سرگودھا: اپنے شہر میں مسافر کی طرح

جناب احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا کہ
اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح
سایہ اَبر کی مانند گزر جاؤں گا
مگرجب آپ کو اُس کے شہر نہیں اپنے شہر میں مدتوں بعد مسافر کی طرح آنا پڑے تو دل کی ایک عجیب کربناک کیفیت ہوتی ہے۔ وہ دوست احباب کہ جن کی قربت کے بغیر زندگی کا کوئی تصور نہ تھا‘ ان میں سے کوئی آپ کو اپنی جگہ نہ ملے تو دل کی جو حالت ہوتی ہے اس کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔ ان احباب میں سے کچھ تو خلد مکانی ہو چکے ہوں اور کچھ نقل مکانی کر چکے ہوں تو ایسے منظر میں آپ اپنے شہر کیلئے اور شہر آپ کیلئے اجنبی ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے منیر نیازی نے دل کا یہ دکھڑا یوں بیان کیا ہے:
واپس نہ جا وہاں کہ تیرے شہر میں منیرؔ
جو جس جگہ پہ تھا وہاں پر نہیں رہا
اس سے بڑا ستم ہم نے اپنے خوبصورت چھوٹے شہروں پر یہ کیا ہے کہ کسی چیز کو اپنی جگہ پر رہنے نہیں دیا۔ سرگودھا ایک اعتبار سے بالکل نیا شہر ہے جس کی بنیاد جدید خطوط پر لیڈی ٹروپر نے کینال کالونی کے طور پر 1903ء میں رکھی تھی۔ ابتدا میں رہائشی علاقوں کو منصوبہ بندی کے تحت بلاکس میں تقسیم کیا گیا اور پھر ایک جدید ترین علاقہ 1950ء کے اواخر میں سیٹلائٹ ٹاؤن کے نام سے بنایا گیا۔ اب آپ سیٹلائٹ ٹاؤن سمیت رہائشی علاقوں میں جہاں جائیں وہاں آپ کا دم گھٹنے لگتا ہے کیونکہ ان علاقوں میں صاف ستھری فراخ سڑکوں پر بنے ہوئے مکانات کمرشل پلازوں اور دکانوں میں بدل چکے ہیں۔ 1980 ء کی دہائی تک سرگودھا دیہاتی اور شہری امتزاج کا ایک دوسرے کے کام آنے والا شہر تھا۔
سرگودھا سے میری یادیں دو ادوار سے وابستہ ہیں۔ پہلا زمانۂ تعلیم اور دوسرا زمانۂ تدریس۔ 1960ء اور 1970ء کے دورِ تعلیم میں مجھے باکمال اساتذہ سے کسبِ فیض کا موقع ملا۔ ان اساتذہ میں سے ہر کوئی یگانۂ روزگار تھا۔ اسی طرح اس زمانے کے دوستوں میں سے ہر کسی نے اپنے شعبے میں زبردست نام کمایا اور اپنے شہر کا نام روشن کیا۔ آج کے کالم میں اپنے دو تین محسنوں کا ہی ذکر کروں گا جنہوں نے ہمیں حرف شناسی کے ساتھ ساتھ درسِ حیات بھی دیا۔
ہمارے گورنمنٹ ہائی سکول سرگودھا کے ہیڈ ماسٹر چودھری عطا محمد نہایت شفیق اور بارعب شخصیت تھے۔ وہ سردیوں میں بالعموم پتلون کوٹ پہنتے اور جمعۃ المبارک کے روز سیاہ رنگ کی شیروانی زیب تن کرتے۔ سوٹ یا شیروانی دونوں صورتوں میں سر پر سفید طرے پر کلاہ ان کے جلال و جمال میں اضافے کا باعث بنتا۔
گورنمنٹ کالج سرگودھا میں پروفیسر غلام جیلانی اصغر ہمارے انگریزی کے استاد تھے۔ بعد ازاں وہی کالج کے پرنسپل بن گئے۔ اُن کا طریقِ تدریس نہایت دل نشیں تھا۔غلام جیلانی اصغر صاحب 1918 ء میں اس دنیا میں آئے اور 2006 ء میں راہیٔ ملکِ عدم ہوئے۔ جوں جوں ہمارے شعور میں کچھ وسعت آتی گئی توں توں ہمیں معلوم ہوتا گیا کہ جناب غلام جیلانی اصغر اردو نظم اور غزل کے صاحبِ طرز شاعر اور ایک منفرد انشائیہ نگار ہیں۔ ذرا جیلانی صاحب کی غزل کے یہ اشعار ملاحظہ کیجئے:
اب کے بازار میں یہ طرفہ تماشا دیکھا
بیچنے نکلے تو یوسف کا خریدار نہ تھا
دوستو رسمِ محبت پہ یہ کیا بیت گئی
شہرِ یاراں میں کوئی شخص سرِدار نہ تھا
ذرا یہ اشعار بھی دیکھئے:
ملے بھی دوست تو اس طرزِ بے دلی سے ملے
کہ جیسے اجنبی کوئی اک اجنبی سے ملے
ستم کرو بھی تو اندازِ منصفی سے کرو
کوئی سلیقہ تو عنوانِ دوستی سے ملے
پروفیسر غلام جیلانی اصغر اردو ادب کے ممتاز انشائیہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اُن کے انشائیے روزمرہ زندگی کے موضوعات کو ایک انوکھے انداز میں بیان کرتے ہیں جہاں وہ معمولی واقعات میں بھی گہرے معانی تلاش کرلیتے ہیں۔ اُن کی تحریروں میں مزاح اور سنجیدگی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ پروفیسر صاحب میں بلا کی حسِ مزاح تھی۔ ان کی فی البدیہہ شگفتہ انداز میں خطابت کی بہت دھوم تھی۔ جیلانی صاحب اپنی تحریر اور گفتگو میں مزاح کی ایسی پھلجڑی چھوڑتے کہ سماع کھلکھلا کر ہنس پڑتا۔
گورنمنٹ کالج سرگودھا میں استادِ محترم جناب خورشید رضوی ہمارے عربی کے استاد تھے ۔ڈاکٹر خورشید رضوی کا ان کالموں میں تذکرہ ہوتا رہتا ہے۔ 1960ء کی دہائی سے لے کر 1984ء تک وہ 22 برس تک بحیثیت معلم اور ایک ڈیڑھ برس تک گورنمنٹ انبالہ کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ شہر کے ہو گئے اور بلامبالغہ شہر اُن کا ہو گیا۔ وہ سرگودھا کے علمی و ادبی اور تعلیمی حلقوں کیلئے شمسی توانائی کی حیثیت رکھتے تھے۔ تشنگانِ علم و ادب اس چشمۂ فیض سے مسلسل سیراب ہوتے تھے۔ اس زمانے میں تو اُن کا پہلا شعری مجموعہ ''شاخِ تنہا‘‘ ہی شائع ہوا تھا۔ اب تک ماشاء اللہ ان کے کئی مجموعے ہی نہیں ایک ضخیم دیوان ''یکجا‘‘ کے نام سے کئی برس قبل منظرِ عام پر آ چکا ہے۔ اُن کے قیام سرگودھا کے زمانے کی یہ غزل اہلِ ذوق طلبہ میں بہت مقبول تھی:
جب کبھی خود کو یہ سمجھاؤں کہ تُو میرا نہیں
مجھ میں کوئی چیخ اُٹھتا ہے نہیں ایسا نہیں
کب نکلتا ہے کوئی دل میں اُتر جانے کے بعد
اس گلی کے دوسری جانب کوئی رستا نہیں
ڈاکٹر خورشید رضوی اب کئی برس سے جی سی یونیورسٹی لاہور میں پہلے ریگولر استاد اور پھر پروفیسر ایمریطس کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اُن کے علمی و ادبی کارناموں کے تذکرے کیلئے بھی کم از کم ایک ضخیم کتاب درکار ہے۔ اللہ اُن کی عمر طویل کرے اور وہ یونہی علم کے پیاسوں کی پیاس بجھاتے رہیں۔
ایک طویل عرصے کے بعد میں گزشتہ دنوں سرگودھا پرانے نقوشِ پاکی تلاش میں گیا تو شہر کا نقشہ بہت بدل چکا ہے۔ ڈی بلاک سیٹلائٹ ٹاؤن میں ہمارے رہائشی گھر کے نئے مکین نے مکان کا ناک نقشہ تو خاصا تبدیل کر دیا ہے مگر وہ ہے ابھی تک گھر ہی۔ہمارے اس گھر سے چند مکان چھوڑ کر ہمارے سکول میں انگریزی کے استاد سیّد حسن عباس زیدی کا سفینہ منزل کے نام سے گھر تھا۔ اس مکان کو اب کئی دکانیں بنا کر سیمی کمرشل پلازہ بنا دیا گیا ہے۔اُن کی ایک صاحبزادی مہ پارہ زیدی (بعد ازاں مہ پارہ صفدر) پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ہماری ہمعصر تھیں۔ وہ کئی برس تک پاکستان ٹیلی ویژن کی مشہور و معروف نیوز کاسٹر رہیں۔مہ پارہ صفدر نے ساڑھے چار سو صفحات پر مشتمل اپنی خودنوشت ''میرا زمانہ میری کہانی‘‘ میں پہلے سو صفحات اُس زمانے کے خوبصورت سرگودھا کی تعریف و توصیف کیلئے مختص کر کے اپنے شہر کا کسی قدر حق ادا کر دیا ہے۔
انگریز قدامت پسند ہی نہیں بلکہ قدامت پرست ہیں۔ اسی لیے انگلستان کا حسن یہ ہے کہ وہاں جو چیز جس نام سے صدیوں پہلے تھی آج بھی اسی طرح موجود ہے۔ ہمارے نزدیک کسی قانون کا کوئی احترام نہیں وگرنہ کوئی رہائشی علاقہ کمرشل نہ بنتا۔ پہلے سے موجود شہروں کی خوب صورتی کو بدصورتی میں بدلنے کے بجائے نئی نئی بستیاں اور نئے شہر بسائے جائیں۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں