"MABC" (space) message & send to 7575

سچ قبر کی مٹی سے بھی اُگ آئے گا

ایک مشہور افریقی کہاوت ہے''When the roots are deep there is no reason to fear the wind'' لوگ پوچھتے ہیں کہ پاناما کیس پر سپریم کورٹ کے دیئے گئے فیصلے سے کیا ہو گا تو انہیں یہی کہا ہے کہ وہی کچھ ہو سکتا ہے جو ائر مارشل محمد اصغر خان کی سپریم کورٹ میں اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل اور میاں نواز شریف سمیت کئی دوسرے سیا ستدانوں کو1988 کے عام انتخابات کے دوران سرکاری وسائل سے بھاری رقوم کی تقسیم کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن پر ہوا ہے۔ سولہ برس تک ائر مارشل اصغر خان کی یہ پٹیشن سپریم کورٹ میں محفوظ رہی اور جب اس کی سماعت ہوئی تو اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس پٹیشن کی سماعت مکمل کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ ایف آئی اے وزیر اعظم سمیت اس کیس میں ملوث تمام افراد سے انکوائری کرنے کے بعد ذمہ داروں کی نشاندہی کرے۔۔۔لیکن آج اس نیک ساعت کو پانچ سال سے بھی زیا دہ کا عرصہ گزر چکا ہے کیا کسی کو بزرگ اور پاکستان کی انتہائی قابل احترام شخصیت ائر مارشل اصغر خان کی اس پٹیشن پر سپریم کورٹ کے دیئے جانے والے فیصلے پر عمل درآمد کے بارے میں تھوڑی سی بھی خبر ہے۔؟ہاں کوئی ایک برس ہوااخبارات میں ایک چھوٹی سی خبر دیکھنے کو ملی تھی کہ ایف آئی اے کے کچھ اہلکار وزیر اعظم سے اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل اور سرکاری ادارے سے بھاری رقم وصول کرنے کے بارے میں کچھ سوالات لے کر گئے تھے لیکن وزیر اعظم کی بجائے ان کے ایڈیشنل سیکرٹری سے سوالوں کے جوابات لے کر واپس چلے آئے اور اب تک ان کی جانب سے کسی بھی قسم کی رپورٹ سامنے نہیں آ ئی لگتا ہے کہ یہی حال پانامہ کی جائنٹ تفتیشی ٹیم کے ساتھ ہو گا جس میں ایک تبدیلی ممکن ہے کہ اب کے ایڈیشنل سیکرٹری کی بجائے پرنسپل سیکرٹری کی مہمان نوازی کا لطف اٹھا لیا جائے گا۔ شنید ہے کہ ایف آئی اے کی وہی صاحب جنہیں خیر سے ترقی دے دی گئی ہے پانامہ کیس پر سنائے گئے فیصلے میں جے آئی ٹی کے رکن ہوں گے؟۔ پانامہ کیس پر جے آئی ٹی کی تشکیل پر عمران خان سمیت دوسرے پٹیشنرز خوش ہونے سے پہلے اصغر خان کیس اور ڈان لیکس کا حشر نشر دیکھ لیتے تو بہتر ہوتا۔جے آئی ٹی میں شامل چار ارکان کی ترقی تنزلی وزیر اعظم کی مرہون منت ہوتی ہے اب اگر یہ ارکان ایک طرف ہوں اور ایک آواز ان سے مختلف ہو توفیصلہ تو اکثریت کا ہی تسلیم کیا جائے گا‘ چاہے چھٹے رکن نے جو کچھ بھی لکھا ہو ۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر پندرہ روز قبل کہہ دیا تھا کہ ڈان لیکس پر فوج اور سول اداروں کے دو دو اراکین میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا اس لئے کمیشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جب تک ان سب میں اتفاق نہیں ہو گا ڈان لیکس کی رپورٹ پیش نہیں کی جا سکتی اور اس بارے میں کمیشن کے سربراہ جج نے ابتدا میں ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ صرف اسی صورت میں کمیشن کی رپورٹ سامنے لائیں گے جب کمیشن کے تمام اراکین کا آپس میں اتفاق ہو گا اور اس وقت چونکہ ان میں اتفاق رائے نہیں ا س لئے اس رپورٹ کو اوپن کرنے سے اجتناب کیا جا رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ ڈان لیکس پر تین ماہ تک چونکہ آُپس میںاتفاق نہیں ہو سکا تھا اس لئے اسے اوپن کرنے سے روک دیا گیا اور اب جبکہ ''اتفاق‘‘ ہو چکا ہے تو اسے چند دنوں بعد بقول چوہدری نثار علی خان سامنے لے آیا جائے گا اور ''اتفاق‘‘کے نتیجے میں جن کمزور قسم کے لوگوں کو قربانی کا بکرا بنایا جانا مقصود ہو گا انہیں ان کے عہدوں سے فارغ کر دیا جائے گا حالانکہ کمزور جانور کی قربانی بھی قبول نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں میڈیا میں سب سے زیا دہ قیاس آرائیاں وزیر اعظم کے مشیر خارجہ طارق فاطمی کے نام کی ہو رہی ہیں قوم کو مبارک ہو کہ ڈان لیکس کا مسئلہ بھی حل ہو گیا ﷲاﷲ خیر سلا !! سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان نے پانامہ کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ وہ ایسا فیصلہ دیں گے جو بیس سال تک بھی یاد رکھا جائے گا۔ پاناما کا فیصلہ سامنے آ چکا ہے لیکن اس کا فیصلہ وقت کرے گا کہ یہ کب تک یاد رکھا جائے گا میرا خیال ہے کہ یہ فیصلہ اب زمانے کی قید سے آزاد ہو چکا ہے اور جس طرح جسٹس منیر کا دیا جانے والا فیصلہ 60 سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد آج بھی زبان زد عام ہے۔ 126 دنوں کی طویل سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلے کو 57 روز تک محفوظ رکھنے سے پہلے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا تھا کہ یہ ایسا فیصلہ ہو گا جو کم ازکم بیس برس تک یاد رکھا جائے گا اور انہوں نے بیس اپریل کو محفوظ کئے گئے اس فیصلے میں اپنے مختصر نوٹ میں جو لکھا ہے وہ بیس نہیں بلکہ برسوں یاد رکھا جائے گا ۔پاناما کیس پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی معزز بنچ میں سے ہر ایک نے شائد پہلی دفعہ اپنا علیحدہ علیحدہ فیصلہ لکھا ہے اور انہوں نے اپنے سے سینئر دو ججوں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد کی اس مشترکہ رائے سے اتفاق نہ کرتے ہوئے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو نا اہل قرار دینے کی بجائے ایک مشترکہ تفتیشی ٹیم بنانے کا حکم دیا ہے جس میں ڈان لیکس کی طرز پر'' وزیر اعظم کے براہ راست سول ماتحت اداروں ایف بی آر، ایف آئی اے، سٹیٹ بینک اور سیکیورٹی ایکسچینج کارپوریشن کی جانب سے ایک ایک ممبراس کا حصہ ہو گا جبکہ فوج سے متعلق آئی ایس آئی اور ایم آئی کے دو نمائندوں پر مشتمل جائنٹ انٹیرو گیشن ٹیم 28 اپریل سے اپنا کام شروع کرتے ہوئے28 جون کو اس کی رپورٹ دینے کی پابند ہو گی ۔اگر جائنٹ انٹیروگیشن ٹیم کے اکثریتی ممبران وزیر اعظم اور ان کے تمام خاندان کو پاناما لیکس میں کلین چٹ دے دیتے ہیں تو پھر ''میرا سچ قبر کی مٹی سے بھی اُگ آئے گا۔۔بے شک مجھے پتھریلی زمینوں میں ہی دبا دو‘‘۔!!

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں