نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مسلح افواج کایواین کے 76ویں عالمی دن پرنیک خواہشات کااظہار
  • بریکنگ :- پاک فوج امن کیلئےخدمات میں ہمیشہ پیش پیش رہی،آرمی چیف
  • بریکنگ :- ہمارےجوانوں نےہرآزمائش کی گھڑی میں قربانیاں دی ہیں،آرمی چیف
  • بریکنگ :- امن کیلئےانسانیت کی خدمت کےحوالےسےنمایاں تاریخ ہے،آرمی چیف
  • بریکنگ :- ہمارےجوانوں کی قربانیاں ہمارےغیرمتزلزل عزم کی مثال ہیں،آرمی چیف
  • بریکنگ :- عالمی امن کےفروغ کیلئےہماری قربانیاں دنیاکےسامنےہیں،آرمی چیف
Coronavirus Updates

تاریخ‘ تدبیر اور سزا

دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا تھا‘ روس بیرونی محاذ پر اب فاتح گروہ Entente پاورز کا حصہ تھا، اس سے قبل 1917ء میں کمیونزم کے بانی کارل مارکس کی 1867ء میں لکھی گئی کتاب کے منشور کے تحت کمیونسٹ انقلاب برپا ہو چکا تھا۔ اس انقلاب کو روکنے کے لیے برطانیہ، امریکا اور فرانس نے پوری کوشش کی تھی مگر انقلاب آ کر رہا۔ مغربی طاقتوں نے اس نئے طرزِ سیاست‘ جس میں معاشی مساوات کو مرکزی حیثیت حاصل تھی‘ کو اپنے سرمایہ دارانہ نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا لیکن چونکہ یہ نظام ابھی صرف ایک ملک میں آیا تھا اور ابھی اس کے نتائج یعنی کامیابی یا ناکامی کا تعین ہونا بھی باقی تھا‘ اس لیے اس معاملے کو زیادہ نہیں اٹھایا گیا۔ یہ انقلاب کامیابی کی طرف بڑھ رہا تھا مگر اسی دوران امریکا اور دیگر بڑی مغربی طاقتوں کا دھیان جرمنی کی طرف مرکوز ہو گیا کیونکہ ہٹلر کی قیادت میں جرمنی ایک بڑی طاقت اور پوری دنیا کے لیے خطرہ بن کر ابھر چکا تھا‘ یہاں تک کہ دوسری عالمی جنگ شروع ہو گئی جس میں روس یعنی سوویت یونین نے نازی جرمنی کو شکست سے دوچار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر دنیا میں نوآبادیاتی نظام کا خاتمہ ہوا اور صرف دو عالمی طاقتیں‘ سوویت یونین اور امریکا باقی بچی تھیں، جس کو دو قطبی یعنی Bi-Polar دنیا کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اس وقت کی دنیا کا نیا عالمی آرڈر تھا۔ اب سوویت یونین اور امریکا کے درمیان کمیونزم اور کیپٹل ازم کے نظاموں کی بنیاد پر سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ سوویت یونین نئے طرزِ سیاست و معیشت کو پھیلانا جبکہ امریکا ہر صورت اس کا راستہ روکنا چاہتا تھا۔ اسی جنگ کے چکر میں تقریباً پوری دنیا سرخ اور سبز جھنڈوں تلے تقسیم ہو چکی تھی۔
جب پاکستان ایک مسلم ریاست کے طور پر آزاد ہوا تو اس سے پہلے ہی سرد جنگ کے بگل بج چکے تھے اور پہلا فیصلہ پاکستان کو یہی کرنا تھا کہ دونوں عالمی طاقتوں کے بلاکس میں سے کس کو جوائن کیا جائے۔ دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے پاکستان کو مدعو کیا جا چکا تھا۔ برطانوی دور کی باقیات میں سے ایک تلخ حقیقت طاقتور بیورو کریسی تھی جس کا مغرب کی طرف واضح جھکائو تھا۔ اس وقت وزیراعظم لیاقت علی خان نے روس کے بجائے امریکا کا دورہ کرنا مناسب سمجھا مگر قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد‘ پاکستان مکمل طور پر امریکی بلاک کا حصہ بن گیا۔ اسی چکر میں روس مخالف دو امریکی اتحادوں سیٹو اور سینٹو کا حصہ بھی بنا لیکن ایک بات بہت اہم تھی‘ وہ یہ کہ چونکہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست کے طور پر ابھرا تھا اور اسلامی نظریۂ معیشت سرمایہ دارانہ اور اشتراکیت‘ ہر دو نظاموں سے مختلف تھا‘ اس لیے روس اور امریکا‘ دونوں کو یہ بات زیادہ پسند نہیں تھی کہ کوئی تیسرا نظام ان کے مدمقابل آئے۔ بظاہر امریکا پاکستان کے ساتھ تھا مگر 1971ء کی جنگ سے پہلے جو حالات پیدا ہو رہے تھے‘ ان میں روس اور امریکا کا اتفاق تھا کہ پاکستان کے پر کاٹ دیے جائیں اور مشرقی پاکستان کو علیحدہ کر دیا جائے، اسی لیے 1971ء کی جنگ میں امریکا‘ سوویت یونین کی جانب سے بھارت کا مکمل ساتھ دینے جانے کے باوجود‘ صرف وعدوں کی حد تک پاکستان کے ساتھ رہا اور پاکستان اپنے حکمرانوں کی مجرمانہ غفلتوں، بھارت کی بھرپور مداخلت اور روس اور امریکا کی درپردہ سازشوں کے نتیجے میں دولخت ہو گیا۔ محض چار سال بعد مشرقی پاکستان کا ہیرو‘ شیخ مجیب اپنی ہی فوج میں موجود غیر ملکی ایجنٹوں کے ہاتھوں ہلاک کر دیا گیا۔ اس کے بعد 1979ء کا سال انتہائی اہم تھا جب سوویت یونین اپنی فوجوں کی شکل میں افغانستان میں داخل ہوا اور صاف لگنے لگا تھا کہ پاکستان اس کا اگلا ہدف ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے اپنی بقا اور امریکہ کے لیے پراکسی جنگ‘ بھرپور امریکی معاونت سے لڑنا شروع کر دی۔ اس جنگ میں تقریباً تمام مسلم ممالک امریکی بلاک کا حصہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی بھرپور مدد کو آئے۔ مالی مدد کے علاوہ مسلم دنیا سے عام لوگ بھی اس جنگ میں عملی طور پر شریک ہوئے۔ اسامہ بن لادن بھی اسی جنگ کا ایک کردار تھے‘ جنہیں فریڈم فائٹر کے طور پر پیش کیا گیا۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو امریکا نے یہ باور کرا کے اپنے ساتھ ملایا ہوا تھا کہ اگر سوویت ریچھ ان کے ملکوں میں داخل ہوا تو ان کی بادشاہتیں جاتی رہیں گی۔ اسی طرح پاکستان میں ڈکٹیٹر ضیاء الحق کی شکل میں کسی بادشاہ سے بھی زیادہ طاقتور حکمران امریکیوں کی نہ صرف اس جنگ میں پوری مدد کر رہا تھا بلکہ بہت سارے ایسے اقدامات بھی کیے گئے جن کا خمیازہ آج بھی بھگتا جا رہا ہے۔ امریکی کتنی دور کی سوچ رکھتے اور پلاننگ کرتے ہیں‘ اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ سوویت یونین کی شکست اور پھر اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد امریکا نے افغانستان میں لڑنے والے جنگجوئوں کو فریڈم فائٹرز اور مجاہدین کے بجائے دہشت گردوں کا ٹائٹل دینے میں زیادہ وقت نہیں لگایا۔ مختلف جنگجو گروپوں کو ان کے اپنے ممالک میں اپنی ہی حکومتوں کے خلاف کھڑا کر دیا گیا۔ اب امریکا پوری دنیا میں واحد عالمی طاقت کے طور پر حکمرانی کرنے لگا۔ نیو ورلڈ آرڈر کے تحت مسلم دنیا کو یکے بعد دیگرے حملوں اور انتشار کا شکار کر دیا گیا۔ یہ سلسلہ 1990-91ء سے ہی شروع کر دیا گیا تھا۔ ایک امریکی پروفیسر کے ''تہذیبوں کے ٹکرائو‘‘ کے خود ساختہ نظریے کے تحت‘ مسلم دنیا اور چین کو مغربی دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا جا چکا تھا۔ اسی طرح نائن الیون کے مشکوک حملوں کے بعد امریکا مسلم دنیا پر قہر بن کر ٹوٹا اور افغانستان میں نیٹو افواج کے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔ بالآخر بیس سال کے بعد‘ اب یہ جنگ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
سوویت یونین کے انہدام کے بعد سے امریکا بلاشرکت غیرے دنیا کا حکمران بن بیٹھا تھا، وقت کا پہیہ چلتا رہا، اسی دوران چین دن دگنی‘ رات چوگنی ترقی کی عملی شکل کے طور پر ابھرا‘ یہاں تک کہ 2010ء تک امریکا کو آنکھیں دکھانے والی ایک طاقت بن گیا اور دنیا دوبارہ کثیر قطبی ہو گئی؛ تاہم اب دنیا دوبارہ بائی پولر سٹیج سے یونی پولر کی طرف بڑھ رہی ہے کیونکہ چین نے فی کس قوتِ خرید کے معیار کی بنیاد پر امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، 2026ء تک چین کل قومی پیداوار کے معیار کی بنیاد پر بھی امریکا کی عالمی سربراہی ختم کرنے کے درپے ہے۔ اب ماہرین بجا طور پر ایک نئے عالمی آرڈر پر یقین رکھتے ہیں۔ اس نئے عالمی آرڈر سے ایک نئی سرد جنگ شروع ہو چکی ہے۔ اس دفعہ سوویت یونین کے بجائے چین امریکا کے مدمقابل ہے لیکن چین کی عالمی پالیسی سوویت یونین سے یکسر مختلف ہے۔ چین‘ سوویت یونین کے برعکس‘ بلکہ یوں کہا جائے کہ اس کی تاریخ سے سبق حاصل کرتے ہوئے‘ عسکری چڑھائی کرنے کے بجائے دیگر ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات قائم کر رہا ہے۔ اسی طرح‘ سوویت یونین کے برعکس چین کسی بھی ملک کے سیاسی یا معاشی نظام کو بدلنے کی کوشش تو درکنار‘ اس کا ذکر کرنا بھی مناسب خیال نہیں کرتا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگرچہ سیاسی طور پر تاحال سوشل ازم (جو کمیونزم کی نرم شکل ہے) کے نظام ہی کو لاگو کیے ہوئے ہے؛ تاہم چین نے اپنے ملک میں معاشی تبدیلیاں کرتے ہوئے تمام کاروباری آزادیاں دی ہوئی ہیں۔ اب چین ون بیلٹ‘ ون روڈ منصوبے کے تحت ایشیا، یورپ اور افریقہ کو زمینی اور سمندری راستوں کے ذریعے ایک معاشی بلاک میں شامل کر رہا ہے۔ چین کے معاشی و عسکری طاقت کے طور ابھرنے کا سب سے زیادہ فائدہ بلاشبہ پاکستان کو ہوا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سی پیک منصوبے کا گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے بننا ہے۔ اس منصوبے کی وجہ سے ہونے والی تجارت سے چین کو دس ہزار کلومیٹر کی سفر کی طوالت اور لگ بھگ تیس دن کے وقت کی بچت ہو گی۔ اسی لیے اپنے کسی کمال یا تدبیر کے بجائے‘ محض اپنی لوکیشن اور بھارت کی چین سے احمقانہ مخاصمت کی وجہ سے پاکستان چین کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ چین نے اب ایران کے ساتھ بھی طویل مدتی تجارتی معاہدہ کر لیا ہے۔
تاریخ نے نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر مسلم ممالک کیلئے بھی ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے کا موقع پیدا کر دیا ہے۔ اس موقع سے مکمل فائدہ نہ اٹھانا کبھی نہ معاف ہونے والی غلطی ہو گی۔ تاریخ کا ایک سبق بہت واضح ہے کہ قوموں کو مواقع بہت مشکل سے ملتے ہیں؛ البتہ ان موقع سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کو سزا ضرور مل کر رہتی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں