نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملتان سلطانز نے کراچی کنگز کو 7 وکٹ سے ہرا دیا
  • بریکنگ :- ملتان سلطانزنے 125 رنزکاہدف 19 ویں اوور میں پوراکرلیا
  • بریکنگ :- فاتح کپتان محمد رضوان 52 رنزکےساتھ ناٹ آؤٹ رہے
  • بریکنگ :- ملتان سلطانزکےصہیب مقصود نے 30 رنز بنائے
  • بریکنگ :- اوپنرشان مسعود نے 26 رنزبنائے
  • بریکنگ :- پی ایس ایل7 ، عمران طاہر مین آف دی میچ قرار
Coronavirus Updates
"MEC" (space) message & send to 7575

اخلاقی زوال کا شکار قوم

کسی قوم کی ترقی کا دارومدار اس کی اخلاقی اقدار کی ٹھوس عملداری پر ہے۔ اخلاق ہی انسان کو حیوان سے ممتاز بناتا ہے اور اخلاقیات کی تباہی قوموں کی تباہی کا سبب بنتی ہے۔ قوموں میں بدعملی اور بے راہروی راسخ ہو جائے تو ان کے ترقی کی راہ پر گامزن رہنے کے امکانات بھی معدوم ہو جاتے ہیں۔ عظیم مسلم مفکر ابن خلدون نے اپنی معروف کتاب ''مقدمہ‘‘ میں لکھا کہ دنیا میں عروج و ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے، جبکہ برے اخلاق کی حامل قوم زوال پذیر ہو جاتی ہے۔ موجودہ عالم اسلام اسی تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب مسلمان بشمول برصغیر دنیا کے وسیع خطوں پر حکمرانی کر رہے تھے‘ تمام شعبہ ہائے زندگی پر ان کا غلبہ تھا، مگر جب مسلمان عیش و عشرت، کاہلی اور بدعنوانی میں پڑ گئے، ان میں ذہانت و فراست جیسی صفات ختم ہو گئیں تو عزم و محنت، جوشِ عمل، احساس ذمہ داری اور باطل سے نبردآزمائی کا حوصلہ بھی پست ہو گیا۔
ترقی یافتہ ممالک کے باشعور عوام اسی لیے کامیاب ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں اخلاقیات کا دامن نہیں چھوڑتے، مگر ترقی پذیر ممالک جہاں غربت اور جہالت کے اندھیرے بسیرا کیے ہوئے ہوں، فرض شناسی اور ایمانداری جیسی اقدار کمزور ہوں، ہر کوئی دنوں میں امیر بننے کا خواہش مند ہو تو ایسے معاشرے کے لوگ اخلاقیات سے غافل ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشی و سماجی برائیاں جنم لیتی ہیں۔ آج پاکستانی معاشرے کے انحطاط کی بنیادی وجہ بھی اخلاقی پستی ہی ہے۔ قوم کی ناؤ اخلاقی گراوٹ کے ایسے بھنور میں پھنس چکی ہے جس سے نکلنا آسان نظر نہیں آتا۔ آج ہم قومی سوچ کے بجائے انفرادی سوچ، انا پرستی، انتہا پسندی اور نفسانفسی کے عالم میں جی رہے ہیں۔ دلیل کی جگہ گالی گلوچ، انصاف کی جگہ بے انصافی اور قانون کی جگہ لاقانونیت نے لے لی ہے۔ افسوس‘ آج ہمارے قانون بنانے والے، قانون پر عملدرآمد کرانے والے اور قانون کے رکھوالے قوانین توڑنے کو اپنی بہادری سمجھتے ہیں۔ چھوٹے سے لے کر بڑے عہدیدار تک، خواص سے لے کر عوام تک، امیر سے لے کر غریب تک ہر کوئی ذاتی مفادات کا اسیر ہو چکا ہے۔ کام چوری، کرپشن، رشوت خوری، ہٹ دھرمی لوگوں کی رگوں میں رچ بس چکی ہے۔ قوم کے اخلاقی زوال کا شکار ہونے کی ایک بنیادی وجہ حقیقی قیادت کا بحران بھی ہے۔ عظیم فلسفہ دانThomas Hobbes اپنی مشہور زمانہ تحریر Leviathan میں لکھتے ہیں: انسان فطرتاً بدکردار، سفاک اور خود غرض ہے جو War of all against all کی حالت میں جی رہا ہے، اور اس کی حفاظت اور تربیت کیلئے کسی عمرانی معاہدے اور حقیقی قائدین کی ضرورت ہے‘ مگر افسوس‘ معاشرے کی حفاظت اور عوام کی تربیت کا بیڑہ اٹھانے والے نام نہاد قائدین فقط اقتدار کی لالچ میں رہے اور انسانی ترقی کیلئے کچھ نہ کیا۔ آج ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں پاکستان 189 ممالک کی فہرست میں 154ویں نمبر پر ہے۔ ہمارے قائدین جب لوٹ مار میں مصروف تھے تو بھارتی قائدین یونیورسٹیاں بنانے میں مصروف تھے؛ چنانچہ وہاں کے عوام زندگی میں آگے بڑھ گئے اور ہمارے ہاں اَن پڑھوں کا ہجوم اکٹھا ہوتا گیا جس نے ملک کو ایک بے ہنگم معاشرے میں بدل دیا، جہاں کبھی سڑکوں کو میدان جنگ بنا کر پولیس اہلکاروں کو مار دیا جاتا ہے تو کبھی مظاہرین پر سیدھی گولیاں برسا دی جاتی ہیں۔ کبھی خاتون اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر پر دھاوا بول دیا جاتا ہے تو کبھی ہسپتالوں میں مریضوں پر حملے کر دیئے جاتے ہیں۔ درندہ صفت افراد کی وجہ سے ہماری خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں‘ جس کے باعث 50 فیصد آبادی معاشی دھارے میں شامل ہی نہیں، جبکہ نومولود بچوں کے دودھ میں ملاوٹ سے لے کر لائف سیونگ دوائیوں کی ملاوٹ اور قلت جیسے جرائم بیباکی سے ہو رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ مفاد پرست حکمرانوں نے اقتدار اور دولت کے حصول کیلئے تمام شارٹ کٹس استعمال کیے اور اب عوام بھی اسی کام پر لگ چکے ہیں۔ کلرک یا کانسٹیبل نے رشوت لی تو جواز یہ دیا کہ اس کی تنخواہ کم ہے۔ دکاندار نے ملاوٹ کی تو کہاکہ اس کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا ؛ چنانچہ قوم کو اخلاقی پستی کی اس نہج تک پہنچانے میں حکمران طبقہ اور بعض ادارے برابر کے قصوروار ہیں۔ ایک اور بڑی وجہ تعلیم و تربیت کا فقدان ہے۔ ہمارے 2 کروڑ 20 لاکھ بچے آج بھی سکولوں سے محروم ہیں۔ تعلیمی انڈیکس میں پاکستان جنوبی ایشیا کے نو ممالک میں آٹھویں نمبر پر ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تمام بچوں کی تعلیم کا ہدف حاصل کرنے میں ابھی مزید 60 سال کا عرصہ درکار ہے۔ دراصل تعلیم کا بنیادی مقصد باشعور ذہنوں کو پیدا کرنا ہوتا ہے، مگر ہمارے ہاں جو تھوڑی بہت تعلیم میسر ہے وہ بھی فقط کاغذی ڈگریوں کی حد تک محدود ہے جس میں شعور و آگاہی نام کی کوئی چیز نہیں، جبکہ درسگاہوں اور مدرسوں سے ملنے والی تعلیم نے بھی نوجوانوں کی ذہنی وسعت کیلئے کوئی ٹھوس کردار ادا نہیں کیا۔ ہمارے نوجوانوں کو نہ گھروں سے تعلیم ملی‘ نہ تعلیمی اداروں سے اور نہ ہی معاشرے نے انکو کچھ سکھایا‘ یوں وہ بھٹک گئے۔ کیا ہمارے تعلیمی نصابوں میں نوجوانوں کو قومی، معاشی و سماجی مسائل اور ان کے ممکنہ حل کی آگاہی دی جا رہی ہے؟ حکومت کو خاص توجہ دیتے ہوئے تعلیمی نصاب میں اخلاقیات، جدت اور ٹیکنالوجی پر مبنی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ اسی طرح ہمارے نوجوان تربیت سے بھی محروم ہیں۔ سکاٹش ماہر معیشت ایڈم سمتھ کے بقول ملکی خوشحالی کا انحصار وہاں موجود لیبر کی صلاحیت اور مہارت پر ہے؛ چنانچہ ہم چاہتے تو اپنے 63 فیصد نوجوان سرمائے کو تربیت یافتہ بنا کر ملکی معیشت کو چار چاند لگا سکتے تھے مگر ہم نے ایسا نہ کیا، اور آج ہماری افرادی قوت جدید تربیت اور محنت و مشقت سے ہم آہنگ نہ ہونے کے باعث ہی خلیجی ریاستوں سمیت پوری دنیا میں ترجیح نہیں رہی بلکہ اس کی جگہ چین، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور افریقہ کی افرادی قوت نے لے لی۔ اسی طرح ہماری اخلاقی پستی کی ایک اور بڑی وجہ 'غیریقینی صورتحال‘ کا ہونا بھی ہے۔ Alvin Toffler اپنی کتاب Future Shock میں لکھتے ہیں کہ مستقبل کی فکر معاشروں اور انسانوں کو دباؤ کا شکار بنا دیتی ہے۔ یہی صورتحال پاکستان کی ہے جہاں غیریقینی کے باعث ہماری حکومتیں اور تمام خواص و عوام دنوں میں ہر چیز کا حصول چاہتے ہیں کیونکہ مستقبل کی کوئی ضمانت ہی نہیں۔
آج ملک میں معاشی و سماجی تفاوت اور دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم کے باعث نچلے طبقات استحصال کا شکار ہیں۔ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہورہے ہیں، اور متوسط طبقہ جو معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے تقریباً ختم ہو چکا ہے، یہی محرومیت، ناانصافی اور عدم مساوات عدم اطمینان اور بدامنی کو فروغ دے رہی ہے، جس کی وجہ سے اقوام عالم میں پاکستان بارے جہالت اور عدم برداشت کا تاثر ہے؛ چنانچہ حالات کی بہتری کیلئے دو چیزیں فوری طور پر کرنا ہوں گی پہلی اپنے لوگوں کی تعلیم و تربیت پر بھرپور سرمایہ کاری کرکے انھیں بااخلاق اور کارآمد شہری بنانا ہوگا تاکہ وہ ہجوم کے بجائے ایک قوم بن کر ملک کی معاشی و سماجی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں، اور دوسرا ملک میں قانون کو سب کیلئے برابر کرنا ہوگا۔ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے عوام کیا چاہتے ہیں؟ وہ خود اخلاقیات کے کتنے خواہشمند ہیں؟ افسوس کہ ہمارے لوگ آج بھی مثالی قیادت حقیقی اور بے لوث نمائندوں کو نہیں بلکہ اس بااثر مافیاز کو سمجھتے ہیں جو ان کے ہر جائز ناجائز معاملے میں کام آسکیں۔ یوں لگتا ہے کہ قوم خود ہی سدھرنا نہیں چاہتی، آج ہم اخلاقی پسماندگی کے Vicious Circleمیں پھنس چکے ہیں جہاں اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر تک ہر جگہ خرابی سرایت کر چکی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اصل میں کون خراب ہے؟ اور اسی کسوٹی کے عجب کھیل نے معاشرے کے Social Order کو تباہ کر دیا ہے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں