میں نے شیخ صاحب کوسمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اس وقت ہوش کی بجائے خاصے جوش میں تھے۔ ’’تم چپ رہو‘‘ انہوں نے مجھے ڈانٹتے ہوئے کہا ’’ میں بالکل قریب پہنچ گیا ہوں‘‘ میں نے جب غور کیا تو وہ واقعی ایک صحت مند بکرے کے قریب پہنچ چکے تھے۔ جو کسی لحاظ سے بھی ان کا بکرا نہیں ہوسکتاتھا۔ شیخ صاحب نے نعرہ بلند کیا کہ اس بکرے کے گلے میں جو رسّی تھی وہ وہی تھی جو انہوں نے ڈالی تھی۔ میرے روکتے روکتے شیخ صاحب نے مصافحہ کے انداز میں بکرے کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا لیکن اس نے بڑی رعونت اور بیزاری سے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ شیخ صاحب نے ہمت نہیں ہاری۔ پینترا بدل کر پھر سامنے آئے‘ لیکن اس دفعہ بھی فریقین کی نظریں چار نہ ہوسکیں۔ اتنی دیر میں بکروں کا ٹھیکیدار بھی چار پائی سے اٹھ کر بیٹھ چکا تھا اور بڑی دلچسپی سے یہ تماشا دیکھ رہاتھا۔ ’’جناب لگتا ہے آپ کویہ بکرا پسندآگیا ہے۔ خرید یں گے؟‘‘ اس نے پوچھا۔’’خریدیں گے، کیا مطلب؟ہم دو دن پہلے اسے خرید چکے ہیں‘‘ شیخ صاحب تنک کر بولے۔’’وہ کیسے‘‘ بکرے والے نے حیران ہو کر پوچھا۔ جواب میں اس یقین کے ساتھ کہ یہی ان کا گم شدہ بکرا ہے ، شیخ صاحب نے دو دن پہلے اسے خریدنے کی داستان سنادی اور اسے واپس لے جانے کا عندیہ بھی ظاہر کردیا‘ جسے سن کر ٹھیکیدار نے زور سے اپنے ملازم کو ہیبت خان کہہ کر آواز دی جو قریب ہی چار پائی پر سویا ہواتھا۔ پیشتر اس کے کہ مسمی ہیبت خان مجسم ہیبت خان بن کر ہم پر وارد ہوتا میں نے موقع کی نزاکت سمجھتے ہوئے شیخ صاحب کا بازو پکڑا اور کھینچتے ہوئے انہیں باہر لے آیا۔ وہ گرتے پڑتے میرے ساتھ چلے تو آئے لیکن وہ جذباتی ہورہے تھے کہ انہوں نے بالکل ٹھیک پہچان لیا تھا وہی ان کا بکرا تھا۔ ’’شیخ صاحب،لگتاہے آپ کا ان لوگوں سے مار کھانے کا ارادہ ہے‘‘ میں نے کہا۔ ’’پولیس کی مدد لیتے ہیں‘‘وہ بولے۔ پولیس کی مدد لینا بھی بڑے جان جوکھوں کا کام تھا‘ لیکن ہیبت خان سے مقابلہ کرنے سے بہر حال بہتر تھا۔ شیخ صاحب کا جوش دیکھ کر مجبوراً ساتھ چل پڑا۔ تھانے میں پہنچے تو وہاں صحن میں بالکل سامنے شیخ صاحب کو اپنا بکرا پھرنظر آگیا‘ جس کے ماتھے پر بقول ان کے ان کا لگایا ہوا مخصوص نشان تھا۔ بکرے کو دیکھتے ہی شیخ صاحب کی آنکھوں میں چمک آگئی۔’’خدا کیلئے شیخ صاحب‘‘ میں نے ان کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا’’یہ پولیس سٹیشن ہے۔ یہاں کوئی ایسی حرکت نہ کریں کہ لینے کے دینے پڑ جائیں‘‘۔ لیکن شیخ صاحب باز نہ آئے۔ بکرے کا طواف کرنے لگے۔ بکرے کے محافظ نے مجھے مخاطب کرکے ماجرا پوچھا تو مجھے تفصیل بتانی پڑی کہ شیخ صاحب اپنے گم شدہ بکرے کی تلاش میں ہیں۔ ’’ان کا دماغ تو نہیں چل گیا؟‘‘اس نے پوچھا۔ ’’آپ نے ٹھیک اندازہ لگایا‘‘میں نے جواب دیا’’ بکرے کے اچانک کھو جانے کے صدمے سے کچھ حواس باختہ ہوئے ہیں۔ ویسے پہلے بھی کچھ مارجنل کیس ہی تھے۔‘‘ ’’ اگر آپ کو اس بکرے پر شبہ ہے تو میں آپ کو بتا دوں کہ یہ تھانیدار صاحب کا بکرا ہے۔ کل رات کو ہی ان کے ایک کرم فرما نے ان کو قربانی کیلئے پیش کیا ہے‘‘ اس نے ہمیں خبردار کرنے کے انداز میں اطلاع دی۔ لیکن اس کے باوجود شیخ صاحب بکرے کو ٹھوک بجا کر اپنی تسلی کرنا چاہتے تھے۔ بکرے نے بھی بڑے جوش اور جذبے کا اظہار کیا اور ٹکر مارنے کے لیے شیخ صاحب کی طرف لپکا۔ خو ش قسمتی سے اس کی رسّی اتنی دراز نہیں تھی کہ وہ کامیاب ہوتا۔ پیشتر اس کے کہ بکرا دوبارہ حملہ آور ہوتا شیخ صاحب الٹے پائوں پسپا ہوتے ہوئے دھڑام سے زمین پر آگرے۔ ’’تم مانو یا نہ مانو‘‘ وہ ہانپتے ہوئے اٹھ کر بولے’’یہ بکرا ہو بہو میرا ہے جو ان لوگوں نے کسی طرح قابو کرلیا ہے‘‘۔ ’’اگر یہ آپ کا بکرا ہوتا تو آپ کو ٹکریں کیوں مارتا؟‘‘ میں نے ٹھوس دلیل دی۔ ’’بکرا تو میرا ہی ہے‘‘ وہ وثوق سے بولے’’لیکن پولیس والوں کی صحبت میں رات گزار کر اس کا کریکٹر خراب ہوگیا ہے۔ تم دیکھ لینا آج نہیں تو کل میدان حشر میں یہی بکرا میرے حق میں گواہی دے گا‘‘۔ ’’چلیں آپ حشر کا انتظار کریں لیکن مجھے اجازت دیں‘‘ میں نے شیخ صاحب کی منت کی ’’مجھے اور بہت سے کام ہیں‘‘ ۔ ’’خدا کیلئے یار ،ایسے پتھر دل نہ بنو‘‘ شیخ صاحب بسورتے ہوئے بولے ’’بکرے کے چلے جانے کے بعد تمہارے سوا میرا اور کون ہے‘‘۔ عید قربان کے موقع پر بکرے کا متبادل ہونا کوئی ایسا خوشگوار تصور تو نہیں تھا لیکن میں نے شیخ صاحب کو سمجھایا کہ واقعات ان کے حق میں نہیں۔ اس لئے ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ بکرے کی تلاش میں ایک چھوٹی سی بریک لے لی جائے۔ شیخ صاحب مان تو گئے لیکن گھر کی طرف واپس جاتے ہوئے وہ بضد تھے کہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے۔ ان کو یقین تھا کہ بکرا رات کو جب گھر سے بھاگا تو پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔ اگرقانون کے مطابق کارروائی ہوتی توبکرے کا زیادہ سے زیادہ آوارہ گردی کے جرم میں چالان ہوسکتاتھا۔ قانون کی کسی دفعہ کے تحت بکرا بحقِ سرکار ضبط نہیں ہوسکتاتھا۔ شیخ صاحب کے ماہرانہ دلائل ابھی جاری تھے کہ ہم ان کے گھر کے دروازے پر پہنچ گئے۔اپنی سماعت پر ہمیںشبہ ہوا جب گھر کے اندر سے بکرے کے بولنے کی آوازیں آئیں۔ یا اللہ خیر ۔ یہ بکرے کا بھوت تو ادھر نہیں آگیا۔ ہم دونوں گلی کی طرف لپکے ۔ وہاں سچ مچ کا سالم بکرا بندھا تھا۔ میں نے بڑے غصے سے شیخ صاحب کی طرف دیکھا۔لیکن ان کی پوری توجہ بکرے پر تھی۔ بہت ڈھٹائی سے بولے۔ ’’خدا کیلئے اب یہ نہ کہنا کہ یہ بکرا تمہارا نہیں ہے‘‘۔ تحقیقات سے عقدہ کھلا کہ شیخ صاحب کا بیٹا صبح سویرے اٹھ کر کسی کو بتائے بغیر بکرے کو باہر ٹہلانے کیلئے لے گیا تھا اور جاتے ہوئے باہر سے دروازہ بند کرگیا تھا کہ وہ چوپٹ کھلا نہ رہے۔ شیخ صاحب بکرے سے وفورِ محبت سے یوں لپٹے ہوئے تھے کہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ بکرا کون ہے۔ کافی دیر کے بعد ان کو اپنی صبح کی حماقت کا خیال آیا اور معذرت کرتے ہوئے بولے۔ ’’یار معاف کرنا میں نے خواہ مخواہ تمہیں اتنا خوار کیا۔ میری صرف ایک بات اور مان لو‘‘ ’’وہ کیا؟‘‘میں نے پوچھا۔ ’’بس عید تک تم میرے بکرے کے سامنے نہ آنا۔ اسے کہیں پھر سے تمہاری نظر نہ لگ جائے‘‘۔ (ختم)