ایک خوددار سرکاری افسر کا معاملہ

کرامت بخاری بہت اچھے شاعر ہی نہیں نہایت شریف النفس انسان بھی ہیں۔ وہ اتنے سادہ اور معصوم ہیں کہ اِس صدی کے آدمی نہیں لگتے۔ وہ پڑھ لکھ کر اپنی ذہانت اور محنت کے بل پر افسر تو بن گئے مگر معاملہ وہی رہا بقول مرتضیٰ برلاس:
دوستوں کے حلقے میں ہم وہ کج مقدر ہیں
افسروں میں شاعر ہیں‘ شاعروں میں افسر ہیں
کرامت بخاری پچھلے کچھ عرصے سے اپنے افسران کے زیر عتاب ہیں۔ ان کی نہ صرف ترقی روک دی گئی بلکہ کئی ماہ سے انہیں ''کھڈے لائن‘‘ لگا کر ان کی تنخواہ بھی بند کر دی گئی ہے۔ ان کا قصور صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ ایک شریف آدمی ہیں اور ان کا کوئی سیاسی حوالہ نہیں‘ جس کی بنا پر وہ اپنے گریڈ کے مطابق پوسٹنگ حاصل کر سکیں۔ ہم حیران ہیں کہ بہت سے کالم نگار دوستوں نے اُن کے لیے آواز بھی اٹھائی مگر یہ آواز چونکہ ایک شاعر کے لیے تھی‘ اس لیے اس پر کان نہ دھرے گئے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی ایک بے لوث کالم نگار ہی نہیں دردمند انسان بھی ہیں۔ ادبی قبیلے کا کوئی فرد کسی مسئلے کا شکار ہو جائے وہ اس کے لیے آواز اٹھانے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔ انہوں نے بھی بڑی درد مندی سے کرامت بخاری کا مسئلہ وزیر اعظم محمد نواز شریف تک پہنچایا ہے۔ توقع رکھنی چاہیے کہ کرامت بخاری کو اور نہیں تو کم ازکم پوسٹنگ ضرور مل جائے گی۔ اجمل نیازی نے کرامت بخاری کا خط کالم میں شامل کیا اور وزیر اعظم سے ذاتی طور پر استدعا کرتے ہوئے لکھا کہ ''وزیر اعظم میرے لیے تھوڑا بہت لحاظ بھی رکھتے ہیں‘ ان سے گزارش ہے کہ وہ محبت بھرے دل سے ایک بار یہ باتیں پڑھ لیں‘‘۔
مجھے کرامت بخاری کے ساتھ ڈاکٹر اجمل نیازی کی سادگی پر ''پیار‘‘ آ رہا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ وزیر اعظم ان کا کالم پڑھتے ہوں گے اور وہ کرامت کی کہانی پڑھتے ہی اس پر فی الفور کوئی آرڈر فرما دیں گے۔ ہمارے خیال میں کام ایسے نہیں ہوتے۔ کرامت بخاری نے مجھے کالم کے لیے نہیں کہا اور مجھے پتہ ہے‘ ایسے کالموں سے کوئی اثر بھی نہیں ہوتا۔ کام کرانے کا صحیح طریقہ وہی ہے جو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنایا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو گھر بلایا اور فی الفور اپنے گھر کے سامنے پارک کے قابضین کا معاملہ ان کے روبرو پیش کر دیا۔ میاں صاحب نے بھی فوراً اس پارک کو قابضین سے چھڑوانے کا فرمان جاری کر دیا۔ یقیناً اب تک عمران خان کا وہ مسئلہ حل ہو چکا ہو گا۔ کتنے ہی لکھنے والے کرامت بخاری کو ایک دیانتدار افسر قرار دے چکے ہیں۔ ادھر کئی محکموں میں میرٹ پر افسر تعینات کرنے کے لیے مسلم لیگ نون بھی چھان بین میں مصروف ہے کہ کب کوئی شریف النفس افسر اُن کے میرٹ پر پورا اترے تو وہ ان کو بعض محکموں کی خالی نشستوں پر تعینات کر سکیں۔ کرامت بخاری براستہ اجمل نیازی صدر ممنون سے بھی اپیل کر چکے ہیں۔ ہو سکتا ہے اب ان کا کام ہو جائے لیکن ہمارے ایک اور شاعر دوست کا خیال ہے کہ پاکستانی افسران کو سفارش سے رام کرنا آسان نہیں، انہیں یا تو ''بریف کیس‘‘ سے موم کیا جا سکتا ہے یا پھر سفارشی ''چٹی چمڑی‘‘ والا ہو تو فوراً کام ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کرامت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی امریکی یا برطانوی سرکاری افسر کا کوئی قصیدہ لکھ کر اسے سفارش پر مائل کریں تو شاید ان کا کام ہو جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ جہاں تک کالم نگاروںکے لکھنے کا تعلق ہے تو اس میں شاعر کالم نگار کچھ ایسے کارگر بھی نہیں؛ البتہ جن کے کالم شائع ہونے سے پہلے حکمران پڑھ لیتے ہیں ان کی بات اور ہے۔ بھائی کرامت بخاری! اگر مجھے یقین ہوتا کہ آپ کا کام اجمل نیازی کے کالم کے بعد ضرور ہو جائے گا تو میں کبھی آپ کا تذکرہ بھی نہ کرتا۔ مجھے علم ہے کہ آپ کو اس کے لیے کوئی اور راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ اس لیے یہ گلہ نہ کرنا کہ میں نے آپ کا کام بگاڑ دیا ہے اور تمہیں ایک اور شوکاز نوٹس مل گیا ہے، تم اپنے محکمہ سے خود ہی ریٹائرمنٹ لے لو۔ع
ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو
کیونکہ پاکستان میں انصاف کے لیے خود کو آگ لگانے کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور اس کا مشورہ تو میں آپ کو نہیں دے سکتا کہ شاعر تو پہلے ہی ایک آگ میں جل رہے ہوتے ہیں۔ یہ بے رحم معاشرہ شاعر کو جتنی اہمیت اور عزت دیتا ہے آپ اس سے بھی بخوبی آگاہ ہیں۔ وہ اور ہی حکمران ہوتے تھے جو راتوں کو گلیوں میں بھیس بدل کر پھرتے اور رعایا کے دکھ درد اور مسائل سے آگاہ ہو کر ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتے تھے۔ پھر آپ ٹھہرے ایک نفیس اور بھلے مانس شاعر، بھلا طوطی کی نقارخانے میں کون سنتا ہے۔ کانوں سے بہرے لوگوں کے آگے چیخنا بے سود ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو آپ سے ناانصافی کر رہے ہیں‘ انہیں دراصل اپنی موت بھولی ہوئی ہے۔ وہ اپنی انا کے لیے ایک شاعر کو اذیت دے رہے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ اِس وقت خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کا واقعہ یاد آرہا ہے۔
'' آپ اپنی صاحب زادیوں کی خیریت معلوم کرنے تشریف لے گئے، والد کی آہٹ پا کر بیٹیاں خیرمقدم کے لیے دروازے تک آ گئیں۔ اُن کے چہروں کی زردی باپ کے لیے نئی بات نہ تھی لیکن یہ ضرور اچنبھا تھا کہ انہوں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔ کیا بات ہے؟ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے دریافت کیا۔ لڑکیاں کچھ نہ بولیں تو انا نے جواب دیا: ''آج اِن بچیوں نے صرف پیاز اور مسور کی دال سے پیٹ بھرا ہے، گھر میں کھانے کو اور کچھ تھا ہی نہیں۔ پیاز کی بُو چھپانے کے لیے منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں۔ شفیق باپ کو معصوم بچیوں کے اس ایثارِ نفس نے تڑپا کر رکھ دیا۔ خلیفہ وقت کی آنکھیں نم ہو گئیں اور دل بھر آیا ۔انہوں نے کہا: اے میری بیٹیو! یہ کچھ مشکل نہیں کہ تمہارا دسترخوان انواع و اقسام کے لذیذ کھانوں سے بھر دیا جائے مگر کیا تم پسند کرو گی کہ اس کے بدلے تمہارا باپ دوزخ کی آگ میں ڈالا جائے؟ باپ کا یہ کہنا تھا کہ صاحب زادیوں کے ضبط کا بند ٹوٹ گیا۔ آنکھیں اشکوں سے تر ہو گئیں۔ یہ گریہ غم نہیں تھا‘ اس میں شکایت کی تلخی بھی نہیں تھی۔ یہ تو خاموش جواب تھا۔ پدرِ بزرگوار کے سوال پر ہر آنسو پکار رہا تھا، نہیں، ہمیں وہ راحتیں درکار نہیں جن کے عوض ہمارا شفیق اور مہربان باپ دوزخ کی آگ میں ڈالا جائے‘‘
کوئی بتائے کہ کرامت بخاری کی کئی ماہ سے تنخواہ بند کر کے کون سا انصاف کیا جا رہا ہے؟ اس مہنگائی کے دور میں ایک دیانتدار سرکاری ملازم کو آخر کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟ ہے کوئی اس سوال کا جواب دینے والا؟ کیا اس بات کا احساس کرنے والا کوئی ہے کہ ایک حساس اور خوددار سرکاری افسر کس طرح گزارہ کر رہا ہو گا؟ صدر یا وزیر اعظم کو وقت ملے تو وہ اس پر ضرور غور کریں کہ خدانخواستہ کرامت بخاری کی جگہ وہ خود ہوتے تو کیا سوچ رہے ہوتے۔ بلاتبصرہ یہ شعر آپ کی نذر ؎
یا اپنے پائوں پر مجھے گرنے سے روک دے
یا میری لغزشوں کو عبادت شمار کر

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں