نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- شوگرملزکی چینی کی قیمت مقررکرنےکےنوٹیفکیشن کیخلاف درخواست
  • بریکنگ :- لاہور:عدالت نےفریقین کےدلائل سننےکےبعدفیصلہ محفوظ کرلیا
  • بریکنگ :- ملزمالکان کیخلاف تادیبی کارروائی نہ کرنےسےمتعلق بھی فیصلہ محفوظ
  • بریکنگ :- لاہور:جسٹس شمس محمودنےدرخواستوں پرسماعت کی
Coronavirus Updates
"HAC" (space) message & send to 7575

بجٹ تو آ گیا لیکن…

شوکت ترین صاحب نے وزارت خزانہ میں آکر معاشی اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتی حکومت کو سیدھے راستے پر تو ڈال دیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ حکومت جو اپنی توانائی اور وقت فضول کاموں پر صرف کرتی ہے‘ کیا اس راستے پرچل بھی پڑے گی؟ تحریک انصاف کی پچھلے تین سال کی کارکردگی دیکھ کر تو کوئی اچھی امید باندھنا مشکل ہے۔ ہاں، یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ پاکستان کی ہیئت مقتدرہ میں یہ قرار پاجائے کہ اس بجٹ پر من وعن عمل کرنا ہے توبات دوسری ہے۔ اگر معیشت کو پہلے کی طرح اسلام آباد میں اترے اس گروہ طفلاں کے سپرد کیا گیا تو کُل حاصل حصول دوچار مزید پناہ گاہوں یا لنگر خانوں کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ جس طرح پچھلے تین برس ان لوگوں نے ضائع کیے ہیں‘ اگلے دو بھی برباد کردیں گے اور جو کچھ یہ تباہ کر جائیں گے اس کے بعد سنبھلنے کیلئے بھی کئی سال کی ضرورت ہوگی۔ اس لیے اس بار زیادہ ضروری ہے کہ وزیراعظم کے وہ دوست جو پچھلے ڈھائی سال کے اندر 'معاشیات پر پی ایچ ڈی‘کرلینے کا دعویٰ کرتے ہیں، کچھ کرکے بھی دکھائیں۔ اگر کچھ کرسکتے ہیں تو ابھی سے شروع کردیں۔ کام زیادہ مشکل نہیں۔ جس طرح شوکت ترین نے بجٹ میں کرتب دکھانے کے بجائے معاشی ترقی کے لیے سیدھا راستہ اختیار کیا ہے بالکل اسی طرح وزیر اعظم عمران خان اور ان کے دوستوں کو بھی اس پر عمل درآمد کا سیدھا راستہ اختیار کرنا ہے، یعنی جو کچھ لکھا گیا ہے اس پر سو فیصد عمل درآمد کرایا جائے۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسوں کا ہدف پانچ ہزار آٹھ سو ارب روپے رکھا گیا ہے جو اس مالی سال کے مقابلے میں گیارہ سو ارب روپے زیادہ ہے۔ خود ایف بی آر سمجھتا ہے کہ حالات معمول کے مطابق رہیں تو پانچ ہزار تین سو ارب روپے تو آسانی سے حاصل کیے جاسکتے ہیں، گویا اصل فرق صرف پانچ سوارب روپے کا ہے۔ یہ پانچ سو ارب روپے کا فرق ان لوگوں سے ٹیکس اکٹھا کرکے نکلے گا جو فی الحال ٹیکس نہیں دے رہے۔ ایف بی آر کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان میں پرچون فروش اور تھوک فروش تاجر سالانہ نو ہزار ارب روپے کا دھندا کرتے ہیں لیکن ایک روپیہ بھی ٹیکس نہیں دیتے۔ ان کی اکثریت اپنی دکانوں پر کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ مشینیں تک نصب نہیں کراتی کہ ان کی بِکری کی اصل حقیقت کسی کا پتا نہ چل سکے۔ سیدھی سی بات ہے کہ حکومت ہر دکان پر موبائل فون یا کارڈ کے ذریعے ادائیگی کا بندوبست یقینی بنائے اور ایک لاکھ روپے سے زیادہ خریدوفروخت کو شناختی کارڈ یا کسی دوسرے طریقے سے ملکی معاشی ریکارڈ کا حصہ بنائے۔ اگرچہ یہ مشکل کام ہے اور تاجر ہڑتالوں کے ذریعے بلیک میل بھی کرتے ہیں لیکن حکومتیں اسی طرح کے مشکل کام کرنے کیلئے ہوتی ہیں۔ اگر اس کام میں وزیراعظم کو اپنے دوستوں یعنی ہیئت مقتدرہ کی مدد بھی حاصل ہوجائے تو یہ کام اور بھی آسان ہوجائے گا۔ اگرتھوک و پرچون کے تاجر اسی طرح ٹیکس ادا کرنا شروع کردیں جیسے تنخواہ دارکرتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اضافی ٹیکس اکٹھے کرنے کا ہدف حاصل نہ ہو۔
بجٹ میں دوسرا اہم ترین حصہ چھوٹے کاروبار اور چھوٹے کسان ہیں۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ بہت خوب، بلاشبہ ملک میں حقیقی ترقی کا یہی راستہ ہے مگربات پھر وہیں آجاتی ہے کہ پچھلے تین برسوں میں تحریکِ انصاف نے کچھ کیا ہوتا تو اس بات پر یقین بھی آجاتا لہٰذا اس معاملے میں بھی پاکستان کی ہیئت مقتدرہ کو راستہ نکالنا پڑے گا۔ سبب یہ ہے کہ سٹیٹ بینک اور ملک کے دوسرے بینک چھوٹے کسان یا چھوٹے کاروبار کو قرضہ دینے کی صلاحیت سرے سے رکھتے ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چھوٹے کسان اور چھوٹے کاروبار کو قرضہ دینے کیلئے محنت کرنا پڑتی ہے اور پچھلے تہتر سالوں سے نالائقستان بنے ہوئے اس ملک میں چند لوگوں کو چھوڑ کرکوئی سرکاری آدمی محنت کرنے کیلئے تیار نہیں۔ یوں بھی اگر سٹیٹ بینک کے موجودہ گورنر صاحب کو یہ علم ہوتا کہ چھوٹے کاروبار اور چھوٹے کسان کی ملکی معیشت میں کتنی اہمیت ہے تو وہ کچھ کرکے دکھا چکے ہوتے۔ اب تو ویسے بھی ترقی کے جن اہداف کے ساتھ یہ بجٹ پیش کیا گیا ہے وہ بڑے اہداف ہیں۔
کسی بھی سرکاری بجٹ کا اہم ترین حصہ اس میں دیا گیا ترقیاتی پروگرام ہوتا ہے۔ اگر وفاقی بجٹ میں ترقیاتی پروگرام کیلئے رکھے گئے نو سو ارب کے ساتھ صوبوں کے ترقیاتی اخراجات کی رقم بھی ملا لی جائے یہ دوہزار دو سو ارب روپے بنتی ہے۔ کہنے کو تو یہ رقم بہت بڑی لگتی ہے لیکن حقیقت یہ کہ ہم کبھی بھی اس قابل نہیں ہوئے کہ ترقیاتی بجٹ کو پوری طرح استعمال کرسکیں۔ ہمیشہ پچاس ساٹھ فیصد خرچ کرتے ہیں اور وہ بھی اللوں تللوں پر، ڈھنگ سے کام کبھی نہیں ہوتا۔ اب الا ماشااللہ اس حکومت کی بے نظیر نالائقی، خواہ مخواہ سکینڈل بنانے کی خواہش اور احتسابی عمل نے مل کرکسی افسر کو اس قابل ہی نہیں چھوڑاکہ وہ کسی منصوبے پر عمل درآمد کرا سکے۔ مثال کے لیے آپ کو یاد کرائے دیتا ہوں کہ راولپنڈی رنگ روڈ، جو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی لیکن خود حکومت نے اس کا سکینڈل بنا کر اسے تباہ کردیا۔ اس لیے بیوقوفی ہوگی اگر حکومت پر بھروسہ کیا جائے کہ یہ کچھ کرلے گی۔ اس کام کیلئے بھی ہماری ہیئت مقتدرہ کو ہی آگے آنا پڑے گا۔ اگر اس کام میں نہیں پڑنا تو جنرل پرویز مشرف کے بنائے ہوئے بلدیاتی نظام کو نافذ کردیں، منتخب بلدیاتی نمائندے یہ کام خود ہی کرلیں گے۔ یہ یا وہ، خود کرنا ہے یا بلدیات کے ذریعے کرانا ہے، فیصلہ کرنا ہی پڑے گا۔
چوتھی چیز وہ خرچے ہیں جو ہم نے اپنی اجتماعی نالائقی کے تاوان کے طور پر کرنے ہیں‘ مثلاً ہم نے بیالیس ارب روپے سے ریلوے کا نقصان پورا کرنا ہے۔ ہمارے ٹیکس دینے والوں نے دوسو ساٹھ ارب روپے صرف بجلی چوری اور بجلی کمپنیوں کی نااہلی کے ادا کرنے ہیں۔ اسی طرح پی آئی اے جو چلے تو زیادہ نقصان کرتی ہے، ہمارے خون پسینے کی کمائی ہڑپ کرجائے گی۔ ان اداروں کی اصلاح کرنا کسی ایک سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں، البتہ ہماری ہیئتِ مقتدرہ متحدویکسو ہوکر کچھ کرے تو بہتری آسکتی ہے۔ اسی طرح کا ایک معاملہ پنشن کا ہے۔ صرف وفاقی حکومت اس سال چارسو اسی ارب روپے پنشن کے بھرے گی اورصوبوں کی پنشن بھی ملالیں تویہ رقم ڈیڑھ ہزار ارب روپے سے اوپر نکل جائے گی۔ اس کا حل پنشن ختم کرنا نہیں بلکہ اس کا نظام تبدیل کرنا ہے جیسے بھارت اور کئی ممالک کرچکے ہیں۔ اگر ہم اسی طرح چلتے رہے تو پانچ سال بعد ہم صرف اس لیے ٹیکس اکٹھا کریں گے کہ سرکاری ملازموں کی پنشن اور تنخواہیں ادا کرسکیں۔ یہ بھی ہماری بے مثل اجتماعی نالائقی کا پیداکردہ مسئلہ ہے جسے اجتماعی طورپر ہی حل کرنا ہوگا۔ اس کا آسان حل تویہ ہے کہ آج سے ہونے والے بھرتی سرکاری ملازموں کی پنشن سرکاری اخراجات کا حصہ نہ بنے لیکن اس کے لیے بھی نظام وضع کرنا پڑے گا جو بہرحال ہماری ہیئت مقتدرہ کو ہی بنانا پڑے گا، چاہے تباہی سے پہلے بنالے یا تباہی کے بعد۔
بجٹ کہنے کو حکومت کی سیاسی ترجیحات کا اعلان ہے مگر دنیا کیلئے یہ ہمارے ملک کے معاشی حقائق کا نام ہے۔ اس پر عملدرآمد ہوجائے تودنیا بھی آپ کو سنجیدہ سمجھنے لگتی ہے۔ اپنے بڑے بڑے منصوبوں کے اعلانات اور غیر حقیقی دعووں کی وجہ سے پاکستان دنیا کے معاشی ماہرین کے نزدیک غیر سنجیدہ معاملہ ہے‘ اگر یہ غیر سنجیدگی جاری رکھنا ہے تو پھرآرام سے بیٹھے رہیں اوربند کمروں میں بیٹھ کر بھاشن دیتے رہیں۔ کچھ سنجیدگی ہیں تو میدان میں آئیں اور کام کروائیں۔ اور یاد رکھیں کہ معاشی استحکام کے بغیر سیاسی استحکام بے معنی ہے۔ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، ایک رخ بھی اگرخراب ہو تو سکہ کھوٹا سمجھا جاتا ہے۔ کھوٹے اور کھرے کے فیصلے کا وقت آیا ہی سمجھیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں