نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی نے عوام کیساتھ بڑے وعدے کیےتھے،سراج الحق
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی حکومت نے عوام سےکیاگیاایک وعدہ بھی پورانہیں کیا،سراج الحق
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی حکومت نے ریاست مدینہ بنانےکاوعدہ کیا،سراج الحق
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ارادہ اور عمل

میں جب کبھی تواتر سے ملتان یا جنوبی پنجاب کے بارے میں لکھتا ہوں تو میرے کئی دوست‘ جاننے والے یا قاری اس بات کا گلہ کرتے ہیں کہ میں قومی مسائل و معاملات کی بلند سطح سے نیچے اتر کر مقامی سطح کے کالم کیوں لکھتا ہوں؟ میرا سوال ہوتا ہے کہ کیا ملتان یا جنوبی پنجاب کا مسئلہ قومی نہیں؟ کیا یہ خطہ ارض پاکستان کا حصہ نہیں؟ کیا یہ ارض وطن جسد واحد کی مانند نہیں؟ کیا ایک حصے کا درد‘ محرومی‘ پسماندگی اور مسائل ہم سب سے متعلق نہیں؟ اکثر اوقات میرے وہ دوست اگلا سوال نہیں کرتے مگر بعض دوست پھر بھی نہیں مانتے اور نئے سرے سے اعتراض داخل کرتے ہیں کہ آپ ماشاء اللہ قومی سطح پر پڑھے جاتے ہیں اور پاکستان کے دیگر شہروں میں رہنے والے بعض اوقات ملتان یا جنوبی پنجاب پر کچھ پڑھنے میں شاید اتنی دلچسپی نہ لیتے ہوں گے جتنی دلچسپی وہ ان مسائل اور معاملات پر پڑھنے میں لیتے ہیں جو مجموعی طور پر تمام پاکستانیوں سے متعلق ہوں۔ ملتان کے معاملات پر لکھنے سے آپ کی ریڈرشپ متاثر ہوتی ہے‘ دائرہ کار محدود ہوتا ہے اور آپ کا امیج قومی سطح کے کالم نگار سے مقامی سطح پر آ جاتا ہے۔ 
میں اپنے ان دوستوں سے کہتا ہوں کہ ملتان کوئی جاپان میں واقع شہر نہیں کہ اس کے مسائل کوئی الگ سے ہوں گے۔ اکثروبیشتر ایسا ہوتا ہے کہ ملتان میں جو کچھ ہو رہا ہے میں اس کا عینی شاہد ہونے کے حوالے سے اپنی ''فرسٹ ہینڈ انفارمیشن‘‘ کی بنیاد پر لکھ دیتا ہوں وگرنہ اصل صورتحال یہ ہے کہ ملتان کا تو صرف نام استعمال ہوتا ہے تقریباً پورا پاکستان یا کم از کم مراعات یافتہ تین چار فیصد اشرافیہ کو چھوڑ کر باقی سارا ملک انہی مسائل میں گھرا ہوا ہے جن کی نشاندہی میں ملتان کے حوالے سے کرتا رہتا ہوں۔ ملتان کی محرومی اور پسماندگی کا موازنہ جب ''تخت لاہور‘‘ سے کرتا ہوں تو ملتان لاہور کے علاوہ پنجاب کے دیگر محروم شہروں کا اجتماعی حوالہ بن جاتا ہے۔ ٹریفک پولیس کے ہاتھوں اہلِ ملتان کی جو گت بن رہی ہوتی ہے‘ میں عینی شاہد ہونے کے حوالے سے لکھ دیتا ہوں مگر یہ حوالہ صرف اہلِ ملتان کے لیے محدود نہیں رہتا‘ پنجاب میں سب جگہ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ 
جب پاک ٹی ہائوس بند ہوتا ہے تو سارے کے سارے لاہوری کالم نویس لٹھ لے کر حکومت پر چڑھ دوڑتے ہیں اور ایک ایک دن میں چار چار کالم صرف اسی ایک موضوع پر لکھے جاتے ہیں۔ تب کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ مقامی مسئلہ ہے اور سچ بھی یہی ہے کہ پاک ٹی ہائوس کا مسئلہ لاہور کا‘ لاہور کے ادیبوں کا‘ دانشوروں کا یا اہلِ قلم کا مسئلہ نہیں تھا۔ یہ جگہ لاہور کی تہذیب کا‘ تاریخ کا‘ ثقافت کا بلکہ پورے پاکستان کے اہلِ قلم‘ ادیبوں اور حرف سے محبت کرنے والوں کا سرمایہ تھی۔ کوئی چیز مقامی نہیں ہوتی۔ یہ ہماری محدود سوچ ہے جو معاملات کو علاقائی خانوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ ویسے بھی ہم اپنے اپنے شہروں کے قرض دار ہیں اور ساری عمر یہ قرض ادا نہیں کر سکتے۔ 
میں نے ملتان کے یُوٹرن پر دو کالم لکھے۔ پہلے کالم پر ہی لاہور سے حکم گیا کہ ملتان میں جاری ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں کوتاہیوں اور خامیوں کو دور کیا جائے۔ ملتان کے افسران کو جب لاہور سے ٹائٹ کیا گیا تو انہیں بھی تھوڑی پھرتیوں کا دورہ پڑ گیا۔ کمشنر‘ ڈی سی او اور این ایچ اے سے ٹیلی فون آئے‘ ملاقاتیں ہوئیں اور اللہ اللہ خیر صلا۔ ڈی سی او سے بڑی تفصیلی ملاقات ہوئی۔ غلطیوں کی نشاندہی کی۔ ڈی سی او نے باتیں نوٹ کیں۔ ملتان کی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور ڈی سی او کے ویب پیج پر یہ ساری خرابیاں درست اور غلطیاں ٹھیک کر دی گئیں۔ ویب پر جاری اعلانات کے مطابق سب چیزیں ٹھیک ہو گئیں؛ تاہم یُوٹرن میں رتی برابر بہتری یا درستی دیکھنے سے عاجز کی آنکھیں محروم رہیں۔ ایک ماہ چوبیس دن بعد پھر اسی موضوع پر یاددہانی‘ بلکہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ شرم دلانے کے لیے ایک عدد مزید کالم لکھا۔ سنا ہے لاہور سے پھر فون آیا۔ ویب سائٹ پر ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کے ماہر ڈی سی او نے کوئی کہانی سنا دی ہوگی۔ بہرحال ویب سائٹ پر تقریباً پیرس کے ہم پلّہ بن جانے والے شہر ناپُرساں کا ایک یُوٹرن بھی ٹھیک نہ ہو سکا۔ ٹریفک انجینئرنگ کی بقیہ غلطیوں اور تجاوزات کے حوالے سے معمولی سا فرق بھی نظر نہ آیا۔ رمادا ہوٹل میں روڈ سیفٹی سیمینار میں ملتان کے حاکموں کی کارکردگی پر سوال اٹھایا گیا۔ معاملہ جب اخبار سے نکل کر عوام تک پہنچنے کی 'نوبت‘ آئی تو اگلے روز اس یُوٹرن پر ایک قطار میں (Cat Eyes) یعنی منعکسی زمینی شیشے لگ چکے تھے۔ لیکن باقی سارے معاملات جوں کے توں تھے؛ تاہم ویب سائٹ پر روزانہ کی بنیاد پر ایسی کارکردگی دیکھنے میں آتی رہی جس پر ملتان سے باہر والے ہماری خوش قسمتی سے باقاعدہ حسد محسوس کرتے تھے لیکن عملی طور پر سب صفر جمع صفر برابر صفر تھا۔ چھ ماہ اور انیس دن کی افسری کے بعد جناب ڈی سی او صاحب اپنے انجام کو پہنچے۔ جو کہانیاں اہلِ ملتان اس عرصے میں ایک دوسرے کو سناتے رہے اور ملتان کے سیاسی کھڑپینچ حسب معمول منافقت بھری خاموشی اختیار کیے رہے شاید کسی ذریعے سے وزیر اعلیٰ کے کانوں تک پہنچ گئی تھیں۔ ان معاملات میں بہرحال میں وزیر اعلیٰ کے بارے میں حسنِ ظن رکھتا ہوں۔ وزیراعلیٰ نے فی الفور اہلِ ملتان کو نجات کی خبر سنا دی۔ 
نئے ڈی سی او کو آئے محض پانچ دن ہوئے تھے کہ ایک دو دوستوں نے‘ جو عوامی رابطے اور ذاتی آوارہ گردی کے حوالے سے بدنام زمانہ شہرت کے حامل ہیں‘ نئے افسر کے بارے میں اچھے الفاظ استعمال کیے اور بتایا کہ وہ نسیم صادق جیسا نہ بھی ہو مگر شہر کے لیے غنیمت ہے۔ یہ وہ دوست ہیں جو تعریف کے معاملے میں انتہائی کنجوس اور خسیس واقع ہوئے ہیں۔ دو تین دن تک شہر کی صورتحال دیکھنے کے بعد مجھے بھی معاملات میں بہتری نظر آئی تو میں نے نئے ڈی سی او سے ملنے کا ارادہ کر لیا۔ کسی ڈی سی او سے اپنی خواہش پر ملنے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ میں ملتان میں پیدا ہوا اور یہیں ساری عمر گزار دی مگر اس دوران یہ تیسرا موقع تھا کہ میں ڈی سی آفس میں آیا۔ ایک مرتبہ اپنے دوست سیف اللہ چٹھہ کو ملنے‘ دوسری بار نسیم صادق کو اور اب تیسری بار زاہد سلیم گوندل کو ملنے۔ ملاقات تو بس ویسی ہی تھی جیسی تین ماہ قبل ڈی سی او ہائوس میں سابق ڈی سی او سے ہوئی تھی مگر اس ملاقات میں نہ تو کوئی بلندبانگ دعوے تھے اور نہ شیخیاں۔ میں نے کہا ڈی سی او صاحب! یہ ملتان ہے‘ پرخلوص اور محبت کرنے والوں کا شہر۔ بدقسمتی سے یہاں کی سیاسی قیادت بھی باقیوں جیسی ہے۔ جھوٹی‘ منافق‘ چاپلوس اور مفادات کی غلام بلکہ باقیوں سے بھی بڑھ کر۔ وہ سامنے لگے Incumbency Board (مدت ملازمت کا تختہ) پر دو ڈی سی اوز کے نام آخر میں درج ہیں۔ ایک کا قیام پورے چھ ماہ ہے اور دوسرے کا چھ ماہ انیس دن۔ ایک نے نیک نامی کمائی ہے اور دوسرے نے مال۔ آپ کے سامنے دونوں راستے ہیں۔ ہم ملتانی 
نہایت تابع فرمان لوگ ہیں۔ آپ جیسا چاہیں گے ہم کر دیں گے۔ آپ محبت اور نیک نامی کے طلبگار ہیں تو وہ بھی باافراط موجود ہے کوئی لینے والا ہو۔ اگر مال بنانا ہے تو ہم اس کے لیے بھی حاضر ہیں۔ راستے کا چنائو آپ کا اختیار ہے۔ یہاں سب کچھ موجود ہے۔ بس طلبگار کی ترجیح کا معاملہ ہے۔ یہ کہہ کر میں اٹھا اور گھر چلا گیا۔ شام کو فون آیا کہ کیا آپ ''یوٹرن‘‘ پر آ سکتے ہیں؟ میں نے کہا صرف دو منٹ میں۔ میں اتفاقاً اس شہرہ آفاق یوٹرن سے دو سو گز کے فاصلے پر تھا۔ وہاں پہنچا تو ڈی سی او مع ترقیاتی پیکیج کے ذمہ داران‘ پروجیکٹ ڈائریکٹر‘ این ایچ اے کے افسران‘ ٹریفک پولیس کے مدارالمہام اور دوسرے متعلقہ افسران کے وہاں موجود تھا۔ پروجیکٹ کے افسروں کی لیت و لعل اور ڈی سی او کا اصرار۔ افسران غچہ کرانے میں اور ڈی سی او ان سے ڈیڈ لائن لینے پر مصر تھا۔ بڑی تگ و دو کے بعد ڈی سی او ان سے ڈیڈ لائن لینے میں کامیاب ہو گیا۔ تین دن بعد یوٹرن ٹھیک ہو چکا تھا۔ تجاوزات کے معاملے میں کافی بہتری نظر آ رہی ہے مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ایک دو بار ایسا ہو چکا ہے کہ میں شام کو شہر میں پھر رہا ہوتا ہوں اور ڈی سی او اپنی ٹیم کے ہمراہ کچھ نہ کچھ کرتا نظر آتا ہے۔ میں دور سے دیکھتا ہوں اور دل میں اس شہر کے لیے‘ غنیمت افسر کے لیے اور اس حوالے سے پورے ملک کی بہتری کے لیے دعا کرتا ہوں۔ 
مجھے گمان ہے کہ ڈی سی او نے پہلے راستے کا یعنی نیک نامی اور محبت کمانے والے راستے کا انتخاب کیا ہے۔ اللہ اُسے استقامت بخشے۔ لیکن اس موجودہ ڈی سی او کے لیے مشکل اور مصیبت یہ ہے کہ ہم اس کا نسیم صادق سے موازنہ کرتے ہیں۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے اسے اور محنت کرنا ہوگی۔ یہ کام مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ انسان کو ابھی تک اس بات کا مکمل ادراک نہیں ہو سکا کہ قادر مطلق نے اس میں کتنی صلاحیتیں پوشیدہ کر رکھی ہیں۔ ارادہ اور عمل ان صلاحیتوں کو منکشف کر دیتا ہے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں