نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- حکومت کاپٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقراررکھنےکافیصلہ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:وزارت خزانہ کی جانب سےنوٹیفکیشن جاری
  • بریکنگ :- ہائی اسپیڈڈیزل کی قیمت 142روپے 62 پیسےفی لٹربرقرار،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پٹرول کی فی لٹرقیمت 145روپے 82 پیسےبرقرار،نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- لائٹ ڈیزل کی قیمت 114روپے 7 پیسےفی لٹرکی سطح پربرقراررہےگی
  • بریکنگ :- مٹی کےتیل کی قیمت 116روپے 53 پیسےفی لٹربرقرار، نوٹیفکیشن
Coronavirus Updates

کیا انسان نظرِ ثانی کرے گا؟

یہاں تو آپ نے انسانی سوچ ، اپروچ اور رویوں میں تبدیلی کا حشر دیکھ لیا۔ پیر کے روز ملک بھر میں لاک ڈائون نرم ہوا تو بازاروں سے لے کر قومی اسمبلی تک بیچارے ایس او پیز کو غیر ضروری بوجھ سمجھتے ہوئے نظر انداز کر دیا گیا۔ دنیا میں بہت سی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور کئی تبدیلیوں کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ امریکہ میں صرف ایک ماہ میں دو کروڑ سے اوپر لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ اس بے روزگاری کا سب سے زیادہ اثر عورتوں، نوجوانوں اور رنگ دار لوگوں پر پڑا ہے۔ ایک پرانی کہاوت ہے کہ ہر چیز پر زوال آ سکتا ہے، مگر کھانے پینے کا کاروبار کبھی ماند نہیں پڑ سکتا۔ اور یوں بھی امریکی لوگ کھانے پینے کے بہت شوقین ہیں‘ مگر وہ تمام ریستوران وہاں بند ہیں‘ جہاں امریکہ میں بسنے والے کھانے پینے کے لیے اکٹھے ہوتے تھے۔ سعودی عرب کی معیشت دنیا کی چند مضبوط ترین معیشتوں میں شمار ہوتی تھی۔ روایتی طور پر سعودی حکومت ہمیشہ اپنے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینے پر یقین رکھتی ہے مگر پیر کے روز سعودی عرب میں بھی ٹیکس تین گنا تک بڑھا دیئے گئے ہیں‘ اور سعودیوں کو دیا جانے والا مہنگائی الائونس بھی بند کر دیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں لاکھوں ورکرز بے روزگار ہو گئے ہیں جن میں زیادہ تر غیر ملکی ہیں۔ ایک ثقہ اطلاع کے مطابق کم از کم ایک لاکھ پاکستانی کارکن بے روزگار ہو گئے ہیں جنہوں نے پاکستانی سفارت خانے میں وطن واپسی کے لئے رجسٹریشن کروائی ہے۔ 
عام ورکرز کے علاوہ سعودی عرب میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی سعودی کفیلوں کے ساتھ شراکت کر کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے بڑے کامیاب بزنس کر رہے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں اس طرح کے بزنس کے ٹھپ ہو جانے کا نہ صرف اندیشہ ہے بلکہ عملاً ایسا ہو بھی رہا ہے۔ اس وقت زرِ مبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ہیں۔ اسی طرح خلیجی ریاستوں میں بھی بہت سے پاکستانیوں کے بے روزگار ہونے کی ہولناک خبریں آ رہی ہیں۔ اگرچہ پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد یورپ اور امریکہ میں بھی آباد ہے‘ مگر وہاں سے آنے والی ترسیلات زر سعودی عرب اور خلیج کی نسبت بہت کم ہیں‘ کیونکہ وہاں پاکستانی شہریت لے کر مستقل سکونت اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ یہ پاکستانی بے روزگار ہو کر وطن لوٹ آتے ہیں تو یہ پاکستان کے لئے دوہرا خسارہ ہو گا۔ بے روزگار لوگوں کی اتنی بڑی تعداد اور زرِ مبادلہ سے محرومی۔ یہی حال دنیا بھر کی معیشتوں کا ہے۔ 
دنیا بھر کے ''سلیبرٹی فلاسفرز‘‘ اور انتہائی سنجیدہ فلاسفرز اس سوال پر غور و خوض کر رہے ہیں کہ کورونا وائرس کے دنیا کے مستقبل پر کیا اثرات ہوں گے۔ فلاسفرز اور دانشوروں کے خیالات اور نتائج مختلف ہیں مگر ایک بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اب دنیا پہلے جیسی نہیں ہوگی۔ (کچھ فلاسفرز کی رائے یہ ہے کہ دنیا اب پہلے جیسی آزاد، خوش حال اور اوپن نہیں ہوگی۔ انسانوں کو طرح طرح کی نئی پابندیوں کا شکار ہونا پڑے گا) اس سارے کرائسز میں انسانی پرائیویسی سب سے زیادہ مجروح ہو گی۔ زیادہ تر فلاسفرز نے گلوبلائزیشن کی نئی صورتوں کے بارے میں قیاس آرائی کی ہے۔ اگرچہ بیسویں صدی کے اواخر سے ہی گلوبل ویلیج کے سہانے سپنے دکھائے جانے لگے تھے مگر اکیسویں صدی کو تو نام ہی گلوبلائزیشن کا دیا گیا ہے۔ گلوبلائزیشن کے باوجود یہ گلوب امیر، ''ترقی پذیر‘‘ اور غریب دنیا میں تقسیم رہا اور ان تینوں دنیائوں میں پائی جانے والی خلیج کو پاٹنے یا کم کرنے کی کہیں کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آئی۔ کچھ صاحبِ احساس لوگوں کی طرف یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا دنیا کے استحصالی معاشی نظام میں کوئی تبدیلی آئے گی؟ اس سوال کا فارن پالیسی میگزین جیسے بعض سنجیدہ جرائد نے یہ جواب دیا ہے کہ دنیا کی معاشی جہت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی۔ بعض فلاسفرز کی طرف سے یہ نتیجہ بھی سامنے آیا ہے کہ گلوبلائزیشن تو اسی طرح رہے گی؛ البتہ پہلے ''گلوبل اتھارٹی‘‘ امریکہ کے پاس تھی اب یہ اتھارٹی چین کی طرف منتقل ہو سکتی ہے۔ چند دانشوروں نے اس سوال پر بھی غور کیا کہ کیا اتنی بڑی عالمی آفت کے بعد بھی یمن، لیبیا، شام اور افغانستان میں جنگیں جاری رہیں گی۔ اور کیا فلسطین پر اسرائیلی اور کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضہ بھی جاری رہے گا۔
میں نے ایک صاحبِ بصیرت سے پوچھا کہ وہ کورونا وائرس کی تباہ کاری کے بعد دنیا کے رویوں میں کوئی بنیادی تبدیلی دیکھ رہے ہیں؟ صاحبِ بصیرت کا کہنا یہ تھا کہ دنیا مجموعی طور پر اپنے طرزِ حکمرانی میں اخلاقی بنیاد سے تہیِ دامن ہے اور اپنے شخصی، پارٹی اور قومی مفادات کے لیے ہر جھوٹ، ہر چال بازی اور انسانوں کو مات دینے کے لیے ہر حربے کو جائز سمجھتی ہے۔ اہلِ علم اور اہلِ درد کا کہنا یہ تھا کہ بظاہر یہی لگتا ہے کہ دنیا اس اخلاقی سقم کو دور کرنے کی طرف مائل ہو گی۔ ہمارا اصل کرائسز یہ ہے کہ دنیا میں نظام کوئی ہو، جمہوریت ہو یا آمریت ہو، سرمایہ دارانہ دنیا ہو یا ماضی کی یادگار‘ پرولتاری نظام ہو یا ہمارے جیسی کوئی نیم جمہوریت ہو ہر سوسائٹی دراصل رولنگ کلاسز اور ماتحت کلاسز میں تقسیم شدہ ہے۔ کہیں حقیقی رولنگ کلاسز دیدہ ہوتی ہیں اور کہیں نادیدہ ہوتی ہیں۔ چین جیسے ممالک میں تو ون پارٹی رول ہے اور وہی ون پارٹی آل پاور فل ہے۔ بظاہر جمہوریت میں جمہور اپنی مرضی کے مالک و مختار کہلاتے ہیں مگر درپردہ ان کی رائے کو ایک خاص جہت کی طرف موڑ دینے کے لیے اربوں کے فنڈ خرچ کئے جاتے ہیں۔ طرح طرح کی انتخابی مہمات چلائی جاتی ہیں۔ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا مینجمنٹ کے بڑے بڑے ماہرین میدانِ عمل میں اتر آتے ہیں اور یوں حقیقی کلاسز کے ایجنڈے کو بروئے کار لانے کا انتظام و اہتمام کر لیا جاتا ہے۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے مگر اس دنیا میں جس طرح سے عدل و انصاف، بنیادی انسانی حقوق اور اخلاقی اقدار کی پامالی ہو رہی ہے ایسی تو زمانۂ قدیم کے غیر مہذب معاشروں میں بھی نہ ہوتی تھی۔ یہاں بھی تعصب اور جہالت کے ہتھیاروں سے کام لے کر ایک طاقت ور گروہ نے جمہوریت اور آئین کا مذاق اڑایا ہے۔
ہماری دھرتی کئی طرح کی دنیائوں میں تقسیم تھی۔ پہلی‘ دوسری اور تیسری دنیا۔ امیر اور غریب دنیا۔ ترقی یافتہ اور پس ماندہ دنیا‘ مگر کورونا نے ساری انسانیت کو ایک ہی صف میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ اب گورے، کالے، امریکی، افریقی اور عرب و عجم میں کوئی فرق نہیں۔ چاہیے تو یہ کہ انسان باقی سارے امتیازات کو مٹا کر صرف انسانیت کے حوالے سے سوچے۔ یہ جو دنیا کے چھوٹے بڑے ممالک چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آتے ہیں وہ اپنے اس رویے پر نظر ثانی کریں۔ اس وقت ملین ڈالر سوال یہی ہے کہ کیا انسان نظر ثانی پر آمادہ ہو گا؟ ہم اپنے آپ کو کوئی سلیبرٹی فلاسفر کا درجہ دیتے ہیں اور نہ ہی خود کو کوئی سکہ بند دانشور سمجھتے ہیں مگر ہم انسانیت کے اس المیے کو شدتِ احساس کے ساتھ محسوس ضرور کرتے ہیں۔ یہ المیہ ایک طربیہ میں بدل سکتا ہے اگر دنیا بھر کی حقیقی رولنگ کلاسز اپنے اپنے نظاموں کے اندر رہتے ہوئے طرزِ حکمرانی کو عدل و انصاف اور اخلاقیات کا پابند کر لیں۔ اگر کورونا اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ انسانیت کو یہ درس دے جائے تو یہ خسارے کا نہیں فائدے کا سودا ہو گا۔ سوال پھر اپنی جگہ پر موجود ہے کہ کیا انسان اپنے سابقہ رویے پر نظر ثا نی کے لیے آمادہ ہو جائے گا؟ اس کا جواب آپ بھی سوچئے، ہم بھی سوچتے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں