نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کینیڈامیں عام انتخابات،ووٹوں کی گنتی جاری
  • بریکنگ :- جسٹن ٹروڈوکی لبرل پارٹی 100 نشستوں کےساتھ پہلےنمبرپر،کینیڈین میڈیا
  • بریکنگ :- کنزرویٹوپارٹی 51 نشستوں کےساتھ دوسرےنمبرپر،کینیڈین میڈیا
  • بریکنگ :- حکومت بنانےوالی جماعت کو 338کےایوان میں 170نشستیں حاصل کرناہوں گی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

بے چارہ کاشتکار کہاں جائے ؟

اسے اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ اس سال پاکستان میں گندم کا کاشتہ رقبہ گزشتہ سال کی نسبت تقریباً تین چار فیصد کے لگ بھگ کم ہے اور اوپر سے بے وقت کی بارشوں اور ژالہ باری نے کافی علاقوں میں فصل کو شدید نقصان بھی پہنچایا‘ اس کے باوجود امید کی جا رہی ہے کہ گندم کی پیداوار گزشتہ سال سے بہتر ہوگی۔ گزشتہ سال گندم کو لگنے والی RUST کی بیماری نے فصل کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا تھا۔ اس سال تین چار ورائٹیوں نے‘ جو اس بیماری سے کسی حد تک محفوظ تھیں‘ گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطرخواہ بہتری دکھائی ہے۔ فیصل آباد 2008، جوہر، اکبر اور اناج نامی گندم کی ورائٹیوں نے رقبے میں کمی اوربارشوں سے ہونے والے نقصانات کو نہ صرف پورا کردیا بلکہ گزشتہ سال کی نسبت پیداوار میں دوچار فیصد اضافے کا امکان بھی پیدا کر دیا ہے۔ چولستان، تھل اور تھر میں گندم کی فصل کا درست ڈیٹا تو میسر نہیں مگر وہاں گندم کی فصل بہتر ہوئی ہے۔ چولستان کی حد تک تو میں نے خود دیکھا کہ گندم کا سٹہ بڑا جاندار تھا اور فصل بھرپور تھی حالانکہ ٹڈی دل کا حملہ خاصا شدید تھا مگر اس نے زیادہ تر ان علاقوں میں نقصان کیا جہاں رایا اور توریا کاشت تھا۔ گزشتہ سال گندم کو رسٹ کی بیماری نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ تب جس سے بھی دریافت کیا تو پتا چلا کہ گندم کی پیداوار تیس من فی ایکڑ سے کم ہے، بہت کم کاشتکار ایسے تھے جن کی اوسط اس سے بہتر تھی؛ تاہم گزشتہ سال کے برے تجربے سے کاشتکار نے سبق حاصل کیا اور رسٹ کو زرعی ادویات کے سپرے سے اس سال کافی حد تک کنٹرول کیا اور اس سال پیداوار میں اضافے کی یہی بنیادی وجہ ہے۔ اس سال جس اچھے کاشتکار دوست سے بھی پوچھا تو پتا چلا کہ اس کی پیداوار چالیس من فی ایکڑ سے تو ہر حال میں زیادہ ہے۔ پنجاب میں گزشتہ سال گندم کی اوسط پیداوار تیس من فی ایکڑ تھی جبکہ اس سال امید کی جا رہی ہے کہ یہ اوسط تقریباً (ان شااللہ) ساڑھے اکتیس من فی ایکڑ ہو گی جو گزشتہ سال کی نسبت پانچ فیصد زیادہ ہوگی؛ تاہم رقبے میں کمی کے باعث یہ مثبت فرق صرف ایک آدھ فیصد رہ جائے گا۔ گزشتہ سال گندم کا بحران پیداوار یا گوداموں میں موجود گندم کی کمی کا نہیں بلکہ انتظامی تھا۔ صوبہ سندھ نے سرے سے خریداری ہی نہ کی۔ ان کے کاغذوں کے مطابق گودام گندم سے بھرے پڑے تھے، حالانکہ حقیقت میں گوداموں کے اندر موجود بوریوں کی بڑی تعداد میں گندم کے بجائے مٹی اور بھوسہ تھا جبکہ حقیقت میں لاکھوں من گندم غتربود ہو چکی تھی۔ اس کمی کو پورا کرنے کی غرض سے پنجاب سے گندم کی سمگلنگ شروع ہو گئی۔ دوسری طرف کے پی کے کا بھی یہی حال تھا کہ وہاں گندم کی کمی ہوئی تو خیبرپختونخوا کے زورآور مرکزی وزرا اور پرائم منسٹر سیکرٹریٹ میں موجود طاقتور بیورو کریٹس نے‘ جن کا تعلق کے پی کے سے تھا‘ افراتفری میں پنجاب سے گندم اس طرح دھکے سے منگوائی کہ نہ کوئی ایس او پی بنا اور نہ ہی کسی قاعدے، ضابطے کی پاسداری کی گئی۔ اس سرکاری نقل و حمل کی آڑ میں پرائیویٹ لوگوں، فلور ملوں اور سمگلروں کی چاندی ہو گئی اور گندم اور آٹا دھڑادھڑ خیبرپختونخوا جانے لگ گیا‘ جو آگے افغانستان بھی چلا گیا۔ فلور ملوں نے ایکسپورٹ کے نام پر پنجاب سے آٹا خیبرپختونخوا میں دگنے ریٹ پر بیچ دیا اور کسٹم والوں کی ملی بھگت سے حکومت سے ریفنڈ بھی اینٹھ لیا۔
اگر پنجاب حکومت اس مرحلے پر کے پی کے وزرا کی زور آوری سے گھبرا کر ایک کونے میں نہ لگ جاتی اورکوئی باقاعدہ طریقہ کار بنا لیتی تو پنجاب سے کے پی کے لیے اس طرح بلاروک ٹوک نقل و حمل اور اس گھبراہٹ میں کسی چیک پوسٹ کی عدم موجودگی کے باعث سمگلنگ بھی نہ ہو سکتی مگر عوامی پریشر، مرکزی حکومت کی ڈانٹ ڈپٹ، میڈیا کے شور شرابے اور آٹے کی قیمت میں بے تحاشا اضافے نے پنجاب حکومت کی سوچنے سمجھنے کی پہلے سے محدود صلاحیت کو بالکل ہی مختل کرکے رکھ دیا اور معاملات اس کے ہاتھ سے مکمل طور پر نکل گئے حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ پنجاب حکومت کے سرکاری گوداموں میں گندم کے خاطر خواہ ذخائر موجود تھے اور چار ماہ بعد نئی فصل کی آمد تک ضرورت کے لیے کافی تھے۔ گندم کے بحران اور آٹے کی قیمت میں بے تحاشا اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی مصنوعی قلت نے جہاں عوامی سطح پر بے چینی پیدا کی وہیں حکومتی حوالے سے نالائقی، بدانتظامی اور پھوہڑپن کو بھی سب پر آشکار کر دیا۔ ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ ان تمام تر خرابیوں کے باوجود پنجاب کے سرکاری گوداموں میں اتنی گندم موجود تھی کہ نئے سیزن میں آنے والی گندم کی پیداوار تک کام چلا لیتی لیکن جونہی سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کے فارمولے کے تحت طلب رسد کے مقابلے میں زیادہ ہوئی، آٹے کی قیمت میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ پہلے پہل تو حکومت نے اس پر توجہ ہی نہ دی اور پھر جب معاملہ زیادہ خراب ہوا تو حکومت کے ہاتھ پائوں پھول گئے اور انڈر نائنٹین ٹیم کو سمجھ ہی نہ آئی کہ وہ کیا کرے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حالات مزید ابتر ہو گئے اور اس دوران فلور ملز والوں نے اپنا چھکا لگا لیا اور جیبیں بھر لیں حالانکہ صورتحال یہ تھی کہ اگر پنجاب حکومت نہ گھبراتی تو معاملات کو بڑی آسانی سے قابو میں لایا جا سکتا تھا مگر حکومت کی بدانتظامی اور نالائقی پر کوئی دوسری رائے نہیں ہے۔ اس سارے گڑبڑ گھوٹالے میں جو شخص بالکل ہی بے گناہ رگڑا گیا وہ سابقہ سیکرٹری فوڈ پنجاب نسیم صادق ہے۔ میں نے مورخہ تئیس جنوری 2020ء کو اپنے کالم 'بعنوان چینی، گندم، آٹا اور بزدار صاحب کا مستقبل‘ میں لکھا تھا کہ گندم کی سرکاری خریداری کا آغاز پنجاب میں 2 مئی 2019ء کو ہوا تھا۔ گندم کی امدادی قیمت 1300روپے فی من تھی۔ اسی دوران مکئی کی فصل بھی مارکیٹ میں آگئی۔ مکئی کی فصل خراب ہونے کی وجہ سے اس کے ریٹ میں بے پناہ اضافہ ہو گیا اور پولٹری فیڈز والوں نے متبادل کے طور پر گندم خریدنا شروع کر دی۔ سیکرٹری فوڈ نے اپنے مخصوص انداز میں بڑی پھرتی سے خریداری شروع کی مگر مارکیٹ کی صورتحال اس کے لیے قطعاً خوش کن نہ تھی۔ نسیم صادق نے بروقت یہ خدشہ ظاہر کیا کہ پنجاب حکومت شاید اٹھارہ لاکھ ٹن سے زیادہ گندم نہیں خرید پائے گی؛ تاہم اس وقت کے چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر نے سارے صوبے کی انتظامیہ کو متحرک کر دیا اور بالکل ہی غیر متوقع طور پر پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے پینتیس لاکھ ٹن گندم خرید لی جو ان حالات میں ناقابل یقین اور محیرالعقول خریداری تھی۔ تب پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے گوداموں میں سولہ لاکھ ٹن کے قریب گندم موجود تھی یعنی کل ذخائر پچاس لاکھ ٹن کے لگ بھگ ہو گئے جو صوبے بھر کی ضرورت کے لیے کافی تھے۔ پھر یہ سارا بحران کیوں پیدا ہوا؟ صرف اور صرف نالائقی اور بدانتظامی‘ اور کچھ بھی نہیں۔ نسیم صادق خریداری کا ٹارگٹ پورا کرنے کے چند روز بعد ہی اس عہدے سے دوسری جگہ چلا گیا۔ حالیہ صورتحال یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے نئے سال میں گندم کی خریداری کا ٹارگٹ پینتالیس لاکھ ٹن مقرر کیا ہے۔ پنجاب کی آبادی میں گزشتہ سال کی نسبت اضافہ ہی ہوا ہوگا کمی تو نہیں ہوئی؟ اگر گزشتہ سال گوداموں میں موجود پچاس لاکھ ٹن گندم پنجاب کی ضرورت سے کم تھی تو اس سال پینتالیس لاکھ ٹن میں کیسے گزارہ ہوگا؟ اصل بات یہ ہے کہ ٹارگٹ اور خریداری گزشتہ سال بھی ٹھیک تھی لیکن بدانتظامی کا کوئی حل نہیں ہے۔ ایک خبر آپ کو یہ بھی دیتا چلوں کہ شنید ہے‘ سندھ حکومت نے اس سال اپنا خریداری کا ٹارگٹ 1.5 ملین ٹن مقرر کیا تھا اور اب جبکہ وہاں گندم کا سیزن تقریباً ختم ہو چکا ہے ابھی تک صرف0.5 ملین ٹن گندم خریدی جا سکی ہے۔ ادھر پنجاب میں یہ حال ہے نمی کی وجہ سے گندم کی خریداری میں لیت و لعل ہو رہا ہے۔ پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ نہ خود ٹھیک طریقے سے گندم خرید رہا ہے نہ کسی کو خریدنے دے رہا ہے۔ کاشتکار کی فصل ٹھیک ہوئی ہے تو خریداری ٹھیک طرح سے نہیں ہو رہی۔ بے چارہ کاشتکار کہاں جائے؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں