''اسرائیل اور یوکرین سے تعاون امریکہ کے لیے ناگزیر ہے۔اسرائیل اور یوکرین کی جمہوریتوں کو شدید بیرونی خطرات ہیں‘ امریکی عوام کو ان جمہوریتوں کوبچانے کے لیے میدانِ عمل میں آنا چاہئے‘‘بائیڈن نے کانگریس سے دونوں ملکوں کے لیے 100 ارب ڈالر کی فوجی امدادکی اپیل کی ہے۔صدر جو بائیڈن نے امریکیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل اور یوکرین میں جاری جنگ میں امریکی تعاون کے لیے یک طرفہ اور غیر مشروط فنڈنگ کا سلسلہ جاری رکھیں۔بائیڈن نے کھل کر روسی صدر پوتن کو اقوام عالم اور امریکہ کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ اوول آفس سے اپنے غیر معمولی خطاب میں چین اور ایران کے بارے میں کھل کر کوئی بات کرنے سے گریزکیا۔ اگرچہ بائیڈن نے تائیوان کے دفاع کی بات بھی کی جو کہ چین کی ون چائنہ پالیسی کے خلاف امریکی منافقانہ بیانیہ ہے لیکن وہ چین اور ایران کے بارے میں کوئی منفی جملہ کہنے کی جرأت نہیں کر سکے۔
صدربائیڈن نے غزہ اور مغربی کنارے کے لیے دس کروڑ ڈالر کی فوری امداد کا اعلان بھی کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں ضرورت مند فلسطینیوں کیلئے مصر سے چھان بین کے بعد امداد بھجوانے پر رضامندہو گیا ہے۔ انسانی ہمدردی کی امداد میں اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ امدادی سامان نہتے شہریوں کو ہی ملے اورحماس کے جانبازوں کے ہاتھ نہ لگے۔ بائیڈن نے کہا کہ اسرائیلی قوم غصے کی کیفیت کو اپنے اوپر حادی نہ ہونے دے۔ صدر بائیڈن نے حماس کے حملے کو امریکہ میں تین ہزار جانیں لینے والے نو ستمبر 2001ء میں ہونے والے حملے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اور بہت سے امریکی اس کیفیت کو سمجھتے ہیں جس سے اسرائیلی اور فلسطینی گزر رہے ہیں۔سرائیل نے حماس کے حملوں کے بعد غزہ کی پٹی کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے اور علاقے میں خوراک‘ ایندھن اور پانی کی فراہمی مکمل بند ہے۔ ثالثی کرنے والوں نے تعطل کو ختم کرانے کی کوشش کی ہے تاکہ انتہائی ضرورت مند شہریوں‘ امدادی اداروں اور ہسپتالوں کو ضروری اشیا پہنچائی جاسکیں۔بائیڈن کی تقریر کے تھوڑی دیر بعد ہی اسرائیل نے اس بات کی تصدیق کی کہ خوراک‘ پانی اور ادویات کی ترسیل کی اجازت دی جائے گی لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ ایسا عملی طور پر کب ممکن ہوگا۔منگل کو غزہ کے ہسپتال پر حملے اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں سے مظلوم فلسطینیوں کے مصائب میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ فلسطینی عسکری تنظیم حماس اور روسی صدر پوتن سنگین خطرہ ہیں اور ان دونوں میں مشترک چیز ہے کہ دونوں پڑوسی ملکوں اسرائیل اور یو کرین کی جمہوریتوں کو ختم کرناچاہتے ہیں۔یہ بھی عجب لطیفہ ہے کہ انہوں نے یوکرین اور اسرائیل کی '' جمہوریتوں‘‘ کو لاحق شدید خطرات کا ذکر کیاہے لیکن وہ مشر قِ وسطیٰ میں جمہوریت کے پھیلاؤ اور فروغ کے لیے اپنے جاری مشن کے بارے میں مزید وضاحت کرنا مناسب نہیں سمجھتے کیونکہ OICکے 57 رکن ممالک میں پاکستان سمیت امریکہ دوست حکمران فلسفۂ جمہوریت پر قطعی یقین نہیں رکھتے اور اپنے عوام کے انسانی حقوق بارے اسرائیل کے ساتھ same pageپر ہیں ۔
یوکرین میں جاری جنگ اوراسرائیل حماس تنازع نہ صرف خطے کو بلکہ ساری دنیا کو عدم استحکام کی جانب لے جارہا ہے ۔ اس تنازعے کے فریقوں کی حما یت یا مخالفت میں مظاہرے جاری ہیں۔یہ اوول آفس سے کی جانیوالی صدر بائیڈن کی دوسری اہم تقریر ہے۔ تجزیہ کاروں اور خودامریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ تقریر یوکرین روس جنگ اور اسرائیل ‘حماس تنازعے پر ان دونوں ملکو ں کے لیے امریکہ کی حمایت ظاہر کرتی ہے۔صدر بائیڈن نے اسرائیل اور یوکرین کی اپنی اپنی جنگوں میں کامیابی کو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے ۔بائیڈن نے کانگریس سے دونوں ملکوں کے لیے 100ارب ڈالر کی فوجی امدادکی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں کانگریس کو فوری طور پر تقریباً ایک سو بلین ڈالر کی فنڈنگ کی درخواست بھیجوں گا۔ یہ امداد یوکرین‘ اسرائیل‘ تائیوان ‘ بارڈر مینجمنٹ اور دیگر انسانی فلاح کے پروگراموں پر خرچ ہوگی۔ اسرائیل کے خلاف حماس کے حملے‘غزہ میں انسانی امداد کی ضرورت‘ یوکرین روس کی جنگ میں ہم ایک ایسے نازک موڑ پر ہیں جو پارٹی یا سیاست سے بالاترہے ۔مزے کی بات یہ ہے کہ او آئی سی کے 57 ارکان میں سے کتنے ممالک میں جمہوریت کا دور دورہ ہے اورامریکی دوستی کا دم بھرنے والے یہ مسلمان حکمران کس قسم کی جمہوریت سے نبردآزما ہیں؟
اگر پیارے پاکستان کا ذکر کر لیا جائے تو جنرل ایوب خان مرحوم سے بڈ بیر کا ہوائی اڈہ لے کر سوویت یونین کی فضائی اور ہوائی جاسوسی کے لیے استعمال کیا گیا۔اورجب روسیوں نے U2 جہاز مار گرایا اور پشاور پرسرخ دائرہ لگ گیا تو پاکستان کو جان چھڑانا مشکل ہو گیا ۔اس کے بعد جنرل یحییٰ خان نے ہنری کسنجر کو اُس وقت کے بیجنگ پہنچا دیا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی اور ڈھاکہ کے دروازوں پر بھارتی فوج دستک دے رہی تھی تو چو تھا امریکی بحری بیڑہ بحرِ ہند میں لاپتہ ہو گیا اور وہ 16 دسمبر 71ء کے سانحے کے بعد ہی نمودار ہوا ۔
بھٹو شہید کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ ضیاالحق کے 10 سال میں امریکہ نے جمہوریت کے فروغ کے لیے جو خدمات سرانجام دیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ مشرف مرحوم سے بھی امریکیوں نے کئی ہوائی اڈے اور راہداریاں حاصل کر لی تھیں۔ ان متکبر اور آمریت پسند امریکیوں نے تو مسلمہ دیانتدار سیاست دان محمد خان جونیجو کی بدیانتی کے لغو الزامات کے تحت برطرفی پر جنرل ضیا سے رسمی احتجاج تک نہیں کیا تھا۔ وہ تو اگر جنرل ضیاالحق سی 130 کے سانحے میں شہید نہ ہوتے تو شاید آج تک وہی پاکستان میں ''جمہوریت‘‘ کے مختلف طور طریقے آزما رہے ہوتے۔
جب امریکی اپنے مفاد میں جہاد ِافغانستان کو فروغ دینے کے لیے ساری اسلامی دنیا میں جہاد کے ڈنکے بجاتے رہے تھے‘ بعد ازاں اسی جہاد کو فسادِ افغانستان قرار دے دیا اور طالبان کی حکومت کو الٹنے کے لیے شمالی اتحاد سے گٹھ جوڑ کیا۔ 20 سال کی اس لاحاصل جنگ میں جہاد کی جگہ فساد برپا کیا گیااور بعد ازاں دوحہ معاہدے کے تحت اپنی افواج یکطرفہ طور پر نکال لیں اور عالم یہ تھا کہ طالبان کی منتیں کر کے کابل شہر زبردستی اُن کے حوالے کیا گیا جس کا یہ کالم نگار عینی شاہد ہے۔
بہرحال امریکہ کا صدر اصل میں تو پورے یورپ ‘مشرقِ وسطیٰ اور آسٹریلیا کا بھی بادشاہ سلامت ہے ۔اس لیے جو وہ کہے وہی درست اور حقیقت سمجھا جاتا ہے۔صدر بائیڈن کی دیدہ دلیری ملاحظہ فرمائیں‘ کہتے ہیں کہ ہمیں تاریخ سے سبق ملتا ہے کہ جب بھی دہشت گردوں یا آمروں کو ان کے کیے کی سزا نہیں ملی تو وہ تباہی اور اموات کا سبب بنے ہیں۔اور رضا شاہ پہلوی کی ساواک ‘اور اپنے دوست اور بعدازاں دشمن قرار پانے والے صدام حسین کو کیمیائی امریکی ہتھیار کس نے فراہم کئے تھے؟ اور آج کے مشرق وسطیٰ میں کہاں کہاں جمہوریت کا دور دورہ ہے اور لکھاری خشوگی مرحوم کی نعش تو شاید امریکیوں نے ڈھونڈ لی تھی اس بیہمانہ قتل کے اصل محرک کو تو شاید بائیڈن کی عدالت سزا بھی سنا چکی ہے۔ صدر جو بائیڈن نے اسرائیل اور یوکرین کی اپنی اپنی جنگوں میں کامیابی کو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے اہم قرار دیا اور کہا کہ امریکی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل سمیت ہم اپنے اہم اتحادیوں کے سامنے اسرائیل اور یوکرین سے تعاون امریکی سلامتی کے لیے اہم ہے ۔امریکی اور اسرائیلی دوحہ میں حماس کے رابطہ دفتر اوراسماعیل ہانیہ کی موجودگی پر چوں چراکر رہے ہیں لیکن یہ بھول رہے ہیں کہ دوحہ میں طالبان کے دفتر کی وجہ سے ہی امریکی معاہدہ کرکے کابل سے نکلنے میں کامیاب ہو ئے تھے۔