نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مسلح افواج کایواین کے 76ویں عالمی دن پرنیک خواہشات کااظہار
  • بریکنگ :- پاک فوج امن کیلئےخدمات میں ہمیشہ پیش پیش رہی،آرمی چیف
  • بریکنگ :- ہمارےجوانوں نےہرآزمائش کی گھڑی میں قربانیاں دی ہیں،آرمی چیف
  • بریکنگ :- امن کیلئےانسانیت کی خدمت کےحوالےسےنمایاں تاریخ ہے،آرمی چیف
  • بریکنگ :- ہمارےجوانوں کی قربانیاں ہمارےغیرمتزلزل عزم کی مثال ہیں،آرمی چیف
  • بریکنگ :- عالمی امن کےفروغ کیلئےہماری قربانیاں دنیاکےسامنےہیں،آرمی چیف
Coronavirus Updates

کلیش ٹو کریش

مغربی دنیا نے صنعتی انقلاب کے بعد اپنی کئی گنا زیادہ پیداوار کو بیچنے کے لیے نئی مارکیٹوں کی تلاش میں ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکا کو اپنے زیرِ تسلط کرلیا جسے نوآبادیاتی نظام یعنیColonization کہا جاتا ہے۔ مغربی دنیا نے نہ صرف معاشی مفادات حاصل کرنے کے لیے اپنے زیر تسلط ممالک‘ جنہیں کالونی کہا جاتا تھا‘ کا استحصال کیا بلکہ ان ملکوں کے کلچر کے ساتھ بھی ہر ممکن حد تک چھیڑ چھاڑ کی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد‘ یہ سلطنتیں بظاہر تو زیر قبضہ ممالک کو آزادی دے کر چلی گئیں مگر ایک ہتھیار کے ذریعے انہیں کنٹرول کرنے کی روش اب بھی برقرار ہے، یہ ہتھیار میڈیا ہے جس کی بدولت تاحال مغرب اپنی مرضی کا اور اپنے مفادات کے مطابق ایجنڈے کا نفاذکرتا نظر آتا ہے۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد جب امریکا واحد عالمی طاقت بن کر ابھرا تو اس نے ایک خود ساختہ ''تہذیبوں کے ٹکرائو‘‘ کا نظریہ پیش کیا۔ اس نظریے میں یہ تصور پیش کیا گیا کہ مغربی تہذیب کا ٹکرائو مسلم اور چین کی تہذیب سے ہو سکتا ہے، حالانکہ مغرب پچھلے تین سو سالوں سے دنیا بالخصوص ایشیا پر کلچرل جنگ مسلط کیے ہوئے ہے۔ اس ثقافتی یلغار میں وہ مشرقی معاشروں میں موجود خاندانی نظام اور مذہب کو نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ اسی طرح وہ چین کی برتری کو مان لینے کے بجائے اپنا تمام وقت اور وسائل کمیونزم اور سوشل ازم کے خلاف بولنے پر ضائع کر رہا ہے۔ آپ سوشل میڈیا سائٹس پر سرچ کریں تو چین کے خلاف لیکچرز اور مباحثوں کی نہ ختم ہونے والی فہرست نظر آئے گی۔
ویپن آف ماس ڈیسٹرکشن کی طرز پر مغربی میڈیا کے حوالے سے ویپن آف ماس ڈیسیپشن کی اصطلاح عام ہے‘ جو یہ بیان کرتی ہے کہ اس کے ذریعے کیسے وسیع پیمانے پر دھوکا دیا جا سکتا ہے، چاہے غلط خبر ہو‘ اسے ایسے پھیلایا جائے گا کہ حقیقت کا گمان ہو گا، بیان سازی، جسے بیانیے کی جنگ بھی کہا جاتا ہے‘ مغربی میڈیا کا سب سے عام ہتھیار ہے‘ اس کے علاوہ فلموں اورٹی وی سیریز وغیرہ کے ذریعے ذہن پر قابض ہونے کی کوشش کی جائے گی۔ یہاں عراق پر امریکا کے حملے کو ذہن میں لائیں۔ جس کے بارے میں بعد ازاں تسلیم کیا گیا تھا کہ یہ حملہ غلط اطلاعات کا نتیجہ تھا۔ عراق ہی کے سابق ڈکٹیٹر حکمران صدام حسین کا ایک مشہور ِ زمانہ جملہ یاد آتا ہے۔ اس نے کہا تھا کہ اگر آپ کا ٹی وی خراب ہو جائے تو آپ اس میری تصویر لگا لیں۔ مطلب صاف تھا کہ جب ٹی وی ٹھیک ہو گا تب بھی اس پر میری ہی خبریں چلیں گی۔ شمالی کوریا،خلیجی اور دیگر بہت سے ممالک میں یہ چلن آج بھی رائج ہے۔
یہاں ایک اہم بات کا ذکر بہت ضروری ہے کہ کمزور اور کرپٹ حکومتیں اپنی خامیوں کو چھپانے کے لیے میڈیا کا سہارا لیتی ہیں، توجہ ایشوز سے ہٹا کر نان ایشوز پر مبذول کرنا ایک اہم حربہ ہے۔ جنوبی ایشیا میں کرکٹ جنون کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں اپوزیشن کی جانب سے وفاقی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان ہو چکا تھا، اسی دوران 1992ء کاکرکٹ کا ورلڈ کپ بھی جاری تھا اور سرکاری ٹیلی وژن پر اس وقت صرف پاکستان کے میچز ہی دکھائے جا رہے تھے مگر وزیراعظم صاحب نے خصوصی حکم جاری کیا کہ ورلڈ کپ کے تمام میچز روزانہ کی بنیاد پر براہِ راست اور بعد ازاں ان کی جھلکیاں بھی ضرور نشر کی جائیں۔ مقصد یہ تھا کہ اپوزیشن کے لانگ مارچ کو ناکام کیا جاسکے، حکومت اس پالیسی میں کامیاب بھی رہی۔ آج بھی دنیا میں کرکٹ کی سب سے بڑی ٹی ٹونٹی لیگ بھارت میں کھیلی جاتی ہے، اسی طرح دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری کا حامل بھی بھارت ہے جہاں کورونا سے قبل‘ 2019ء میں 2446فیچر فلمیں بنائی گئی تھیں۔یہاں بھارت کی ایک فلم کا ایک جملہ برمحل ہے جو ان باتوں کا احاطہ خوب طریقے سے کرتا ہے۔ سٹوری کچھ یوں تھی کہ ایک دور دراز علاقے میں کسی بڑے غنڈے کا راج تھا اور مقامی پولیس اس کی ذاتی فورس کی حیثیت رکھتی تھی‘ اس کے علاقے میں شہر سے آئے کچھ نوجوانوں کا قتل ہو جاتاہے میڈیا پر بھی اس کیس کو خوب زور و شور سے اچھالا جا تاہے جس پر تحقیقات کے لیے دو بڑی تحقیقاتی ایجنسیوں کے افسران کو وہاں تحقیقات کیلئے بھیجا جاتا ہے، وہ افسران جب تحقیقات کرتے کرتے اس غنڈے تک پہنچتے ہیں تو وہ کہتا ہے '' کوئی بات نہیں جتنا بھی شور برپا ہے‘ بھارتی کرکٹ ٹیم کے صرف ایک میچ جیتنے کی دیر ہے‘ لوگ سب کچھ بھول جائیں گے‘‘۔
اب آپ پاکستان میں بیانیے کی جنگ پر غور کریں‘ آپ ہر سیاسی شخصیت کو یہی بات کرتے پائیں گے کہ اگر پاکستان میں جمہوریت کا سلسلہ نہ رکتا تو ملک ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو چکا ہوتا مگر جیسے ہی کرپشن کی بات کی جائے گی تو یہ کہنا شروع کر دیا جائے گا کہ یہ سب محض الزامات ہیں۔ اگر آپ کو ان باتوں میں کسی قدر صداقت نظر آتی ہے تو تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ یہی نکتہ کوئی پانچ سال پہلے میں نے بھارت کے مشہور صحافی کلدیپ نائر کے سامنے ایک سوال کی صورت میں اٹھایا تھا جس پر وہ لاجواب ہو گئے تھے۔ میں نے ایک ٹی وی شو میں‘ جس میں وہ بذریعہ ٹیلی فون شرکت کر رہے تھے‘ ان سے سوال کیا کہ پاکستان کے باب میں آپ جمہوریت ڈی ریل ہونے کو الزام دے سکتے ہیں مگر بھارت میں تو کبھی جمہوریت پٹری سے نہیں اتری‘ پھر بھارت ستر سالوں میں ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ملک کیوں نہیں بن گیا؟ میرا اشارہ دونوں ملکوں کے اصل مسئلے یعنی ہر سطح پر موجود کرپشن کی دیوی کی طرف تھا۔ برصغیر سمیت تیسری دنیا کی اصل دشمن کرپشن ہے، تعلیم کا ترجیحات میں شامل نہ ہونا اصل مسئلہ ہے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات اور رجحانات پر حال ہی میں ایک ریسرچ آرٹیکل شائع ہوا ہے جس میں یہی بات بیان کی گئی ہے کہ عالمی طاقتیں جنوبی ایشیا جیسے ممالک میں ہمیشہ کرپٹ سیاسی حکمرانوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے ادارے بجلی مہنگی کرنے، تنخواہیں نہ بڑھانے اور سبسڈی ختم کرنے جیسے مطالبے تو کرتے نظر آتے ہیں مگر کبھی کرپشن کو ختم کرنے پر زور نہیں دیں گے۔ یہی صورتحال مغربی طاقتوں کی ہے کہ وہ پاکستان میں انسانی حقوق، خواتین کے مقام اور اقلیتوں کے حقوق پر دھمکیوں جیسے پیغامات تواترسے دیتی نظر آئیں گی مگر کبھی کرپشن کی روک تھام کا نام نہیں لیں گی۔ حالانکہ انہیں بخوبی پتا ہے کہ جس ملک میں کرپشن سے آنکھیں بند رکھی جائیں گی‘ وہاں ترقی تو درکنار کبھی استحکام بھی نہیں آ سکے گا۔ اور یہی وہ طریقہ ہے جس کی بدولت وہ ایسے ممالک کو اپنا مطیع رکھیں گی۔ سوویت یونین کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی کے ایک اعلیٰ افسر نے اس قسم کے سیاسی حکمرانوں کو Political Prostitutesکا نام دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اسی طرح کے حکمرانوں کی بدولت ہم ملکوں میں حکومتیں الٹتے تھے۔ یہ انکشاف بھی اسی نے کیا تھا کہ بھارت کے نہرو خاندان کو خوش کرنے کیلئے کئی اہم سیاسی لیڈروں کا قتل کرایاگیا تھا۔ بھارتی وزیراعظم شاستری کا قتل ان میں سب سے اہم ہے۔ اس موضوع پر بھارت میں The Tashkent Files کے نام سے ایک فلم بھی بنی ہے۔
دہشت گردی کی لہر میں عالمی میڈیا نے مسلم ممالک پر مسلط جنگ کا ذکر کرنے کے بجائے مسلمانوں کو ہی دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ افغانستان میں اقتدار میں آنے کے بعد طالبان کے سوشل میڈیا اکائونٹس بلاک کیے جا رہے ہیں اور ان کے حق میں لگائی جانے والی پوسٹوں کو بھی ہٹایا جا رہا ہے۔ یہاں پر اظہارِ رائے کا اصول اور بھاشن کہاں جاتا ہے؟ اہم بات یہ ہے کہ اگر طالبان کا بندوق کے زور پر نفاذِ شریعت غلط ہے تو امریکا کا ڈرون حملوں کے ذریعے جمہوریت کا نفاذ کس طرح جائز ہے؟ گزشتہ کالم میں بھی یہی نکتہ بیان کیا تھا کہ بیشتر مغربی میڈیا صرف وہ دکھاتا ہے جس کی مدد سے وہ آپ کی سوچ پر قابض ہو سکے تاکہ آپ وہی سوچیں اور دیکھیں جو وہ چاہتا ہے۔ آج کے مغربی میڈیا کا ایک ہی مقصد ہے کہ تہذیبوں کے تصادم کے نظریے کی آڑ میں وہ مشرقی ممالک کی تہذیبوں کو کریش کر سکے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں