نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ویکسین کوقوم پرستی سےجوڑناانسانیت کی توہین ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- اب بھی لاکھوں لوگ کوروناوائرس سےدوچارہیں،طیب اردوان
  • بریکنگ :- 40 سال سےافغانستان کوتنہاچھوڑدیاگیا،ترک صدرطیب اردوان
  • بریکنگ :- افغانستان کوعالمی امداداوریکجہتی کی ضرورت ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- نیویارک:ترک صدرطیب اردوان کااقوام متحدہ جنرل اسمبلی سےخطاب
  • بریکنگ :- ترکی افغانستان اوروہاں کےعوام کےساتھ کھڑارہےگا،طیب اردوان
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے

آج کا کالم لکھتے ہوئے سب سے بڑی پریشانی تو یہ لاحق ہے کہ اس کا آغاز کہاں سے کیا جائے۔معاملہ پرانا ‘گھسا پٹا‘ گمبھیر ‘ طویل اور بدنیتیوں کے انبار تلے دبا ہوا ہے اور یہ عاجز حیران و پریشان ہے کہ کس سرے سے پکڑ کر معاملہ آگے چلایا جائے؟ خادم اعلیٰ زبانی کلامی میرٹ کے سب سے قریبی عزیز رشتے دار محسوس ہوتے ہیں اور تاہم اگر معاملہ اپنے فیصلے اور خاص طور پر غلط فیصلے کا ہو تو ان کے میرٹ کا ''کچھو کماں‘‘ اپنا سر خول کے اندر کر کے اور کان لپیٹ کر سو جاتا ہے۔
آج کل ملک میں سب سے اہم معاملہ صرف اور صرف ایک ہے‘ اور وہ ہے ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریوں کا‘ دو نمبر یونیورسٹیوں کا‘ آن لائن دی جانے والی غیر معیاری تعلیم کا اور خود ساختہ تحقیقاتی مقالات کا۔ ان سب کاموں کے لیے ایگزیکٹ والوں نے حکومت پاکستان سے نہ منظوری لی تھی اور نہ ہی انہیں اطلاع دی تھی‘ اس کے لیے نہ تو حکومت پاکستان نے وہاں کے سربراہ کی تقرری کی تھی اور نہ ہی اس کا تعلق کسی پاکستانی جامعہ سے تھا۔ اس لیے اس کیس میں حکومت مدعی اور بے چارہ شعیب شیخ واحد قربانی کا بکرا۔ لیکن جن معاملات میں حکومت نے اس سے بھی کہیں زیادہ نااہلی ‘ نالائقی اور بدانتظامی کا مظاہرہ کیا ہے اس پر نہ صرف یہ کہ سب خاموش ہیں بلکہ معاملے کو حتی الامکان دبائے بیٹھے ہیں۔
بہائوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے حالات اس سے کہیں زیادہ خراب اور تشویشناک ہیں جتنے کہ ایگزیکٹ کے معاملات۔ میں ایگزیکٹ کو بری نہیں کر رہا مگر معاملہ یہ ہے کہ ایگزیکٹ کی وجہ سے کم از کم پاکستان کی یونیورسٹیوں ‘ کالجوں اور ان میں پڑھنے والے طلبہ کو کسی تعلیمی بربادی کا سامنا نہیں ہے‘ جو جامعہ زکریا کے طلبہ کو درپیش ہیں۔ رئیس جامعہ کی تقرری کے لیے حکومت نے ایک سرچ کمیٹی بنائی جو سید بابر علی‘ سرتاج عزیز‘ جنرل (ر) محمد اکرم اور چیف سیکرٹری پنجاب پر مشتمل تھی۔ اس کمیٹی نے تین نام درجہ بندی کر کے وزیر اعلیٰ کو بھجوائے۔ وزیر اعلیٰ عرف خادم اعلیٰ نے چن کر اس لسٹ میں سے سب سے نیچے والا نام منظور فرمایا اور تیسرے درجے کے میرٹ کو یعنی تھرڈ کلاس میرٹ کو منظور کیا۔ اس کے بعد ایک عجیب و غریب عدالتی‘ قانونی اور سیاسی زور آزمائی شروع ہوگئی۔ جامعہ زکریا کئی ماہ تک رئیس جامعہ کے بغیر چلتی رہی۔ بالآخر خادم اعلیٰ کی مدد اور آشیر باد سے وہی تیسرے نمبر پر آنے والا امیدوار وائس چانسلر بننے میں کامیاب ہو گیا اور نہایت روشن ماضی کی حامل جامعہ زکریا کی بربادی کا آغاز ہوا۔
جامعہ زکریا کو شروع میں ہی ڈاکٹر خیرات محمد ابن رسا جیسے اعلیٰ پائے کے ماہر تعلیم اور منتظم کے طفیل اپنا ایک مقام بنانے کا موقع مل گیا۔ بعدازاں ڈاکٹر نذیر رومانی نے اسے مزید بہتر کیا۔ ایک دو کمزور منتظم وائس چانسلرزکے بعد ڈاکٹر نصیر خان جیسا شاندار رئیس جامعہ نصیب ہوا۔ بدقسمتی سے وہ فوکر کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ اس کے بعد ڈاکٹر ظفر اللہ وائس چانسلر بن گئے۔ تب وہ لوگوں کو ڈاکٹر نصیر کے مقابلے میں کمزور درجے کی منتظم لگے‘ مگر بعدازاں آنے والے ڈاکٹر خواجہ علقم کے مقابلے میں فرشتہ محسوس ہوئے۔ میرے دوست خواجہ علقم کے وائس چانسلربنتے ہی جامعہ زکریا ہر معاملے میں تنزلی کا شکار ہو گئی۔ ڈاکٹر نصیر کے زمانے میں یہ یونیورسٹی پاکستان بھر میں تیسرے نمبر پر تھی۔ ڈاکٹر ظفر اللہ کے زمانے میں ایچ ای سی کی رینکنگ میں یہ شاید دسویں نمبر پر تھی۔ اب یہ یونیورسٹی پہلی دس یونیورسٹیوں میں نہیں ہے کہ ایچ ای سی کی ویب سائٹ پر اوور آل رینکنگ میں صرف پہلی دس جامعات کا نام درج ہے۔ ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ اب اس کا اوور آل رینکنگ میں اڑتیسواں نمبر ہے۔ واللہ اعلم‘ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ؟ مگر یہ بات طے ہے کہ جامعہ انتظامی‘ تعلیمی اور اخلاقی حوالوں سے روزبروزبربادی کی طرف گامزن ہے ۔ اوپر سے کمرشل ازم نے جامعہ کی شکل و صورت مزید مسخ کر دی ہے۔
فاصلاتی تعلیم اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں قائم ہونے والے سب کیمپس WCG(ایک پرائیویٹ کمپنی) لاہور نے مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے ایسے ایسے سوالات اٹھائے ہیں کہ خدا کی پناہ ۔19جنوری2013ء میں ڈبلیو سی جی نے لاہور میں جامعہ کا سب کیمپس کھولنے بارے خط لکھا۔ وائس چانسلر نے اپنے من پسند لوگوں کی ایک کمیٹی بنائی اور اس سے اس تجویزکی منظوری لے لی۔ معاملہ اب سنڈیکیٹ میں آ گیا۔ لیکن اس سے قبل ہی 19فروری کو وائس چانسلر نے ''پارٹنرشپ ڈیڈ‘‘ پر دستخط فرما دیئے ۔ اس معاہدے پر دستخط سے قبل طے شدہ طریقہ کار اپنانے کے بجائے وی سی نے سیکشن(3) 16کا استعمال کیا جو عموماً ہنگامی صورتحال میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم افراتفری میں اسے اوپر بھجوا کروزیر تعلیم سے منظوری لے لی اور بعدازاں وزیر اعلیٰ سے بھی مشروط منظوری لے لی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے یہ منظوری دیتے ہوئے معاہدے کو سنڈیکیٹ اورہائر ایجوکیشن کمیشن کے این او سی سے مشروط کر دیا مگر وائس چانسلر نے پھرتیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنڈیکیٹ کے اجلاس کا انتظارہی نہ کیا اور معاہدہ کی Provisionalیعنی عبوری منظوری دے کر یہ خط ڈبلیو سی جی کو بھجوا دیا۔ اس منظوری کے ساتھ ہی جامعہ کا سب کیمپس جو ابھی وجود میں بھی نہ آیا تھا‘ آگے فروخت کر دیا گیا۔ یہ فروخت سولہ مئی2013ء کو ہوئی اورپھر19ستمبر2013ء کو یہ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی دوسری بار فروخت ہو گئی۔ جامعہ کا سب کیمپس نہ ہوا‘ کچے روٹ کی بس ہو گئی‘ جس کی سواریاں ہر بارہ پندرہ میل بعد دوسری بس کوفروخت کر دی جاتی ہیں۔
سنڈیکیٹ کی میٹنگ اتنی جلدی ممکن نہ تھی جتنی جلدی اسے منظور کروانے کی پڑی ہوئی تھی۔ لہٰذا ایک خط کے ذریعے ممبران سے بغیر بحث‘ اس اہم پروجیکٹ کی منظوری لے لی گئی۔ اپنے ماتحتوں اور پیاروں کو ملا کربارہ میں سے چھ ووٹ حاصل کئے گئے‘ کسی پرائیویٹ ممبر نے اس کے حق میں ووٹ نہ دیا۔ پانچ ووٹ مخالفت میں پڑے۔ ایک ووٹ کا خط دیر سے آنے کی وجہ سے مسترد کر دیا اور چھ پانچ کی ''بھاری اکثریت‘‘ سے یہ منظوری لے لی گئی۔ کیا حسین اتفاق تھا کہ ان پانچ مخالفین میں ایک حاضر سروس جج‘ایک ریٹائرڈ جج‘ ایک ریٹائرڈ وائس چانسلر‘ حکومت پنجاب کی ایڈیشنل سیکرٹری اور ایک ریٹائرڈ خاتون پرنسپل شامل تھی؛ جبکہ چھ حامی افراد میں سے ایک خودوائس چانسلر ‘ ایک ایسی ہی یونیورسٹی کا وائس چانسلر جو اپنی یونیورسٹی کے لیے ایسا ہی سب کیمپس کھولنے کی اجازت دے چکا تھا اور دیگر چار ممبران جامعہ زکریا کے فیکلٹی ممبران اور جامعہ کے ملازم تھے یعنی وائس چانسلر کے ماتحت تھے۔
کیمپس کھل گیا۔ فیسیں وصول کی گئیں۔ ایسے ایسے شعبے منظور کیے جو جامعہ زکریا میں بذات خود موجود نہ تھے۔ ان خرابیوں پر شور مچا اور لاہور میں کچھ لوگوں کے کان کھڑے ہوئے۔ وزیر تعلیم نے چھان بین شروع کی تو بے شمار خرابیاں اوربدانتظامیاں سامنے آئیں۔ اوپر سے ایک سخت سا خط آیا جس میں سب کیمپس کو بند کرنے کا کہا گیا۔ اب اسی سنڈیکیٹ نے‘ جس نے چھ اور پانچ سے یہ منصوبہ منظور کیا تھا‘ مسترد کر دیا۔ یہ ریزولیوشن مورخہ پانچ و چھ ستمبر2013ء کی میٹنگز میں پاس کیا گیا۔ اصولی طور پرکیمپس بند کرنے کی منظوری ہوئی مگر سب کیمپس کے تیسرے خریدار نے جس کے پاس وائس چانسلر کا داماد ملازم تھا‘ سول جج کی عدالت سے حکم امتناعی حاصل کرکے تعلیمی معاملات کو اپنے طور پر چلانا شروع کر دیا۔ حالانکہ ایچ ای سی 5ستمبر2013ء کو ایک اشتہار کے ذریعے اس سب کیمپس کوکام کرنے سے روک چکا تھا مگر حکم امتناعی کے زورپر کیمپس بھی چلایا جاتا رہا اور فیسیں بھی وصول کی جاتی رہیں۔ کروڑوں روپے فیس کی مدمیں وصول کئے گئے اور ایچ ای سی سے نامنظور سب کیمپس زور شور سے چلتارہا۔
اس دوران سنڈیکیٹ کے چار پانچ ممبران اس معاملے پر آواز اٹھاتے رہے اور اپنے تئیں کوشش کرتے رہے کہ تعلیم کو مکمل طور پر کاروبار بنانے سے کسی نہ کسی طرح روک سکیں کہ سرکاری جامعات اب اس ملک میں سستی تعلیم کاواحد ذریعہ رہ گئی ہیں‘ وگرنہ پرائیویٹ اور دیگر خود مختار یونیورسٹیوںنے اپنی فیسیں اس حد تک بڑھا دی ہیں کہ عام آدمی یہ فیس برداشت ہی نہیں کر سکتا۔ ایک طرف یہ پانچ ممبران اپنی کوششوںمیں لگے ہوئے تھے تو دوسری طرف وائس چانسلر ہرحالت میں اس سب کیمپس کو سنڈیکیٹ سے منظور کروانے پر تلے ہوئے تھے۔ اس منظوری کی خاطر ایسے ایسے پاپڑ بیلے گئے اور ایسے ایسے فراڈ کیے گئے کہ خدا کی پناہ۔ خود ساختہ منٹس آف میٹنگ بنائے گئے۔ کورم کے بغیر ہونیوالے سنڈیکیٹ کے اجلاس کو باقاعدہ اجلاس بنا کر پیش کیا گیا۔جعلی اور خود ساختہ منٹس واپس لے لیے گئے ۔تھوک کر چاٹا گیا اور پھر دوبارہ سہ بارہ وہی حرکت کی گئی۔ میٹنگ میں کچھ اورطے ہوا اورکارروائی میں کچھ اور لکھا گیا۔ پھر تحریری طور پر سابقہ کارروائی واپس لی گئی۔ اس ساری کارروائی کے لیے ایک کالم درکار ہے۔ بلکہ حقیقتاً تو ایک دفتر درکار ہے مگر کیا کیا جائے مجبوری ہے کہ معاملہ محدود گنجائش میں سمیٹنا پڑتا ہے ۔باقی معاملات کل‘ آج اتنا ہی کافی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں