نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیویارک:دوطرفہ تعلقات اورباہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- پاکستان مصرکےساتھ تعلقات کوخصوصی اہمیت دیتاہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں یکساں اقدارتعلقات کومضبوط بنیادفراہم کرتی ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی مصرکےہم منصب سامح شکری سےملاقات
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

سرکاری دورے اور قوی وقار

جب یہ کالم چھپے گا تب تک جنرل راحیل شریف کا دورہ امریکہ شروع ہو چکا ہو گا۔ میں امریکہ میں ہوں اور امریکی اخبارات اس دورے کے حوالے سے جنرل راحیل شریف کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ دو چار اخبارات ایسے ہیں کہ وہ جو کچھ لکھتے ہیں وہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی لائن ہوتی ہے۔ شفیق ایسے اخبارات کے حوالے دے کر کہنے لگا کہ امریکی سرکار جنرل راحیل شریف کو خاصی اہمیت دے رہی ہے۔ معاملہ کچھ پیچیدہ نظر آتا ہے اور معاملات کچھ ٹیڑھے لگتے ہیں۔ میں نے پوچھا تمہارا مطلب کیا ہے؟ کہنے لگا امریکیوں کو میاں نواز شریف سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں تھیں۔ انہیں غالباً اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ فی الوقت میاں صاحب کے پاس ان کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور انہیں کچھ لینے کے لیے جنرل راحیل شریف سے بات کرنا ہو گی۔ اور لگتا ہے کہ ان کا معاملہ جنرل صاحب سے کسی نہ کسی طرح سے سیدھا ہو چکا ہے، وگرنہ امریکی کسی کی تعریف بلا وجہ نہیں کرتے۔ میاں نواز شریف جب امریکہ کے دورے پر آئے تھے تب امریکی اخبارات نے اور خصوصاً امریکی اسٹیبلشمنٹ کی لائن پر چلنے والے اخبارات کا رویہ میاں نواز شریف کے بارے میں منفی تو خیر نہیں تھا مگر وہ اشارتاً یہ ضرور کہہ رہے تھے کہ یہ دورہ محض رسمی کارروائی ہے اور سول حکومت کے پاس خارجہ معاملات کو خود مختاری کے ساتھ چلانے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
ایک طرف امریکی اخبارات میاں نواز شریف حکومت کی بے بسی اور بے اختیاری کی طرف اشارہ کر رہے تھے، اب دوسری طرف وہ جنرل راحیل شریف کی تعریف و توصیف میں مصروف ہیں۔ شفیق کا خیال تھا کہ شاید بیک ڈور ڈپلومیسی کے باعث کچھ بریک تھرو ہوا ہے اور پنڈی والوں کی برف پگھلی ہے، لیکن میرا خیال اس کے بالکل برعکس تھا۔ میرا خیال بلکہ یقین یہ تھا کہ امریکہ جن معاملات پر رعایت یا تعاون چاہتا ہے وہ ایٹمی اور میزائل پروگرام ہے اور یہ ایسا معاملہ ہے جس پر عسکری ادارے رتی برابر رعایت دینے پر تیار نہیں ہیں۔ پاک فوج کو اپنی مجبوریوں کا بخوبی احساس ہے۔ بھارت کی عددی برتری اور بہت بڑے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں ہمارے پاس روایتی جنگ کی صورت میں حالات کچھ زیادہ مہربان اور موافق نہیں ہیں۔ بھارت نے ''کولڈ ڈاکٹرائن‘‘ کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے ہم پر دبائو بڑھا رکھا ہے۔ بھارت اپنی چھائونیوں کو پاکستانی سرحدوں کے بالکل قریب لا کر فوری حملے کی صورت میں اندر تک آنے، مختلف مقامات سے پاکستان کو کاٹ کر رسد اور نقل و حمل کا سارا نظام مفلوج کرنے کی پوری منصوبہ بندی کر چکا ہے۔ کبھی پاکستانی توپخانے کو بھارت پر برتری حاصل تھی مگر اب اس سلسلے میں بھی دیگر شعبوں جیسا حال ہے۔ پاکستان کے پاس اب واحد آپشن ایٹمی اور میزائل پر مبنی دفاعی منصوبہ بندی ہے... چھوٹے ایٹمی ہتھیار اور مستعد میزائل سسٹم۔ پاکستان نے کم سے کم وقت میں ایٹمی ہتھیار کو ایکشن میں لانے کے قابل بنانے اور میزائل کے ذریعے داغنے کی جو پالیسی تیار کی ہے وہی بچت کی آخری صورت ہے اور اسی سے ہی ابھی تک مالی اور عددی حوالوں سے کہیں چھوٹی فوج کا حامل پاکستان اپنا وجود بچانے میں کامیاب ہے۔ فوج کو اپنی مجبوریوں کے ساتھ ساتھ اپنے مضبوط پہلو کا بھی بخوبی علم ہے اور وہ بہر حال اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے کہ یہ ان کی سلامتی اور بقا کا مسئلہ ہے۔ شفیق کہنے لگا تو پھر امریکی اخبارات پاکستانی سپہ سالار کے بارے میں اتنے نرم اور مثبت کیوں ہیں؟ امریکی آخر اپنی راہ میں روڑے اٹکانے اور بات نہ ماننے والے کے ساتھ مہربان کیوں ہیں؟ ان کے زیادہ قابل بھروسہ دوست اور حامی تو میاں نواز شریف تھے، اب وہ جنرل صاحب کے ساتھ اتنا پیار کیوں جتا رہے ہیں؟ میں نے کہا امریکی سمجھدار ہیں، وہ گڑ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ انہیں پتا ہے کہ اس سپہ سالار کو اس طرح ڈیل کرنا مشکل ہے جس طرح کمانڈو کو ''یرکا‘‘ لیا تھا۔ ایک ٹیلی فون سے اس کا ''تراہ‘‘ نکال دیا تھا۔ 
امریکی جنرل راحیل شریف کی پیشگی چاپلوسی کر رہے ہیں۔ پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے۔ جو کام لیاقت علی خان کے زمانے میں الٹ گیا تھا اب سیدھا ہو رہا ہے۔ چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبے کے بعد روس سے دفاعی ساز و سامان کی خریداری ہو رہی ہے۔ چار Hind Helicopter خریدے جا رہے ہیں۔ یہ گن شپ ہیلی کاپٹر ہیں۔ MI-35 ٹائپ یہ ہیلی کاپٹر، سپیشل آپریشن ٹاسک فورس کے لیے خریدے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان ہیلی کاپٹروں کی تعداد بیس ہو جائے گی۔ ایک اور ڈیل روسی جنگی جہاز SU-35 یعنی سخوئی کے لیے ہو رہی ہے۔ امریکہ خود تو بھارت کے ساتھ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے لے کر دفاعی معاہدوں تک سب کچھ کر رہا ہے اور پاکستان پر پابندیاں لگا رہا ہے؛ تا ہم وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ پاکستان روسی اور چینی کیمپ میں بھی آنا جانا شروع کرے۔ اب روسی گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جیٹ جنگی جہازوں کی خریداری کے معاہدوں سے امریکی پیٹ میں مروڑ بھی اٹھ رہے ہیں۔ پاکستان مکمل امریکی محتاجی سے نکل کر اپنے لیے دیگر آپشنز اوپن کر رہا ہے۔ امریکہ کے لیے یہ سب کچھ ہضم کرنا آسان نہیں ہے۔ یہ فیصلے پاکستانی فوج کی قیادت کر رہی ہے۔
اب میاں نواز شریف وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو فوج کی منشا ہے کہ بھارت نے میاں نواز شریف کی نیچے لگنے والی پالیسی کا بالکل غلط مطلب نکالا تھا اور میاں صاحب کی دوستی کی خواہش کو کمزوری پر محمول کیا تھا۔ پاکستان کے پاس اب دوسرا کوئی آپشن ہی نہیں تھا کیونکہ مودی سرکار معاملات کو اس طرح ٹھیک کرنا ہی نہیں چاہتی جیسی پاکستانی حکومت کی خواہش تھی۔ مودی انتہا پسند ہندوئوں کا نمائندہ ہے اور اسی نعرے پر وہ جیتا ہے۔ وہ اپنے دعوئوں سے دستبردار ہو کر سیاسی بربادی کی طرف کیوں جائے گا؟ امریکیوں کے سامنے پہلا راستہ یہی ہے کہ اب چاپلوسی سے کام لیا جائے اور ایک بار پھر اسی طرح پروٹوکول وغیرہ کے چکر میں ڈال کر رام کرنے کی کوشش کی جائے جیسی کوشش وہ ایک سال قبل کر چکے ہیں۔ جب ''تھینکس گونگ‘‘ (Thanks givinig) والے دن، یعنی سب سے اہم امریکی چھٹی والے دن دفتر خارجہ کھول کر جان کیری نے جنرل راحیل شریف کا استقبال کیا اور میٹنگ کی تھی، تب بھی کامیابی نہیں ہوئی تھی مگر دوبارہ لڑائی کرنے میں کیا حرج ہے؟ سچی بات تو یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے پاس اس سلسلے میں رعایت دینے کی رتی برابر بھی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اس سلسلے میں رعایت دینے کا مطلب اپنی تباہی اور بربادی کے پروانے پر دستخط کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ شفیق کہنے لگا، میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں مگر کیا امریکی ناکامی برداشت کریں گے؟ میں نے کہا ہرگز نہیں۔ وہ پوچھنے لگا، پھر کیا ہو گا؟ میں نے کہا پھر وہی ہو گا جو ہمیشہ امریکی کرتے آئے ہیں۔ دوسری طرح سے۔ وہ پوچھنے لگا اس دوسری طرح سے آپ کی کیا مراد ہے؟ میں نے کہا تم مجھ سے بہتر جانتے ہو کہ امریکی اپنے طے شدہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کیا کیا کرتے ہیں اور کس حد تک چلے جاتے ہیں۔ شفیق کہنے لگا اس کا مطلب ہے آئندہ کے حالات زیادہ مناسب نظر نہیں آتے۔ میں نے کہا تم نے مناسب طریقے سے نرم الفاظ کا انتخاب کیا ہے۔
دورہ شروع ہو چکا ہے۔ دیکھتے ہیں، کیا ہوتا ہے، مگر معاملات کچھ زیادہ بہتر دکھائی نہیں دیتے کہ اب سارا وزن سپہ سالار پر ہے۔ ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو وہ میاں صاحب کے دورے کے بارے میں بتانے لگا کہ بڑے عرصے کے بعد یہ کسی پاکستانی حکمران کا ایسا دورہ تھا جس میں پاکستانی حکمران کا رویہ معذرت خواہانہ نہیں تھا۔ میرا یہ دوست خاصا قابل اعتبار ہے اور ایک عرصے سے ایسے معاملات کو بنظر غور دیکھ بھی رہا ہے اور سمجھ بھی رہا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس بار پاکستانی وفد کی باڈی لینگوئج بھی فرق تھی اور رویہ بھی۔ بات کرتے ہوئے ازلی مسکینی کے بجائے خود اعتمادی نظر آتی تھی۔ میں نے پوچھا یہ بہادری اور دلیری ذاتی تھی کہ مسلط کر کے بھجوائی گئی تھی۔ وہ دوست ہنس پڑا اور کہنے لگا اب اس بات کا تو مجھے پتا نہیں کہ اس باعزت رویے کے پیچھے کیا عوامل تھے اور کیا وجوہات تھیں۔ میں تو آپ کو وہ بتا رہا ہوں جو نظر بھی آ رہا تھا اور محسوس بھی ہو رہا تھا۔ دراصل میاں نواز شریف پاکستان سے طے کر کے آئے تھے کہ جن معاملات کے بارے میں امریکیوں نے بات چیت کرنی ہے اس پر ان کے پاس دینے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں، لہٰذا وہ تذبذب سے نکل چکے تھے اور اس بارے میں ان کو کوئی کنفیوژن نہیں تھا۔ وہ اور ان کا وفد شاید اس پریشر سے نکل چکا تھا جس میں وہ عموماً ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کا رویہ خادمانہ اور غلامانہ نہیں تھا۔ ایسا خاصے عرصے کے بعد، عشروں بعد دیکھنے میں آیا۔ وجوہ کا مجھے علم نہیں۔ میں نے جو دیکھا ایمانداری سے بتا دیا ۔ دیکھتے ہیں جنرل صاحب کے دورے کے بطن سے کیا برآمد ہوتا ہے۔
اسی دوران وہاں بیٹھا ہوا ایک اور با خبر دوست گزشتہ پاکستانی وفود کے دوروں کے بارے میں کچے چٹھے کھولنے لگا اور بات کہیں سے کہیں چلی گئی۔ کئی وزیروں کی کہانیاں، کوئی بھی ایسی نہیں جس کی تفصیل کھل کر بیان کی جائے۔ شرمساری سے بھرپور ''سرکاری دورے‘‘۔ چار دن کے سرکاری دورے بھی ایسے نہیں تھے کہ قومی وقار اور ملکی عزت کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں