹھے تھے کہ وہ اچانک اپنے صحافی دوست قمرالحق کے ساتھ نمودار ہوا۔ وہ دیر تک اپنی دست شناسی کی پذیرائی اور فلمی دنیا کے لوگوں میں اپنی مقبولیت کا احوال بیان کرتا رہا تھا۔ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ اس سے آخری ملاقات ہو گی۔ چنددنوں بعد اچانک ملتان سے رضی نے فون پر بتا یا کہ طفیل ابن ِگل ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا ہے اور یہ کہ اسے رحیم یارخاں ہی میں دفن کر دیا گیا ہے جہاں وہ کچھ روز قبل اپنی والدہ سے ملنے گیا تھا۔ آج اسے ہم سے بچھڑے ہوئے اٹھارہ برس گزر چکے ہیںلیکن اب تک یقین نہیں آتا کہ وہ ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ چکا ہے۔اب تک اس کی موت کا صدمہ کم نہیں ہوا۔ چند روز قبل ملتان میں رضی نے ادبی بیٹھک میں اس کی برسی کے حوالے سے خصوصی نشست منعقد کی ، جس کی تصاویر دیکھ کر وہ بے طرح یاد آنے لگا ۔گیارہ اکتوبر کو اس کی برسی تھی ۔ ذہن میں یادوں کے اوراق پھڑ پھڑانے لگے اور دل میں جیسے اگر بتیوں کا دھواں سا پھیل گیا ہے ۔ اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں