نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک میں 2 ایل این جی ٹرمینل کام کررہےہیں،محمدزبیر
  • بریکنگ :- کراچی:ایل این جی کے 2 ٹرمینل ہم نےلگائے،محمدزبیر
  • بریکنگ :- حکومت نوازشریف کاشکریہ اداکرےجنہوں نےیہ منصوبہ شروع کیا،محمدزبیر
  • بریکنگ :- پورٹ قاسم میں بجلی کے2 منصوبے ہم نے مکمل کیے،محمد زبیر
  • بریکنگ :- ن لیگ کےاقدامات کی وجہ سے کراچی میں امن آیا،محمد زبیر
  • بریکنگ :- حکومت کہتی ہے کوویڈ کی وجہ سےبسوں میں تاخیر ہوئی،محمد زبیر
  • بریکنگ :- ہمیں زبردستی ہٹایا نہ جاتاتوکراچی کیلئے بہت زیادہ بسیں آتیں،محمد زبیر
  • بریکنگ :- حکومت نے3 سال میں صرف 40 بسیں منگوائیں،محمد زبیر
  • بریکنگ :- گرین لائن منصوبہ ہماری حکومت نےشروع کیاتھا،محمد زبیر
  • بریکنگ :- امن آنے کےبعد ن لیگ نے کراچی میں بڑے منصوبے شروع کیے،محمد زبیر
  • بریکنگ :- ہمارا سب سے اہم کام کراچی میں امن قائم کرناتھا،محمد زبیر
  • بریکنگ :- کراچی : منصوبوں کااعلان کرنے میں یہ چیمپئن ہیں،محمد زبیر
  • بریکنگ :- ہم نے جون 2018 میں گرین لائن منصوبے کا80 فیصد کام کرلیاتھا،محمد زبیر
  • بریکنگ :- ہمارے دور میں ہونیوالے کاموں کی گواہی پورا پاکستان دیتاہے،محمد زبیر
  • بریکنگ :- عمران خان کوخود کچھ کرنے کی ضرورت نہیں،محمد زبیر
  • بریکنگ :- عمران خان کاہاتھ دوسروں کی جیبوں میں ہوتاہے،محمد زبیر
  • بریکنگ :- اس وقت سرمایہ کاری بورڈ کاکوئی چیئرمین نہیں ہے،محمد زبیر
  • بریکنگ :- کراچی : ہم نے11 ماہ میں لاہور میٹرو بنادیاتھا،محمد زبیر
  • بریکنگ :- کراچی پیکج کاایک پیسہ نہیں آیا،علی زیدی نے ایک اورمنصوبہ بتادیا،محمدزبیر
  • بریکنگ :- کراچی : لیاری ایکسپریس وے کوبھی ہم نے مکمل کیا،محمد زبیر
  • بریکنگ :- منصوبوں کےاعلان میں ان سےکوئی نہیں جیت سکتا،محمد زبیر
  • بریکنگ :- کراچی : کے فورجہاں چھوڑا تھا وہیں رکا ہواہے،محمد زبیر
  • بریکنگ :- لاہور: توشہ خانہ میں جوتحائف لیے ان کابتادیں،محمد زبیر
  • بریکنگ :- عمران خان نےدیانت داری کالبادہ اوڑھ رکھا ہے،محمد زبیر
  • بریکنگ :- عوام وفاقی حکومت سےپوچھے 3 سال سے یہ بسیں کیوں نہیں آئیں؟محمد زبیر
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

دس روپے سے لے کر ملین ڈالر تک کے سوالات

پاکستان میں اور کچھ ہو نہ ہو ہمہ وقت سوالات مارکیٹ میں ضرور ہوتے ہیں۔ دھیلے سے لے کر ملین ڈالر تک کے سوال۔ دھیلے دھیلے والے سوالات تو بکثرت ہوتے ہیں‘ یعنی تھوک کے حساب سے۔ تاہم اب یہ ضرور ہوا ہے کہ مہنگائی اور روپے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے دھیلے والا سوال بغیر کسی معقول وجہ کے بالکل اسی طرح دس روپے کا ہوگیا ہے جس طرح شہروں میں بغیر کسی معقول وجہ کے پڑے پڑے پلاٹ بارہ پندرہ لاکھ روپے سے بڑھ کر کروڑ ڈیڑھ کروڑ روپے کے ہوگئے ہیں۔
سوالات کی نوعیت بدلتی رہتی ہے مگر سوالات بہرحال موجود ہوتے ہیں۔ ایک ختم ہوتا ہے‘ دو اورآ جاتے ہیں۔ دو اپنے منطقی انجام کو پہنچتے ہیں‘ چار اور آ جاتے ہیں۔ غرض سوالات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے اور سوالات کی منڈی میں ہمہ وقت مال بکثرت موجود رہتا ہے۔ ماضی میں بھی بے شمار سوالات تھے۔ طاہرالقادری پاکستان کیوں آئے ہیں؟ واپس کب جائیں گے؟کن شرائط پر جائیں گے؟ پاکستان میں لایا کون ہے؟ دھرنے کے پیچھے کون ہے؟ ریٹائرڈ لوگ ہیں یا حاضر سروس؟ جنرل کیانی کی ایکسٹینشن کس نے کی ہے؟ ملازمت میں توسیع دی گئی ہے یا لی گئی ہے؟ میاں نواز شریف کی حکومت اکتوبر تک چلے گی (گزشتہ سال والا اکتوبر) یا نہیں؟ عمران خان کے دھرنے کا امپائر کون ہے؟ پی ٹی آئی کے استعفے قبول ہوں گے یا نہیں؟ جوڈیشل کمیشن فیصلہ کرے گا یا نہیں؟ الیکشن کمیشن کے ارکان مستعفی ہوں گے یا نہیں ہوںگے؟ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس کے مجرمان ایجنسیوںکی تحویل میں ہیں یا نہیں؟ یہ مجرم برطانیہ کے حوالے کیے جائیں گے یا نہیں؟ الطاف حسین پر منی لانڈرنگ کا کیس رجسٹر ہوگا یا نہیں؟ الطاف حسین کی سرپرست ایم آئی سکس ہے یا نہیں؟ میاں نواز شریف نے تجربوں سے کچھ سیکھا ہے یا نہیں؟ بہاولپور سولر پلانٹ کی حقیقی پیداواری استعداد سو میگا واٹ ہے یا اٹھارہ میگا واٹ؟ رانا مشہود کی ویڈیو اصلی ہے یا جعلی ہے؟ کرپشن کے خلاف بلند بانگ دعوے کرنے والے خادم اعلیٰ رانا مشہود کے خلاف کوئی کارروائی کریں گے یا نہیں؟ مسلم لیگی کمیٹی (جس میں ہمارے دوست ملک رفیق رجوانہ بھی شامل تھے) رانا مشہود بارے میرٹ پر تفتیش کرے گی یا نہیں کرے گی؟ اس قسم کے بے شمار سوالات مارکیٹ میں آتے جاتے رہے ہیں۔ پاکستان میں عموماً کسی سوال کا جواب تو نہیں ملتا البتہ نتیجہ ضرور نکل آتا ہے۔ تاہم نتیجے کے بعد بھی یہ پتہ نہیں چلتا کہ پرچہ حل کس نے کیا تھا۔
آج کل بھی کافی سوالات مارکیٹ میں ہیں۔ وہی حسب سابق دھیلے سے لے کر ملین ڈالر تک کے سوالات۔ تھوڑی قیمت والے سوالات تو کافی سارے ہوتے ہیں‘ ملین ڈالر والا سوال بہرحال ایک ہی ہوتا ہے ۔ دھیلے دھیلے والے سوالات تو اب بھی کافی ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے رہتے ہیں۔ مثلاً ایک ایسا ہی سوال کافی دلچسپ ہے۔ ویسے تو یہ سوال بھی ایک دھیلے کا ہی سمجھیں مگر مہنگائی کی وجہ سے دس روپے کا سمجھ لیتے ہیں۔ ویسے دس روپے بھی اب تقریباً دھیلے کی طرح ہی بے وقت سے ہوچکے ہیں۔ کبھی زمانہ تھا کہ دس روپے میں دو بنک اکائونٹ کھل جاتے تھے‘ اب فقیر کو دیں تو خاصی توہین آمیز نظروں سے دیکھ کرلیتا ہے۔ بعض نخرے والے فقیر توباقاعدہ انکار کر دیتے ہیں۔ گھر میںکہیں گر جائے تو نہ بچے اٹھاتے ہیں اور نہ صفائی والا نوکر اٹھا کر جیب میں ڈالتا ہے بلکہ ایک طرف رکھ کر اپنی ایمانداری کا پرچم بلند کرتا ہے۔
دس روپے والا ایک سوال یہ ہے کہ میاں نواز شریف صاحب جدہ میں بیٹھ کر بڑا کہرام مچاتے تھے کہ پرویز مشرف مجھے پاکستان میںعید نہیں منانے دیتا۔ اب وہ چھوٹی عید سعودی عرب میںاور بڑی عید برطانیہ میں مناتے ہیں۔ انہیںاب پاکستان میں عید منانے میں کیا مسئلہ ہے؟ اس طرح کے اور کافی سارے سوالات مارکیٹ میں ہیں؟ کراچی آپریشن یونہی چلتا رہے گا یا اپنے سرپرست کی ریٹائرمنٹ کے بعد گزشتہ آپریشنز کی طرح ٹھس ہو جائے گا؟ بلدیاتی الیکشن ہوں گے یا نہیں؟(حالانکہ بلدیاتی انتخابات کی باقاعدہ سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں مگر لوگ اب بھی اس بارے پُر یقین نہیں ہیں) موجودہ حکومت دسمبر نکالے گی یا نہیں؟ ایم کیو ایم اپنے استعفے واپس لے گی یا نہیں لے گی؟ کراچی آپریشن پنجاب کی طرف اپنا رخ کرے گا یا نہیں؟ شرجیل میمن ٹائپ لوگ گرفت میں آئیں گے یا نہیں؟ راجہ پرویز اشرف اور گیلانی کے خلاف چلنے والے کیس کسی منطقی انجام تک پہنچیں گے یا نہیں؟ اسی قسم کے بے شمار اور فضول سوالات مارکیٹ میں ہیں۔ حکومت دھیلے کا کام نہیں کر رہی مگر عوام کا دل ان سوالات کی وجہ سے بہل رہا ہے اور لوگ ایک بے معنی مصروفیت میں لگے ہوئے ہیں، تاہم سوالات کی اس ارزانی اور فراوانی میں ایک سوال ایسا ہے جو واقعی ملین ڈالر کا ہے اور وہ یہ ہے کہ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع ہوگی یا نہیں؟
میں نے یہ سوال اپنے ایک عزیز ریٹائرڈ بریگیڈیئر سے کیا۔ وہ یادوں میں کھوگیا۔ کہنے لگا جنرل وحید کاکڑ آرمی چیف تھے۔ انہوںنے لاہور میں فورٹریس سٹیڈیم میں دربار لگایا۔ غالباً 1995ء یا1996ء کا واقعہ ہے۔ میں تب لاہور میں تھا اوراس دربار میں موجود تھا۔ دوران تقریر جنرل وحید کاکڑ نے کہا کہ اسے بے نظیر بھٹو نے مدت ملازمت میں توسیع کی آفر کی تھی۔ اتنی بات کہہ کر جنرل وحید کاکڑ نے روسٹرم کے پیچھے سے کھڑے کھڑے ہوا میں ٹھڈا مارا اور پھر کہا کہ میں نے اس آفر کو اس طرح ٹھڈا مار کر کہا تھا کہ مجھ سے بہتر جنرل میرے پیچھے لائن میں موجود ہیں۔ پھر میرے عزیز نے اس بات کا پس منظر بتایا کہ جنرل وحید کاکڑ نے ایک خط بے نظیر بھٹو کو جواس وقت پاکستان کی وزیراعظم تھیںلکھا اور اس میں تجویز دی کہ پاکستان کے آرمی چیف کی مدت تین سال ہے جو ایک لحاظ سے ناکافی ہے کہ اس مدت میں آرمی چیف بہت سے کام اور منصوبے مکمل نہیں کرپاتا۔ جو وہ کرنا چاہتا ہے۔ اس حساب سے تین سال کی مدت کم ہے اور پانچ سال بہت زیادہ‘ یہ مدت چار سال ہونی چاہئے۔ اس خط کے بعد بے نظیر بھٹو نے جنرل کاکڑ کو فون کیا اور کہا کہ وہ ان کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کرنا چاہتی ہیں۔ جنرل وحید نے کہا‘ محترمہ شاید آپ نے میرے اس خط کی آخری سطر نہیں پڑھی۔ میں نے لکھا ہے کہ یہ تجویز اگر قابل عمل ہو تو اس کا اطلاق میری ریٹائرمنٹ کے بعد آئندہ آنے والے آرمی چیف سے کیا جائے۔ اس طرح جنرل کاکڑ نے توسیع لینے سے ازخود انکار کردیا۔ اس کے بعد لمبی گفتگو ہوئی مگر وہ ساری آف دی ریکارڈ تھی۔ آن دی ریکارڈ ایک جملہ تھا جو اس ساری آف دی ریکارڈ گفتگو کا حاصل تھا۔ اس جملے سے ساری آف دی ریکارڈ گفتگو کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ وہ جملہ یہ تھا کہ ''جنرل وحید کاکڑ کے خط پر بیس سال بعد عملدرآمد ہونے جا رہا ہے‘‘۔ یہ جملہ بذات خود ملین ڈالر سوال ہے کہ کیا واقعی ایسا ہونے جا رہا ہے؟
اس ملین ڈالر سوال سے کئی سوال جڑے ہوئے ہیں۔ کیا جنرل راحیل شریف توسیع کے خواہشمند ہیں؟ پولیس بھائی جان سے بات ہوئی تو حسب معمولی انہوں نے جواب دینے کے بجائے سوالات کرنے شروع کردیے۔ پوچھنے لگے ‘کیا امریکہ جنرل راحیل شریف سے خوش ہے؟ میں نے کہا ہرگز نہیں۔ پھر
پوچھنے لگے کیا نواز شریف اس توسیع پر راضی ہیں؟ میں نے کہا ہرگز نہیں! اور انہیں بوجوہ ہونا بھی نہیں چاہیے کہ وہ اب احساس کمتری کا شکار ہوتے جا رہے ہیں کہ جنرل صاحب کی مقبولیت ان سے کافی زیادہ ہے۔ ایک سیاستدان اور وزیراعظم کے لئے یہ واقعتاً مائنڈ کرنے والی بات ہے۔ پولیس بھائی جان کہنے لگے کہ امریکہ اور نواز شریف ایک پیج (Page) پر ہیں یا نہیں؟ میں نے کہا بالکل ایک پیج پر ہیں۔ پوچھنے لگے‘ تمہیں امریکہ، راحیل شریف اور نواز شریف کے درمیان اختلافی معاملے کا پتہ ہے؟ میں نے کہا‘ میں نے گزشتہ مہینے ایک کالم لکھا تھا کہ راحیل شریف امریکہ کے دورے سے واپس آئے تو بالکل بدل چکے تھے۔ میں نے تب وجہ نہیں لکھی تھی مگر شنید ہے کہ معاملہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور میزائل پروگرام کو تھوڑا پیچھے لے جانے پر ہے۔ امریکہ اس کے عوض پاکستان کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کا لالی پاپ دے رہا ہے۔ سمجھداروں کواس لالی پاپ کی شاید ضرورت نہیں ہے کہ پاکستان اگر اس سطح سے اوپر نہیں بھی گیا تو کم از کم محتاج ہرگز نہیں رہا۔ اس لئے اس پروگرام کے سرپرست اس چیز پر رتی برابر مصالحت یا رعایت کے قائل نہیں۔ ہاںالبتہ میاں صاحب کا نقطہ نظر مختلف ہے اور امریکہ کے قریب تر ہے۔ پولیس بھائی جان کہنے لگے صرف ''قریب تر‘‘۔میں ہنس پڑا۔ میں نے کہا یہ تحفظات ایسے ہیںجن پر راحیل شریف کے بعد بھی سرپرست رتی برابر رعایت دینے پر تیار نہ ہونگے خواہ کچھ بھی ہو جائے۔ پولیس بھائی پوچھنے لگے تمہاری یہ ''خواہ کچھ بھی ہو جائے‘‘ سے کیا مراد ہے۔ میں نے کہا بھائی جان! آپ جو چاہتے ہیں وہ ہرگز نہیں کہوں گا، تاہم آپ کو سمجھ سب کچھ آ گیا ہے۔
پولیس بھائی جان پوچھنے لگے‘ ملین ڈالر سوال کا کیا جواب ہے؟ میں نے کہا اگر اس کا جواب اتنا آسان ہوتا تو یہ بھی دس روپے والا سوال ہوتا‘ ملین ڈالر کا ہرگز نہ ہوتا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں