"MAK" (space) message & send to 7575

پاکستان کی برکس میں شمولیت کی درخواست …(1)

پاکستان بھی دنیا کی اُبھرتی ہوئی معیشتوں کی تنظیم برکس (BRICS)کا رکن بننے جا رہا ہے جس کے لیے باضابطہ درخواست دے دی گئی ہے۔ برکس باہمی تنازعات اور جنگوں کے سامنے کھڑی ایسی آہنی دیوار ہے جس کی وجہ سے اس کے رکن ممالک کے درمیان لڑائی جھگڑے ممکن نہیں رہتے۔ وزارتِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے اس درخواست کی تصدیق کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ برکس فورم پاکستانی درخواست پر مثبت پیش رفت کرے گا۔ برکس میں نئے ملک کو رکنیت دینے کے لیے اس کے تمام اراکین کا اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ سفارتی امور کے بعض ماہرین بڑے محتاط انداز میں خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ برکس کا اہم رکن ہونے کے ناطے بھارت پاکستان کی رکنیت کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے لیکن پاکستان کے برکس کے رکن بننے کی صورت میں دونوں ممالک کے مابین مسئلہ کشمیر پر جنگ بلکہ ایٹمی جنگ کے خدشات ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے‘ یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ مسئلہ کشمیر ہمیشہ کے لیے حل جائے گا۔ برکس کا رکن بننے کے لیے روس اور چین پاکستان کی مکمل حمایت کریں گے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ وہ یکم جنوری 2024ء تک برکس کی رکنیت حاصل کر لے۔
برکس دنیا کی پانچ بڑی اُبھرتی ہوئی معیشتوں کی تنظیم ہے۔ اس تنظیم میں برازیل‘ روس‘ انڈیا‘ چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ جون 2006ء میں جب اس کا قیام عمل میں آیا تب اس میں چار ممالک برازیل‘ روس‘ انڈیا اور چین شامل تھے اور تب اس تنظیم کا نام BRIC تھا۔ اس تنظیم کے لیے ماہرِ اقتصادیات Jim O'Neillنے 2001ء میں BRIC کی اصطلاح اس یقین کے ساتھ بنائی تھی کہ یہ معیشتیں 2050ء تک عالمی ترقی پر حاوی ہوجائیں گی۔ بعد ازاں 2010ء میں جنوبی افریقہ کی اس تنظیم میں شمولیت کے بعد اس کا نام بدل کر BRIC سے BRICS کر دیا گیا۔یہ ایک کثیر الجہتی فورم ہے۔ برکس ممالک دنیا کے 27 فیصد زمینی رقبے اور عالمی آبادی کے 42 فیصد پر محیط ہیں۔ یہ ممالک عالمی جی ڈی پی میں تقریباً 24 فیصد اور عالمی تجارت میں 16 فیصد کے حصہ دار ہیں۔ برازیل‘ روس‘انڈیا اور چین تو عالمی آبادی‘ رقبے اور جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا کے اُن دس بڑے ممالک میں شامل ہیں جنہیں سپر پاورز بھی قرار دیا جاتا ہے۔برکس سربراہی اجلاس میں علاقائی مسائل کے ساتھ ساتھ عالمی مسائل پر بھی بات چیت ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد رُکن ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی فائدہ مند تعاون کو آگے بڑھانا ہے تاکہ ان کی ترقی کو تیز کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ اس تنظیم کے اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی ‘ دہشت گردی‘ عالمی تجارت‘ توانائی‘ اقتصادی بحران جیسے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔
BRICS میں شامل پانچوں ممالک G20 کے بھی رکن ہیں۔معاشی تنظیم جی ٹونٹی 1999ء میں ایشیا میں پیدا ہونے والے معاشی بحران کے بعد وجود میں آئی تھی۔ دنیا کی دو تہائی آبادی کی نمائندگی کرنے والے ممالک کے اس گروپ کا مقصد معاشی نظام کے پہلوؤں پر غور کرنا تھا۔برکس کی بات کریں تو 2009ء کے بعد سے BRICS میں شامل پانچوں ممالک تیزی سے ایک مربوط جیو پولیٹکل بلاک کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ان ممالک کے سربراہ سالانہ سربراہی اجلاسوں میں ملاقات کرتے ہیں اور اس تنظیم کی کثیرالجہتی پالیسیوں کو مزید مربوط بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ برکس ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات بنیادی طور پر عدم مداخلت‘ مساوات اور باہمی فائدے کی بنیاد پر چلائے جاتے ہیں۔برکس ممالک کو سرکردہ ترقی یافتہ معیشتوں کے بلاک G7کا سب سے اہم جیو پولیٹکل حریف سمجھا جاتا ہے۔2022ء سے اس معاشی تنظیم نے اپنی رکنیت میں اضافے کی باضابطہ منصوبہ بندی کی ہے ‘ جس میں اب پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک نے شمولیت کے لیے درخواست بھی دے دی ہے ۔رواں برس اگست میں برکس کے 15ویں سربراہی اجلاس میں جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے اعلان کیا تھا کہ ارجنٹائن‘ مصر‘ ایتھوپیا‘ ایران‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اس بلاک میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔ اب یہ سوال بھی اُٹھ رہا ہے کہ کیا برکس ممالک اپنی کوئی مشترکہ کرنسی بنانے جا رہے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ برازیل اور روس کے سرکردہ معاشی ماہرین نے بین الاقوامی تجارت اور عالمی مالیات میں امریکی ڈالر کے غلبے کو چیلنج کرنے کے لیے برکس کے لیے نئی کرنسی بنانے کی تجویز پیش کی ہے جبکہ برکس اور ایشیا کے لیے جنوبی افریقہ کے سفیر اور چوٹی کے معاشی سفارت کار Anil Sooklal نے کہا ہے کہ ڈالر کے مقابلے پرکسی نئی کرنسی کا تصور جوہانسبرگ سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔ Jim O'Neill‘ جنہوں نے سب سے پہلے 'BRIC‘ کا خیال پیش کیا تھا‘ نے بھیBRICS کے لیے کسی مشترکہ کرنسی کے تصور کو 'مضحکہ خیز‘ قرار دیا۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ برکس ممالک میں کیا چیز مشترک ہے اور تقسیم کا سبب بننے والی کون سی چیزیں ہیں؟ برکس ممالک بہت بڑا معاشی اور اقتصادی اتحاد ہیں ‘ جس میں چین سب سے بڑا حصہ دار ہے۔ برکس کے ذریعے چین ایشیائی سپر پاور بن کر ابھرا ہے اور واضح طور پر موجودہ بین الاقوامی نظام میں من پسند اصلاحات‘ اکھاڑ پچھاڑ اور سائنسی انداز میں اس کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے۔جنوب ایشیائی خطے میں بھارت اور چین ایک دوسرے کے حریف سمجھے جاتے ہیں۔ سرحدی تنازعات پر بھارت کی چین سے شدید گرما گرمی بھی ہو چکی ہے جس میں درجنوں بھارتی فوجیوں کو چینی کمانڈوز نے مکوں اور ڈھڈوں سے ہی مار ڈالا تھا کیونکہ دونوں ممالک کے مابین لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے حوالے سے جو معاہدہ موجود ہے اس کے مطابق دونوں ممالک اس سرحد پر آتشیں اسلحے کا استعمال نہیں کر سکتے‘ جس پر بھارت اور چین تمام تر کشیدگی کے باوجود عمل پیرا ہیں۔ خطے میں چینی اثرورسوخ کی توسیع کو روکنے کے لیے مودی سرکار امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے ساتھ مل کر سفارتی کوششیں کر رہی ہے لیکن امریکی اشیر باد کے باوجود وہ چین سے باضابطہ جنگ لڑنے پر آمادہ نہیں ہے جبکہ مغربی ایشیا یا مشرقِ وسطیٰ میں سعودی قیادت میں عرب لیگ اور OIC امریکی پلڑے میں اپنا وزن ڈال رہی ہیں ۔اب ایران ‘ سعودی عرب‘ مصر اور متحدہ عرب امارات‘ یہ ممالک برکس اتحاد کے رکن بننے جا رہے ہیں جس پر امریکی خاموشی سے پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔مغربی ماہرین کا خیال ہے کہ روس برکس کو مغرب کے خلاف اپنی لڑائی میں دوست اور حلیف سمجھتا ہے‘ جو یوکرین پر حملے کے بعد روس پر عائد امریکی پابندیوں کے نقصان کو کم کرنے میں اس کی مدد کررہی ہے۔روسی تیل کی درآمد پر مغربی ممالک کی پابندیوں کے باوجود بھارت اور چین روسی تیل کے سب سے بڑے گاہک ہیں۔ روس نے فروری 2023ء میں چین اور جنوبی افریقہ کے ساتھ مشترکہ بحری جنگی مشقیں بھی کی ہیں۔(جاری)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں