ان دنوں کرکٹ کی دنیا میں ایک ہنگامہ بپا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کرکٹ کی کشتی ہر طرف سے طوفانوں میں گھری ہچکولے کھارہی ہے۔ ایسا لگ رہاہے کہ ''بگ تھری‘‘ یعنی بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کی من مانی کے بعد پاکستان نہ صرف آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) میں دوسرے درجے کی حیثیت اختیارکرنے پر مجبور ہوچکا ہے بلکہ وسائل کی تقسیم کے نئے فارمولے کے تحت اسے اپنے جائز حق سے بھی محروم ہونا پڑے گا۔ مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت نے اپنی طاقت اور ظرف کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ نہ کھیلنے کا اعلان کردیا ہے۔ ان حالات میں غالب امکان یہی ہے کہ کوئی دوسرا ملک اگر پاکستان سے کھیلنے کا ارادہ کرے گا تو بھارت اس میں ضرور ٹانگ اڑائے گا اور اس ملک کو زیادہ پرکشش دور ے کی پیشکش کرے گا تاکہ وہ پاکستان جانے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرے۔
ان حالات میں اندرونِ ملک مکمل اتحادکی ضرورت تھی، لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ ابھی ''بگ تھری‘‘ کے لگائے ہوئے کاری زخم ہی سہلا رہا تھا کہ اوپر سے وزارت کھیل نے کام دکھادیا اورآناً فاناً کرکٹ بورڈ کے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے اس کے چیئر مین کو رخصت کردیا اورگورننگ کونسل کو معطل کرتے ہوئے ایک گیارہ رکنی انتظامیہ کمیٹی کا اعلان کردیا جس نے فوری طور پر اجلاس منعقد کرکے ایک ایڈہاک چیئرمین بھی چن لیا ہے۔ مزید پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کمیٹی نے ایک وائٹ پیپر یا قرطاس ابیض بھی جاری کردیا جس میں رخصت ہونے والے چیئرمین کے معاملات کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ نئے چیئر مین نے منتخب ہوتے ہی اعلان کیا ہے کہ ''بگ تھری‘‘ سے ٹھیک طرح نہیں نمٹا گیا جس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ کی دنیا میں بالکل تنہا رہ گیا ہے ،لہٰذا وہ اس تنہائی کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔ دوسری طرف سابق چیئر مین نے تمام معاملے کا جائزہ لینے کے بعد قانونی کارروائی کا اشارہ دیا ہے۔
یہ صورت حال کرکٹ کے شائقین کے لیے انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے ۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ''بگ تھری‘‘ کے اقدامات کے باعث پاکستان کو بہت خطرات درپیش ہیں۔ایک طرف بھارت نے انگلینڈ اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر کر آئی سی سی میں مکمل بالا دستی حاصل کرلی ہے اور مجوزہ ایگزیکٹو کمیٹی کی صورت میں فیصلہ سازی کا تمام اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے تو دوسری طرف ایک ایسا فارمولابھی منظور کروالیا ہے جس کے تحت وسائل کا وافر حصہ ''بگ تھری‘‘ کے پاس چلا جائے گا اور جو بچے گا وہ باقی سات ملکوں میں تقسیم ہوگا۔ جب سے ان تجاویز کا شگوفہ پھوٹا ہے پاکستان میں کرکٹ کے شائقین واضح طور پر دوگروہوں میں تقسیم دکھائی دیتے ہیں۔ ایک گروہ کا شروع دن سے ہی یہ کہنا تھا کہ بی تھری بہت طاقتور گروپ ہے خاص طور پر بھارت کے سرمائے کی قوت کے سامنے آئی سی سی یا اس کے ممبر ممالک کی کوئی حیثیت نہیں ۔ جب بھی کوئی مشکل وقت آیا ہے بھارت دھونس یا دھاندلی سے بچ نکلاہے ، ہمیشہ آئی سی سی اور دوسرے ممالک کوگھٹنے ٹیکنے پڑے ہیں ،لہٰذا اب بھی بھارت کی طاقت کے سامنے کوئی ملک نہیں ٹھہر سکے گا اور یہ تجاویز آسانی سے منظور ہوجائیں گی چاہے وہ کتنی ہی نامعقول کیوں نہ ہوں۔اس گروہ کا استدلال یہ تھا کہ ان تجاویز کی مخالفت سراسرگھاٹے کا سودا ہے۔ بھارت کی بے پناہ قوت سے ٹکر لینے کی بجائے پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور بی تھری میں شامل ملکوں سے خصوصاً بھارت کے ساتھ طویل مدت کے معاہدے کرکے اپنے لیے کرکٹ کے دوروں کا بندوبست کرنا چاہیے ورنہ پاکستان نہ صرف دیوالیہ ہوجائے گا بلکہ کرکٹ کی برادری میں بالکل تنہا رہ جائے گا۔ اس طرزِ فکر کے مخالفین ان حقائق کو تسلیم کرتے ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ طاقت کے زور پر ناانصافی اور زیادتی کرنے والوں کے سامنے جھک جانا اور گھٹنے ٹیک دینا کوئی عزت والا معاملہ نہیں۔ جب سے دنیا بنی ہے جبر اور زیادتی کے خلاف اصولوں کی بنیاد پرکمزور طاقتور سے ٹکرائے ہیں اور جو بھی تھوڑی بہت تہذیب اور انسانیت اس دنیا میں باقی ہے اسی ٹکرائو اور جدوجہد کا نتیجہ ہے ورنہ یہ عالم بالکل جنگل بن جاتا جس میں زندہ رہنے کی بنیاد محض طاقت ہوتی۔
اس گروہ کا کہنا ہے کہ کرکٹ تو شرفا کا کھیل ہے ، کسی بنیے کا کاروبار نہیں کہ ہر فیصلے کے پیچھے سرمائے کی طاقت نظر آئے ، اسی لیے سابق چیئرمین ذکا اشرف صاحب نے یہ دلیل دی ہے کہ کرکٹ سے پیسہ تو آتا ہے لیکن پیسے سے کرکٹ نہیں آتی۔ اس گروہ کی سوچ یہ ہے کہ بی تھری کی تجاویز مان لینے سے کوئی قابل ذکر فائدہ نہیںہوسکتا ۔ بھارت کی ترغیبات محض وقتی ہیں ، اپنے سیاسی ایجنڈے کے مطابق بھارت ہر قیمت پر پاکستان کو تنہا کرنا چاہتا ہے اور عالمی برادری میں اس کی رسوائی دیکھ کر خوش ہوتاہے۔ پچھلے کئی برس سے وہ ہمارے ساتھ کسی نہ کسی بہانے کھیلنے سے گریز کررہا ہے ؛ حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ ان کی ہاں میں ہاں ملا ئی ہے۔ بھارت کے ساتھ چاہے کتنے مضبوط معاہدے ہی کیوں نہ کئے جائیں ، مطلب نکل جانے کے بعد کسی معاہدے پر عمل نہیں ہوگا کیونکہ اس کے پاس بہت آسان بہانہ ہوگا کہ اس کی حکومت اجازت نہیں دیتی کہ وہ پاکستان سے کرکٹ کھیلیں۔جب تک یہاں مکمل طور پر دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا ،کوئی ٹیم بھی پاکستان کا دورہ کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی ، اس لیے بہتر ہوگا کہ وقتی فائدے کا خیال چھوڑ کر مساوات اور برابری کے اصول پر کھڑا ہونے کی کوشش کی جائے ۔ یہ یقیناً ایک کٹھن اور مشکل راستہ ہے اور اس میں ا یک طویل جدوجہد ہے ، لیکن عزت و آبرو سے زندگی بسر کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا ضروری ہے۔ اس سوچ کے لوگ جنوبی افریقہ کی مثال دیتے ہیں جس نے نسل پرستی کے غلط موقف پر قائم رہتے ہوئے کرکٹ میں تقریباً بیس سال کی تنہائی برداشت کی ۔ اپنے کرکٹ کے نظام کو مضبوط کیا اور جب نوے کی دہائی میں موقع ملاتوایک طاقتور ٹیم کے طور پر میدان میں اترے اور سب سے اپنا لوہا منوایا۔ اس گروہ کی دلیل یہ ہے کہ ناانصافی پر مبنی بی تھری کا پروگرام قبول کرکے آئی سی سی کی اپنی ساکھ اتنی مجروح ہوگئی ہے کہ وہ زیادہ عرصہ عوامی دبائو کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔ اگر پاکستان اور سری لنکا اسی طرح ڈٹے رہیں تو آئی سی سی کے لیے اپنے پروگرام پر عمل اتنا آسان نہیں ہوگا حتیٰ کہ ورلڈ کپ جیسا ٹورنا منٹ بھی اپنی کشش کھودے گا۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان جبر اور ناانصافی کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکے۔
لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری حکومت اورکھیلوں کی وزارت اس سوچ سے متفق نہیں ۔ بظاہر ایسے نظر آتا ہے کہ جس طرح تجارت کے میدان میں بھارت کو پسندیدہ ترین قوم کے رتبے پر فائز کیا جارہاہے ، اسی طرح کرکٹ کے میدان میں بھی بھارت کی بالا دستی پرکسی کوکوئی اعتراض نہیں ۔ لیکن یہ فیصلہ عدالتی تصادم اور عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا باعث ہوگا۔ آئین کی موجودہ شکل میں حکومت اور پیٹرن کے پاس ایڈہاک نظام لانے کا اختیار تو ہے لیکن یہ ایک غیر معمولی اختیار ہے جس کو اسی صورت میں استعمال کیا جاسکتا ہے جب حالات قابو سے باہر ہوں اور صورت حال غیر معمولی ہو۔ سابق چیئر مین پندرہ جنوری کے عدالتی حکم سے اپنے عہدے پر واپس آئے تھے اگر اپنی برطرفی کے خلاف وہ دوبارہ عدالت میں جاتے ہیں (جس کا اقوی امکان ہے)توعدالت یقیناً حکومتی اقدامات کا جواز پوچھے گی اورعالمی سطح پر پی سی بی کی ساکھ متاثر ہوگی۔
حالات کی سنگینی کا تقاضا ہے کہ اب یہ کرکٹ تماشا بند کیا جائے اور قبل اس کے کہ معاملہ دوبارہ عدالتوں میں جائے فریقین کو اکٹھا بٹھا کر جھگڑے کا کوئی مناسب حل تلاش کرلیا جائے تاکہ ''بگ تھری‘‘ کے مسئلے پر قومی سطح پر مشاورت سے آبرومندانہ موقف اختیار کیا جاسکے۔