"IMC" (space) message & send to 7575

بہت ہوچکا

پشاور میںمسیحی برادری کے قتل عام نے ایک بار پھر اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کردی کہ ر یاست اپنے شہریوں کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑکر خود چین کی بانسری بجارہی ہے۔ ناعاقبت اندیش حکام اس وقت کا انتظارکررہے ہیںجب دریائے اٹک تک طالبان کا راج ہوگا۔ریاست کمزور اور غیر ریاستی گروہ طاقتور ہوچکے ہیں۔دنیا کا کوئی ملک اپنے شہریوں کی اس طرح بے رحمانہ ہلاکتیں برداشت نہیں کرتا۔امریکا کے تین ہزار شہری نیویارک کے ورلڈٹریڈ ٹاورز پر حملے میں مارے گئے تو طالبان کے اقتدار کو تاراج کرکے رکھ دیاگیا۔کابل میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرکے دم لیا۔ ممبئی کے فلک بوس تاج ہوٹل پر حملہ ہوا تو بھارت نے پاکستان سے مذاکراتی عمل معطل کردیا۔آج تک مذاکرات کا عمل پٹڑی پر نہ چڑھ سکا۔معاف کیجئے گا؛ امسال جنوری میں کنٹرول لائن پر بھارت کے تین سپاہی ہلاک ہوگئے ۔بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے پاکستان کو عبرت ناک نتائج بھگتنے کی دھمکی دی۔دھیمے مزاج کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ اب پاکستا ن سے تعلقات پہلے کی طرح نہیںرہ سکتے۔گزشتہ ماہ اگست میں پانچ بھارتی فوجی مارے گئے تو نیویارک میں وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ بھارتی وزیراعظم نے اپنی ملاقات منسوخ کردی۔پاکستان سربراہی ملاقات کے لیے کہہ رہاہے لیکن بھارتی حکومت دلچسپی نہیں لے رہی۔ چند برس قبل حماس نے اسرائیل کے اندر کچھ عسکری کارروائیاں کیں ۔جواب میں اسرائیل نے متحدہ عرب امارات میں جاکر حماس کے راہنمائوں کو ہلاک کرڈالا۔اس مشن میںبرطانیہ اور فرانس کی جعلی سفری دستاویزات اور ائر پورٹ استعمال ہوئے۔ان ممالک نے اسرائیل سے احتجاج کیا اور سفارتی تعلقات میں رخنہ پڑا‘ لیکن اسرائیل نے رتی بھر پروا نہ کی۔کچھ عرصہ پہلے فرانس میں مسلمانوں کے ایک گروہ نے شریعت کے مطابق فیصلے کرنے کا مطالبہ کیا ۔ حکومت نے انہیں دوٹوک الفاظ میں متنبہ کیا کہ اگروہ فرانس میں رہنا چاہتے ہیں تو ملکی قوانین کی پابندی کریں‘ دوسری صورت میں جیل جانے یا ملک بدر ہونے کے لیے تیار رہیں۔اس کے بعد ایسے مطالبات سامنے آئے نہ کسی نے ریاستی قوانین کو چیلنج کیا۔ پاکستان کے ہمدم دیرینہ سری لنکا نے طویل عرصہ تک تامل علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کیے۔ناروے کی حکومت بھی ثالثی کراتی رہی لیکن تامل باغی نہ مانے۔انہوں نے ایک پوری ایمپائر کھڑی کرلی۔کاروبار کا وسیع نیٹ ورک تھا۔بیرون ملک آباد تامل بڑھ چڑھ کر علیحدگی پسندوں کی مدد کرتے۔بھارت کی ریاست تامل ناڈو کی حکومت اور شخصیات بھی تاملوں کو مالی وسائل فراہم کرتیں۔مغرب ممالک میں بھی تاملوں کے لیے نرم گوشہ پایا جاتاتھا۔تامل باغیوں کے راہنماپربھاکر کو دیوتا کی طرح پوجا جاتا ۔ پربھاکر سری لنکاکی حکومت سے زیادہ طاقت ور ہوچکا تھا۔حکیم اللہ مسعود کی حیثیت تو اس کے سامنے تنکے کے برابر ہے۔ طویل عرصہ کی خانہ جنگی سے تنگ آکر 2009ء میں سری لنکا کی حکومت اور فوج نے طے کیا کہ اب بہت ہوچکا۔فیصلہ کن جنگ ہوئی۔امریکا ،بھارت اور یورپی یونین بہت چیخے ۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں نے بھی خوب نکتہ چینی کی۔مغربی ذرائع ابلاغ نے سری لنکا کے خلاف زہر اگلنے میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی لیکن اس کے باوجودسری لنکا کی فوج اور حکومت ڈٹے رہے۔اس وقت تک جم کر معرکہ آرائی کی جب تک تامل علیحدگی پسندوں کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔تامل باغی راہنما مارے گئے۔ان کے ناقابل تسخیر قلعے ہوا کے گھروندے ثابت ہوئے۔ریاستی طاقت کے سامنے تامل کمانڈر اور سپاہی ایک ایک کر کے ڈ ھیر ہوتے گئے۔وہ علاقے جہاں عشروں سے علیحدگی پسندوں کی حکومت تھی وہاںسری لنکا کا پرچم دوبارہ لہرایا گیا۔ امن وامان بحال ہوگیا۔سماج دشمن عناصر کی کمین گاہیں تباہ کردی گئیں۔ان کے حامی جیلوں میں سڑنے لگے اور ہمدردوں نے عبرت پکڑی اور توبہ کے خواستگار ہوئے۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ دنیا اس کی پُشت پر کھڑی ہے۔وہ طالبان ہوں یا ان کے حامی، ان سے جان چھڑانے میں پاکستان کی مدد کرنا چاہتی ہے۔ اب تک پاکستان ہی گریز پارہا۔عالمی برادری قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرانا چاہتی ہے۔ دنیا دہشت گردوں کے انسانی حقوق نہیں مانتی۔ان کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن کی مخالفت نہیں کی جاتی بلکہ اس کی حمایت کی جاتی ہے۔ پاکستان فیصلہ کرلے تو اسے عالمی اداروں اور ممالک سے جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی بھی مل سکتی ہے جو دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے اور ان کا نیٹ ورک نیست ونابود کرنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔ سیاسی عزم کی کمی اور حکمرانوں کی تھڑدلی نے ہمیں یہ دن دکھایا کہ دشمن ہماری عبادت گاہوں پر بھی حملہ آور ہوچکا ہے۔فوجی جنرل محفوظ ہیں نہ حساس تنصیبات۔پاکستان کا شمار صومالیہ اور ایتھوپیا جیسی کمزور ریاستوں میں کیاجانے لگاہے‘ جہاں غیر ریاستی عناصر اور وارلارڈز کا سکہ چلتاہے۔خیبر پختون خوا اور قبائلی علاقوں کا حال صومالیہ سے بھی پتلا ہے ۔ان علاقوں میں ریاستی اداروں کی رٹ گورنرہائوس کے صدر دروازے تک محدود ہوچکی ہے۔ریاست کا دبدبہ صرف کنٹونمنٹ تک باقی رہ گیا ہے۔ فیصلہ کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ ملک بچانے کی خاطر بسااوقات تلخ فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ ریاست کی مکمل عملداری کا قیام ہر قیمت پر ممکن بنایا جائے۔اس کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو عبورکیا جائے خواہ اس کے لیے کتنی بھی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے۔پچاس ہزارانسانی جانوں کی قربانی پہلے ہی دی جاچکی ہے۔ ہمارے پاس کھونے کو اب کچھ نہیںبچا جو بزدلوں کی طرح دبکے بیٹھے رہیں۔ جو لوگ پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں ان کے خلاف اعلان جنگ کیا جائے۔جو ہتھیار رکھ کر پُرامن زندگی گزارنے کا عہد کرتے ہیں‘ ان سے عفو اور درگزر سے کام لیا جائے لیکن جو لوگ متحارب ہیں وہ کسی رورعایت کے مستحق نہیں۔ مذاکرات کی بھیک مانگتے رہنا اور خاموشی سے نعشوں کے تحفے قبول کرناسیاسی حکمت عملی نہیں بلکہ فرار کا راستہ ہے۔ پاکستان کو ایک بار داخلی محاذ پر فیصلہ کن جنگ لڑنا پڑے گی۔ نیم خواندہ علماء اور ان کے ہمنوائوں کے ہوش ٹھکانے لگانے کے لیے اقدام ناگزیر ہوچکاہے۔ ان لوگوںنے پوری قوم کی سلامتی کو دائو پر لگا رکھا ہے۔کنفیوژن کی موجودہ فضا سے اوپر اٹھنا ہوگا۔جو لوگ کنفیوژن پھیلارہے ہیں وہ پاکستان کے خیر خواہ نہیں بلکہ پاکستان کی سلامتی اور قوم کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ ان کے چہرے کو پہچانا جانا چاہیے خواہ ان کی شکل کیسی ہی معصوم کیوں نہ ہو۔نون لیگ اور تحریک انصاف کی حکومتوں کو تذبذب کی موجودہ کیفیت سے خود بھی نکلنا ہوگا اور عوام کو بھی نکالنا ہوگا۔ورنہ شہری انہیں مسترد کردیں گے۔ وہ قصۂ پارینہ بن جائیں گے ۔بہت ہوچکاہم‘ ہم وطنوں کی نعشیں اُٹھاتے اُٹھاتے تھک چکے ہیں۔ مذاکرات کا عمل اس وقت شروع کیا جائے جب دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہو۔وہ بھاگ رہے ہوںاور کوئی انہیں پناہ دینے والانہ ہو۔اس کام میں افغانستان حتیٰ کہ بھارت سے بھی ہاتھ ملانا پڑے تو دریغ نہ کیا جائے۔پاکستان کی سلامتی کو مقدم رکھا جائے ۔بے گناہ عیسائیوں کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے۔ہزاروں شہید پاکستانی شہریوں کی آتما کو اسی وقت سکون ملے گا جب دشمن کو عبرت ناک شکست ہوگی۔پاکستان کی نفسیات میں لگا گہرا گھائو اسی وقت مندمل ہوگا جب دہشت گرد خون چاٹنے پر مجبور ہوں گے۔ وزیراعظم صاحب! یہ وقت بہادری سے بروئے کار آنے کا ہے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں