نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- واشنگٹن:امریکی صدرجوبائیڈن کاتقریب سے خطاب
Coronavirus Updates

جادوگر وزیر خزانہ کا بجٹ

جناب شوکت ترین ایک کامیاب بینکر اور ماہرِ اقتصادیات ہیں؛ تاہم گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مجھ پر یہ منکشف ہوا کہ انہیں جادوگری کا وصف بھی حاصل ہے۔ شوکت ترین نے وزارتِ خزانہ کے منصب پر فائز ہونے سے صرف دو ماہ قبل ایک ٹاک شو میں علی الاعلان کہا تھا کہ اس حکومت نے معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے‘ اگر وزیراعظم نے کوئی انقلابی قدم نہ اٹھایا تو معیشت بیٹھ جائے گی؛ تاہم وزیراعظم نے کوئی انقلابی قدم تو نہ اٹھایا مگر صرف 6 ہفتے قبل وزارتِ خزانہ کا حلف اٹھانے والے وزیر خزانہ نے ایسا چھومنتر پڑھا کہ نہ صرف معیشت اٹھ کر کھڑی ہو گئی بلکہ قلانچیں بھرنے لگی۔ 2020ء کی وہ شرحِ نمو کہ جسے حکومت خود 2.1 فیصد کہہ رہی تھی اُسے وزیر خزانہ نے اعدادوشمار کی جادوگری سے 3.94 فیصد ثابت کر دکھایا۔
صرف دو ماہ قبل معیشت سے مایوسی کا اظہار کرنے والے وزیر خزانہ نے جمعۃ المبارک کو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے اپنے تمہیدی کلمات میں کہا کہ ہمیں قرضوں کی وجہ سے دیوالیہ پن کی صورتحال کا سامنا تھا مگر ہم معیشت کو طوفان سے نکال کر ساحل پر لے آئے ہیں۔وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر کی روانی میں کہا کہ تین منٹ سے زائد جاری رہنے والی موبائل فون کالز‘ انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال اور ایس ایم ایس پیغامات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کر دی گئی ہے۔ یہ فرمانِ شاہی جاری کرتے ہوئے کسی مالیاتی و سیاسی دانشور کو یہ خیال تک نہ آیا کہ گزشتہ ڈیڑھ دو برس سے ساری تعلیم و تدریس انٹرنیٹ کے ذریعے ہو رہی ہے۔ اسی طرح غربت اور حالات کی ستم ظریفی کا شکار عوام کا کتھارسس اسی سوشل میڈیا کا مرہونِ منت ہے جو انٹرنیٹ اور موبائل فونز کے ذریعے ہوتا ہے۔ عوامی دکھ درد سے بیگانہ حکومتی مشیروں نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کا سوچا ہوگا کہ ایک تو کئی ارب اکٹھے ہو جائیں گے دوسرے سوشل میڈیا کے جنجال سے بھی جان چھوٹ جائے گی‘ مگر سوشل میڈیا پر ہی اس کے خلاف آنے والے شدید ردعمل کے نتیجے میں اگلے ہی روز وزیر خزانہ کی سمجھ میں آگیا کہ ایں خیال است و محال است و جنوں ‘اس لیے انہوں نے انٹرنیٹ اور موبائل فون کالز پر مجوزہ ایکسائز ڈیوٹی واپس لے لی۔ اس سے یہ بھی عیاں ہوگیا ہے کہ حقیقت اور فسانے میں کتنا فرق ہوتا ہے۔
اس بجٹ کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے درخواست کی جائے کہ وہ بجلی‘ گیس اور ٹیکسوں میں مزید اضافے کے بارے میں کی گئی ہماری کمٹ منٹس پر نظرثانی کرے کیونکہ ہمارے لیے اپنے صارفین کی کمر پر مزید بوجھ ڈالنا ممکن نہیں۔ اگرچہ بعض حکومتی وزیروں مشیروں کا کہنا ہے کہ ہم اپنی کمٹ منٹس پوری کریں گے ایک اور مشیر خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو ہماری درخواست پر بڑے تحفظات ہیں مگر یہاں اُس اعتراف کے بارے میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں جو اعتراف ابھی آئی ایم ایف نے کیا بھی نہیں۔ بقول ڈاکٹر خورشید رضوی ؎
اُس اعتراف سے رس گھل رہا کانوں میں
وہ اعتراف جو اُس نے ابھی کیا بھی نہیں
حکومتی ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کا دیا ہوا ریونیو ٹارگٹ زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرکے پورا کرلیں گے۔ گویا پیغام یہ ہے کہ اب ٹیکسوں کا زیادہ سے زیادہ بوجھ بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے غریب عوام پر ڈالا جائے گا۔ ایک طرف وزیر خزانہ نے کہا کہ ہر آدمی اپنی ٹیکس ریٹرن خود مرتب کرے گا اور دوسری طرف یہ ہولناک خبر بھی سامنے آگئی ہے کہ آمدن چھپانے کے شک پر ایف بی آر کسی بھی شہری کو گرفتار کر سکے گا۔ محض شک کی بنا پر گرفتاری کی دنیا کا کوئی قانون اجازت دیتا ہے؟
جہاں تک غریبوں کے بجٹ کا تعلق ہے تو وہ اگر بجلی کا بل ادا کرتے ہیں تو بچوں کی فیس ادا نہیں کر پاتے۔ گھر میں آٹا آتا ہے تو گھی کے پیسے نہیں ہوتے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ تین برس کے دوران خوراک کی بنیادی ضروریات کی قیمتیں سو فیصد بڑھی ہیں۔ 2018ء میں آٹا 33 روپے فی کلو تھا آج 70 روپے فی کلو ہے‘ چینی 53 روپے فی کلو تھی آج ایک سو روپے فی کلو ہے‘ بجلی 12 روپے فی یونٹ تھی آج 23 روپے فی یونٹ ہے اور علیٰ ہذا القیاس۔
گزشتہ ہفتے وزیر اطلاعات جناب فواد چودھری نے اپنی کثیرالجہات دانش سے ایک اقتصادی دعویٰ یہ کیا تھا کہ اگر مہنگائی بڑھی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ قوتِ خرید بھی بڑھی ہے۔ وزیر اطلاعات نے فی کس آمدنی بڑھنے کے اعدادوشمار جاری کر کے قوتِ خرید میں اضافے کا جو دعویٰ کیا تھا اسے ماہرین معاشیات درست نہیں سمجھتے۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی‘ ڈاکٹر پرویز طاہر اور یوسف معید جیسے نامور ماہرین اقتصادیات کا کہنا یہ ہے کہ جب ملک میں گزشتہ برس حکومت نے تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی عام ورکر کی آمدنی میں کوئی بڑھوتری دیکھنے میں آئی بلکہ اس کے برعکس یہ ہوا کہ ادارہ شماریات نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کے لاک ڈائون کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی سست روی کے باعث ملک میں دو کروڑ 70لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے۔ لاک ڈائون سے پہلے ساڑھے پانچ کروڑ کی ورک فورس تھی جو لاک ڈائون کی وجہ سے ساڑھے تین کروڑ رہ گئی تھی۔ اگرچہ اب یہ ورک فورس آہستہ آہستہ کام پر واپس لوٹ رہی ہے مگر جس زمانے کا حکومت حوالہ دے رہی ہے اُس میں کم آمدنی اور بے روزگاری کے ساتھ قوتِ خرید بڑھنے کی بات معیشت کے بنیادی اصولوں سے ناواقفیت کے علاوہ کچھ نہیں۔
اب آئیے اپوزیشن کی طرف۔ جب بجٹ پیش ہو رہا تھا تو اپوزیشن نے حکومت اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ بعد میں اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں کے قائدین شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے مل کر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا اعلان کیا۔ اگلے آٹھ دس روز کے دوران ایوان میں یہ بجٹ زیر بحث رہے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کے بارے میں اپوزیشن کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔ اگر تو اپوزیشن کے ٹف ٹائم سے مراد بڑھکیں اور نعرے ہیں تو اُن کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ اصل ٹف ٹائم تو یہ ہوگا کہ اپوزیشن درست اعدادوشمار کی روشنی میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرے اور ایوان کو ہی نہیں عوام کو بھی یہ بتائے کہ اگر ہم برسراقتدار ہوتے تو ہم کیا کرتے اور عوام کے زخموں پر کیسے مرہم رکھتے۔
بجٹ تو آتے جاتے رہتے ہیں مگر حکومت اور اپوزیشن سوچیں کہ انہوں نے بنیادی معاشی و سماجی مسائل کیسے حل کرنے ہیں‘ مہنگائی کا مستقل بنیادوں پر کیسے خاتمہ کرنا ہے‘ نوجوانوں کو فنی مہارت دے کر اُن کے لیے بہتر اور مستقل روزگار کے مواقع کیسے فراہم کرنے ہیں‘ آبادی میں یہ بے ہنگم اضافہ نہ تو شرعی تقاضوں کے مطابق ہے اور نہ ہی طبی طور پر درست ہے۔ دو تین روز پہلے انسدادِ چائلڈ لیبر ڈے گزرا ہے۔ ہم نے بھی رسمی طور پر اسے ''منایا‘‘ مگر حکومت نے کوئی ایسا قدم اٹھانے کا اعلان نہیں کیا کہ جس سے ہم چائلڈ لیبر کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرسکیں۔ چائلڈ لیبر کے بارے میں ہم سب اجتماعی سنگدلی کا حصہ بن چکے ہیں۔ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر جلوہ افروز ہونے سے پہلے جناب عمران خان اڑھائی کروڑ بچوں کو سکولوں میں لانے کی بات کیا کرتے تھے مگر برسراقتدار آکر رات گئی بات گئی والا معاملہ ہوگیا ہے۔ البتہ بعض فلاحی تنظیمیں یتیم اور نادار بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے مثالی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ مگر اُن کی خدمات آٹے میں نمک کے برابر ہی ہیں۔
بہرحال جادوگر وزیر خزانہ نے ادھر گاڑیوں اور کچھ آلات کے سستا ہونے کی نوید سنائی اور اُدھر روٹی آٹھ سے دس روپے کی ہوگئی ہے اور گوشت چودہ سو روپے فی کلو ہوگیا ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں