نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ترک وزیرخارجہ سےعمران خان اورترک صدرملاقات بارےتبادلہ خیال ہوا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ سےبھی ملاقات ہوئی،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ کوافغانستان سےمتعلق پاکستانی نقطہ نظرپیش کیا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال عالمی برادری کےلیےامتحان ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال پرایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی برادری مشکل گھڑی میں افغان عوام کی معاونت کرے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغانستان میں معاشی بحران خطرناک ہوسکتاہے،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دنیاایک رخ دیکھ رہی ہے،وزیراعظم تقریرمیں دوسرارخ پیش کریں گے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاجنرل اسمبلی سےایک جامع خطاب ہوگا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- جنرل اسمبلی اجلاس کےموقع پراہم رہنماؤں سےملاقاتیں ہوئیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی رہنماؤں سےافغانستان اورکشمیرسےمتعلق بات ہوئی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- کشمیریوں کیساتھ اظہاریکجہتی پراوآئی سی رابطہ گروپ کےمشکورہیں،وزیرخارجہ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ابھی ، یا پھر کبھی نہیں

فی الحال معاملہ تین سال والوں کا نہیں ہے بلکہ ان کا ہے جنہوں نے ہمیشہ رہنا ہے۔ بھلا ہمیشہ کون رہا ہے؟ کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والا کرام (جو زمین پر ہے، سب کو فنا ہونا ہے اور تمہارے پروردگار کی ذات جو صاحب جلال و عظمت ہے باقی رہ جائے گی۔) اگر ہمیشہ رہنے کا معاملہ دنیا کا ہے تو قرآن مجید نے کہہ دیا ہے کہ باقی ذات صرف اور صرف ہمیشہ قائم و دائم رہنے والے رب کی رہ جائے گی، باقی سب فنا ہو جائے گا ۔ اگر معاملہ یہاں یعنی پاکستان میں رہنے کا ہے تو سب دعویدار آہستہ آستہ کھسکتے جا رہے ہیں۔ دعویٰ انسان کو جچتا ہی نہیں۔ یہ اپنی اوقات سے بڑھ کرکی جانے والی بات ہے،سو حال یہ ہے کہ یہاں ہمیشہ رہنے کا دعویٰ کرنے والے خود یہاں سے سٹک گئے ہیں۔ اب خدا جانے یہ کھسکنا مختصر ہے یا طویل المدتی۔ لیکن یہی تھے جو چند روز کا بہانہ مار کر گئے تھے اور پھر برسوں بعد واپس آئے جب میدان ان کے لئے ہر طرح صاف ہو چکا تھا۔
جناب آصف علی زرداری باہر ہیں، رحمن ملک اور بلاول بھٹو زرداری کی آنیاں جانیاں لگی ہوئی ہیں۔ بلاول کی پھوپھی محترمہ جناب فریال تالپور مع اپنے شوہر منور تالپور صاحب دبئی سدھار چکی ہیں۔ سندھ حکومت کے حقیقی سپہ سالار اعظم مظفر ٹپی لندن نکل گئے ہیں۔ سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال صاحب خارجہ معاملات نمٹانے کی غرض سے عازم دبئی ہو چکے ہیں۔ اس رفتار سے رینجرز سندھ حکومت کے دفتروں میں نہیں پہنچی جس رفتار سے سندھ کے سیاستدان اور افسران دبئی جارہے ہیں،بلکہ دبئی تو پہلا سٹاپ ہے،آگے ہر شخص کی پرواز اس کی ہمت کے مطابق ہے۔ ابھی معاملہ یہ ہے کہ بقول انشاء اللہ خان ؎
کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
فی الوقت پاکستان میں ایک تیسرا اور نیا طریقہ احتساب آزمایا جارہا ہے۔ یہ موجودہ صورت میں تو اہالیان پاکستان کے لئے بالکل نیانکورہے۔ نہ یہ سول احتساب ہے اور نہ مارشل لائی احتساب ۔ سول چھتری تلے وردی والوں کا احتسابی فارمولا جس طرح پہلی بار آزمایا جارہا ہے اس عاجز کو نہ جانے کیوں یہ گمان ہے کہ یہ طریقہ کار اپنے قانونی مسائل کے باعث تادیر نہ چل پائے گا۔ اس طریقہ کار میں اتنے سقم اور ابہام ہیں کہ نہ صرف عدالتوں سے مجرموں کو بریت ملے گی بلکہ سارا آپریشن مشکوک ہو جائے گا۔ شاید ''مشکوک‘‘ کا لفظ اس کی صحیح ترجمانی نہ کر پائے۔ یہ سارا طریقہ کار جلد یا بدیر فائر بیک کر جائے گا اور مجھے اسی کا ڈر ہے۔ اس طریقہ کار سے ایک بات تو سامنے آئی ہے کہ اس آپریشن کے ڈیزائنرز کو کسی سول ادارے پر اعتماد نہیں... نہ نیب پر ، نہ ایف آئی اے پر اور نہ پولیس پر۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ نیب اور ایف آئی اے اس سارے آپریشن کو لیڈ کریں اور رینجرز وغیرہ صرف مزاحمت کی صورت میں ساتھ چلیں مگر یہاں الٹ ہو رہا ہے اور آپریشن کلین اپ (اگر یہ واقعی آپریشن کلین اپ ہے) کو رینجرز لیڈ کر رہی ہے جبکہ دونوں مذکورہ محکمے (جن کا یہ کام ہے) پچھلی صفوں میں نظر آرہے ہیں۔ بغیر قانونی مینڈیٹ کے ہونے والے وہ تمام کام جو کتنے ہی قابل تعریف کیوں نہ ہوں آخر کار عدالتوں میں پسپائی اور رسوائی کا باعث بنتے ہیں۔ عدالتیں پہلے ہی فوجی عدالتوں کو ملکی نظام انصاف پر عدم اعتماد سمجھتی ہیں، اوپر سے احتساب کا عمل ایک ایسے ادارے کے ذمے لگا دیاگیا میرے خیال میں جس کا اسے قانونی اختیار نہیں، تو معاملات جس رفتار سے بگڑیں گے اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں
بشرطیکہ ہم موجودہ صورت حال کو ذہن میں رکھتے ہوئے متوقع عدالتی ردعمل کے بارے میں تھوڑا سا بھی غور کریں۔
سب سیاسی پارٹیاں جو اس وقت ایک دوسرے کو دبائو میں دیکھ کر دل ہی دل میں خوش ہو رہی ہیں جلد یا بدیر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہونگی۔ ساری سیاسی پارٹیوں کے باہمی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ مفاد صرف اور صرف ''مفاہمت کی سیاست‘‘ سے جڑے ہوئے ہیں۔ میاں صاحبان اور زرداری صاحب کے درمیان مفاہمت کی سیاست گزشتہ کئی سال سے چل رہی ہے اور دو پارٹیاں اس سے مستفید ہو رہی ہیں۔ ہر دو پارٹیوں کو اس باہمی اخوت اور بھائی چارے کے فوائد کا اندازہ ہو چکا ہے کہ اس مفاہمت میں ہی دونوں کی بچت ہے۔ اب فی الوقت ہوا زرداری اینڈ کمپنی کے خلاف چل رہی ہے مگر قرائن بتاتے ہیں کہ متحدہ، پیپلز پارٹی اور سنی تحریک سے چلتے ہوئے یہ معاملات میاں صاحبان کی طرف رخ کر یں گے کہ معاملات کو سدھارنے کا ہر راستہ میاں صاحبان کو لپیٹے بغیر طے نہیں ہو سکتا۔
افواہیں زوروں پر ہیں۔ میاں صاحبان اور موجودہ حکومت کے لئے لوگ مختلف تاریخیںدے رہے ہیں۔ زیادہ لوگ اگست کی بات کر رہے ہیں۔ اگست میں کیا ہو گا؟ مارشل لاء تو لگے گا نہیں کہ یہ نہ تو حل ہے اور نہ ہی اس ڈیزائن کا حصہ ہے۔ جنرل راحیل شریف کی
ذات کو سامنے رکھیں تو مارشل لاء کے امکانات صفر کے نزدیک نظر آتے ہیں مگر ڈیڑھ سال میں کیا کچھ ہو سکتا ہے اور کیسے ہو گا؟ یہ سوال بہت اہم ہے۔ دانشوروں کی سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ جب آمریت ہو تو نعرہ لگاتے ہیں کہ بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہر حال بہتر ہے لیکن جوں ہی بری جمہوریت (جیسا کہ موجودہ جمہوریت ہے) کو دو سال گزرتے ہیں تو دانشور آمریت کے حق میں تاویلات نکالنے لگے پڑتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ جمہوریت نے عام آدمی کو وہ کچھ نہیں دیا جس کے لئے وہ جمہوریت جمہوریت کرتا ہے لیکن پنجاب کے علاوہ اور شاید اب کے خیبر پختونخواکو بھی اس میں کسی حد تک شامل کر لیاجائے تو بقیہ دو صوبے اس وفاق میں جمہوریت کے مرہون منت ہیں، بصورت دیگر وہاں کے قوم پرست مشکل پیدا کر دیں گے۔ بلوچستان کے عسکریت پسندوں اور سندھ کے قوم پرستوں کو مارشل لاء جتنی تقویت اور طاقت عطا کرتا ہے اس کا توڑ صرف جمہوریت ہے، خواہ وہ کتنی ہی لولی لنگڑی کیوں نہ ہو۔ ایسی صورت میں ہمیں بہر صورت اس لولی لنگڑی کو ہر طرح کی مفاہمتی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ جمہوریت ضروری ہے مگر ملک ہو گا تو جمہوریت چلے گی۔ اب جمہوریت کے چکر میں اگر ملک ہی نہ رہا تو کیا ہو گا؟ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جمہوریت کا بستر گول کر دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت موجودہ صورتحال سے نپٹنے کے لئے جگہ بنائے۔ یہ جگہ سرکار کو بنانا ہو گی اور جگہ لینے والوں کو اس ساری صورت حال میں قانونی تقاضے پورے کرنا ہوں گے اور آپریشن کو درست رخ پر رکھنا ہو گا۔
اس آپرپشن کو درست رخ پر رکھنے کا پہلا فارمولا یہ ہے کہ فوجی افسروں کی کرپشن سے متعلق فائلوں پر ایکشن لیا جائے۔ جب صفائی کا آغاز گھر سے ہو تو باہر والوں کو اعتراض کا موقع نہیں ملتا۔ جب ان فوجی افسروں کے خلاف ایکشن ہو گا تو نہ صرف یہ کہ بلا تخصیص احتساب کا پیغام ہر شخص تک پہنچ جائے گا بلکہ کسی کو تقریروں میں صورت حال کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا موقع ہی نہیں مل سکے گا۔ یہ دبی ہوئی فائلیں اس پورے آپریشن کی شکل و صورت بدل سکتی ہیں۔
صورت حال کیا رخ اختیار کرتی ہے ابھی کچھ کہنا ممکن نہیں، تاہم یہ بات طے ہے کہ معاملات موجودہ صورت میں نہیں چل پائیں گے۔ متحدہ، پیپلز پارٹی اور سنی تحریک کے بعد بہت سے لوگوں کا نمبر آنے والا ہے، سیاسی پارٹیوں کا بھی اور انفرادی سطح پر بھی۔ ایسے ایسے لوگوں کے نام لیے جارہے ہیں جو طاقت کو دائیں بائیں کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ آنے والے دن بہت سے لوگوں کے لئے بھیانک خواب کی طرح ہیں اور ''عقلمند‘‘ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر (ابھی بہت سے لوگوں کے پیسے تہہ خانوں میں پڑے ہوئے ہیں) نکل رہے ہیں اور نکل جائیں گے۔ وزیرستان آپریشن کی طرح، جہاں تاخیر کے باعث بہت سے لوگ نکل گئے تھے، اب بھی بہت سے لوگ نکل جائیں گے۔ واپس لانے کے لئے نہ ہماری نیت ہے اور نہ ہی کوئی میکنزم، بلکہ ابھی تو موجود لوگوں کو شکنجے میں لانے کا بھی کوئی قابل عمل اور دیر پا میکنزم موجود نہیں۔
سب سے پہلے ایک ایسا میکنزم درکار ہے جس کی پشت پر قانون ہو۔ لاقانونیت خواہ کتنی ہی اچھی نیت سے کیوں نہ کی جائے کبھی درست نتائج نہیں دیتی۔ ہم پہلے ہی بہت بھگت چکے ہیں، مزید کی گنجائش نہیں۔ ایک خصوصی اور فوری طریقہ کار کی ضرورت ہے جو قانونی تقاضے پورے کرتا ہو۔ یہ کام ناممکن نہیں مگر مشکل ضرور ہے۔ بربادی سے بچنے کے لئے یہ مشکل کام کرنا ہو گا۔ بقول ہمارے ایک دوست کے ''ابھی ، یا پھر کبھی نہیں‘‘۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں