نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- حکومت خواتین کوتعلیم اورملازمتیں دےگی،نائب ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- امریکاکےساتھ مثبت تعلقات قائم کرناچاہتےہیں،ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- امریکاسےغیرجانبداری معاشی تعلقات چاہتےہیں،ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- کابل:نائب ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی خبرایجنسی سےگفتگو
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

خادم اعلیٰ کو مبارک ہو

اہلیان پنجاب کو مبارک ہو۔ خادم اعلیٰ کی قیادت میں صوبہ پنجاب کے تمام تر مسائل کا شافی حل نہ صرف یہ کہ تلاش کر لیا گیا ہے بلکہ اس حل پر عملدرآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔ اگر صوبے کو خادم اعلیٰ جیسی اعلیٰ و ارفع قیادت کے زیر سایہ مزید چالیس پچاس سال مل گئے تو یہ صوبہ اسی قسم کے انقلابی اقدامات کے طفیل دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا واحد صوبہ بن جائے گا۔ یہ نوعیت کیا ہوگی؟ راوی فی الحال یہ بتانے سے تو قاصر ہے؛ تاہم یہ آپ کا حسن نظر اور ذوق ہوگا کہ آپ اس سے کچھ بھی مراد لے لیں۔ 
میں صبح سے باقاعدہ عش عش کر رہا ہوں کہ صوبے کے تمام بگڑے ہوئے معاملات اور خرابیوں کا اتنا آسان اور مجرب حل اس سے پہلے کسی کے خیال میں کیوں نہیں آیا۔ ممکن ہے قدرت کو یہ عظیم کام خادم اعلیٰ کے ہاتھوں منظور تھا۔ سو اللہ کے کاموں میں کون دخل دے سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ عرف خادم اعلیٰ نے صوبے میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت‘ بے روزگاری‘ مہنگائی‘ عدم انصاف‘ تعلیمی اداروں کی ناگفتہ بہ حالت‘ لوڈشیڈنگ‘ ہسپتالوں کے خستہ و خوار حالات‘ پولیس گردی‘ سرکاری اداروں کی بربادی اور اسی قسم کے دوسرے مسائل کا ایک امرت دھارا ٹائپ مثالی حل نکالا ہے اور ایک حکم کے تحت ڈی سی او کو دوبارہ ڈپٹی کمشنر بنا کر پنجاب کے عوام کے سارے مسائل بیک جنبش قلم حل کر دیے ہیں۔ 
رسول کریمؐ نے ناموں کے بارے میں فرمایا کہ عبداللہ اور عبدالرحمن‘ اللہ کے سب سے پسندیدہ نام ہیں۔ دیگر ناموں کی نسبت ارشاد فرمایا کہ نام کا مطلب اور مفہوم اچھا ہونا چاہیے اور اس میں شرک کا پہلو نہ نکلتا ہو۔ قبول اسلام کے بعد چند صحابہؓ کے علاوہ کسی کا نام تبدیل کرنے کا حکم نہ فرمایا۔ جناب ابوبکرؓ، جناب عمر ابن خطابؓ، جناب عثمان ابن عفانؓ اور جناب علی المرتضیٰؓ کا نام قبول اسلام سے قبل بھی یہی تھا اور بعد از قبول اسلام بھی۔ ہمارے ہاں ضعیف الاعتقادی کے طفیل ماں باپ اپنے نکمے‘ نالائق اور نافرمان بچوں کا نام تبدیل کر کے محیر العقول نتائج کی توقع لگا لیتے ہیں‘ ہمارے حکمران بھی یہی کرتے ہیں۔ ہر دوسرے سال کسی نہ کسی ادارے یا عہدے کا نام تبدیل کر کے گمان کیا جاتا ہے کہ اب یہ ادارہ یا افسر نئے نام کے طفیل یکسر بدل جائے گا...کارکردگی بڑھ جائے گی‘ رشوت‘ کام چوری‘ سرکاری وسائل کی بربادی کا خاتمہ ہو جائے گا اور فائلوں کو لگی ہوئی بریکیں کھل جائیں گی۔ 
چند سال قبل ضلعی حکومتوں کا غلغلہ بلند ہوا۔ اصل نقشہ تو کچھ اور تھا مگر حکمران اس میں من پسند تبدیلیاں کرتے گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ سارا نظام آدھا تیتر آدھا بٹیر بن گیا۔ ممبران اسمبلی جن کا حقیقی کام قانون سازی ہے عرصہ دراز سے نالیوں‘ گلیوں اور سڑکوں کی تعمیراتی سکیموں کے نام پر کروڑوں روپے کے فنڈ ڈکارنے کے عادی بن چکے تھے۔ ان کو ضلعی حکومتوں کا نظام قطعاً پسند نہ آیا کہ ان کا کھانچہ بند ہونے کا امکان تھا۔ حکمرانوں کے لیے ممبران اسمبلی کو خوش رکھنا ضروری تھا لہٰذا ابتدائی منصوبے میں تبدیلیاں کی گئیں۔ اس گڑبڑ میں وہ سارا نظام جو کسی اور صورت میں تیار کیا گیا تھا‘ کچھ اور بن گیا۔ اسی دوران ڈی سی یعنی ڈپٹی کمشنر کو ڈی سی او یعنی ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن آفیسر کا نام دے دیا گیا۔ اس تبدیلی کے ساتھ افسروں کی لامتناہی فوج کا قیام عمل آ گیا۔ پہلے ضلع میں ایک ڈپٹی کمشنر‘ ایک ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل‘ ایک اسسٹنٹ کمشنر سٹی اور بڑے شہر کی صورت میں اسسٹنٹ کمشنر صدر یا کینٹ وغیرہ ہوتے تھے مگر اب تو افسروں کی پوری بریگیڈ تیار ہو گئی۔ ڈی سی او اور اس کے ساتھ ایک ڈی او سی کا نیا عہدہ بنا دیا گیا۔ ای ڈی اوز یعنی ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر کی ایک پوری فوج ظفر موج کا قیام عمل میں آ گیا۔ ای ڈی او کے نیچے ڈی اوز بنا دیے گئے۔ اسسٹنٹ کمشنر بھی ساتھ لگا دیے گئے۔ ہر محکمے کا ایک ای ڈی او بنایا گیا۔ ملتان میں بارہ ای ڈی اوز ہیں۔ یہی حال دیگر اضلاع کا ہے۔ ہر ای ڈی او کے نیچے ایک دو ڈی اوز یعنی ڈسٹرکٹ آفیسر۔ افسران کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ سی ایس ایس افسران کم پڑ گئے‘ پی سی ایس افسران کی باری آ گئی۔ سب کا موج میلا لگ گیا۔ 
جب ڈپٹی کمشنر کے عہدے کو ڈی سی او میں تبدیل کیا گیا تو ڈپٹی کمشنر کو حاصل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور کلکٹر مال کے اختیارات ختم کر دیے گئے۔ جاندار اور شاندار افسران نے گمان کیا کہ بطور ڈی سی او ڈاکیہ بن جائیں گے‘ لہٰذا بہت سے افسروں نے ڈی سی او بننے سے انکار کردیا۔ جب کام شروع ہوا تو پتا چلا کہ یہ عہدہ تو بڑے موج میلے کا ہے۔ اب ان پر ذمہ داری کوئی نہیں۔ انتظامی جوابدہی سے چھٹی مل گئی۔ پٹواریوں‘ تحصیلداروں سے چھوٹی چھوٹی رقم وصول کرنے کی ذلت سے بھی جان چھوٹ گئی‘ اب ان کو ضلع کے ترقیاتی بجٹ سے آرام سے گھر بیٹھے نہایت عزت و آبرو کے ساتھ دو فیصد (کم از کم گارنٹی شدہ) مل رہا ہے۔ اگر سالانہ پچاس کروڑ کا فنڈ ہے تو سیدھا ایک کروڑ روپیہ۔ ڈپٹی کمشنر نے اتنی رقم کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھی تھی۔ میں نے ایک بار شغل کے طور پر پنجاب کے سارے اضلاع کے ڈی سی اوز کا جائزہ لیا تو پتا چلا کہ صرف تین ڈی سی او یہ دو فیصد نہیں پکڑ رہے؛ تاہم اس کا سارا فائدہ ان اضلاع کے ضلع ناظمین کو ہو رہا تھا۔ ایک ڈی سی او خود پیسہ لیتا تھا نہ ضلع ناظم کو کھل کھیلنے دے رہا تھا۔ ضلع ناظم اس ڈی سی او کے خلاف عدالت میں چلا گیا۔ عدالت نے ڈی سی او کو نظام کا مخالف قرار دیتے ہوئے عہدے سے فارغ کر کے واپس بھجوا دیا۔ جن افسروں نے ڈی سی او بننے سے انکار کر دیا تھا بڑے پچھتائے اور موقع ملتے ہی ڈی سی او کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے دوبارہ میدان میں آ گئے۔ 
یہ کام صرف ڈپٹی کمشنر کے ساتھ نہیں ہوا۔ ایک محکمہ تھا سی بی آر یعنی سنٹرل بورڈ آف ریونیو۔ اس کی کارکردگی خراب تھی لہٰذا اس کا نام تبدیل کرکے نیا نام ایف بی آر یعنی فیڈرل بورڈ آف ریونیو رکھ دیا گیا۔ الحمدللہ اس محکمے کی کارکردگی پہلے سے بھی زیادہ خراب و ناقص ہو چکی ہے۔ صرف ملتان کا حال دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ یہاں پہلے ایک کمشنر انکم ٹیکس ہوتا تھا‘ اب ملتان میں ایک ریجنل کمشنر ہے‘ تین کمشنر ہیں اور لاتعداد ڈپٹی کمشنر۔ ایک کمشنر والا زمانہ وہ تھا جب ملتان میں ساہیوال اور اوکاڑہ بھی شامل تھے۔ اب پورے ریجن میں گریڈ اکیس کے دو ریجنل کمشنر ہیں... ایک ملتان ایک بہاولپور۔ ملتان میں تین کمشنر‘ بہاولپور میں دو اور ساہیوال میں ایک کمشنر تعینات ہے۔ ٹیکس 
گزاروں کی تعداد میں صرف دو چار فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پورے پنجاب کے لیے ماسوائے راولپنڈی ایک کلکٹر ہوتا تھا۔ اب ایک چیف کلکٹر لاہور میں‘ ایک کلکٹر ملتان میں‘ ایک گوجرانوالہ‘ ایک سیالکوٹ‘ دو فیصل آباد اور چار لاہور میں ہیں۔ ڈپٹی کلکٹروں اور اسسٹنٹ کلکٹروں کا کوئی شمار نہیں۔ ایف بی آر بننے سے قبل ایک ممبر کسٹم اور گریڈ اکیس کا ایک ممبر انکم ٹیکس ہوتا تھا۔اب پاکستان میں کسٹم کے آٹھ افسران گریڈ اکیس میں ہیں اور انکم ٹیکس کے اس سے بھی زیادہ ہیں۔ 
لاہور میں اعلیٰ افسران کی مزید تربیت کی غرض سے ایک ادارہ بنا دیا گیا جس کا نام پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن رکھا گیا۔ اس کا مخفف PIPA یعنی ''پیپا‘‘ تھا۔ افسران نے اس نام میں بڑی ہتک محسوس کی‘ اسے بدل کر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن یعنی NIPA رکھ لیا؛ تاہم افسران کی تربیت میں ترقی معکوس ہوئی۔ ایک بار پھر اس کا نام تبدیل کیا گیا اور اب اس ادارے کا نام نیشنل مینجمنٹ کالج رکھ کر توقع کی جا رہی ہے کہ افسران کی کارکردگی بہتر ہو جائے گی۔ اس کالج میں کورس کرنے کے بعد سرکاری افسر کو گریڈ بیس اور اکیس میں ترقی دی جاتی ہے۔ 
گمان غالب ہے کہ اب ڈپٹی کمشنر کو جہاں کلکٹر مال کے عدالتی اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے انتظامی اختیارات حاصل ہوں گے وہیں بطور ڈی سی او پرانے موج میلے کی سہولتیں بھی برقرار رہیں گی۔ کم از کم نئے ترمیم شدہ ضلعی حکومتوں کے آرڈیننس سے تو یہی سمجھ آئی ہے۔ رہ گئے عوام کے مسائل تو اس تبدیلی نام کا بھی وہی حال ہوگا جو پہلے ہو چکا ہے۔ ڈی سی اوز کو واپس ڈپٹی کمشنری ملنے اور خادم اعلیٰ کو اس عہدے کی تبدیلی نام کے ذریعے عوام کے مسائل حل کرنے پر مبارک ہو۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں