Coronavirus Updates
"JDC" (space) message & send to 7575

فارن آفس میں الٹی گنگا

فارن آفس کا شمار اہم اور حساس وزارتوں میں ہوتا ہے۔ اس وزارت کے افسر ساری دنیا میں سفارت خانوں میں کام کر رہے ہیں۔ یہ نہ صرف بیرون ملک پاکستان کا چہرہ ہیں بلکہ دنیا کے کونے کونے سے معلومات حاصل کر کے اپنے تجزیے کے ساتھ اسلام آباد بھیجتے ہیں۔ یہ پاکستان کی پہلی دفاعی لائن بھی ہیں۔ یہ پاکستان کی تجارت کو بھی پروموٹ کرتے ہیں۔ دفاعی تعاون کو بڑھاتے ہیں۔ کلچرل رشتے استوار کرتے ہیں۔ سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل حل کرتے ہیں۔ حکومت اور پاکستانی کمیونٹی کے مابین پُل کا کام کرتے ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں کی پالیسی پلاننگ فارن آفس دوسری وزارتوں سے مل کر کرتا ہے۔ انڈیا، افغانستان، امریکہ اور پوری دنیا کے حوالے سے کب کیا کرنا ہے، کیا کہنا ہے اور کس وقت کہنا ہے اس سلسلے میں فارن آفس کا رول بہت اہم ہے۔
اتنی اہم وزارت‘ جس کی روایات شاندار تھیں‘ وہ آج کل خاصے دگرگوں حالات سے گزر رہی ہے۔ اس وزارت پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور یہ میرے اور آپ کے ٹیکسوں سے فارن آفس کو ملتے ہیں اور جب فارن آفس کے افسر سفیر منیر اکرم سے لے کر سیکنڈ سیکرٹری ذوالقرنین چھینہ تک پاکستان کا اچھا دفاع کرتے ہیں تو ہمارے سر فخر سے بلند ہو جاتے ہیں۔ رولز آف بزنس کے مطابق وزارت کا انتظامی سربراہ فیڈرل سیکرٹری ہوتا ہے۔ اپنی وزارت میں کس افسر کو کہاں لگانا ہے، اس کا اختیار بھی سیکرٹری کے پاس ہے۔ فارن منسٹری کا پرنسپل اکائونٹنگ افسر بھی فارن سیکرٹری ہے لیکن فارن آفس میں بہت سے اختیارات وزیر با تدبیر کے دفتر میں مرکوز ہو چکے ہیں جو رولز آف بزنس کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ فارن سیکرٹری سہیل محمود نے یہ اختیارات اتنی آسانی سے کیوں سرنڈر کیے اس کا جواب وہ خود دے سکتے ہیں۔ میں 2003-04 میں بطور ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمنسٹریشن انتظامی امور میں فارن سیکرٹری ریاض کھوکھر کا نمبر ٹو تھا۔ دو سال یہ اہم ذمہ داری نبھائی۔ وزارت کا کام اچھے طریقے سے چل رہا تھا۔ رولز آف بزنس کی مکمل پاسداری ہو رہی تھی۔ خورشید محمود قصوری وزیر خارجہ تھے، ان کی طرف سے کبھی بھی انتظامی امور میں دخل اندازی نہیں ہوتی تھی۔ مگر بدقسمتی سے آج صورتحال بالکل مختلف ہے۔
وزیر خارجہ فارن آفس کو ذاتی جاگیر کی طرح چلا رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے گریڈ 22 کے افسر رضا بشیر تارڑ کو اپنے دفتر کا سپیشل سیکرٹری لگایا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ خورشید قصوری صاحب کے آفس کے ڈی جی ایمبیسیڈ خالد محمود تھے جو گریڈ 20 کے افسر تھے۔ وزیر خارجہ کے اس وکھری ٹائپ کے فیصلے پر بڑی تنقید ہوئی ہے۔ ایک صحافی نے ٹویٹ کیا: فارن آفس انتظامیہ کے پر کاٹ دیئے گئے ہیں۔ کئی ریٹائرڈ فارن سروس افسروں کا خیال ہے کہ یہ گریڈ 22 کی توہین ہے‘ متعلقہ افسر کو یہ عہدہ قبول ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ذرا تصور کریں کہ کسی اعلیٰ عسکری عہدیدارکو وزیر دفاع اپنے آفس کا انچارج لگا دیں تو کیا وہ یہ عہدہ قبول کرے گا۔ میرے خیال میں ہرگز نہیں۔ کچھ لوگ اس اقدام کے پیچھے اور معانی تلاش کر رہے ہیں، ہو سکتا ہے وہ غلط ہوں لیکن ان کا خیال ہے کہ شاہ محمود قریشی رضا بشیر میں مستقبل کا فارن سیکرٹری دیکھ رہے ہیں‘ لیکن یہ اہم عہدہ تفویض کرنے سے پہلے کچھ عرصہ انہیں اپنے پاس رکھ کر مریدی کے آداب سکھانا چاہتے ہیں۔ صورتحال تکلیف دہ ہے۔ ایک شاندار ادارے کا زوال واضح نظر آ رہا ہے اور یہ وہ ادارہ ہے جس کی تعریف انڈین سفارت کار بھی کرنے پر مجبور ہوا کرتے تھے۔ انکے فارن سیکرٹری نٹور سنگھ، شیام سرن اور سابق سفیر اور بعد میں سیاست دان مانی شنکر ایّار کے اقوال اس ضمن میں ریکارڈ پر ہیں۔
فارن آفس کے انتظامی امور پر وزیر خارجہ کا کنٹرول 31 اگست کے سرکلر سے صاف عیاں ہے جس پر رضا بشیر تارڑ کے بطور سپیشل سیکرٹری دستخط ہیں۔ سرکلر کا من و عن ترجمہ یوں ہے ''یہ سمجھ میں آ رہا ہے کہ ایڈیشنل سیکرٹری (ایڈمنسٹریشن) کی طبیعت ناساز ہے‘ ہو سکتا ہے کہ وہ 2 ستمبر کو ہونے والی اپنی ریٹائرمنٹ تک آفس نہ آ سکیں۔ وزیر خارجہ نے حکم دیا ہے کہ جب تک مسٹر عمران مرزا کی جگہ کوئی افسر تعینات نہیں کر دیا جاتا میں انتظامی ڈویژن کا کام بھی سپروائز کروں تا کہ وزارت کا کام نہ رکے‘‘۔ سبحان اللہ کیا شاندار بہانہ ہے دوسروں کے اختیارات سلب کرنے کا۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ پیر سائیں کے انوکھے تعویذوں سے ایک شاندار قومی ادارے کی جڑیں کھوکھلی ہو رہی ہیں۔ غلط روایات کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ اس سے زیادہ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ فارن سیکرٹری سہیل محمود خاموش تماشائی کی طرح یہ منظر دیکھ رہے ہیں۔ افسر بتا رہے ہیں کہ انتظامی امور میں وزیر با تدبیر کی مداخلت عرصے سے جاری ہے‘ کوئی اور فارن سیکرٹری ہوتا تو شاید او ایس ڈی (OSD) بننے کو ترجیح دیتا۔ ایک زمانہ تھا‘ وزیر خارجہ کے دفتر کا مدیر ڈائریکٹر لیول کا افسر ہوتا تھا۔ سعید دہلی اور توقیر حسین وزیر خارجہ عزیز احمد کے آفس ڈائریکٹر تھے‘ غالباً گریڈ 18 یا 19 میں۔ اس واقعہ کو نصف صدی ہونے کو ہے‘توقیر صاحب آج بھی امریکہ کی معروف یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ کیا شاندار افسر ہوتے تھے ہمارے پاس۔
1980 کی دہائی میں صاحبزادہ یعقوب خان وزیر خارجہ بنے تو طارق فاطمی ان کے آفس ڈائریکٹر بنے اور تب ابھی گریڈ 20 میں پروموٹ نہیں ہوئے تھے۔ گوہر ایوب کے دفتر کے ڈی جی غالب اقبال تھے جو گریڈ 20 کے افسر تھے۔ عبدالستار پرویز مشرف کے زمانے میں وزیر خارجہ بنے تو فوزیہ عباس ان کے ساتھ ڈی جی لگائی گئیں اور وہ بھی گریڈ بیس میں تھیں اور یاد رہے یہ افسر فارن سیکرٹری کی منظوری سے لگتے تھے‘ اس لیے کہ فارن سیکرٹری فارن آفس کا انتظامی سربراہ ہوتا ہے۔
فارن آفس کے افسر بہت محنتی ہیں۔ رات گئے تک کام میں مصروف نظر آتے ہیں۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے 85 سفارت خانے اور 25 کے قریب قونصلیٹ یہاں سے چلائے جاتے ہیں اور بیرون ملک سفارتی مشن چلانے میں بھی فارن سیکرٹری کا اہم رول ہے‘ جو اب کمزور ہو رہا ہے۔ فارن الائونس سنا ہے دس سال سے منجمد ہے۔ مجھے یاد ہے کہ فارن سیکرٹری ریاض محمد خان کے دور میں فارن الائونس دو مرتبہ بڑھا تھا‘ اور اس کام کے لیے وہ بنفس نفیس فنانس سیکرٹری نوید احسن کے پاس گئے تھے۔ فارن سیکرٹری شمشاد احمد خان کے دور میں فارن آفس سکول کی تعمیر کا فیصلہ ہوا۔ منسٹری کے اندر مسجد بنی اور سفرا کو مزید مراعات ملیں۔
پاکستان میں فارن سیکرٹری عمومی طور پر یا تو ریٹائرمنٹ کے قریب ہوتا ہے اور بصورت دیگر توسیع (Extention) یافتہ ہوتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے قریب فارن سیکرٹری کو ایک بہت اچھی آخری پوسٹنگ کا انتظار ہوتا ہے۔ توسیع یافتہ فارن سیکرٹری بھی بولڈ فیصلے نہیں کر پاتا۔ انڈیا میں فارن سیکرٹری کا فکسڈ عرصہ ملازمت (Fixed tenure) ہوتا ہے اور وہ سکون سے اپنا کام کرتا ہے۔ ہمیں بھی یہ طریقہ اپنانا چاہیے۔ اداروں کا استحکام شخصیات کے مفادات اور انا سے زیادہ اہم ہے۔
سنا ہے کہ اس وقت فارن سیکرٹری بننے کیلئے چار سینئر افسر دوڑ میں ہیں۔ ویسے جو غلط روایت حال ہی میں پڑی ہے اس کے بعد اس عہدے میں وہ تمکنت نہیں رہی جو کبھی ہوتی تھی۔ جب سفیروں کا انتخاب وزیر اعظم کرتے ہیں تو فارن سیکرٹری بھی انہیں خود لگانا چاہیے اور ہاں حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے چاروں افسروں کا ریکارڈ محدب عدسہ لگا کر دیکھا جائے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک آدھ کے خلاف انکوائری ہوئی تھی اور سفارش تھی کہ اسے سروس سے فارغ کر دیا جائے۔ یہ عہدہ بڑا حساس ہے۔ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے اور فارن سیکرٹری کے عہدے کے بعد سفارت کی روایت ختم ہونی چاہیے۔ ہمیں اب ایسا فارن سیکرٹری چاہیے جو فارن آفس کی الٹی گنگا کو سیدھا کر سکے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں