نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ترک وزیرخارجہ سےعمران خان اورترک صدرملاقات بارےتبادلہ خیال ہوا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ سےبھی ملاقات ہوئی،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ کوافغانستان سےمتعلق پاکستانی نقطہ نظرپیش کیا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال عالمی برادری کےلیےامتحان ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال پرایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی برادری مشکل گھڑی میں افغان عوام کی معاونت کرے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغانستان میں معاشی بحران خطرناک ہوسکتاہے،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دنیاایک رخ دیکھ رہی ہے،وزیراعظم تقریرمیں دوسرارخ پیش کریں گے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاجنرل اسمبلی سےایک جامع خطاب ہوگا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- جنرل اسمبلی اجلاس کےموقع پراہم رہنماؤں سےملاقاتیں ہوئیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی رہنماؤں سےافغانستان اورکشمیرسےمتعلق بات ہوئی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- کشمیریوں کیساتھ اظہاریکجہتی پراوآئی سی رابطہ گروپ کےمشکورہیں،وزیرخارجہ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

پیغمبروں کی وراثت اور نیب کی حوالات

دن بھر کے لمبے تھکا دینے والے سفر کے بعد بمشکل سویا تھا کہ موبائل فون پر میسج کی گھنٹی سے آنکھ کھل گئی۔ پہلے سوچا صبح دیکھ لوں گا مگر عادت سے مجبور ہو کر اٹھا اور پیغام پڑھنے لگا۔ یہ لاس اینجلس سے شفیق کا پیغام تھا۔ خواجہ علقمہ کو نیب نے بہائوالدین زکریا یونیورسٹی کے لاہور سب کیمپس میں کرپشن کے سلسلے میں گرفتار کر لیا ہے۔ خبر پڑھ کر اتنا ملال ہوا کہ بیان نہیں کر سکتا۔ نیند اڑ گئی اور آنکھوں میں پندرہ بیس سال پرانی یادیں ایک فلم کی طرح چلنے لگیں۔
کسی کالم نگار کے لیے یہ بات باعث فخر ہوتی ہے کہ وہ کچھ لکھے اور اس کا لکھا سچ ثابت ہو جائے‘ مگر کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کا لکھا سچ ثابت ہو مگر آپ کو خوشی اور فخر سے زیادہ رنج اور ملال ہو۔ خواجہ علقمہ والا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ بیس سال پہلے جب میں کسی کام کے سلسلے میں زکریا یونیورسٹی جاتا تو یہ ممکن نہ تھا کہ ڈاکٹر علقمہ سے ملاقات نہ ہو۔ یہ ملاقات بعض اوقات گھنٹوں پر محیط ہوتی۔ کتابوں کے رسیا اور بین الاقوامی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر خواجہ علقمہ کے نقطہ نظر سے اختلاف کے باوجود اس کے ساتھ بیٹھ کر اور گفتگو کرکے مزہ آتا تھا۔ ملکی سیاست سے لے کر جنوبی ایشیا کے معاملات اور سوشل موضوعات سے لے کر بین الاقوامی صورتحال تک ہر موضوع پر بات ہوتی۔ پہلے خواجہ علقمہ کے چھوٹے کمرے میں یہ نشست چلتی رہی پھر وہ صدر شعبہ کے کمرے میں منتقل ہو گئے‘ کیونکہ صدر شعبہ ڈاکٹر غلام مصطفی چودھری وائس چانسلر بن گئے تھے۔ اُن کے بعد مختصر سے عرصے کے لیے ڈاکٹر نصیر خان اور ڈاکٹر ظفراللہ کے وائس چانسلر تعینات ہونے تک ان سے دوستی اور ملاقات کا سلسلہ چلتا رہا‘ تاوقتیکہ وہ یمن میں سفیر تعینات ہو گئے۔ ان کو سفیر کے عہدے پر ان کے پنجاب یونیورسٹی کے زمانہ طالب علمی کے دوست سید یوسف رضا گیلانی نے تعینات کیا تھا۔ تب میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک دن ڈاکٹر خواجہ علقمہ کو نیب کی حراست میں حوالات کی شکل دیکھنا نصیب ہو گی۔ مجھے ذاتی طور پر ان سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں‘ جو ان کے وائس چانسلر بننے کے بعد دم توڑ گئیں۔ معاملات کی خرابی کا آغاز ان کے داماد نے کیا اور پھر ساری حدیں ٹوٹ گئیں۔ معاملہ ''ایم بی بی ایس‘‘ یعنی میاں بیوی بچوں سمیت والا ہوگیا۔ سید یوسف رضا گیلانی کے بعد ملتان میں اس قسم کی یہ دوسری مثال تھی۔
میں گزشتہ ہفتے اپنے برادر نسبتی کی ایم ایس سی کی ڈگری کے حصول کے سلسلے میں اس کے ساتھ یونیورسٹی گیا‘ تو پرانے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ہر شخص خواجہ صاحب کے حوالے سے علیحدہ کہانی سنا رہا تھا۔ پانچ چھ لوگوں کو تو میں نے شرمندہ بھی کیا کہ جب خواجہ صاحب وائس چانسلر تھے اور ان کہانیوں کے سلسلے میں‘ میں جب اُن سے کچھ پوچھتا تھا تو ان میں سے کوئی شخص بھی پیروں پر پانی نہیں پڑنے دیتا تھا‘ اور کوئی بات بتانے کے بجائے اِدھر اُدھر کی کہانیاں سنانے لگ جاتا تھا۔ میں نے اپنے دو تین پروفیسر دوستوں کو بھی شرمندہ کیا کہ وہ خواجہ صاحب کی وائس چانسلری کے دوران ان کے قصیدے پڑھتے تھے اور اب ''حق گوئی‘‘ پر اترے ہوئے تھے۔ خواجہ علقمہ نے اپنے دور میں ہر شخص کو حتی الامکان حد تک اکاموڈیٹ کیا۔ ملتان کے صحافیوں کو کنٹینوں کے ٹھیکے دیے‘ ہوائی سفر کی ٹکٹیں عطا کیں‘ نوکریاں دیں‘ مخالف گروپ کے ان پروفیسروں کو‘ جن سے ان کو کسی قسم کا خوف تھا‘ حتی المقدور خوش کرنے کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ میرے پہلے کالم کے بعد ایک مشترکہ دوست کی وساطت سے انجینئرنگ میں یونیورسٹی ٹاپ کرنے والی میری بیٹی کو نوکری دینے کی پیشکش بھی کی۔ میری بیٹی ان معاملات سے پہلے یونیورسٹی کے انجینئرنگ کالج میں وزیٹنگ لیکچرر تھی مگر جب میں نے جامعہ زکریا پر لکھنا شروع کیا تو اسے کہا کہ اب وہ
زکریا یونیورسٹی کے بجائے کہیں اور پڑھانا شروع کر دے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ حتیٰ کہ جب جامعہ زکریا میں انجینئرنگ کے لیکچررز کی پوسٹیں نکلیں تو میں نے اسے ان پر اپلائی کرنے سے منع کر دیا کہ اگر وہ میرٹ پر بھی منتخب ہو گئی تو لوگ کہیں گے کہ میں نے جامعہ زکریا کے معاملات کو اپنے کالموں میں موضوع بنا کر فائدہ اٹھا لیا ہے۔ بعدازاں میری بیٹی آسٹریلیا پڑھنے چلی گئی۔ الحمدللہ کہ وہ وہاں بھی اپنے شعبہ میں یونیورسٹی ٹاپ کر رہی ہے۔
بات گزشتہ ہفتے میرے یونیورسٹی جانے کی ہو رہی تھی۔ اسی دوران میری ملاقات رجسٹرار ملک منیر سے ہوئی‘ جو بتانے لگا کہ وہ حج پر گیا تو خواجہ علقمہ نے گورنر کے خط کے باوجود کس طرح غیرقانونی بھرتیاں کیں۔ میں نے کہا‘ پہلے تو آپ اور خواجہ صاحب ایک تھے‘ اب آپ بھی ان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔ آپ لاہور سب کیمپس کے معاملات میں ان کے مشیر خاص تھے بلکہ شنید ہے کہ یہ معاملہ دراصل آپ کے ذہن رسا کا شاہکار تھا۔ ملک منیر کہنے لگا‘ میں نے تو بطور رجسٹرار صرف یہ جرم کیا تھا کہ وائس چانسلر کے حکم پر نوٹیفکیشن جاری کیا۔ میں نے کہا: اس معاملے میں لمبے نوٹوں کا ذکر ہوتا ہے اور آپ کا نام سب سے پہلے لیا جاتا ہے۔ ملک منیر کہنے لگا: یہ معاملہ میں نہیں بلکہ لاہور کا ایک سیاستدان لایا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ جب لاہور میں اراضی کو کمپیوٹرائزڈ کرنے والے پہلے سنٹر کا افتتاح ہوا تو وہاں سے نکلتے وقت مجھے زعیم قادری نظر آیا۔ سلام دعا کے بعد میں نے پہلا سوال یہی کیا کہ قادری صاحب! لاہور سب کیمپس کے معاملے میں سنا ہے کہ آپ سفارشی تھے؟ زعیم قادری نے صاف انکار کر دیا اور کہنے لگا میرا زکریا یونیورسٹی لاہور سب کیمپس سے کسی قسم کا نہ تو کوئی تعلق ہے اور نہ میں نے اس معاملے میں کوئی سفارش کی۔ مجھے ملک منیر سے بات کرتے ہوئے یہ پرانا واقعہ یاد آ گیا۔ میں نے ملک منیر سے کہا کہ زعیم قادری نے تو ایسی کسی بات سے قطعاً انکار کر دیا تھا۔ ملک منیر ہنسا اور کہنے لگا‘ میں سب باتوں کا عینی شاہد ہوں۔ ملک منیر نے بتایا کہ پہلے جس پارٹی سے لاہور سب کیمپس کا معاملہ طے ہوا تھا وہ ''ہلکی پارٹی‘‘ تھی‘ بعدمیں ویسٹ کانٹی نینٹل گروپ کے مالک منیر بھٹی کو لایا گیا۔ یہ پارٹی سائونڈ تھی اور سارے معاملات اسی سے طے ہوئے تھے۔ وائس چانسلر نے معاملہ سنڈیکیٹ میں لانے کے بجائے معاہدے پر خود ہی دستخط کر دیے جس کے وہ قطعاً مجاز نہ تھے۔ میں نے کہا‘ آپ بھی اس معاملے سے اتنے لاتعلق نہیں جتنا آپ کہہ رہے ہیں۔ ملک منیر نے کہا‘ منیر بھٹی نے خواجہ علقمہ کے داماد کو اپنی کمپنی میں خطیر مشاہرے پر نوکری دی ہوئی تھی۔ باقی سارے معاملات اسی کے ذریعے ہوئے تھے۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے آخری دنوں میں خواجہ علقمہ اپنا سامان سمیٹنے کے بجائے ایکسٹینشن کے سلسلے میں لاہور کے چکروں میں مصروف رہے اور گھر خالی نہ کیا۔ گزشتہ روز صبح ان کو نیب والے گرفتار کرکے لے گئے۔ ملک منیر اپنے دفتر میں چھٹی کی درخواست رکھ کر دائیں بائیں ہو گیا ہے‘ ایک دو روز میں ضمانت کروا کر دوبارہ ظاہر ہو جائے گا۔
زکریا یونیورسٹی کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ ابھی فاصلاتی تعلیم والا معاملہ کھل کر سامنے نہیں آیا‘ مگر یہ زیادہ دیر چھپنے والا معاملہ ہے نہیں۔ اب ایسے معاملات تادیر دبے نہیں رہیں گے‘ مگر اس کا ایک ناقابل تلافی نقصان یہ ہو گا کہ استاد کا مرتبہ اپنی توقیر کھو دے گا‘ وائس چانسلر جیسا اعلیٰ منصب بدنام ہوگا۔ پانچ سات دن پہلے ایک دوست کا فون آیا‘ وہ پوچھنے لگا کہ تم نے اخبار میں خواجہ علقمہ والی خبر پڑھی ہے؟ میں نے کہا: یہ خبر ملتان کے پانچ اخبارات میں چھپی ہے‘ تمام اخبارات میں خبر کے مندرجات ایک جیسے ہیں۔ یہ خبر لگی نہیں‘ لگوائی گئی ہے۔ اس خبر میں تھا کہ خواجہ علقمہ کو دو تین نامور جامعات کی طرف سے وائس چانسلر کی آفر ہوئی ہے اور حکومت نے اسے کسی ملک میں سفیر لگانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ میں نے کہا: ویسے تو اس حکومت سے کچھ بعید نہیں مگر ان کے وائس چانسلر بننے یا سفیر لگنے سے پہلے نیب سارا کھیل برباد کر دے گی۔ وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔
آپ یقین کریں‘ یہ ایک ایسے منصب کی تذلیل ہے جس سے صرف تکریم کا تصور وابستہ ہے‘ لیکن اس سلسلے میں خواجہ علقمہ واحد مثال نہیں‘ کئی اور وائس چانسلر بھی اس منصب کو بے توقیر کرنے میں اپنی ساری صلاحیتیں صرف کر رہے ہیں۔ میرے میل بکس میں ایسی ایسی ای میل پڑی ہیں کہ ان معاملات پر بات کرنا تو کجا سوچتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ استاد ہونا تو پیغمبروں کی وراثت تھی‘ ہم اس پیشے کو نیب کی حوالات کی سطح پر لے آئے ہیں۔ خدا ہم پر رحم فرمائے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں