چلیںپرویز مشر ف کے حق میں آوازیں آنا شروع تو ہوئیںورنہ پچھلے کئی مہینوں سے سابق صدر کو اکیلا ہی ''تختۂ مشق‘‘ بنایا جا رہا تھا۔ مشرف کے بے حد قریبی لوگ ان سے دُور اور خاموش تھے۔ دیر آید درست آید کے مصداق پرویز مشرف کے اپنے دور کے حلیفوں کے ضمیر جاگے تو سہی۔ سُکھ کے ساتھیوں کو دکھ میں بھی اکٹھا نظر آنا چاہیے۔ چودھری برادران نے نہایت سنجیدگی سے غور طلب باتیں کیں ۔کہا جاتا ہے کہ چودھری شجاعت حسین کی اکثر باتیں ''پلّے ‘‘ نہیں پڑتیں مگر گزشتہ روز پرویز مشرف کے حوالے سے اُن کی گفتگوبڑی دو ٹوک اور واضح تھی۔چودھری شجاعت حسین نے پرانے حلیفوں میں سب سے پہلے بڑی '' شجاعت ‘‘سے حکومتی حلقوں کو باور کرایا کہ پرویز مشرف کے لیے ٖغدار کے الفاظ استعمال نہ کیے جائیں۔اگران کی کسی سابقہ ''خطا ‘‘کا تذکرہ بہت ضروری ہے تو آپ انہیں ''آئین شکن‘‘ قسم کے الزام سے نواز سکتے ہیں۔
چودھری پرویز الٰہی نے بھی کچھ اِسی قسم کی باتیں کی ہیں کہ '' اگر پرویز مشرف غدار ہے تو موجودہ مسلم لیگ نون اور پی پی کے وزیروں نے ان سے حلف کیوں لیاتھا؟‘‘ایم کیو ایم بھی کہتی ہے کہ مشرف کو مہاجر ہونے کی سزا دی جارہی ہے ،جبکہ عوام پی پی کے رہنمائوں کے بیانات پر انگشت بدنداں ہیں جنہوں نے سابق صدر مشرف کو گارڈ آف آنر کے ساتھ ایوانِ صدر سے رخصت کیاتھا۔
اِن دنوںپی پی کے بیشتررہنما پرویز مشرف کے خلاف بیان بازی جاری رکھے ہوئے ہیں،حالانکہ پی پی کے دورِحکومت میں مشرف ، ایوانِ صدر سے الوداع ہو کر بھی کچھ عرصہ اپنے فارم ہائو س میں مقیم رہے۔ کیا اُس وقت آرٹیکل6کی شق موجود نہیں تھی؟ نجانے کیوں پیپلز پارٹی کی حکومت نے پرویزمشرف پرنہ صرف یہ کہ کوئی مقدمہ نہیںبنایا بلکہ انہیں عزت کے ساتھ رخصت بھی کیا اور پھراپنے پانچ برس مکمل کرنے کے بعد ،پی پی کو ڈکٹیٹر یاد آگیا اور اس کی غداری بھی ۔
بہر حال پرویز مشرف اگر چاہتے تو وطن واپس نہ آتے۔ انہوں نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا۔وہ اگر دو چار سال منظر سے دُور رہ کر واپس آتے تو ملکی فضا مختلف ہونا تھی۔تاہم ان کا آناان کی ''غیردانشمندانہ دلیری ‘‘ کے زمرے میں آئے گا۔اب وہ بھاگنا بھی نہیں چاہتے تاکہ لوگ انہیں بعد میں دیگر بھاگنے والوں کی طرح طعنے نہ دیں۔اصل میں انہیں یہ گمان تک نہ تھاکہ مسلم لیگ نون بھرپور مینڈیٹ حاصل کر کے حکومت بنا لے گی او ر پھر کسی بھی وقت ان پر آرٹیکل 6کا اطلاق ہو سکتا ہے ۔سو اب وہ (مشرف) شکنجے میں ہیں۔تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر چہ وہ جلد یہاںسے رخصت ہو جائیںگے پھر بھی اُن کی بیماری ان کی شجاعت پر اثر انداز ضرور ہوئی ہے اور طعنے تو اب بھی انہیں سننے پڑرہے ہیں کہ وہ عدالت کا سامنا کرنے کی جرأت نہ کر سکے اور ہسپتال جا بیٹھے ہیں۔بیماری سے مفر ممکن نہیں لیکن انہیں اب یہیں رہ کر علاج کرانا چاہیے،یہی نہیں بلکہ انہیں عدالت کا سامنا بھی کرنا چاہیے، بھلے فیصلہ کچھ بھی ہوکیونکہ ان کے وکیلوں کے مطابق، ان پر جو الزامات ہیں اور خصوصاً غداری کے حوالے سے جو باتیں کی جارہی ہیںاس میں اکیلے وہ قصوروار نہیں ،ان کے ساتھ اور بھی بہت سے لوگ تھے۔چودھری صاحبان درست کہتے ہیں کہ اگر پرویز مشرف پر آرٹیکل 6لگایا جا رہا ہے تو پھر سابق آرمی چیف جنرل کیانی اور( ر) چیف جسٹس افتخار چودھری سمیت بہت سے ایسے وزراء اور سیاسی لیڈر بھی شاملِ مقدمہ کیے جائیںجو اِس وقت مسلم لیگ نون کی حکومت میں شامل ہیں۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ میاں صاحبان نے اگر پرویز مشرف کو معاف کر دیا تھا تو پھر اس مقدمے کی پیروی بھی نہ کرتے۔اب پرویز مشرف سے زیادہ موجودہ حکومت مشکلات کا شکار ہے۔
ادھر حالات پہلے ہی دگرگوں ہیں۔عام آدمی بجلی ،گیس کی لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہے اور حکومت ہے کہ لوگوں کو سودی قرض دے کر اپنا مقروض کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پالیسیاں ایسی بنائی جاتیں کہ زندگی آسان تر ہوتی مگر سخت سردی کے موسم میں بھی بجلی ،گیس غائب ہے۔جن کے گھر چولہے نہیں جلتے وہ کہاں جائیں۔کچھ لوگ تو ہوٹلوں سے کھانا لے آئیں گے مگر وہ جو اس کی سکت نہیں رکھتے وہ کیا کریں؟شیخ رشید کی بات میں وزن ہے کہ عام آدمی کو کسی ایک شخص کے مقدمے سے کوئی سروکار نہیں ، لوگ تو سکھ کے سانس کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں مگر انہیں کسی طرف سے بھی کوئی ریلیف نظر نہیں آتا۔
یہی حالت رہی تو لوگ طاہر القادری کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوں گے۔بھلے اُن کا ماضی کچھ بھی ہومگر اِس وقت شیخ رشید یا طاہرالقادری جو باتیں کرتے ہیں وہ عام لوگوںکے دلوں کی ترجمانی کرتی ہیں۔اب تو تبدیلی کے خواب دکھانے والے عمران خان بھی طاہر القادری کی بات نہ مان کر پچھتاتے نظر آتے ہیں۔
میاں شہباز شریف کا بیان آیا ہے کہ ان کے ڈنڈا دکھانے سے قیمتیں اعتدال پر آئی ہیں۔لوگ حیران ہیں کہ کس چیز کی قیمتیں کم ہوئی ہیں؟آلو کی فصل آنے سے کچھ فرق ضرور پڑا ہے ،باقی سبزیاں،ادرک ،ٹماٹر ،پیاز اور دیگر خوردنی اشیاء کی قیمتیں جوں کی توں ہیں، البتہ پٹرول مزید مہنگاہو رہا ہے۔بجلی کے بل لوگوں کی برداشت سے باہر ہو چکے ہیں۔گویا ایک طرف بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے اوپر سے بجلی کے بل کئی گنا زیادہ آرہے ہیں۔ لوگ بل لئے بجلی کے دفاتر میں دھکے کھا رہے ہیں اور ان کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ہر محکمے کا یہی حال ہے۔ آپ کسی دفتر چلے جائیں ،اوّل تو میز پر ٹوپی یا عینک پڑی ہو گی ،بندہ موجود نہیں ہو گا۔اگر ہو گا تو آپ کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔اِن حالات میں تبدیلی کے خواب کتنے اچھے لگتے ہیں !اور اگر طاہر القادری یا عمران خان نے سڑکوں پر عوام کو لا کھڑا کیا تو پھر کیا ہو گا؟یہ حکومت کو ہی نہیں ان چند خاندانوں کو بھی سوچنا چاہیے جو مدت سے یہاں کسی نہ کسی صورت میں کرتا دھرتا
بنے ہوئے ہیں۔حکمرانی ایک ذمہ داری کانام ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک امانت ہوتی ہے اگر اس کی حفاظت نہ کی جائے تو دوبارہ نہیں ملتی۔ اس حوالے سے ایک حکایت یاد آتی ہے: یوسف بن حسین کہتے ہیں مجھے بتایا گیا کہ حضرت ذوالنون مصریؒ اسمِ اعظم جانتے ہیں۔ میں مصر گیااور ایک سال ان کی خدمت کی۔ پھر گزارش کی: '' استادِ محترم ایک عرصے آپ کی خدمت بجا لارہا ہوں ،آپ نے اچھی طرح میری جانچ پڑتال کر لی ہے ،اب میرا آپ پر حق ہے۔ مجھے علم ہے کہ آپ اسمِ اعظم جانتے ہیں،میں چاہتا ہوں آپ مجھے اسم ِ اعظم سکھادیں کہ مجھ سے زیادہ کوئی اس امانت کا حق دار نہیں۔حضرت ذوالنون مصری کچھ دیر خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔گویا انہوں نے مجھے یہ اشارہ دیا کہ عنقریب بتا دیں گے۔چھ مہینے کے بعد انہوں نے مجھے ایک برتن دیا جو ڈھانپا ہوا تھا، فرمایا: ہمارے فلاں دوست کے پاس جائو اور برتن انہیں دے دینا۔ میں نے وہ برتن اٹھایا اور چلتا رہا۔ اسی سوچ میں غلطاں تھا کہ حضرت ذوالنون جیسا شخص تحفہ بھیج رہا ہے۔یہ کیا چیز ہو سکتی ہے؟مجھ سے صبر نہ ہوسکا۔ اسی دوران میںنیل کے پُل پر پہنچ گیاتھا، میں نے ڈھکن اٹھایا تو ایک چوہے نے چھلانگ لگائی اور میرے منہ پر آپڑا۔ مجھے سخت غصہ آیا۔ میں نے کہا،حضرت ذوالنون بھی عجیب آدمی ہیں، مجھ سے مذاق کرتے ہیں۔ غصہ میں بھرا ہوا واپس آیا۔ جب آپ نے مجھے اس حالت میں دیکھا تو بھانپ گئے ، فرمایا: احمق ! ہم نے ایک چُوہا بطور امانت دے کر تجھے آزمایا لیکن تم اس پر پورے نہ اترے، اسمِ اعظم جیسی امانت کی حفاظت کیسے کر سکوگے؟