نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب کامحکمہ سیاحت کےدفترکااچانک دورہ
  • بریکنگ :- لاہور:محکمہ سیاحت کےسیکرٹری اوردیگرعملہ غیرحاضر
  • بریکنگ :- لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب برہم،سیکرٹری ٹورازم کواوایس ڈی بنادیا
  • بریکنگ :- لاہور:پورےدفترمیں بڑے افسرغیرحاضرہیں،وزیراعلیٰ پنجاب
Coronavirus Updates

خوشگوار تعلقات کی خواہش

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یوم پاکستان کی مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ایک پڑوسی ہونے کے ناتے ہماری بھی برسوں سے یہی خواہش رہی ہے کہ ہمسائے سے اچھے مراسم ہونے چاہئیں۔ عربی زبان کی ایک مشہور مثل ہے کہ ''الجار قبل الدار‘‘ گھر سے پہلے یہ دیکھو کہ پڑوسی کیسا ہے۔ افراد کو کسی حد تک پڑوسی منتخب کرنے کا کچھ اختیار ہوتا ہے مگر جہاں تک ملکوں کا تعلق ہے تو انہیں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ہی رہنا ہوتا ہے کیونکہ پڑوسی بدلنے کا کوئی چانس ہوتا ہے اور نہ ہی گھر بدلنے کا۔ اسی لیے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے قیام پاکستان کے ساتھ ہی یہ واضح کیا تھاکہ ہمارے اور بھارت کے ویسے ہی تعلقات ہوں گے جیسے دو پڑوسی ممالک امریکہ اور کینیڈا کے ہیں‘ مگر، اے بسا آرزوکہ خاک شدہ۔
پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی تاریخ خوشگوار سے زیادہ کشیدہ رہی ہے۔ ایک نہیں کئی جنگیں ہوئیں حتیٰ کہ 1971ء میں بھارت نے ہمارے مشرقی بازو پر جنگ مسلط کرکے پاکستان کو دولخت کردیا۔ 90 ہزار سے زائد فوجی اور عام شہری بھارتی قید میں رہے۔ بعدازاں جولائی 1972ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے مابین شملہ معاہدہ طے پایا‘ جس کے تحت پاکستانی قیدیوں کو بھارتی جیلوں سے رہائی ملی۔ معاہدے کی ایک اہم شق یہ بھی تھی کہ آئندہ بھارت اور پاکستان کے مابین مسائل کو دوطرفہ طور پر حل کیا جائے گا‘ مگر بھارت نے معاہدے کی روح کے مطابق اس پر عمل نہ کیا اور یوں باربار تنازعات سر اٹھاتے رہے جو دونوں ممالک کو کئی بار جنگ کے دہانے پر لے آئے۔
گزشتہ اڑھائی برس سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات ایک بار پھر سخت کشیدہ تھے۔ یہ کشیدگی اس وقت اپنے نقطۂ عروج کو پہنچی جب اگست 2019ء میں بھارت نے یکطرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کا سپیشل سٹیٹس ختم کردیا؛ اگرچہ سپیشل سٹیٹس ایک اشک شوئی سے بڑھ کرکچھ نہ تھا کیونکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق بھارت نے کشمیریوں کا حق خودارادیت تسلیم کررکھا ہے۔ ان اڑھائی سالوں میں لائن آف کنٹرول پر سیزفائر کی 7000 بار خلاف ورزی کی گئی؛ تاہم 25 فروری کو کنٹرول لائن پر سیزفائر کے بعد خیرسگالی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ دوطرفہ کشیدگی کی برف پگھلنے لگی ہے۔ اسی فضا کے نتیجے میں 23 مارچ کو بھارتی صدر اور وزیراعظم نے پاکستانی ہم منصبوں کو خیرسگالی کے پیغامات بھیجے۔
امریکی خبررساں ادارے بلومبرگ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت متحدہ عرب امارات کے تجویز کردہ امن روڈ میپ پر خفیہ طور پر عمل کررہے ہیں۔ اسی سفارتی‘ مصالحتی مشن کے مطابق دونوں ممالک اپنے اپنے ہائی کمشنرز کو اپنی ذمہ داریوں پر واپس بھیج دیں گے۔ گزشتہ ہفتے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک خطاب میں بھارت کو فراخدلانہ پیشکش کرتے ہوئے ماضی کی تلخیاں بھلانے پر زور دیا تھا۔ یہ اس خطے کی بدقسمتی ہے کہ یہاں کے حکمران اور عوام تلخ ماضی کو بھلانے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ایک بار پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ ویتنام اور امریکہ کی برسوں جنگ جاری رہی جس کے نتیجے میں ہزاروں ویت نامی ہلاک ہوئے مگر بالآخر انہی بے سروسامان ویت نامیوں نے اپنے زورِ بازو اور اتحاد کی قوت سے امریکہ کو ہزیمت سے دوچار کیا اور اب دونوں ممالک کے مابین مثالی دوستی ہے۔
پڑوسی ملکوں کے درمیان دائمی دشمنی نہیں چل سکتی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اپنا ہائوس بھی اِن آرڈر رکھنا چاہئے۔ جنرل باجوہ کی طرف سے ان بیانات میں ایک گہری حکمت بھی پوشیدہ ہے۔ بالعموم بھارتی حکمران اور میڈیا مختلف مواقع پر یہ کہتا رہتا ہے کہ پاکستانی سیاست دانوں کا رخ ایک طرف ہوتا ہے اور فوج کا رخ دوسری طرف‘ مگر آرمی چیف کی طرف سے اس طرح کے بیانات میں یہ پیغام مضمر ہے کہ فوج اور سول حکومت دونوں اس پیشکش کے بارے میں یک زبان ہیں۔
نئے امن مشن کے نتیجے میں چند معمولی نوعیت کی مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ ان تبدیلیوں میں کنٹرول لائن پر سیزفائر کی پابندی، پاکستان اور بھارت کے مابین اڑھائی برس کے بعد آبی مذاکرات کا اجرا شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سارک کے پلیٹ فارم سے صحت سے متعلقہ معاملات اور کورونا کے خلاف مشترکہ اقدامات اور رواں سال کے اواخر میں پاک بھارت کرکٹ میچ کے بارے میں بھارتی رضامندی اور بھارت کے سکھوں و ہندوئوں کی پاکستان زیارت کیلئے آمدورفت بھی شامل ہے۔
جنرل ضیاالحق نے بھی اپنے زمانۂ اقتدار میں کبھی کرکٹ ڈپلومیسی کے نام پر اور کبھی نو وار پیکٹ کی پیشکش کے ذریعے بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسی طرح فروری 1999ء میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی ایک اعلیٰ سطح کے خیرسگالی وفد کی قیادت کرتے ہوئے بس کے ذریعے واہگہ کے راستے لاہور آئے تھے۔ اس زمانے کے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے بھارتی وزیراعظم کا پُرجوش خیرمقدم کیا تھا۔ اُن کا کہنا تھاکہ وہ ماضی کی تلخیاں بھلانے آئے ہیں۔ واجپائی مینار پاکستان بھی گئے تھے۔ واجپائی کے اسی دورے کے دوران دونوں ممالک کے مابین اعلانِ لاہور پر دستخط کیے گئے جس میں ایٹمی دوڑ اور ایٹمی جنگ کے اجتناب کا معاہدہ بھی شامل تھا۔ دونوں ممالک نے مسئلہ کشمیر سمیت تمام معاملات پرامن طریقے سے حل کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا؛ تاہم اسی سال مئی سے جولائی تک کارگل پر جنگ کا واقعہ پیش آگیا جس کے نتیجے میں ایک بار پھر دوطرفہ کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔
جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں دوطرفہ امن کیلئے ایک مرتبہ پھر الجھی ہوئی ڈور کو سلجھایا گیا اور 2004ء سے لائن آف کنٹرول پر سیزفائر کا معاہدہ ہوا۔ 2003ء سے 2007ء تک جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں دونوں ممالک کے درمیان قیام امن اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کوششیں تیزتر ہوگئیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں ایک فریم ورک بھی تیار ہوگیا جس کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کچھ پائیدار اقدامات پر بھی اتفاق رائے قائم ہوگیا تھا۔ غالباً 2003ء کے اواخر میں اس دور کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سعودی عرب کے دورے پر گئے تو جدہ کے قصرالضیافہ میں اُن سے میری طے شدہ ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں مجھے محسوس ہواکہ قصوری صاحب مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بہت پُرامید ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے ان تجاویز کو تاریخی حل قرار دیا تھا اور مجھے اس حوالے سے چند نکات بھی گنوائے تھے۔ خدا جانے پھر سیاسی حالات نے انڈیا اور پاکستان میں کیا پلٹا کھایا کہ یہ امن معاہدہ پھر گزشتہ معاہدوں کی طرح تشنۂ تکمیل رہ گیا۔قصوری صاحب نے اسی دور کی دوطرفہ خواہش امن اور مسئلہ کشمیر کے امکانی حل کے بارے میں 2015ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب Neither A Hawk Nor A Dove میں تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ اگرچہ ابھی بہار کا ایک موہوم سا امکان پیدا ہوا ہے جس سے امیدوں کا رنگ برنگ جہان تو وابستہ نہیں کیا جا سکتا۔ فروری 1999ء سے 2007ء تک کے پاک بھارت مذاکرات کے متفقہ نکات کو بنیاد بنا کر آگے بڑھا جا سکتا ہے تاکہ ازسرنو ہوم ورک پر وقت ضائع نہ کیا جائے۔ اگر مشرف دور کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کو پاک بھارت امکانی مذاکرات کا ٹاسک سونپ دیا جائے تو پس منظر سے آگاہی کی بنا پر وہ اسے بخوبی نبھا سکتے ہیں۔
اگر پاکستانی پیشکش کا بھارت نیک نیتی سے مثبت جواب دے تو پھر ایک تاریخی معاہدہ وجود میں آسکتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی خواہش بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ سکتی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں