وزیر داخلہ کی خدمت میں

اﷲ کالاکھ لاکھ شکر ہے ہمارے وزیر داخلہ نے رحمان ملک صاحب کی تعریف میں اس اخبار میں چھپنے والا مضمون پڑھ لیا ہے جس میں ان کو مشورہ دیا گیا تھا کہ اِدھر ُادھر سرکھپانے کی بجائے وہ اپنے پیشرو کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں اور ان کی حکمت عملی کو اختیارکرتے ہوئے کامیابیاں سمیٹیں۔ وزیر داخلہ کی توجہ خاص طور پر اس بات کی طرف دلائی گئی تھی کہ رحمان ملک صاحب نے دو ٹوک اعلان کیا تھا کہ وہ کسی کو بھی ملک کا امن وامان تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک صاحب اپنے قول کے بڑے پکے ثابت ہوئے اور اپنی بات پر قائم رہے۔ اخبارات کی سرخیاں بتاتی ہیں کہ ہمارے وزیر داخلہ کے دل کو یہ تدبیر بہت اچھی لگی ہے اور انہوں نے بھی رحمان ملک صاحب کی طرح یہ واضح عہد کیا ہے کہ کسی کو اسلام آباد میں بھتہ وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قانونی اور اخلاقی بنیادوں پر اس دلیرانہ اقدام کی جتنی بھی تعریف کی جائے،کم ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ ہمارے وزیر داخلہ اپنی بات پر قائم رہیں گے اور چاہے ان پر کتنا ہی سیاسی دبائو آئے اور کوئی کیسا ہی طاقتور کیوں نہ ہو وہ اسے اسلام آباد میں بھتہ وصول کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد شہر میں بہت سے طاقتور گروہ بھتہ وصول کرنے کے لیے ڈیرے ڈال چکے ہیں اور باضابطہ یہ کاروبار کرنے کا پروگرام رکھتے ہیں۔ وزیر داخلہ کے اعلان کے باوجود ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی باتیں محض نمائشی ہوتی ہیں۔ آہستہ آہستہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے کاروبار میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہوجائیں گی اور جلد ہی وہ دن بھی آئے گا جب انہیں اپنا کام کرنے کی کھلی چھٹی ہوگی بلکہ اسے قانون کی پشت پناہی بھی حاصل ہوگی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کاروبار اتنا نفع بخش ہے کہ جلد ہی نہ صرف وہ حکومت کو قائل کرلیں گے بلکہ ہوسکتا ہے کہ کراچی کی طرح سب کو اپنے کاروبار میں شریک بھی کرلیں۔ لیکن ہمارے وزیر داخلہ بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے۔ انہیں علم تھا کہ بھتہ خور اپنا کاروبار شروع کرنے کیلئے ہر طرح کا حربہ استعمال کریں گے اور چالیں چلیں گے۔ وزیر باتدبیر ہوتے ہوئے انہیں یہ بھی اندازہ ہوگا کہ اس طرح کا کاروبار کرنے والے کتنے طاقتور ہوتے ہیں اور اپنا کام شروع کرنے کی اجازت لینے کیلئے وہ کیسے کیسے دبائو ڈالیں گے اور کتنا اثر ورسوخ استعمال کریں گے۔ اسی لئے وزیر داخلہ نے بھتہ خور کی طاقت کے سامنے تھانیدار جیسے مطلق العنان کو لاکھڑا کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر کہیں بھتہ خوری کی شکایت ملی تو تھانیدار کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ظاہر ہے ہمارے عزت مآب وزیر داخلہ بہت تجربہ کار ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ لوہے کو لوہا کاٹتا ہے۔ ویسے بھی تھانیدار کے خلاف کارروائی بہت آزمودہ اور مجرب نسخہ ہے جوبہت عرصے سے استعمال ہورہاہے۔ ہر نئی حکومت یہ دھمکی دیتی ہے۔ ہر نیا آنے والا افسر یہ خوف دلاتا ہے ۔ اس کے باوجود تھانیدار ہر طرف بڑی کثیر تعداد میں دکھائی دیتے ہیں بلکہ ایک اندازے کے مطابق ان کی آبادی اسی طرح بڑھ رہی ہے جیسے وطن عزیز کی۔اس کا واضح مطلب ہے کہ تھانیدار کے خلاف کارروائی کی دھمکی سے معاشرے میں جرائم کی روک تھام میں مدد ملتی ہے اسی لئے تھانیدار تو ہر طرف نظر آتے ہیں لیکن جرائم کا کھوج لگانا پڑتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ وزیر داخلہ اس حکمت عملی کے نتیجے میں بھتہ خوری کا ارادہ رکھنے والے ہوش کے ناخن لیں گے۔ اوّل تو وہ خود ہی ہمت ہار جائیں گے۔ لیکن اگر کوئی بہت ڈھیٹ ہوا اور اس کا کسی صحت مند موٹی توند والے تھانیدار سے پالا پڑا تو اس کے چودہ طبق روشن ہوجائیں گے کہ شہر میں قانون کے کیسے کیسے رکھوالے موجود ہیں۔ ویسے بھتہ خوری کے معاملے میں ہمارے وزیر داخلہ کو دل میں ذرا نرم گوشہ رکھنا چاہیے کہ اس کا ایک معاشی پہلو بھی ہے۔ بھتہ تو ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں سے وصول کیا جاتا ہے جن کے پاس مال کی فراوانی بلکہ گرانی ہے اور وصول کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس مال کی کثرت نہیں ہوتی(اگر کوئی ولایت میں رہتا ہے تو اس کی حیثیت استثنائی ہے) اس طرح معاشرے میں دولت کی مساوی تقسیم میں مدد ملتی ہے۔ جو یقینا مطلوب ہے۔ اگر حکومت خود اس تقسیم زر میں شرکت کرے تو اس عمل کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہوسکتا ہے اور اس کے وسائل میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے جو بعد میں محروم طبقات کی بہتری کے لیے استعمال کرکے سلطانہ ڈاکو کی یاد تازہ کی جاسکتی ہے۔ بلا جواز اشیائے ضروریہ پر ٹیکس میں اضافہ کرنے ،عرصہ پرانے بنے ہوئے گھروں پر لگژری ٹیکس لگانے اور بھتہ اکٹھا کرنے میں ایسا کو نسا خاص فرق ہے؟

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں